Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Heart-Softening Narrations

Hadith 5066

بَابُ اِسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ ختم ہوا۔

In this book

Current reading

Heart-Softening Narrations

بَابُ اِسْتِحْبَابِ الْمَالِ وَالْعُمُرِ لِلطَّاعَةِ ختم ہوا۔

Zujajat al-Masabih 5066Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6683
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں اور تم کو ایک حدیث سناتا ہوں اس کو تم یاد رکھو، اب رہی وہ چیزیں جس پر میں قسم کھاتا ہوں وہ یہ ہیں: (1) صدقہ دینے سے بندہ کا مال کم نہیں ہوتا۔ (2) کسی بندہ پر اس کے کسی حق میں ظلم نہیں کیا گیا اور وہ اس پر صبر کرے مگر اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی عزت بڑھا دیتا ہے۔(3) اور کوئی بندہ مانگنے کا دروازہ1 نہیں کھولتا مگر اللہ تعالیٰ اس پر تنگدستی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ رہی جو حدیث میں بیان کروں گا اور تم اس کو یاد رکھو! وہ یہ ہے آپ نے فرمایا: اس کے سوا نہیں دنیا تو چار قسم کے افراد کے لئے ہے۔(1) ایک وہ بندہ جس کو اللہ نے مال اور علم دیا اور وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے اور رشتہ داری کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے اور اللہ کے لئے اس کے حق کے مطابق اس میں کام کرتا ہے تو یہ شخص سب سے بڑے مرتبہ والا ہے۔(2) ایک وہ بندہ جس کو اللہ نے علم دیا اور مال نہیں دیا اور وہ سچی نیت والا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میرے لئے بھی مال ہوتا تو میں فلاں کے جیسا عمل کرتا تو ان دونوں کا ثواب برابر ہے۔(3) اور ایک وہ بندہ ہے، اللہ تعالیٰ اس کو مال دیا علم نہیں دیا تو وہ علم نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مال میں غلط سلط کام کرتا ہے اس میں اپنے رب سے ڈرتا بھی نہیں ہے، رشتہ داری کے ساتھ حسن سلوک بھی نہیں کرتا اور اس میں حق کے مطابق کام نہیں کرتا تو یہ سب سے زیادہ خراب درجے کا ہے۔(4) اور ایک وہ بندہ جس کو اللہ نے نہ مال دیا نہ علم دیا اور وہ یہ کہتا ہے کہ اگر میرے لئے مال ہوتا تو میں فلاں شخص کے عمل کی طرح2 عمل کرتا تو وہ اپنی نیت کے ساتھ ہوگا اور ان دونوں کا گناہ برابر3 ہے۔(ترمذی)۔ اور امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2325 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5287 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 5287

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

Indeed, Allah has forgiven my Ummah for what their hearts suggest as long as they do not act upon it

(1) His statement: The door of begging: Meaning the door of asking and seeking from people, not out of need or necessity, but with the intent of richness and increase. (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: I would act with the deed of so-and-so: Meaning from the people of evil. (As stated in Al-Mirqat) (3) His statement: And their burden is equal: Ibn Al-Malik said: This Hadith does not contradict the narration: "Indeed, Allah has forgiven my Ummah for what their hearts suggest as long as they do not act upon it"; because the action here is by verbal expression, and what is forgiven is the inner speech. The relied-upon opinion of the verifying scholars is that this is so if he did not habituate himself nor settle his heart on doing it, but if he resolved and settled, it is written as a sin even if he did not act or speak, and this has been mentioned before, and Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat).

Note 2

This footnote could not be resolved in the source.

Note 3

This footnote could not be resolved in the source.

Note 1

قوله

(۱) قوله : باب مسألة: أي باب سؤال وطلب من الناس لا لحاجة وضرورة، بل لقصد غنى وزيادة. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : لعملت فيه بعمل فلان أي من أهل الشر. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: ووزرهما سواء : قال ابن الملك: هذا الحديث لا ينافي خبر: «إن الله تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل به؛ لأنه عمل هنا بالقول اللساني، والمتجاوز عنه هو القول النفساني، انتهى. والمعتمد ما قاله العلماء المحققون: إن هذا إذا لم يوطن نفسه ولم يستقر قلبه بفعلها، فإن عزم واستقر يكتب معصية وإن لم يعمل ولم يتكلم، وقد تقدم والله تعالى أعلم. كذا في «المرقاة».