Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Heart-Softening Narrations

Hadith 5089

Chapter on Reliance on Allah and Patience

In this book

Current reading

Heart-Softening Narrations

Chapter on Reliance on Allah and Patience

Zujajat al-Masabih 5089Volume 4

English

Jabir (may Allah be pleased with him) narrated: He went on an expedition with the Prophet (ﷺ) toward Najd, and when the Messenger of Allah (ﷺ) returned, he returned with him, and the midday heat overtook them in a valley with abundant trees. The Messenger of Allah (ﷺ) alighted, and the people dispersed to seek shade under the trees. The Messenger of Allah (ﷺ) alighted under a lote tree and hung his sword on it, and we took a nap. Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us, and behold, a Bedouin was with him, and he said: "This one unsheathed my sword upon me while I was asleep, and I awoke and it was in his hand drawn, and he said: Who will protect you from me? I said: Allah, three times, and he did not punish him and sat down." [Agreed Upon] And in the narration of Abu Bakr Al-Isma'ili in his Sahih: He said: "Who will protect you from me?" He said: "Allah." So the sword fell from his hand, and the Messenger of Allah (ﷺ) took the sword and said: "Who will protect you from me?" He said: "Be the best taker," and he said: "Do you testify that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah?" He said: "No, but I pledge to you that I will not fight you nor be with a people who fight you," so he let him go. He went to his companions and said: "I have come from the best of people." Thus in the book of Al-Humaydi, and in Ar-Riyad by An-Nawawi.

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٠٨٩ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاءِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ تَحْتَ سَمُرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللهِ ﷺ يَدْعُونَا، وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيُّ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمُ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْنَا، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنّي ؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ، ثَلَاثًا، وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرِ الْإِسْمَاعِيْلِي فِي صَحِيحِهِ: فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللَّهُ». فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ السَّيْفَ، فَقَالَ: «مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟»، فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِدٍ، فَقَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا ، وَلَكِنِّي أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَى أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. هَكَذَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ، وَفِي الرِّيَاضِ» لِلنَّوَوَيِّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6706Noor 6707
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی جانب جہاد کیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی آپ کے ساتھ واپس ہوئے، تو ایک ایسی وادی میں جس میں کانٹوں کے درخت بہت تھے قیلولہ کا وقت آ گیا اور رسول اللہ ﷺ اتر گئے اور لوگ درختوں سے سایہ لینے کے لئے الگ الگ ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے اترے اور اس سے اپنی تلوار لٹکا دی اور ہم ایک نیند سوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو آواز دینے لگے اور آپ کے پاس ایک دیہاتی تھا اور آپ نے فرمایا: اس نے میرے اوپر تلوار سونت لیا اور میں سو رہا تھا پس میں اٹھ گیا اور وہ تلوار اس کے ہاتھ میں برہنہ تھی اور کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا تو میں نے تین مرتبہ کہا: ”اللہ“ اور آپ ﷺ نے اس سے بدلہ نہیں لیا اور وہ بیٹھ گیا۔ (متفق علیہ)۔ اور صحیح ابوبکر اسماعیلی کی روایت میں یہ ہے کہ اس نے کہا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ، تو تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کو لے لیا اور فرمایا: تجھ کو مجھ سے کون بچائے گا تو اس نے کہا: آپ بہترین مواخذہ1 کرنے والے بن جائیے- تو آپ نے فرمایا: تو گواہی دیتا ہے ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ کی اور اس بات کی کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے کہا: نہیں اور لیکن میں آپ سے عہد کرتا ہوں اس بات کا کہ نہ آپ سے لڑوں گا اور نہ ایسی قوم کے ساتھ رہوں گا جو آپ سے لڑتی ہے تو آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا: میں تمہارے پاس سارے انسانوں کی بہترین ہستی کے پاس سے آ رہا ہوں۔ (کتاب الحمیدی، ریاض نووی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2910 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 843a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

Be the best taker

(1) His statement: Be the best taker: The taking means reprimanding. (As stated in Al-Mirqat).