English
Abu Sa‘id (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) came out for prayer and saw people as if they were smiling. He said: “Indeed, if you frequently remembered the destroyer of pleasures, it would distract you from what I see. So, frequently remember the destroyer of pleasures, death 1. For no day passes over a grave except it speaks, saying: ‘I am the house of estrangement, the house of solitude, the house of dust, the house of worms.’ When a believing servant is buried, the grave says to him: ‘Welcome and greetings! You were the most beloved to me of those who walked upon me. Now that I have been entrusted with you today and you have come to me, you will see my treatment of you.’ It expands for him as far as his sight reaches, and a door to Paradise is opened for him. But when a wicked or disbelieving servant 2 is buried, the grave says to him: ‘No welcome, no greetings! You were the most hated to me of those who walked upon me. Now that I have been entrusted with you today and you have come to me, you will see my treatment of you.’ It closes upon him until his ribs interlock.” He said: And the Messenger of Allah (ﷺ) said, with his fingers, inserting 3 some into others, 4: “And seventy serpents are assigned to him, such that if one of them breathed upon the earth, it would not grow anything as long as the world remains. They bite and scratch him until 5 he is brought to the Reckoning.” He said: And the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The grave is either a garden from the gardens of Paradise or a pit from the pits of Hell.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥١٢٠ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ لِصَلَاةٍ فَرَأَى النَّاسَ كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ، قَالَ: «أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى، فَأَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ 1 فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى الْقَبْرِ يَوْمُ إِلَّا تَكَلَّمَ، فَيَقُولُ: أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ، وَأَنَا بَيْتُ الْوَحْدَةِ، وَأَنَا بَيْتُ التَّرَابِ، وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ. وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ». قَالَ: «فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ 1الْفَاجِرُ أَوْ الْكَافِرُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِيَ بِكَ. قَالَ: فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ». قَالَ: وَقَالَ2 رَسُوْلُ اللهِ ﷺ بِأَصَابِعِهِ فَأَدْخَلَ3 بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ، قَالَ: «وَيُقَيَّضُ لَهُ سَبْعِينَ تِنِّينًا، لَوْ أَنْ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، فَيَنْهَشْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى4 يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6739
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت نبی اکرم ﷺ نماز
کیلئے باہر تشریف لائے اور آپ نے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا کہ وہ ہنس رہے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: اگر تم لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت1 سے یاد کرتے تو وہ تم کو اس چیز سے
روک دیتی جو میں دیکھ رہا ہوں، یعنی موت کو پس لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد
کرو! کیونکہ قبر پر کوئی دن نہیں گزرتا مگر وہ کلام کرتی ہے اور کہتی ہے میں غربت کا گھر ہوں، میں
تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں اور جب بندۂ مومن دفن کیا جاتا ہے
تو قبر اس سے کہتی ہے مرحبا خوش آمدید، سنو! جو لوگ میری پشت پر چلتے ہیں ان میں تم میرے
نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو آج جبکہ میں تم پر حاکم بنائی گئی ہوں اور تم میرے پاس لوٹ آئے
ہو تو تم اپنے ساتھ میرے سلوک کو دیکھ لو گے، آپ نے فرمایا: پس وہ اس کیلئے حد نظر کشادہ ہو جاتی
ہے اور اس کیلئے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔
اور جب کافر بندہ دفن کیا جاتا ہے2 تو قبر اس سے کہتی ہے: نہ تجھے مرحبا اور نہ خوش
آمدید، سن لے! تو میری پشت پر چلنے والوں میں میرے پاس سب سے زیادہ مبغوض و ناپسندیدہ
تھا، آج جبکہ میں تجھ پر حاکم مقرر کی گئی ہوں اور تو میری طرف لوٹ آیا ہے پس اپنے ساتھ میرے برتاؤ
کو تو دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: وہ اس پر تنگ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے
میں گھس جاتی ہیں راوی نے کہا: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں 1 سے اشارہ فرمایا،
تو بعض کو بعض کے اندر 2 داخل کردیا، فرمایا: اس کیلئے ستر اژدھے مقرر کردئے جاتے ہیں اگر ان میں سے
ایک بھی زمین میں پھونک مارے تو وہ رہتی دنیا تک کوئی چیز نہ اگائے وہ اسے ڈستے اور نوچتے ہیں یہاں
تک کہ اسے حساب کیلئے لے جایا 3 جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2460 (unverified) 98% confidence · Validation similarity: 0.892
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (10)
Note 1
(1) His statement: “death” – in the genitive case, it explains or substitutes for “destroyer of pleasures,” as will follow. In the accusative, it implies “I mean,” and in the nominative, it implies “it is death.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: “wicked servant” means the transgressor, referring to the extreme case, i.e., the disbeliever, as indicated by its contrast with “believing servant” earlier and the grave’s statement that he is the most hated of those walking upon it, as well as Allah’s statement: Is one who is a believer like one who is a transgressor? (As-Sajdah: 18). The phrase “or the disbeliever” reflects the narrator’s uncertainty, not variety. The custom of the Qur’an and Sunnah is to clarify the rulings for both groups in this world and the next, remaining silent about the believing transgressor to conceal his state, or to keep him between hope and fear, not to affirm an intermediate state as the Mu‘tazilah supposed. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: “And the Messenger of Allah said, with his fingers” means he gestured. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement: “inserting some into others” indicates that the grave’s constriction and the interlocking of ribs are literal, not a metaphor for distress, as some deficient ones supposed, making the grave’s punishment spiritual, not physical. The correct view is that the Hereafter’s punishment and bliss involve both body and soul. (As stated in Al-Mirqat)
Note 5
(5) His statement: “until he is brought to the Reckoning” proves that the disbeliever is judged, contrary to some who thought disbelievers enter Hell without reckoning, unless “reckoning” means “retribution.” Qur’anic verses like And whoever’s scales are light (Al-A‘raf: 9) clearly indicate their reckoning. It is possible that some defiant sinners enter Hell without reckoning or record, just as some believers, extreme in patience and reliance, enter Paradise without reckoning, and Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : الموت بالجر تفسير لـ «هادم اللذات أو بدل منه كما يأتي فيما بعده، وبالنصب بإضمار أعني، وبالرفع بتقدير هو الموت. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: العبد الفاجر : أي الفاسق، والمراد به الفرد الأكمل، وهو الكافر بقرينة مقابلته لقوله: «العبد المؤمن» سابقا، ولما سيأتي من قول القبر له بكونه أبغض من يمشي على ظهره، ومنه قوله تعالى: ﴿أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقَا (السجدة: (۱۸) الآية وقوله : «أو الكافر شك من الراوي لا للتنويع، وقد جرت عادة الكتاب والسنة على بيان حكم الفريقين في الدارين، والسكوت عن حال المؤمن الفاسق سترا عليه، أو ليكون بين الرجاء والخوف لا لإثبات المنزلة بين المنزلتين كما توهمت المعتزلة. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله : وقال رسول الله الله بأصابعه : أي أشار. كذا في «المرقاة».
Note 4
(٤) قوله: فأدخل بعضها في بعض وفيه إشارة إلى أن تضييق القبر واختلاف الأضلاع حقيقي، لا أنه مجاز عن ضيق الحال، وإن الاختلاف مبالغة في أنه على وجه الكمال، كما توهمه بعض أرباب النقصان حتى جعلوا عذاب القبر روحانيا لا جسمانيا، والصواب أن عذاب الآخرة ونعيمها متعلقان بهما. كذا في «المرقاة».
Note 1
1 قولہ: الموت (موت) لفظ ”موت“ زیر سے پڑھا گیا ہے اس صورت میں یہ هادم اللذات کی تفسیر ہوگی یا اس سے بدل ہوگا جیسا کہ اسکے بعد والے جملہ میں آیا ہے یا ”اعنی“ (میرے معنی کے مطابق) پوشیدہ ماننے کی صورت میں نصب کے ساتھ پڑھا جائیگا۔ لفظ موت سے پہلے لفظ هو مقدر ماننے کی صورت میں رفع بھی پڑھا جائیگا۔ (مرقات)۔ 2 قولہ: العبد الفاجر (بدکار بندہ) یعنی فسق و فجور کرنے والا اس سے سب سے بڑا فاسق بندہ مراد ہے اور وہ کافر ہے اس پر قرینہ یہ ہے کہ اس کے بالمقابل اس سے پہلے العبد المومن (بندۂ مومن) کا ذکر آیا ہے اور اسکے بعد یہ آیا ہے کہ قبر اس سے کہے گی کہ وہ اس کی پشت پر چلنے والوں میں سب سے زیادہ مبغوض تھا اسی سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ”أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا“، بھلا جو مومن ہو کیا وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو؟ (32السجدہ، آیت:18) اور آپ کا ارشاد او الكافر (یا کافر) یہ شک راوی کے طور ہے، نوعیت بیان کرنے کے لئے نہیں دنیا و آخرت کے متعلق دونوں فریق کا حکم بیان کرنا اور گنہگار مومن کی حالت سے سکوت اختیار کرنا کتاب و سنت مبارکہ کا طریقہ رہا ہے یا تو اس کی پردہ پوشی کرنے کے لئے ہے یا اس لئے کہ وہ امید اور خوف کے درمیان رہے وہ دو درجوں کے درمیان کوئی تیسرا درجہ ثابت کرنے کیلئے نہیں ہے جیسا کہ فرقہ معتزلہ کا وہم و خیال ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: وقال رسول الله ﷺ باصابعه، یعنی حضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔ (مرقات)۔ 2 قوله: فادخل بعضها في جوف بعض، تو بعض کو بعض کے اندر داخل کردیا اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قبر کا تنگ ہونا اور پسلیوں کا آپس میں ایک دوسرے میں گھس جانا حقیقی طور پر ہے تنگی حال سے مجاز کے طور پر نہیں، اور یہ معنی بھی نہیں کہ پسلیوں کا مل جانا کمال درجہ کی تنگی حال بتلانے کے لئے بطور مبالغہ ہے، جیسا کہ بعض ارباب نقصان کو وہم ہوگیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے عذاب قبر کو روحانی کیفیت قرار دیا ہے، نہ کہ جسمانی، اور درست بات یہ ہے کہ آخرت کا عذاب اور اس کی نعمتیں (جسم و روح) دونوں سے متعلق ہوں گی۔ (مرقات)۔ 3 قوله: حتى يفضى به الى الحساب (یہاں تک کہ اسے حساب کیلئے لے جایا جائے گا) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کافر سے حساب لیا جائے گا برخلاف ان بعض لوگوں کے جو گمان کرتے ہیں کہ کافر بغیر حساب و کتاب کے دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ (دونوں میں تطبیق کیلئے) مگر یہ کہا جائے کہ حساب سے مراد یہ ہے، اور آیات کے ظاہری الفاظ حساب لئے جانے کے بارے میں واضح ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ (7، اعراف آیت:9) اور جن کے (نیک اعمال کے) وزن اور ہلکے ہوں گے۔ ہاں ممکن ہے کہ ان میں سے بعض نافرمان و سرکش بغیر حساب و کتاب کے دوزخ میں داخل کئے جائیں گے، جیسا کہ صبر و توکل میں کمال درجہ پر فائز بعض مومنین بغیر حساب و کتاب کے داخل ہوں گے جیسا کہ سابق میں گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (مرقات)۔ 4 قوله: اذا ذهب ثلثا الليل قام الخ (جب دو تہائی رات گزر جاتی تو حضرت نبی اکرم ﷺ اٹھتے ۔۔۔۔۔۔) اوقات نماز یاد دلانے والے مؤذن حضرات کا طریقہ اسی سے اخذ کردہ ہے اور ان کا اس کیلئے رات کا دو تہائی حصہ گزرنے سے پہلے اٹھنا مناسب نہیں ہے اور اس میں رات کے اخیر ثلث میں قیام کرنا نہایت ہی مستحب و پسندیدہ ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: من خاف الخ (جو خوف کرتا ہے) علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ نبی اکرم ﷺ نے راہ آخرت پر چلنے والے کیلئے بیان فرمائی ہے؛ کیونکہ شیطان اس کے راستہ پر رہتا ہے اور نفس اور جھوٹی آرزوئیں اس کی معاون و مددگار ہوتی ہیں اگر وہ اپنے راستے میں بیدار ہو گیا اور اپنے عمل میں خلوص نیت رکھا تو وہ شیطان اور اس کے مکر و فریب سے اور اس کے معاونین کی ڈاک زنی سے محفوظ ہو جاتا ہے، پھر اس بات کی رہبری فرمائی: راہ آخرت پر چلنا مشکل ہے اور آخرت حاصل کرنا انتہائی دشوار ہے جو ادنیٰ سی کوشش سے حاصل نہیں ہوتی۔(مرقات)۔ 2 قولہ: وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ...... الخ (اور وہ لوگ جو دیتے ہیں......) قرأت سبعہ میں یؤتون ما آتوا، ایتاء سے ہے اور یاتون بھی پڑھا گیا جو اتیان سے ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال اسی قرأت پر مبنی ہے لیکن مصحف کے نسخوں میں جو قرأت آئی ہے وہ پہلی قرأت ہے اور واضح دوسری قرأت ہے۔ اور اس کی توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ فاعل اپنے نفس سے عمل کو وجود میں لاکر دیتا ہے اور اسی سے اس کو باہر لاتا ہے تم اس کو سمجھو۔(لمعات)۔ 1 قوله: والقصد فى الفقر والغنى (تنگدستی و تونگری میں میانہ روی اختیار کرنا) اس میں دو معنی کا احتمال ہے پہلا تنگدستی اور تونگری میں میانہ روی اور اعتدال ہو اس طرح کہ نہ غایت درجہ تنگدستی میں رہے اور نہ حد سے زیادہ تونگری میں؛ کیونکہ پسندیدہ بات یہ ہے کہ کفاف (بقدر ضرورت وسائل اختیار کرنا) افضل ہے۔ ان میں کا دوسرا معنی تنگدستی و تونگری ہر دو حالت میں اعتدال کو ملحوظ رکھنا ہے۔ اور حضور ﷺ کے ارشاد وَأَمْرٌ بِالْعُرْفِ (اور میں نیکی کا حکم دوں) میں لفظ عرف ”عین“ کو ضمہ اور ”راء“ کو سکون کے ساتھ یہ مذکورہ احکام میں کا دسواں حکم ہے جبکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ کو میرے رب نے نو چیزوں کا حکم فرمایا تو اس بارے میں کہا گیا کہ دراصل حساب کے خلاصہ کی طرح یہ مذکورہ احکام کا ایک جامع خلاصہ ہے؛ کیونکہ معروف (نیکی) میں دین کی ہر نیکی و بھلائی شامل ہے۔ (لمعات)۔ 2 قوله: قد شبت (آپ کے بعض موئے مبارک سفید ہوئے) یعنی پیرانہ سالی کے آنے سے پہلے آپ کے بعض موئے مبارک سفید ہوئے، اس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اکثر ریش مبارک سفید ہو گئے ہوں؛ کیونکہ امام ترمذی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انھوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے سر انور اور داڑھی مبارک میں صرف چودہ سفید موئے مبارک شمار کیا۔ (مرقات)۔ 1 قوله: واخواتها (اور اس جیسی) یعنی اس جیسی سورتیں جن میں قیامت اور عذاب کا ذکر ہے، علامہ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: مطلب یہ ہے کہ ان سورتوں میں مذکور قیامت کی ہولناکیوں اور گزشتہ امتوں پر آئی ہوئی مصیبتوں کے بارے میں میرا متفکر ہونا بالوں کی سفیدی کا سبب بن گیا ہے، یہاں تک کہ اپنی امت سے متعلق خوف و فکر کی بناء پر قبل از وقت میرے بال سفید ہوگئے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: ما قال ابی لابیک (میرے والد نے آپ کے والد سے کیا کہا تھا؟) یعنی خوف کے غلبہ کے بارے میں جس نام سے باب کا عنوان ہے اور ان کا قول ”بَرَدَ“ ثابت ہوا کے معنی میں ہے، عرب کے اس قول سے ماخوذ ہے برد لنا علی فلان حق یعنی فلاں پر ہمارا حق ثابت ہوا۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 2 قولہ: لوددت ان ذلک برد لنا (میں یہی چاہتا ہوں کہ وہ (اعمال) ہمارے لئے باقی رہیں) یہ علی القدر صحابہ اور باعظمت خلفاء کی نسبت سے ہے، اب باجوان کے بعد کے لوگ ہیں تو غرور و تکبر، خود پسندی و ریاکاری سے بھرپور انکی اطاعتیں عمومی طور پر نافرمانیوں کے اسباب اور معصیت شعاری کی سزاؤں کے ذرائع ہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نوازے اور اپنی عنایت سے مختص فرما کر گنہگاروں کو نیکوکاروں میں شامل کردے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: ادق في اعينكم من الشعر الخ (تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری آنکھوں میں بال سے بھی باریک) اسکے دو معنی ہیں ایک یہ ہے: تم ایسے عمل کرتے تھے جو ہمارے پاس سب سے اچھے اعمال کہلاتے ہیں دوسرا معنی یہ ہے: تم اُنکی پروا نہیں کرتے ہو اور انکو کمتر و حقیر سمجھتے ہو جبکہ ہم ان اعمال کو ہلاکت خیز اعمال میں شمار کرتے تھے، دوسری حدیث میں مذکور آپ کا فرمان ”تم حقیر گناہوں سے بچو“ دوسرے معنی کی تائید کر رہا ہے یعنی جن اعمال کو تم حقیر و کمتر سمجھتے ہو۔ (لمعات)۔ 2 قوله: يجر قصبه في النار (وہ اپنی آنتوں کو دوزخ میں گھسیٹ رہا تھا) دوزخ میں جن گناہوں کے سبب عذاب دیا جا رہا تھا وہ تمام چیزیں نبی اکرم ﷺ پر منکشف و ظاہر کر دی گئیں۔ (مرقات)۔ 3 قوله: او ابي مالك الاشعري (یا ابو مالک اشعری) انکو اشجعی کہا جاتا ہے اور ان کے نام میں اختلاف ہے، امام بخاری نے انکی حدیث کو شک کے ساتھ روایت کیا اور کہا: ابو مالک اشعری یا ابو عامر سے روایت ہے۔ (مرقات)۔ 3 قوله: الحرير والخمر والمعازف (ریشم، شراب، گانے بجانے کے آلات) معازف میم کے ”زبر“ کے ساتھ، یعنی لہو ولعب کے آلات جنکو بجایا جاتا ہے جیسے: ستار، سارنگی اور بانسری وغیرہ، معنی یہ ہے کہ لوگ شبہات پیدا کر کے خود دلائل سے حرام چیزوں کو حلال شمار کریں گے جملہ اُنکے یہ ہے کہ بہت سے امراء اور عوام سے جب کہا جائے: ریشم پہننا حرام ہے تو وہ کہتے ہیں: اگر وہ حرام ہوتا تو قاضی حضرات اور بڑے بڑے علماء اسکو نہیں پہنتے، اس طرح وہ حرام کو حلال سمجھنے لگتے ہیں۔ (مرقات)۔ 1 قوله: ولينزلن اقوام الخ (اور ضرور کچھ لوگ ایک پہاڑی کے دامن میں اتریں گے) یعنی انہیں میں سے جیسا کہ انکا مستحق عذاب ہونے سے ظاہر ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله: ويضع العلم (اور ان پر پہاڑ گرا دیگا) یعنی ان میں سے بعض لوگوں پر پہاڑ گرا دیگا جیسا کہ آپﷺ کی فرمان ”اور دوسروں کے چہرے مسخ کر دیگا“ اس پر دلالت کرتا ہے۔ (مرقات)۔ 3 قوله: الى يوم القيامة (روز قیامت تک کے لئے) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی صورتیں مرنے تک بدلی ہوئی ہونگی اور جو شخص مر گیا یقیناً اسکی قیامت قائم ہوگئی اور ممکن ہے کہ انکا حشر بھی اُن صورتوں پر ہوگا۔ (مرقات)۔ 4 قوله: ويمسخ اخرين (اور دوسروں کو مسخ کر دیگا) اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ آخری زمانہ میں فتنے آئیں گے اور چہرے مسخ ہوں گے تو گنہگار مومن کو (گناہوں سے) بچنا چاہئے تاکہ وہ عذاب اور چہروں کے مسخ ہونے میں مبتلا نہ ہو، علامہ خطابی نے کہا: اس میں یہ بیان ہے کہ اس امت میں بھی مسخ ہوگا۔ اسی طرح زمین میں دھنسایا جانا بھی ہوگا جیسا یہ دونوں چیزیں باقی تمام امتوں میں تھیں برخلاف ان لوگوں کی بات کے جنکا یہ خیال ہے کہ چہرے نہیں بدلیں گے البتہ دل بدل جائیں گے، میں کہتا ہوں: احادیث میں اسکی جو نفی آئی ہے وہ یا تو امت کے ابتدائی زمانہ پر محمول کی جائیگی، اس صورت میں عام ہے جس سے اس حدیث شریف کے ذریعہ آخری زمانہ خاص کر لیا گیا ہے، یا وہ تمام امت کی صورتیں بدلنے اور زمین میں دھنسا دیئے جانے پر محمول کی جائیگی اور جو مسخ اور خسف حدیث شریف میں ثابت ہے وہ امت کے کچھ لوگوں کے لئے واقع ہوگا اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے۔ (مرقات)۔ 5 قوله: وفيه الحر (اور اس میں لفظ حر) علامہ ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے کہا: ”حر“ راء کی تخفیف کے ساتھ ہے، یعنی شرمگاہ، اور کتاب المصابیح میں اس لفظ میں غلطی ہوئی اسی طرح سے کہ مشین اور بعض راویوں نے اس لفظ پر نقطے لگا دیئے ہیں اور اسکو ”خز“، گمان کیا نقطہ والی خاء اور زاء کے ساتھ، اور خز (ریشم) حرام نہیں ہے کہ اسکو حلال کیا جائے۔ اہـ۔ بقیتہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ بقیہ حاشیہ ۔۔۔ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے جو صاحب مفاتیح نے مصابیح کے شارحین سے ذکر کیا کہ ”حر“ بلا نقطہ زیر والی حاء اور بلا نقطہ غیر تشدید والی راء کے ساتھ، اس کی اصل، ”حرح“ ہے تو دوسری حاء کو حذف کیا گیا اور اس کی جمع احراح ہے اور ”حر“ کے معنی شرمگاہ ہے یعنی آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو زنا کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ جب مرد و عورت راضی ہوں تو عورت سے تمام قسم کے فائدے اٹھانا جائز ہے اور کہیں گے: عورت باغ کی مانند ہے تو جس طرح باغ کے مالک کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے باغ کا پھل جسکے لئے چاہے مباح قرار دے تو اسی طرح شوہر کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو جس شخص کے لئے چاہے مباح کردے اور جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے وہ دراصل مذہب حق سے منحرف، ملحد و بے دین لوگ ہیں، اب رہا ریشم پہننا تو وہ مردوں پر حرام ہے اور جو اس کو حلال سمجھا وہ کافر ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: فتح اليوم من ردم يا جوج و ماجوج الخ (آج یاجوج و ماجوج کی دیوار سے اتنا حصہ کھل گیا) اس سے مراد یہ ہے کہ اس دیوار میں آج تک کوئی شگاف نہیں تھا اور اس میں (شگاف) پڑ گیا ہے۔ کیونکہ اس کا کھلنا قرب قیامت کی علامتوں میں سے ہے اور جب وہ (شگاف) کشادہ ہوگا تو وہ نکلیں گے اور یہ خروج دجال کے بعد ہوگا جیسا اس کا بیان آگے آرہا ہے، اور یاجوج ماجوج بنی آدم ہی کی دو نسل اور ترک کی دو کافر جماعتیں ہیں۔ (مرقات)۔