Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5170

Opening narrations

In this book

Current reading

Trials

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 5170Volume 4

English

Hudhaifah (may Allah be pleased with him) narrated: I said: “O Messenger of Allah, will there be evil after this good, as there was evil before it?” He said: “Yes.” I said: “What is the protection?” He said: “The sword.” I said: “Is there anything after this sword?” He said: “Yes, a leadership on falsehood and a truce with taint.” I said: “Then what?” He said: “Then callers to misguidance will arise. If Allah has a caliph on earth at that time who strikes your back and takes your wealth, obey him; otherwise, die 1 while biting onto the root of a tree.” I said: “Then what?” He said: “Then the Dajjal will emerge, with a river and a fire. Whoever falls into his fire will earn his reward and have his burden lifted, and whoever falls into his river will earn his burden and have his reward lifted.” I said: “Then what?” He said: “Then a foal will be born, but it will not be ridden until the Hour is established.” In another narration: He said: “A truce with taint and a community on falsehood.” I said: “O Messenger of Allah, what is the truce with taint?” He said: “The hearts of some people will not return to what they were upon.” I said: “Is there evil after this good?” He said: “A blind, deaf trial, with callers at the gates of the Fire. If you die, O Hudhaifah, while biting onto a root, it is better for you than following any of them.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥١٧٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ أَيَكُوْنُ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ شَرٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ؟ قَالَ: «السَّيْفُ» قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ هَذَا السَّيْفِ بَقِيَّةٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، تَكُوْنُ إِمَارَةً عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «ثُمَّ تَنْشَأُ دُعَاةُ الضَّلَالَةِ فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ يَوْمَئِذٍ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ جَلَدَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَأَطِعْهُ وَإِلَّا فَمُتْ1 وَأَنْتَ عَاضٌ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «يَخْرُجُ الدَّجَّالُ بَعْدَ ذَلِكَ، مَعَهُ نَهَرُ وَنَارُ، فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهَرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَ أَجْرُهُ» قَالَ: قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «ثُمَّ يُنْتَجُ الْمُهْرُ ، فَلَا يُرْكَبُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ». وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ وَجَمَاعَةً عَلَى أَقْدَاءٍ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ: «لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ قُلْتُ: هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ ، عَلَيْهَا دُعَاةُ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مِتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. .

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6782Noor 6783
انہی سے روایت ہے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ جیسا اس سے پہلے شر تھا فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا حفاظت کی چیز کیا ہے؟ فرمایا: تلوار؛ میں نے عرض کیا: کیا تلوار کے بعد بھی کچھ باقی رہیگا فرمایا: ہاں، حکومت تکلیف دہ چیزوں پر اور صلح کدورت پر قائم ہوگی، میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ فرمایا: پھر گمراہی کے داعی پیدا ہونگے اگر زمین میں اللہ تعالیٰ کا کوئی خلیفہ ہو جو تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے اور تمہارا مال لے لے تو بھی تم اسکی اطاعت کرو، اور اگر ایسا نہ ہو تو تم درخت کی جڑ کو دانتوں سے پکڑے ہوئے 1 انتقال کرنا، میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ فرمایا: پھر اسکے بعد دجال نکلے گا اس کے ساتھ ایک نہر اور ایک آگ ہوگی پس جو اسکی آگ میں گر یگا اسکا اجر ثابت ہو جائیگا اور اسکا گناہ معاف ہو جائیگا، اور جو اسکی نہر میں گر یگا اسکا گناہ ثابت اور اسکا ثواب ختم ہو جائیگا، حضرت حذیفہ نے کہا: میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑی کا بچہ پیدا ہوگا اور اس پر سواری نہیں کی جائیگی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائیگی۔ (ابوداؤد)۔ ایک اور روایت میں ہے، صلح کدورت پر اور اجتماعیت تکلیف دہ چیزوں پر رہیگی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! الهدنة على الدخن کیا ہے؟ فرمایا: قوموں کے دل اس حالت پر نہیں لوٹیں گے جس پر وہ تھے، میں نے عرض کیا: کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟ فرمایا: اندھا بہرا فتنہ ہوگا اس پر دوزخ کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے اے حذیفہ! اگر تم کسی جڑ کو دانتوں سے پکڑے ہوئے انتقال کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کی اتباع کرو۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4244 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

die

(1) His statement: “die” – it is as if he expressed obscurity and isolation with death, for the greatest pleasure of life comes from fame, mingling, and prominence. His statement: “biting onto the root of a tree” – the root being its base – is a metaphor for enduring hardships. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فمت: كأنه عبر عن الخمول والعزلة بالموت؛ فإن غالب لذة الحياة تكون بالشهرة والخلطة والجلوة. وقوله: وأنت عاض على جذل شجرة وعض جذل الشجرة - وهو أصلها - كناية عن مكابدة الشدائد. كذا في «المرقاة».