English
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that a Jewish woman in Medina gave birth to a boy with a deformed eye and prominent canine teeth. The Messenger of Allah (ﷺ) feared he might be the Dajjal. He found him under a velvet sheet, murmuring. His mother announced him, saying, “O Abdullah, this is Abu al-Qasim.” He emerged from the sheet, and the Messenger of Allah (ﷺ) said, “What is wrong with her? May Allah fight her! If she had left him, it would have become clear.” The narration continues with the meaning of Ibn Umar’s Hadith. Umar ibn al-Khattab said, “Permit me, O Messenger of Allah, to kill him.” The Messenger of Allah (ﷺ) said, “If he is the one, you are not his master; his master is Jesus, son of Mary. If he is not, you have no right to kill a man under a covenant.” He remained apprehensive that he was the Dajjal.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٢٨٤ - وَعَنْ جَابِرٍ (رضي الله عنه) إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ 1 نَابُهُ، فَأَشْفَقَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ، فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللهِ! هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ، فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «مَا لَهَا، قَاتَلَهَا اللهُ ! لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ». فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيْثِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ فَأَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِنْ لَا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ»، قَالَ: فَلَمْ يَزَلْ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6910
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک یہودی
عورت نے ایک ایسے لڑکے کو پیدا کیا جسکی ایک آنکھ سپاٹ اور اسکے داڑھ1 آگے آئے ہوئے
تھے، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ وہ دجال ہو، پس آپ نے اسے چادر کے
اندر گنگناتے ہوئے پایا، اتنے میں اسکی ماں نے کہا: اے اللہ کے بندے یہ ابوالقاسم ہیں، تو وہ
چادر سے باہر نکل گیا، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ارے اسے کیا ہوا!
اللہ اسے غارت کرے، اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو وہ بیان کر دیتا اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی
اللہ عنہما کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر فرمایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اسے قتل کر دوں، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: اگر وہی (مسیح دجال) ہے تو اسکو قتل کرنے والے تم نہیں ہو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام
ہی اس کے قتل کرنے والے ہیں، اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو تمہیں اس بات کی اجازت نہیں کہ کسی
ایسے آدمی کو قتل کرو جو اہل معاہدہ سے ہو، اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندیشہ کرتے
رہتے تھے کہ یہ دجال ہو۔ (شرح السنۃ)۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “prominent canine teeth”: This Hadith supports the narration of “most harmful” in the previous Hadith. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : طالعة نابه وهذا الحديث يقوي رواية أضرس فيما تقدم، والله تعالى أعلم. كذا في «المرقاة».