اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 60
صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے
اپنے ساتھی سے کہا: ہم کو ان نبی کے پاس لے چلو۔ اس کے ساتھی نے کہا: نبی مت کہو، اگر وہ تجھ سے
سن لیں گے تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی (یعنی نہایت خوش ہوں گے) تو دونوں آپ کی خدمت
میں حاضر ہوئے اور آپ سے تسع آیات بینات (نو واضح احکام) کے متعلق دریافت کیا۔ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور (2) چوری نہ کرو، اور (3) زنا نہ
کرو، اور (4) ناحق کسی ایسے نفس کو قتل نہ کرو جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، اور (5) کسی بے
گناہ کو حاکم کے پاس قتل کے لئے پیش نہ کرو، اور (6) جادو نہ کرو، اور (7) سود مت کھاؤ، اور (8)
کسی پاک دامن عورت کو تہمت نہ لگاؤ، اور (9) جنگ کے دن بھاگنے کی خاطر پیٹھ نہ پھیرو، اور خاص کر
تم کو اے یہود! واجب ہے کہ شنبہ کے روز حدود اللہ سے تجاوز نہ کرو۔ صفوان راوی کہتے ہیں کہ دونوں نے
آپ کے ہاتھوں اور قدموں کو چوم لیا، اور دونوں نے کہا کہ ہم آپ کے نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کونسا امر تم کو میری اتباع سے مانع ہے؟ دونوں نے کہا: بے
شک حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ ان کی ذریت میں ہمیشہ نبی ہوا کرے، اور
ہم کو اندیشہ ہے کہ اگر ہم آپ کی اتباع کریں تو ہم کو یہود قتل کر دیں گے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد
اور نسائی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2733 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 4078 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3144 (unverified) 92% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 58 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 58
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "They kissed his hands and feet, etc." indicates that in Al-Durr Al-Mukhtar, it is mentioned: If someone asks a scholar or a pious person to extend his foot and allow him to kiss it, he should respond positively. However, some say he should not allow it.
Note 1
(۱) قوله: فقبلا يديه ورجليه إلخ : ولذلك قال في الدر المختار: طلب من عالم أو زاهد أن يدفع إليه قدمه ويمكنه من قدمه، ليقبله أجابه، وقيل: لا.
Note 1
ف۔ در مختار میں لکھا ہے کہ کسی عالم یا زاہد سے اگر مطالبہ کیا جائے کہ وہ قدم کو بڑھائیں اور قدم چومنے کے لئے موقع دیں تو اس عرض کو قبول کر لے، اور ایک روایت یہ ہے کہ قبول نہ کریں۔