اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7311
اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں مشرکین کے قدموں کو اپنے سروں کے اوپر دیکھا جبکہ ہم غار میں تھے (3)،
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ان میں کا کوئی (4) اپنے قدم کی طرف نظر ڈالے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر تمہارا کیا خیال ہے ان دونوں کے بارے میں جن کا تیسرا
اللہ ہے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3653 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2381 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement: while we were in the cave: At-Tibi said: The cave is a hollow at the top of Thawr, a mountain in Mina, Makkah, an hour’s journey away. It is said the polytheists climbed above the cave in pursuit of the Master of the Righteous, and Abu Bakr feared for the Messenger of Allah (ﷺ), saying, “If you are harmed today, the religion of Allah will be lost.” (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: if one of them looked at his feet, he would see us: It is narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “O Allah, blind their sight.” So they circled the cave without noticing, as Allah took their sight from it. This incident, combined with the narration about the pigeons and the spider, where Allah made them appear at the cave’s entrance in their eyes, becomes a miracle. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: ونحن في الغار : قال الطيبي : الغار نقب في أعلى ثور، وهو جبل بمنى مكة على مسيرة ساعة. قيل: طلع المشركون فوق الغار في طلب سيد الأبرار، فأشفق أبو بكر على رسول الله ، وقال: إن تصب اليوم ذهب دين الله. كذا في «المرقاة».
Note 2
(٢) قوله: لو أن أحدهم نظر إلى قدمه أبصرنا : روي أن رسول الله ﷺ قال: «اللهم أعم أبصارهم». فجعلوا يترددون حول الغار ولا يفطنون، قد أخذ الله بأبصارهم عنه. ولا يخفى أن القصة بانضمام هذه الرواية وما في معناه من قضية الحمامة والعنكبوت حيث أظهرها الله في عيونهم على باب الغار تصير معجزة، هذا. كذا في «المرقاة».
Note 1
(3) قوله : ونحن فى الغار . علامہ طیبی نے فرمایا۔ یہ غار جبل ثور کے اوپر ایک سوراخ ہے یہ منیٰ کا پہاڑ ہے مکہ مکرمہ سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ مشرکین سید الابرار صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں غار کے اوپر چڑھ گئے تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بابت فکر مند ہوگئے اور عرض کئے اگر وہ آج آپ تک پہنچ جائیں گے تو اللہ کا دین جاتا رہے گا۔ (مرقات)۔ (4) قوله : لو ان احدهم نظر الى قدمه ابصرنا (اگر ان میں سے کوئی اپنے قدم کی طرف نظر ڈالے گا) مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تو ان کی آنکھوں کو اندھا کردے تو وہ غار کے اطراف گھومتے رہے، مگر سمجھ نہیں سکے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اندھا کردیا اور آپ کو دیکھ نہیں سکے۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ پورے قصہ کی اس روایت کو اور اس کے ہم معنی جو روایت ہے ان دونوں کو ملا لیں جن میں کبوتری اور مکڑی کا ذکر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے غار کے دروازے پر ان کی آنکھوں میں دکھایا تو یہ سارا واقعہ معجزہ قرار پاتا ہے۔ (مرقات)۔