العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٤٠ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ حَدَّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِيْنَ سَرَيْتَ 1 مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ، وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ، فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ، لَهَا ظِلُّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهَا الشَّمْسُ، فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا، وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ ﷺ مَكَانًا بِيَدِي يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً، وَقُلْتُ: نَمْ يَا رَسُولَ اللهِ ، وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ، فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ، فَقُلْتُ: أَفِي غَنَمِكَ لَبَنُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَفَتَحْلُبُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ شَاةً، فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةٌ مِنْ لَبَنٍ، وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ ﷺ يَرْتَوِي فِيهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ، فَوَافَقْتُهُ حَتَّى اسْتَيْقَظَ ، فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ.
فَقُلْتُ: اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللهِ، فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ؟». قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَارْتَحَلْنَا بَعْدَمَا مَالَتِ الشَّمْسُ ، وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: أُتِينَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا». فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ ، فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا أُرَى فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَاكُمَا دَعَوْتُمَا عَلَيَّ، فَادْعُوا لِي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ، فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَنَجَا، فَجَعَلَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا قَالَ: قَدْ كَفِيْتُمْ مَا هَهُنَا، فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَقَالَ الشَّيْخُ فِي «اللَّمْعَاتِ»: قِيلَ: كَانَ الْغَنَمُ لِصِدِّيْقٍ لِأَبِي بَكْرٍ. وَيَجُوْزُ لِدَلَالَةِ الرَّضَاءِ، وَقِيلَ: كَانَ مِنْ عَادَتِهِمْ أَنْ يَأْذَنُوا لِرُعَاتِهِمْ أَنْ يَحْلِبُوا لِمَنْ مَرَّ بِالطَّرِيقِ، وَيَحْتَاجُ إِلَى اللَّبَنِ، وَيُمْكِنُ أَنْ يَكُوْنَ اسْتَحْلَبَهُ عَلَى شَيْءٍ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3615 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2009a (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) His statement: you traveled: From “sara” in the language, meaning traveled by night, i.e., when you journeyed from Makkah to Madinah for the migration after leaving the cave. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: the sun was at its zenith: Meaning the sun reached the middle of the sky. In Al-Nihayah: When the sun reaches the meridian, its shadow slows until it passes, so it seems to the observer as if it stopped, though it moves slowly with no rapid effect as before or after the zenith. This is called the sun at its zenith. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
(3) His statement: with no one passing: Emphasizing or explaining the previous point. His statement: appeared: Meaning it was shown. His statement: I scout: With damma on the fa’, meaning I investigate news, check for enemies, or see if there is any harm from foes or otherwise. His statement: a quantity of milk: With damma on kaf, then tha’, then ba’, meaning a measure of milk. It may mean filling the bowl or a small amount of water or milk. His statement: to drink: At-Tibi said: It should be “from it,” not “in it.” I say: In Al-Qamus, “in” can mean “from.” His statement: to drink and perform ablution: Explanatory clauses; the phrase “I had a waterskin, etc.” is a circumstantial clause between “he milked” and “I came to the Prophet (ﷺ).” His statement: I waited: With fa’ before qaf in verified copies, meaning I delayed for him. His statement: until I was satisfied: Meaning my heart was content. His statement: caught: In the passive, meaning the enemy reached us. His statement: sank: Meaning its legs sank as in sand. His statement: in solid ground: With two fathas, meaning firm ground. His statement: by Allah, I will: Nominative as the subject, meaning Allah guarantees for you. In some copies, it is accusative, implying an oath or omitting its particle. His statement: you are relieved: In the passive, meaning you are spared pursuit in this direction. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
(4) His statement: [Agreed Upon]: Al-Nawawi said: This Hadith contains benefits, including this clear miracle for the Messenger of Allah (ﷺ) and the great virtue of Abu Bakr from several aspects. It shows the follower’s service to the one followed, carrying a waterskin for purification and drinking during travel, the virtue of trusting in Allah, and its good outcome. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: سريت من سرى لغة، أي أسرى بمعنى السير في الليل، أي حين سافرت من مكة إلى المدينة للهجرة بعد الخروج من الغار. كذا في «المرقاة».
Note 1
شیخ نے لمعات میں فرمایا: کہا گیا ہے کہ وہ بکریاں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک اور دوست کی تھیں اور اس کی طرف سے رضا مندی و دودھ کی اجازت تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کی عادت تھی کہ وہ اپنے چرواہوں کو اجازت دے رکھتے تھے کہ راستہ گزرنے والے اصحاب کو اگر دودھ کی ضرورت و حاجت ہو تو ان کے لئے دودھ نچوڑ دیا کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس کی قیمت دے کر لئے ہوں۔
Note 2
(5) قوله : سريت من سرى لغة فى أسرى. (آپ رات میں چلے) سری مجرد اور اسری مزید فیہ، دونوں کے معنی رات میں چلنے کے ہیں یعنی جس وقت آپ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے لئے غار سے نکلنے کے بعد چلے تھے (مرقات)۔ (6) قوله : قام قائم الظهيرة. یعنی جب سورج درمیان آسمان میں پہنچ گیا۔ کتاب نہایہ میں ہے یعنی جب سورج زوال کے وقت ٹھہر گیا اور یہ مفہوم اہل لغت کے اس قول قامت به دابته سے لیا گئے ہے، یعنی ٹھہر گیا۔ مطلب یہ ہے کہ سورج جب آسمان کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو سایہ کی حرکت سورج کے ڈھلنے تک آہستہ ہوجاتی ہے اور دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ ٹھہر گیا ہے، حالانکہ وہ چلتا رہتا ہے اور اس کے رفتار کی تیزی کا اثر ایسا ظاہر نہیں ہوتا جیسا زوال سے پہلے اور زوال کے بعد ظاہر ہوتا ہے اور اس طرح ٹھہرتے ہوئے جو دکھائی دیتا ہے اس کو قام قائم الظهيرة سے تعبیر کرتے ہیں۔ (مرقات)۔ (7) قوله : لا يمر فيه احد. (اس وقت کوئی گزر نہیں رہا تھا) یہ اپنے ماقبل کی تاکید یا اس کا بیان ہے۔ قوله : فرفعت. یعنی نمودار ہوا۔ وقوله : انا انفض. اس میں ف کو پیش ہے یعنی میں حالات معلوم کرتے رہوں گا اور دشمن کے بارے میں معلومات کروں گا اور دیکھوں گا کہ کیا یہاں کوئی دشمن یا موذی جانور تو نہیں ہے۔ وقوله : كثبة. کاف کو پیش ہے اور ث کو جزم ہے یعنی حلبہ کے برابر یہ بھی کہا گیا پیالہ بھر اور کبھی تھوڑے پانی اور مختصر سے دودھ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ وقوله : يرتوى فيها. علامہ طیبی نے کہا يرتوى فيها نہیں بلکہ يرتوى منها ہونا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ قاموس میں ہے کہ فی کبھی من کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قوله : يشرب ويتوضأ دونوں نئے جملے ہیں اور یہ دونوں بیان ہیں۔ اور ومعى جملہ حالیہ ہے۔ اور فحلب اور فاتيت النبى کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ وقوله : فوافقته. (میں انتظار کرتا رہا) صحیح شدہ نسخوں میں پہلے ف اور اس کے بعد ق ہے اس کے معنی ہیں میں انتظار کرتا رہا۔ (حاشیہ پچھلے صفحے سے) وقوله: حتى رضيت . (میں خوش ہوگیا) یعنی میرا دل خوش ہوگیا۔ وقوله: اتينا، ماضی مجہول کا صیغہ ہے یعنی ہمارے پاس دشمن آگیا۔ وقوله : فارتطمت فرسه. (اس کا گھوڑا اس کو لیکر دھنس گیا) یعنی اس کے پاؤں دھنس گئے جیسے ریت میں دھنس جاتے ہیں۔ وقوله: فى جلد ج اور ل دونوں کو زبر (فتحہ) ہے، یعنی سخت زمین میں۔ وقوله : فالله لكما . اسم جلالہ کو مبتدا ہونے کی وجہ سے پیش ہے، یعنی مجھ سے آپ دونوں کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ کفیل ہے، اور ایک نسخہ میں اسم جلالہ کو زبر ہے، لفظ اشهد محذوف ہے، یا قسم ہے اور حرف قسم محذوف ہے۔ وقوله: كفيتم . مفعول کا صیغہ ہے یعنی اس جانب تلاش کرتے ہوئے کسی کے آنے سے آپ بے فکر ہوگئے ہیں، کیونکہ میں آپ کے لئے اس کام کے لئے کافی ہوں۔ (ماخوذ از: مرقات)۔ (8) وقوله : متفق عليه. امام نووی نے فرمایا اس حدیث میں بہت فائدے ہیں منجملہ ان کے (1) یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھلا معجزہ ہے اور (2) حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس میں چند وجوہ سے فضیلت کا ذکر ہے