اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7313
حضرت حزام بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا حُبیش بن
خالد سے اور یہ ام معبد(9) کے بھائی ہیں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے
نکلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور ان کے غلام عامر بن فہیرہ ہجرت کرتے
ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، اور دونوں حضرات کو راستہ بتانے والے صاحب عبداللہ بن لیثی (10)
تھے یہ سب حضرات ام معبد کے دو خیمے کے پاس سے گزرے تو اس سے گوشت اور کھجور پوچھے تاکہ
اس میں سے کچھ خریدیں مگر اس کے پاس اس میں سے کوئی چیز بھی نہیں پائے اور حال یہ تھا کہ قوم کے
پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی، اور قحط پڑ گیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ کے کنارے میں
بکری کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: اے ام معبد! یہ بکری کا کیا حال ہے؟ تو وہ بولی اس کا دُبلا پن اس کو
دیگر بکریوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے تو آپ نے فرمایا اس میں کچھ دودھ ہے تو وہ بولی اس میں بالکل
دودھ نہیں ہے تو آپ نے فرمایا کیا تم مجھے اس کا دودھ نچوڑنے کی اجازت دوگی، تو وہ عرض کی آپ پر
میرے ماں باپ قربان اگر آپ اس میں دودھ دیکھ رہے ہیں تو نچوڑ لیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے اس بکری کو منگوایا اور اپنے دست مبارک اس کے تھنوں پر پھیرا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اس کی
بکری میں اس کے لئے دعا فرمائی تو اس بکری نے اپنے دونوں پاؤں کو آپ کے لئے کشادہ کر دیا اور
دودھ چھوڑ دی اور جگالی کی آپ ایک برتن ایسا منگوائے جو ایک جماعت کو سیراب کر سکے اور اس میں
لبالب بھر کر دودھ نچوڑے حتی کہ اس کے اوپر جھاگ آ گیا پھر آپ نے اس عورت کو پلایا یہاں تک کہ
وہ سیراب ہوگئی اور ساتھیوں کو بھی پلایا اور وہ بھی سیراب ہوگئے پھر ان سب کے آخر میں آپ نوش
فرمائے پھر اس میں دوسری مرتبہ فوری بعد دودھ نچوڑا یہاں تک کہ برتن کو بھر دیا پھر اس کو اس کے پاس
چھوڑ دیا اور اس سے بیعت لی اور اس کے پاس سے روانہ ہوگئے، امام بغوی نے اس کی روایت کی
ہے اور اس میں اور بھی قصہ ہے۔ (امام بغوی)۔
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement: Umm Ma’bad: Meaning the Khuzaiyah, Atikah bint Khalid. It is said she embraced Islam when the Prophet (ﷺ) stayed with her during his migration to Madinah, or she came to Madinah and embraced Islam. The well-known Hadith of Umm Ma’bad is famous, as mentioned by the author. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement: Abdullah al-Laythi: He was Abu Bakr al-Siddiq’s freedman who migrated with them to Madinah and had embraced Islam before the Prophet (ﷺ) entered Dar al-Arqam. His statement: destitute: Meaning lacking provisions. In Sharh al-Sunnah: The destitute is one whose provisions are exhausted. His statement: famine-stricken: Meaning afflicted by drought. His statement: corner of the tent: With fatha on kaf, sukun on sin, or kasra on the first, meaning its side. His statement: left behind: With tashdid on lam, meaning abandoned. His statement: exhaustion: With damma or fatha on jim, meaning weakness. His statement: from the flock: Meaning separated from it. His statement: too weak for that: Meaning it has no milk at all. His statement: called for it: Meaning requested it. His statement: spread its legs: With tashdid on jim, meaning it opened its legs for milking. His statement: gave milk: With tashdid on ra’, meaning it released milk. His statement: ruminated: With tashdid on ra’. At-Tibi said: Rumination is what a camel brings up from its stomach to chew and swallow. His statement: large enough for the group: With damma on ya’ and kasra on ba’, meaning it satisfies and fills them until they rest on the ground. His statement: frothy: Meaning flowing milk. His statement: frothy: With fatha on ba’, meaning the foam of milk that rises when it boils. His statement: after the first: With fatha then sukun, meaning immediately after starting. His statement: left it: Meaning he left it. His statement: with her: Meaning as a miracle for her to show her husband. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : أم معبد: أي الخزاعية، وهي عاتكة بنت خالد، يقال: إنها أسلمت لما نزل عليها النبي ﷺ في مهاجرته إلى المدينة، ويقال: إنها قدمت المدينة فأسلمت والحديث المعروف بحديث أم معبد مشهور ذكره المؤلف. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : عبد الله الليثي : هو مولى أبي بكر الصديق هاجر معهما إلى المدينة، وكان قد أسلم قبل دخول النبي ﷺ دار الأرقم. وقوله: «مرملين» أي فاقدين الزاد، في شرح السنة: المرمل من نفد زاده، يقال: أرمل الرجل إذا ذهب طعامه. وقوله: «مسنتين» أي أصابهم القحط، يقال: أسنت الرجل، فهو مسنت. وقوله: «كسر الخيمة» بفتح الكاف وسكون السين وبكسر أوله، أي جانبها. وقوله: «خلفها بتشديد اللام، أي تركها وقوله: «الجهد» بضم الجيم ويفتح، أي الهزال. وقوله: عن الغنم أي متخلفة عنها. وقوله: «قالت : هي أجهد من ذلك». والمعنى ليس فيها لبن أصلا. وقوله: «دعا بها أي طلبها. وقوله: تفاجت عليه بتشديد الجيم، أي فتحت ما بين رجليها للحلب. وقوله: و درت» بتشديد الراء، أي أرسلت الدر بالفتح، وهو اللبن. وقوله: واجترت» بالراء المشددة. قال الطيبي: الجرة ما يخرجه البعير من بطنه ليمضغه، ثم يبلعه. وقوله: يربض الرهط بضم الياء وكسر الموحدة، أي يرويهم ويثقلهم حتى يناموا ويمتدوا على الأرض من ربض في المكان؛ إذ لصق به وأقام ملازما له. وقوله: «تجاجا» أي حلبا ذا سيلان. وقوله: «حتى علاه أي ظهر على الإناء. وقوله: «البهاء» أي بهاء اللبن، وهو بفتح الباء رغوة اللبن، أي الزبد يعلوا الشيء عند غليانه. وقوله: «بعد بدء بفتح فسكون، أي بعد ابتداء بلا مكث. وقوله: «ثم غادره أي تركه. وقوله: «عندها أي معجزة تريها زوجها. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(9) قوله ام معبد. یہ خزاعیہ ہے، ان کا نام عاتکہ بنت خالد ہے کہا جاتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف اپنی ہجرت کے موقع پر ان کے پاس اترے اسی وقت وہ مشرف بہ اسلام ہو گئیں اور یہ بھی قول ہے کہ وہ مدینہ منورہ آ کر اسلام قبول فرمائیں۔ یہ حدیث ام معبد کی حدیث کے نام سے مشہور ہے مؤلف نے اس کا ذکر کیا ہے۔ (مرقات)۔ (10) قوله: عبد الله الليثي. یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے اور آپ دونوں کے ساتھ یہ مدینہ منورہ کو ہجرت کئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں تشریف رکھنے سے پہلے اسلام قبول کئے۔ قوله: مرملين. توشہ ان کے پاس ختم ہوگیا تھا شرح السنہ میں ہے المرمل وہ شخص ہے جس کا توشہ ختم ہوگیا ہو۔ اور آدمی کے پاس جب کھانا ختم ہوجاتا ہے تو أرمل الرجل کہا جاتا ہے۔ قوله: مسنتين. یعنی ان پر قحط آگیا تھا۔ جب کوئی شخص قحط سے دوچار ہوجاتا ہے تو اسنت الرجل کہا جاتا ہے۔ قوله: كسر الخيمة. کاف کو زیر اور ”سین“ کو جزم کے ساتھ اور کاف کو زیر کے ساتھ بھی ہے اس کے معنی ہیں خیمہ کا کنارہ۔ قوله: خلفها. لام کو تشدید کے ساتھ یعنی اس کو چھوڑ دیا۔ وقوله: الجهد. جیم کو پیش کے ساتھ اور اس کو زبر سے پڑھا جاتا ہے۔ یعنی دبلا پن۔ وقوله: عن الغنم. بکریوں سے پیچھے رہ جانے والی۔ وقوله: قالت هي اجهد من ذاك. یعنی اس میں بالکل دودھ نہیں ہے۔ وقوله: دعا بها. یعنی بکری کو منگوایا۔ وقوله: تفاجت. ج کو تشدید کے ساتھ یعنی اس نے دونوں پاؤں کو دودھ چھوڑنے کے لئے کشادہ کردیا۔ وقوله: ودرت. راء کو تشدید ہے، لفظ در میں دال کو زبر ہے، دودھ کے معنی میں ہے، ارسلت یعنی دودھ چھوڑ دی۔ وقوله: واجترت. راء کو تشدید ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا: ”الجرة“ کہتے ہیں وہ چیز جو اونٹ کے پیٹ سے باہر نکلتی ہے اس کو چبا کر نگلنے کے لئے۔ (جگالی)۔ وقوله: يربض الرهط. یاء کو پیش اور ب کو زیر (کسرہ) یعنی ان کو سیراب کرے یہاں تک کہ وہ آرام کریں اور زمین پر دراز ہوجائیں یہ لفظ ربض في المكان سے ہے، جب آدمی زمین سے چپک کر اور چمٹ کر رہتا ہے، تو یہ بولتے ہیں۔ وقوله: ثجا. ایسا دودھ جو بہنے لگے۔ قوله: حتى علاه. یعنی برتن کے اوپر تک آگیا۔ وقوله: البهاء باء کو زبر ہے، یعنی جھاگ جو کسی چیز کے جوش کے وقت اوپر آجاتا ہے، مراد دودھ کا جھاگ۔ و قوله: بعد بدء باء کو زیر (کسرہ) دال کو جزم یعنی شروع کرتے ہی بغیر وقفہ کے اول وقت۔ وقوله: ثم غادره پھر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ وقوله: عندها. یعنی اس کے پاس بطور معجزہ چھوڑ دیئے تاکہ وہ اپنے شوہر کو دکھائے۔ (مرقاۃ)۔