اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7320
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا، ہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ تبوک (24) میں نکلے اور وادی قری میں ایک عورت کے باغ کے
پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس باغ کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ، تو ہم ان کا اندازہ
لگائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا دس وسق سے اندازہ کیا اور آپ نے اس خاتون
سے فرمایا، ہمارے ان شاء اللہ تیرے پاس آنے تک اس کا اندازہ کر کے رکھ اور ہم چلتے رہے، یہاں
تک کہ تبوک پہنچ گئے تو آپ نے فرمایا آج کی رات تم پر تیز ہوا چلے گی رات میں کوئی بھی نہ اٹھے اور
اگر کسی کے پاس کوئی اونٹ ہو تو اس کی رسی کو باندھ دے، پس ایک تیز ہوا چلی اور ایک صاحب اٹھے
تو ہوا ان کو اٹھا لی اور مقام طے کے دو پہاڑوں میں پھینک دی پھر ہم آئے یہاں تک کہ وادی قری میں
پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس کے
پھل کتنے ہوئے تو وہ بتائی دس وسق ہوئے۔(25)(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1481 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1392 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (11)
Note 1
(1) His statement: expedition to Tabuk: Meaning to it or during it, with “expedition” in the accusative due to the omission of the preposition.
Note 2
(2) His statement: Wadi al-Qura: It is a well-known place, three days’ journey from Madinah toward Sham.
Note 3
(3) His statement: its rope: With a kasra on the ‘ayn, meaning what is used to tie a camel’s shank to its foreleg.
Note 4
(4) His statement: a strong wind blew: This is a miracle.
Note 5
(5) His statement: a man stood up, etc.: This is another miracle. His statement: she said, ten awsuq: This is a third miracle, due to her challenge and request for verification, though such an event could occur coincidentally. Perhaps he intended these miracles to demonstrate his prophethood to the hypocrites among them and to strengthen the faith of the knowledgeable. (As stated in Al-Mirqat and Al-Lama’at)
Note 1
(۱) قوله: غزوة تبوك : أي إليها أو فيها فنصب غزوة على نزع الخافض.
Note 2
(۲) وقوله: «وادي القرى هو موضع مشهور بينه وبين المدينة ثلاثة أيام من جهة الشام.
Note 3
(۳) وقوله: «عقاله» بكسر العين ما يربط به وظيف البعير إلى ذراعه.
Note 4
(٤) وقوله: فهبت ريح شديدة فهذه معجزة.
Note 5
(٥) وقوله: فقام رجل إلخ هذا معجزة أخرى. وقوله: «فقالت عشرة أوسق فهذه معجزة ثالثة لأجل تحديها وطلب معارضتها، فلا ينافيه أنه قد يقع مثل هذا اتفاقيا، ولعله أراد بهذه المعجزات إظهار نبوته للذين كانوا معه من أهل النفاق، ولزيادة إتقان إيمان أهل العرفان التقطته من «المرقاة» و«اللمعات».
Note 1
(24) قوله: غزوة تبوك۔ غزوۃ میں ت کو زیر ہے اور یہ منصوب بنزع الخافضہ یہ اصل میں الى غزوة، یا فى غزوة تھا۔ وقوله: وادى القرى۔ یہ ایک مشہور مقام ہے اس کے اور مدینہ منورہ کے درمیان ملک شام کی جہت سے تین دن کی مسافت ہے۔ وقوله: عقاله۔ ع کو زیر (کسرہ) ہے وہ ڈوری جس کے ذریعہ اونٹ کی پنڈلی اس کے ہاتھ سے باندھی جاتی ہے۔ وقوله: فهبت ريح شديدة۔ یہ ایک معجزہ ہے۔ وقوله: فقام رجل۔ یہ ایک دوسرا معجزہ ہے۔ وقوله: فقالت عشرة اوسق یہ تیسرا معجزہ ہے۔ اگرچہ کہ اس طرح کی چیز اتفاقی طور پر بھی ہو بھی جاتی ہے اس کے باوجود یہ معجزہ ہے اس لئے کہ آپ نے اسے جیسا کہ فرمایا تھا اور اس کا معاوضہ طلب فرمایا تھا۔ اور ان معجزات کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں جو منافقین تھے ان کے لئے اپنی نبوت کا اظہار فرمایا اور جو اہل عرفان ہیں ان کے اتقان میں اضافہ فرمایا۔ (ماخوذ از مرقات ولمعات) (25) قوله : متفق عليه۔(بخاری و مسلم نے اس کی روایت کی ہے) مرقات میں اسی طرح ہے۔