Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5676

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5676Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7353
حضرت عوف رضی اللہ عنہ حضرت ابو رجاء سے اور وہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ لوگ آپ کی خدمت میں پیاس لگنے کی شکایت کئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر کر فلاں صحابی کو بلائے ابو رجاء ان کا نام بیان کئے تھے مگر حضرت عوف اس کو بھول گئے اور حضرت علی کو بلائے اور فرمایا کہ تم دونوں جاؤ اور پانی تلاش کرو۔ تو وہ دونوں چلے اور ایک خاتون سے ان کی ملاقات ہوئی جو پانی کے دو پکھالوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی(81) تو ان دونوں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا اور لوگ اس کو اس کے اونٹ سے اتارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور دونوں پکھالوں کے منہ سے اس میں پانی انڈیلا اور لوگوں میں اعلان کر دیا گیا سیراب کر لو اور سیراب ہو جاؤ۔ راوی نے کہا کہ ہم چالیس پیاسے آدمی اس کو پئے یہاں تک کہ سیر ہو گئے اور ہمارے ساتھ کے ہر مشکیزے اور ہر برتن کو بھر لئے اور خدا کی قسم جب اس کو بند کر دیا گیا تو ہمیں خیال ہوتا تھا کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ بھرا ہوا ہے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 344 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 682a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

flat leather bags,

(1) His statement: water skins: With a fatha on the mim, meaning she was riding between two containers, originally for provisions. Or “flat leather bags,” as the judge said: a type of water skin made of two pieces of leather, one placed against the other and flattened. Al-Jazari said: It is smaller than a water skin. His statement: of water: Clarifies their contents. His statement: we drank, thirsty: With a kasra on the first letter, the plural of thirsty, a state describing the subject of “we drank.” “Forty men” specifies their number, as noted by At-Tibi. His statement: it was emptied from her: In the passive voice, meaning the group ceased taking from the water skin and withdrew. His statement: fuller: With a kasra on the mim and a fatha or sukoon on the lam, a noun from “filled the vessel.” His statement: when it began: Means it appeared to have more water than when they started drawing from it. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: مزادتين : بفتح الميم أي راكبة بين راويتين، وهي في الأصل؛ لما يوضع فيه الزاد أو سطيحتين». قال القاضي: وهي نوع من المزادة يكون من جلدين، قوبل أحدهما بالآخر فسطح عليه. وقال الجزري: هي أصغر من المزاد، ثم قوله: من ماء بيان لما فيهما. وقوله: فشربنا عطاشا» بكسر أوله جمع عطشان حال من فاعل «شربنا»، «أربعين رجلا بيان له ذكره الطيبي. وقوله: «لقد أقلع عنها بصيغة المجهول، أي انكفت الجماعة عن تلك المزادة ورجعوا عنها. وقوله: «ملئة» بكسر الميم وبفتح وسكون اللام فعلة من الملأ» مصدر: ملأت الإناء. وقوله: «حين ابتدئ». والمعنى أنها حينئذ كانت أكثر ماء من تلك الساعة التي استقوا منها. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(81) قوله: مزادتین۔ میم کو زبر (فتح) سے یعنی وہ دو بڑے پکھالوں کے درمیان سوار تھی۔ اصل میں مزادہ کہتے ہیں ایسے توشہ دان کو جس میں توشہ رکھا جاتا ہے او سطیحتین علامہ قاضی نے فرمایا کہ دراصل سطیحۃ مزادہ کی ہی ایک قسم ہے جو دو چمڑوں سے بنائی جاتی ہے اور یہ دو ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں۔ اور علامہ جزری فرماتے ہیں کہ مزاد سے سطیحۃ چھوٹا ہوتا ہے۔ ثم قوله من ماء۔ یہ ان دونوں پکھالوں میں کی چیز کا بیان ہے۔ قوله: فشربنا عطاشا عین کو زیر (کسرہ) ہے یہ عطشان کی جمع ہے اور شربنا کی ضمیر سے حال ہے۔ اربعین رجالا اس کا بیان ہے۔(طیبی)۔ وقوله: لقد اقلع عنها۔ یہ مجہول کا صیغہ ہے یعنی جماعت اس کے پکھال کو چھوڑ دی اور اس سے ہٹ گئی۔ وقوله: ملأة اس میں میم کو زیر (کسرہ) ہے اور زبر (فتح) سے بھی پڑھا گیا ہے اور لام کو جزم ہے اور یہ ملأ سے مفعلة کے وزن پر مصدر ہے۔ ملأت الاناء کے معنی میں ہے یعنی (میں برتن کو بھرا)۔ قوله: حين ابتدئ۔ مطلب یہ ہے کہ اس پانی سے سیراب ہونے کے موقعہ پر جس قدر بھرا ہوا تھا اب اس سے بھی زیادہ بھرا ہوا ہے۔(مرقات)۔