اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7386
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوا اور میں ایک اونٹ پر تھا(149) جو تھک گیا تھا اور وہ چلنے کو نہیں
تھا تو میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوا؟ میں نے کہا وہ تھک
گیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے آئے اور اس کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا فرمائی پس وہ مسلسل
اونٹوں کے سامنے چلنے لگا، تو آپ نے مجھ سے فرمایا تم اپنے اونٹ کو کیسے دیکھ رہے ہو تو میں عرض کیا
خیریت سے ہے! اس کو آپ کی برکت مل گئی۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم اس کو میرے ہاتھ ایک اوقیہ
میں بیچتے ہو تو میں اس کو بیچ دیا اس شرط پر کہ مجھے اس کی پشت پر سواری کا مدینہ منورہ تک حق رہے گا اور
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں اونٹ کو لیکر صبح آپ کی خدمت میں حاضر
ہوا تو آپ نے مجھے اس کی قیمت دی اور اونٹ بھی واپس دے دیا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2967 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 715a (unverified) 85% confidence · Validation similarity: 0.476
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement “a camel”: meaning a camel used for drawing water, as in An-Nihayah. His statement “rebuked it”: meaning by striking or shouting. His statement “leading them”: a substitute or clarification for “ahead of the camels,” a circumstantial phrase for “it kept” or “moving.” At-Tibi confirmed this. His statement “a wuqiyyah”: meaning forty dirhams, as clarified by the commentator. His statement “I came to him in the morning with the camel”: meaning I brought it to him in the morning. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : ناضح : أي راكب على بعير يستقي عليه، كما في النهاية». وقوله: «فزجره» أي بالضرب أو الصوت. وقوله: قدامها» بدل أو بيان لقوله: بين يدي الإبل وهو ظرف لقوله: فما زال»، ويجوز أن يكون ظرفا لقوله: «يسير» وهو خبر «ما زال» واسمه عائد إلى ناضح». كذا حققه الطيبي. وقوله: «بوقية» أي بأربعين در هما، صرح به شارح. وقوله: غدوت عليه بالبعير أي أتيته به غدوة. كذا في «المرقاة».
Note 1
اور حضرت شیخ نے لمعات میں فرمایا کہ ان کا یہ کہنا کہ میں نے اس کو اس شرط پر فروخت کیا کہ مجھے مدینہ منورہ تک سواری کا حق رہے گا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی کسی شرط کے ساتھ جس میں بائع کا فائدہ ہے بیچنا جائز معلوم ہوتا ہے حالانکہ فقہاء کرام نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ یہ شرط عقد کے تقاضے کے خلاف ہے اس میں عاقدین میں سے ایک کے لئے منفعت ہے کیونکہ مدینہ منورہ تک سواری اگر اس کے مقابل میں کوئی ثمن ہے تو وہ بیع میں اجارہ ہوگا اور اگر اس کے مقابل میں کوئی چیز ثمن نہ ہے تو وہ بیع میں اعارہ ہوگا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک معاملہ میں دو معاملے کرنے سے منع فرمایا ہے، نیز شرط کے ساتھ بیع کرنے سے بھی منع فرمایا ہے جب یہ عقد جائز نہیں ہوا تو بیع فاسد ہوجائے گی، فقہاء نے فرمایا یہ بات اس حدیث میں منسوخ ہے اور یہی بات ٹھیک ہے۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ یہ شرط اصل عقد میں نہیں تھی بلکہ بیع ہونے کے بعد انہوں نے اس کی خواہش کی ہو اگرچہ بظاہر عبارت اس کے منافی ہے۔
Note 2
(149)قولہ: ناضح۔ یعنی میں ایک ایسے اونٹ پر سوار تھا جس پر پانی لایا جاتا تھا۔ (نہایہ)۔ وقولہ: فزجرہ۔ اس کو ضرب اور آواز سے ڈانٹا۔ وقولہ: قدامها ”بين ايدى الابل“ سے بدل ہے یا اس کا بیان ہے۔ وقولہ: بوقية. یعنی ایک شارح کی تصریح کے مطابق چالیس درہم ہیں۔ وقولہ: غدوت عليه بالبعير. یعنی میں دوسرے دن صبح میں اس کو لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ (مرقات)۔