Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5707

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5707Volume 5

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: A wolf came to a shepherd and took a sheep. The shepherd pursued it and retrieved the sheep. The wolf climbed a hill 1, sat on its haunches, tucked its tail, and said, “You took the sustenance Allah provided me.” The man said, “By Allah, I have never seen a wolf speak like today.” The wolf said, “More astonishing than this? A man in the palm groves between the two lava fields tells you of what has passed and what will come after you.” The man, a Jew, went to the Prophet (ﷺ), told him, and embraced Islam. The Prophet (ﷺ) confirmed him and said, “It is a sign among the signs before the Hour. Soon a man will go out, and his shoe and whip will tell him what his family did after he left.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٧٠٧-وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي غَنَمٍ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةٌ، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ، قَالَ: فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ1 فَأَقْعَى وَاسْتَغْفَرَ، وَقَالَ: قَدْ عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللهُ، أَخَذْتُهُ، ثُمَّ انْتَزَعْتَهُ مِنِّي، فَقَالَ الرَّجُلُ: تَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبُ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ الذَّئْبُ: أَعْجَبُ مِنْ هَذَا؟ رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى، وَبِمَا هُوَ كَائِنُ بَعْدَكُمْ، قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًا فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ ، فَأَخْبَرَهُ وَأَسْلَمَ، فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ ﷺ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "إِنَّهَا أَمَارَةٌ مِنْ أَمَارَاتٍ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعَ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ. رَوَاهُ في شَرْحِ السُّنَّةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7389
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک بھیڑیا بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس آیا اور ان میں سے ایک بکری پکڑ لیا تو چرواہے نے اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس کو اس سے چھین لیا۔ راوی نے کہا کہ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھا(153) اور سرین کے بل بیٹھ گیا اور دونوں پاؤں کے درمیان اپنی دم کو دبا لیا اور بولا جو اللہ نے مجھے دیا تھا میں نے اس کو لیا تھا تُو نے اس کو مجھ سے چھین لیا تو اس شخص نے کہا: خدا کی قسم! میں آج کی طرح کوئی دن نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا بات کر رہا ہے، تو بھیڑیئے نے کہا اس سے بھی تعجب خیز وہ ذات ہے جو دو پتھریلی زمین کے درمیان کھجور کے درختوں میں ہے، وہ تمہیں اس چیز کی خبر دیتے ہیں جو گزر گئی اور اس کی جو تمہارے بعد ہونے والی ہے، راوی نے کہا: وہ آدمی یہودی تھا پس وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس (واقعہ) کو سنایا اور اسلام لے آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کی پھر فرمایا یہ قیامت کے قریب کی نشانیاں ہیں، قریب ہے کہ ایک شخص گھر سے نکلے گا اور وہ نہیں واپس ہوگا یہاں تک کہ اس کے نعلین اور تسمے اس کو بولیں گے جو کچھ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا ہے۔ (شرح السنہ)۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

hill

(1) His statement “hill”: with an emphasized lam, meaning an elevated place. His statement “sat on its haunches”: meaning it sat with its hips down and forelegs raised. His statement “tucked its tail”: meaning it placed its tail between its legs or hindquarters. His statement “You took”: with a fathah on the mim, as a statement of complaint. In a correct narration, it uses the second person as a rhetorical question of disapproval, meaning you intended. His statement “I have never seen”: meaning I saw nothing like. His statement “a wolf speak”: the predicate of an omitted subject, as if saying, “What is this?” and answering, “A wolf speaking.” His statement “in the palm groves”: meaning Madinah’s palm trees between the two lava fields, lands with black stones between two of Madinah’s mountains. His statement “a sign”: meaning signs. His statement “go out”: meaning from his house. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: تل: بتشديد اللام، أي مكان مرتفع. وقوله: فأقعى أي جلس مقعيا بأن قعد على وركيه ونصب يديه. وقوله: «واستثفر» بالمثلثة فالفاء، أي أدخل ذنبه بين رجليه. وقيل: بين ألييه. وقوله: قد عمدت» بفتح الميم على صيغة المتكلم أخبارا على سبيل الشكاية. وفي نسخة صحيحة بصيغة الخطاب على أنه استفهام على سيل الإنكار، والمعنى قصدت. وقوله: «إن رأيت أي ما رأيت. وقوله: «ذئب يتكلم» خبر مبتدأ محذوف كأنه قيل: أي شيء هو، فقال: ذيب يتكلم. وقوله: «في النخلات بالفتحات، أي نخيل المدينة الواقعة بين الحرتين بفتح الحاء وتشديد الراء تثنية حرة، وهي أرض ذات حجارة سود بين جبلين من جبال المدينة. وقوله: «إنها أمارات أي علامات. وقوله: إن يخرج أي من بيته. التقطته من «المرقاة».

Note 1

(153) قولہ تل۔ لام کو تشدید ہے، یعنی اونچی جگہ۔ وقولہ: فاقعى یعنی دونوں ہاتھ کھڑے کر اپنے سرینوں پر بیٹھ گیا۔ وقولہ: واستثفر۔ ثاء اور فاء ہے یعنی اپنی دم دونوں پاؤں کے بیچ ہوا، اور ایک قول میں دونوں سرینوں کے بیچ میں داخل کر دیا۔ وقولہ: قد عمدت میم کو زیر (نصر) متکلم کا صیغہ ہے۔ اس میں بطور شکایت خبر دینا ہے اور ایک صحیح نسخہ میں ہے، خطاب کا صیغہ ہے یہ استفہام انکاری ہے اس کا معنی ہے تو نے ارادہ کیا۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: ان رأيت یہ ما رأيت کے معنی میں ہے۔ وقوله: ذئب يتكلم۔ یہ محذوف کی خبر ہے گویا ایک سوال ہوا کہ وہ کونسی چیز ہے تو جواب میں کہا گیا کہ وہ بھیڑیا ہے جو بول رہا ہے۔ وقوله: فى النَّخَلات تینوں پر زبر (فتحہ) ہے، مدینہ کے کھجور کے باغات جو حرتین میں واقع ہیں، حرتین راء کو تشدید ہے حرتین، حرّة کا مثنیٰ ہے۔ مدینہ منورہ کے پہاڑوں میں ہے، دو پہاڑوں کے درمیان کالے کالے پتھروں کی زمین ہے۔ وقوله: انها امارات اس کے معنی علامات ہیں۔ وقوله: ان يخرج یعنی اپنے گھر سے نکلے گا۔ (ماخوذ از مرقات)۔