English
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) arrived in Madinah, the Abyssinians played with their spears 1 in joy at his coming. [Narrated by Abu Dawud] In Ad-Darimi’s narration: He said: I have never seen a day as beautiful or brighter than the day the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us, nor a day as uglier or darker than the day the Messenger of Allah (ﷺ) passed away. In At-Tirmidhi’s narration: He said: When it was the day the Messenger of Allah (ﷺ) entered Madinah, everything in it lit up. When it was the day he passed away, everything in it darkened. We had not shaken the dust from our hands while burying him until 2 our hearts rejected it.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٧٢٣ وَعَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ بِحِرَابِهِمْ1 فَرَحًا لَقُدُومِهِ. رَوَاهُ دَاوُدَ.
وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمي: قَالَ: مَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ رَسُولُ اللهِ ، وَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَقْبَحَ وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمِ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ الله .
وَفِي رِوَايَةِ التَّرْمِذِيِّ: قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ، وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِينَا عَنْ التَّرَابِ، وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى2 أَنْكَرْنَا قُلُوْبَنَا.
اردو
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم مدینہ تشریف لائے تو حبشی حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں اپنے نیزوں سے
کرتب دکھائے(4)۔ (ابوداؤد)
اور دارمی کی روایت میں ہے: انہوں نے کہا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ہمارے پاس تشریف لائے میں نے اس دن سے بڑھ کر کوئی خوبصورت اور روشن دن نہیں دیکھا
اور جس دن آپ وفات پائے اس دن سے بڑھ کر میں نے کوئی خراب اور تاریک دن نہیں دیکھا۔
اور ترمذی کی روایت میں ہے: انہوں نے کہا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم مدینہ میں داخل ہوئے مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی اور جس دن آپ نے وفات پائی اس کی ہر چیز
تاریک ہوگئی اور ہم نے مٹی سے اپنے ہاتھ ابھی جھاڑے بھی نہیں تھے ہم ابھی آپ کی تدفین میں
تھے کہ اپنے قلوب کو بدلے ہوئے پائے(5)۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4923 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement “with their spears”: with a kasrah on the ha, plural of harbah, a short spear. His statement “In At-Tirmidhi’s narration: He said”: meaning Anas. His statement “everything”: in the nominative, as “it lit up” requires it. It can be transitive. “From” clarifies what preceded. At-Tibi said: The pronoun refers to Madinah. This indicates the lighting was perceptible. His statement “everything in it darkened”: specifying Madinah as it is closer and more appropriate for the narrator’s sight. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) His statement “until our hearts rejected it”: in the accusative as the object of “rejected.” It does not mean denying faith, but a metaphor for losing the radiance and clarity from seeing him, the difference between presence and absence. (As stated in Al-Lama’at) In Al-Mirqat, quoting Al-Turbishti: It means they did not find their hearts as they were in purity and familiarity due to the revelation’s cessation and loss of the Prophet’s (ﷺ) support and teaching. It does not mean they did not find them believing.
Note 1
(۱) قوله: بحرابهم بكرس الحاء المهملة جمع حربة، وهي رمح قصير. وقوله: وفي رواية الترمذي: قال أي أنس. وقوله: كل شيء بالرفع، فإن أضاء لازم. وقد يتعدى، و من بيان تقدمت. وقال الطيبي: الضمير راجع إلى المدينة. وهذا يدل على أن الإضاءة كانت محسوسة. وقوله: «أظلم منها كل شيء، وتخصيص المدينة؛ لكونها أقرب، ونسبة رؤية الراوي أنسب. التقطته من المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : حتى أنكرنا قلوبنا بالنصب مفعول أنكرنا لم يرد عدم التصديق الإيماني، بل هو كناية عن عدم وجدان النورانية والصفاء الذي كان حاصلا من مشاهدته ، التفاوت حال الحضور والغيبة. كذا في «اللمعات». وقال في المرقاة» ناقلا عن التوربشتي: يرد أنهم لم يجدوا قلوبهم على ما كانت عليه من الصفاء والألفة؛ لانقطاع مادة الوحي وفقدان ما كان يمدهم من الرسول الله من التأييد والتعليم، ولم يرد أنهم لم يجدوها على ما كانت من التصديق.
Note 1
(4) قوله: بِحِرَابِهِمْ۔ حاء کو کسرہ (زیر) ہے اور یہ حربۃ کی جمع ہے یہ چھوٹا نیزہ ہوتا ہے۔ وقوله: في رواية الترمذي قال: یعنی حضرت انس نے فرمایا وقوله: كل شيء کو پیش ہے اضافہ فعل لازم ہے اور کبھی متعدی بھی مستعمل ہوتا ہے اور من بیانیہ ہے اور وہ کل شیء کا بیان مقدم ہے اور علامہ طیبی نے فرمایا ھا ضمیر کا مرجع مدینہ منورہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ روشن ہونا بالکل محسوس تھا۔ وقوله: اظلم منها كل شيء مدینہ منورہ کا خاص ذکر صرف اس لئے ہے کہ دیکھنے والے سے وہ قریب ہے۔ اور راوی کے اس کو دیکھنے کی نسبت سے اس کا ذکر زیادہ مناسب ہے۔ (ماخوذ از: مرقات)
Note 2
(5) قوله: حتى انكرنا قلوبنا۔ ”قلوبنا“ انکر کا مفعول ہے۔ اس سے ایمانی تصدیق میں فرق مراد نہیں ہے بلکہ نورانیت صفائی قلب کا وجدان جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار سے حاصل تھا، کیونکہ موجودگی اور غیر موجودگی کی حالت میں تفاوت ہوتا ہے۔ (لمعات) اور صاحب مرقات نے علامہ توربشتی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ جو صفائی قلب اور نورانیت تھی وحی منقطع ہونے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تائید اور تعلیم ان کو حاصل تھی اس کے ختم ہوجانے کی وجہ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) سے ان کے دلوں نے اس صفائی قلب و نورانیت کو نہیں پایا۔ اس سے ایمانی تصدیق جو ان کو حاصل تھی وہ مراد نہیں ہے۔ (مرقات)