اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7412
اور انہی سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صحت کے زمانے میں
فرماتے تھے کسی نبی کو وفات نہیں دی جاتی یہاں تک کہ ان کو جنت کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے پھر ان کو
اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا پس جب آپ پر نزع کی کیفیت طاری ہوئی(9) اور آپ
کا سر مبارک میری ران اوپر تھا پھر آپ پر غشی طاری ہوئی پھر افاقہ ہوا پھر آپ نے اپنی نگاہ کو چھت کی
طرف اٹھایا اور فرمایا اے اللہ میں رفیق اعلیٰ چاہتا ہوں میں بولی اب آپ ہم کو اختیار نہیں کریں گے اور
فرمائیں کہ میں پہچان گئی یہ وہی حدیث ہے جو آپ اپنی صحت کے زمانہ میں ہم سے فرماتے تھے اپنے
اس ارشاد میں کہ کسی بھی نبی کو اس وقت تک وفات نہیں دی جاتی یہاں تک کہ ان کو جنت میں ان کا
مقام دکھا دیا جاتا ہے پھر ان کو اختیار دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بولیں آخری کلمہ(10)
جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کا یہ ارشاد تھا اللهم الرفيق الاعلىٰ اے اللہ میں رفیق
اعلیٰ کو اختیار کر لیا۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6509 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2444b (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) His statement “the signs of departure approached”: meaning its signs. “His head was on my thigh” is a circumstantial clause. The response to “when” is her statement: “he fainted,” meaning he lost consciousness. His statement “while healthy”: At-Tibi said: This refers to the Hadith he mentioned while healthy.
Note 2
(2) His statement “his last words”: in the accusative. In one copy, it is in the nominative: “O Allah, the Sublime Companion.” As-Suhayli said: The first words the Prophet (ﷺ) spoke were “Allah is Greater” while he was being nursed at Halimah’s. Ibn Hajar mentioned this, and it is narrated that he was the first to say “Yes” when “Am I not your Lord?” [Al-A‘raf: 172] was asked. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فلما نزل: أي الموت يعني علاماته، «به» أي بالنبي ، ورأسه على فخذي حال، وجواب «لها» قولها: «غشي عليه» أي أغمي. وقوله: «وهو صحيح قال الطيبي: أي إن هذا القول إشارة إلى الحديث الذي قال في حال صحته.
Note 2
(۲) قوله: فكان آخر كلمة تكلم بها النبي له قوله : بالنصب. وفي نسخة بالرفع، اللهم الرفيق الأعلى» قال السهيل: وأول كلمة تكلم بها النبي الله وهو مسترضع عند حليمة: «الله أكبر». ذكره ابن حجر، وروي أنه أول من قال: بلى يوم قال: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ﴾ (الأعراف: ۱۷۲). كذا في «المرقاة».
Note 1
(9) قوله: فلما نزل یعنی موت کی علامتیں اتر آئیں۔ میں ضمیر کا مرجع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اسہ علی فخذی ترکیب میں حال ہے اور لما کا جواب غشي عليه ہے یعنی غشی طاری ہوئی۔ وقوله: وهو صحيح۔ علامہ طیبی نے فرمایا یہ قول اس حدیث شریف کی طرف اشارہ ہے جو آپ نے اپنی صحت کے حالت میں فرمایا تھا۔ (10) قوله: فكان آخر كلمة تكلم بها النبي صلى الله عليه وسلم اس میں قوله: کو نصب ہے اور ایک نسخہ میں پیش ہے۔ اللهم الرفيق الاعلىٰ۔ علامہ سہیلی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائی حلیمہ کے پاس شیر خواری کے زمانہ میں سب سے پہلا کلمہ جو آپ نے فرمایا وہ الله اكبر ہے۔ علامہ ابن حجر نے اس کا ذکر کیا ہے، اور مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے الست بربکم کے جواب میں بلیٰ فرمایا۔ (مرقات)