العربية
Typed, pending editorial approval
٥٧٢٨ - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ1 ثَمَانِ سِنِينَ، كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطُ، وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ، وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأَنَا فِي مَقَامِي هَذَا، وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا. وَزَادَ بَعْضُهُمْ: «فَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
قَالَ عَلِيٌّ الْقَارِي: صَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَلَيْهِمْ صَلَاةَ الْجَنَازَةِ وَهُوَ الظَّاهِرُ الْمُتَبَادِرُ فَهُوَ مِنْ خُصُوصِيَاتِهِ أَوْ خُصُوْصِيَّتِهِمْ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: الْمُرَادُ بِالصَّلَاةِ الدُّعَاءَ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4042 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1344 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2296b (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement “after eight years”: meaning from their burial. His statement “as if bidding farewell to the living and the dead”: to the living by leaving them, and to the dead by ceasing his supplication and seeking forgiveness for them. As-Suyuti said: This was near his passing. His statement “predecessor”: with fathah on fa and ra, the one who precedes the arrivals, preparing drinks and buckets for them and watering. It means he is their intercessor, as he precedes them, and the intercessor precedes the interceded for. His statement “a witness over you”: meaning aware of your states, as your deeds are shown, or I am a witness and praiser for you. His statement “your appointed place”: meaning the place promised for your exclusive intercession on the Day of Gathering, the Pool. His statement “I see it”: meaning now, the Pool, from my place above the pulpit, which is apparent. It seems it was revealed to him in that state. His statement “I have been given the keys to the treasures of the earth”: meaning the earth’s treasures will be opened for my nation by conquering its lands. His statement “you will compete”: with the omission of one ta, meaning you will desire it. An-Nawawi said: It includes the Prophet’s (ﷺ) miracles: informing that his nation will possess the earth’s treasures, which happened; they will not apostatize, and Allah protected them from that; and they will compete for the world, which happened. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: بعد ثمان سنين: أي من دفنهم. وقوله: كالمودع للأحياء والأموات، أما الأحياء فبخروجه من بينهم، وأما الأموات فبانقطاع دعائه واستغفاره لهم. قال السيوطي: وذلك قرب موته . وقوله: «فرط» بفتح الفاء والراء، وهو الذي يتقدم الواردة، فيهئ لهم الرشاء والدلاء ويسقي لهم، وهو فعل بمعنى فاعل كتبع بمعنى تابع، يريد أنه شفيع لهم؛ لأنه يتقدمهم، والشفيع يتقدم على المشفوع. وقوله: «أنا عليكم شهيد أي مطلع على أحوالكم؛ إذ تعرض على أعمالكم أو أنا شاهد لكم ومثن عليكم. وقوله: وإن موعدكم أي مكان وعدكم للشفاعة الخاصة بكم في يوم الجمع الحوض. وقوله: «لأنظر» أي الآن إليه» أي إلى الحوض وأنا في مقامي هذا أي فوق المنبر، وهو على ظاهره، وكأنه كشف له عنه في تلك الحالة. وقوله: «وإني قد أعطيت مفاتيح خزائن الأرض أي ستفتح لأمتي خزائن الأرض بفتح بلادها. وقوله: «إن تنافسوا» بحذف إحدى التائين، أي ترغبوا . قال النووي: فيه معجزات الرسول الله ﷺ؛ فإن معناه الإخبار بأن أمته تملك خزائن الأرض. وقد وقع ذلك وأنهم لا يرتدون. وقد عصمهم الله تعالى من ذلك وأنهم يتنافسون في الدنيا. وقد وقع ذلك. التقطته من «المرقاة».
Note 1
حضرت ملا علی قاری نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ پڑھی یہ بات ظاہر و باہر ہے پس یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہے یا شہدائے احد کی خصوصیات میں سے ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا یہاں صلوٰۃ سے مراد دعا کرنا ہے۔
Note 2
(11) قوله: بعد ثمان سنين۔ یعنی ان کے دفن کئے جانے کے آٹھ سال بعد۔ وقوله: كالمودع للاحياء (حاشیہ پچھلے صفحے سے) والاموات. آپ زندوں کے درمیان سے آنے اور مردوں کو دعا واستغفار کرنے کی وجہ زندوں مردوں کو رخصت کرنے والے کی طرح ہوئے۔ قولہ: فرط. فاء اور راء دونوں کو فتحہ زبر ہے فرط وہ شخص ہے جو قافلہ سے پہلے جاتا اور ان کے لئے ڈول رسی کا انتظام کرتا ہے اور ان کو سیراب کرتا ہے فرط مصدر ہے مگر معنی میں اسم فاعل ہے، جیسے تبع تابع کے معنی میں ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے شفاعت فرمانے والے ہیں کیونکہ وہ پہلے تشریف لے جا رہے ہیں، شفاعت کرنے والے جن کی شفاعت کرتے ہیں ان سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ وقولہ: انا علیکم شہید. میں تمہارے احوال سے واقف ہوں کیونکہ مجھ پر تمہارے اعمال پیش کئے جاتے ہیں یا میں تمہارے لئے گواہ اور تمہاری تعریف کرنے والا ہوں۔ وقولہ: وان موعدکم قیامت کے دن تمہاری خصوصی شفاعت کے لئے وعدہ کا مقام۔ وقولہ: لانظر یعنی اس وقت میں حوض کو دیکھ رہا ہوں وانی مقامی هذا اور یہ اپنے ظاہری معنی پر ہے میں اس سے اس مقام یعنی منبر شریف پر سے دیکھ رہا ہوں۔ آپ پر اس حالت میں یہ چیز ظاہر کر دی گئی تھی۔ وقولہ: وانی قد اعطیت مفاتیح خزائن الارض. یعنی میری امت کے لئے ملک فتح ہو جائیں گے اور زمین کے خزانے کھول دیئے جائیں گے۔ وقولہ: ان تنافسوا. اس میں ایک تاء حذف کر دی گئی ہے، یعنی تم رغبت کرو گے۔ علامہ نووی نے فرمایا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ہیں کیونکہ اس کے معنی اس بات کی خبر دینا ہے کہ آپ کی امت زمین کے خزانوں کی مالک ہو جائے گی چنانچہ یہ بات ہو کر رہی، اور یہ بھی خبر دینا ہے کہ آپ کی امت مرتد نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے امت کو اس سے محفوظ رکھا ہے اور یہ بتانا ہے کہ وہ دنیا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت کریں گے چنانچہ یہ بھی ہو کر رہا۔ (ماخوذ از مرقات)