Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5779

Chapter on the Virtues of the Companions (may Allah be pleased with them all)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Companions (may Allah be pleased with them all)

Zujajat al-Masabih 5779Volume 5

English

Abu Sa‘id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “A time will come upon people when a group 1 of people goes out to fight, and it is said: Is there among you anyone who accompanied the Messenger of Allah (ﷺ)? They say: Yes, and victory is granted to them. Then a time will come upon people when a group of people goes out to fight, and it is said: Is there among you anyone who accompanied the companions of the Messenger of Allah (ﷺ)? They say: Yes, and victory is granted to them. Then a time will come upon people when a group of people goes out to fight, and it is said: Is there among you anyone who accompanied those who accompanied the companions of the Messenger of Allah (ﷺ)? They say: Yes, and victory is granted to them.” [Agreed Upon] In a narration by Muslim: He said: “A time will come upon people when a detachment is sent from them, and they say: Look, is there among you anyone from the companions of the Prophet (ﷺ)? A man is found, and victory is granted to them. Then a second detachment is sent, and they say: Is there among them anyone who saw the companions of the Messenger of Allah (ﷺ)? And victory is granted to them. Then a third detachment is sent, and it is said: Look, is there among them anyone who saw those who saw the companions of the Prophet (ﷺ)? Then a fourth detachment is sent, and it is said: Look, is there among them anyone who saw those who saw those who saw the companions of the Prophet (ﷺ)? A man is found, and victory is granted to them.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٧٧٩ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانُ فَيَغْزُو فِتَامٌ1 مِنَ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللهِ ﷺ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامُ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامُ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ، فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي، فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللَّهِ ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ، فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ؟ ثُمَّ يَكُونُ2 الْبَعْثُ الرَّابِعُ، فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7469Noor 7470
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ ایک جماعت(13) جہاد کرے گی تو کہا جائیگا کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی صحابی ہیں تو وہ کہیں گے ہاں ہیں تو ان کو کامیابی دی جائیگی پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جائیگا کیا تم میں ایسے کوئی صاحب ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ رہے ہوں تو وہ لوگ کہیں گے ہاں تو ان کو کامیابی دی جائیگی پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جائیگا کیا تم میں کوئی ایسے صاحب ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ رہنے والوں کے ساتھ رہے ہوں تو وہ لوگ کہیں گے ہاں تو ان کو کامیابی دی جائیگی۔ (متفق علیہ) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: آپ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے ایک فوجی دستہ بھیجا جائے گا تو وہ کہیں گے دیکھو کیا تم اپنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کو پاتے ہو، تو ایک صحابی پائے جائیں گے تو ان کو کامیابی دی جائے گی پھر ایک دوسرا جنگی دستہ روانہ کیا جائے گا تو وہ لوگ کہیں گے کیا تم میں کوئی ایسے صاحب ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو تو ان کو کامیابی دی جائے گی۔ پھر تیسرا دستہ بھیجا جائے گا تو کہا جائے گا کہ دیکھو کیا تم ان میں ایسے کسی صاحب کو دیکھتے ہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا ہے یعنی تابعین کو دیکھا ہے صحابہ کو دیکھنے والے کو دیکھا ہو پھر چوتھا دستہ ہوگا(14) تو کہا جائے گا دیکھو کیا تم ان میں کسی ایسے صاحب کو دیکھتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھنے والے کو دیکھا ہو تو وہ صاحب پائے جائیں گے تو ان کو فتح دی جائے گی۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3649 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2532a (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.655

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

group

(1) His statement “group”: i.e., a party. In the Hadith is a miracle of the Messenger of Allah (ﷺ) and a virtue for his companions, the followers, and their followers. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

Then a fourth detachment

(2) His statement “Then a fourth detachment”: with the addition, it is a verbal noun, and the described is omitted, i.e., the sending of the fourth detachment. The meaning of “detachment” is the army sent. His statement “Look, is there among them anyone who saw those who saw those who saw”: i.e., that one saw the companions of the Prophet (ﷺ), being two intermediaries. A man is found, and victory is granted to them, i.e., for that follower of the followers of the followers. Since people of goodness were rare in the fourth generation, most narrations limited it to the three generations due to the abundance of scholars and righteous people in them and the scarcity of folly and corruption among them. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فئام أي جماعة في الحديث معجزة لرسول الله ، وفضل لأصحابه والتابعين وتابعيهم. كذا في المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: ثم يكون بعث الرابع: بالإضافة وهو مصدر، والموصوف محذوف، أي بعث البعث الرابع، فالمراد بالبعث الجيش المبعوث. وقوله: انظروا هل ترون فيهم أحدا رأى من رأى أحدا رأى أي ذلك الأحد أصحاب النبي ﷺ فيكون واسطتين، فيوجد الرجل فيفتح له أي لأجل ذلك التابع لاتباع للتابعين، ولما كان أهل الخير نادرا في القرن الرابع اقتصر على القرون الثلاثة في أكثر الروايات؛ لكثرة أهل العلم والصلاح فيهم، وقلة السفه والفساد منهم. كذا في «المرقاة».

Note 1

(13) قوله: فئام. سے مراد جماعت اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور صحابہ تابعین و تبع تابعین کی فضیلت ہے۔ (مرقات)

Note 2

(14) قوله: ثم يكون بعث الرابع. اس میں اضافت ہے اور یہاں بعث مصدر ہے، اور الرابع کا موصوف البعث محذوف ہے۔ یعنی بعث البعث الرابع ہے، بعث سے مراد وہ فوج ہے جو بھیجی گئی ہے۔ وقوله: هل ترون فيهم احد رأى من رأى احدا رأى. یعنی اس ایک نے دیکھا ہو اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں دو واسطے ہوں گے۔ فيوجد الرجل فيفتح له. یعنی اس شخص کی وجہ سے جو تابعین کو دیکھنے والوں کو دیکھا ہو۔ اور چونکہ چوتھی صدی میں اہل خیر حضرات کم ہوں گے اس لئے اکثر روایات میں تین صدیوں پر ہی اقتصار ہے کیونکہ ان میں ایسے اصحاب کی کثرت ہے جو اہل علم اور اہل اصلح ہیں اور کم عقلی اور فساد سے دور ہیں۔ (مرقات)