اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7490
اور ان ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: میں سب سے پہلا شخص ہوں جس پر سے زمین کھولی جائے گی پھر ابوبکر پھر عمر پھر اہل بقیع کے پاس
آؤں گا وہ سب میرے ساتھ جمع کئے جائیں گے، پھر اہل مکہ کا انتظار کروں گا(24) یہاں تک کہ حرمین
کے درمیان میرے ساتھ جمع کیا جائے گا۔(ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3692 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement “Then I will wait for the people of Makkah until I am gathered between the two sanctuaries”: In Al-Mirqat: It appears that he (ﷺ) waits for the people of Makkah at Baqi‘ until they gather, then they proceed to the place of gathering, the land of Sham, where they join the rest of creation.
Note 1
(۱) قوله: ثم انتظر أهل مكة حتى أحشر بين الحريمين: قال في المرقاة»: الظاهر من هذا الكلام أنه الله ينتظر أهل مكة في البقيع إلى أن يجتمعوا، فيتوجهوا إلى المحشر، وهو أرض الشام فيجتمعون هناك مع سائر الأنام.
Note 1
(24) قوله: ثم انتظر اهل مكة حتى احشر بين الحرمين. صاحب مرقات نے کہا اس کلام سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں اہل مکہ کا انتظار فرمائیں گے یہاں تک کہ وہ سب جمع ہوجائیں گے اور سرزمین شام میں محشر کی طرف چلیں گے اور وہ سب تمام خلائق کے ساتھ جمع ہوں گے۔