Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5841

Chapter on the Virtues of Uthman (may Allah be pleased with him)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of Uthman (may Allah be pleased with him)

Zujajat al-Masabih 5841Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7544
حضرت ابو حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جس گھر میں حضرت عثمان محصور تھے اس میں گئے اور انہوں نے سنا کہ حضرت ابو ہریرہ گفتگو کرنے کی اجازت لے رہے تھے تو آپ نے ان کو اجازت دے دی تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کیا پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میرے بعد فتنے اور اختلاف یا اختلاف و فتنے دیکھو گے۔ تو لوگوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا: تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لئے کون ہوگا(35) یا آپ ہم کو کیا حکم فرماتے ہیں تو آپ نے فرمایا تم امیر کو اور ان کے اصحاب کو مضبوط پکڑ لو(36) اور آپ اس کے ساتھ حضرت عثمان کی طرف اشارہ فرمایا۔ (دلائل النبوۃ بیہقی)

[Narrated by Al-Bayhaqi in Dala’il an-Nubuwwah]

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Who should we follow, O Messenger of Allah

(1) His statement “Who should we follow, O Messenger of Allah”: At-Tibi said: This refers to “discord,” meaning you will face discord between the leader and those who oppose him. Who do you command us to follow to be safe? The doubt between the two phrases yields the same meaning. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

Follow the leader and his companions

(2) His statement “Follow the leader and his companions”: meaning Abu Hurairah, or more likely the Prophet (ﷺ), pointing to Uthman, meaning by “the leader,” either present in that assembly or mentioned. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : فمن لنا يا رسول الله : قال الطيبي : هو متوجه إلى قوله: «اختلافا» أي ستلقون اختلافا بين الأمير، ومن خرج عليه، فمن تأمرنا أن نتبعه ونلزمه، فتكون لنا العافية لا علينا، أو ما تأمرنا به شك من الراوي بين اللفظين، مع أن مؤداهما في المعنى واحد. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: عليكم بالأمير وأصحابه وهو: أي أبو هريرة، والأظهر أي النبي الله يشير إلى عثمان بذلك، أي بقوله: الأمير بأن يكون حاضرا في ذلك المجلس، أو مذكورا فيه. كذا في «المرقاة».

Note 1

(35) قوله: فمن لنا يا رسول الله. علامہ طیبی نے فرمایا یہ اختلاف سے یعنی تم امیر اور ان کے خلاف باغیوں کے درمیان اختلاف دیکھو گے سے متعلق ہے آپ ہم کو کس کی اتباع کرنے اور کس کے ساتھ رہنے کا حکم فرماتے ہیں جس میں ہمارے لئے عافیت ہے اور نہ ہو یا او ما تامرنا راوی کا دو کلمات کے درمیان شک ہے اور دونوں کا معنی و مطلب ایک ہے۔ (مرقات) (36) قوله: عليكم بالامير واصحابه وهو . میں ہو کا مرجع ابو ہریرہ ہیں نہیں بلکہ واضح ثابت یہ ہے کہ اس کا مرجع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اس سے آپ حضرت عثمان کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ يشير الى عثمان بذلك . والا امیر کی طرف اشارہ ہے کہ اس مجلس میں حضرت عثمان موجود تھے یا آپ کا ذکر رہا ہو۔ (مرقات)