اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7614
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرمائیں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح نکلے اور آپ پر کجاوہ کی تصویر والی کالے بالوں کی کمبل(7) تھی اور
حضرت حسن بن علی آئے تو آپ نے ان کو اس میں داخل کرلیا پھر حضرت حسین بن علی آئے وہ بھی
ان کے ساتھ داخل ہوگئے پھر سیدہ فاطمہ آئیں تو آپ نے ان کو بھی داخل کرلیا پھر حضرت علی آئے
اور آپ نے ان کو بھی داخل کرلیا پھر فرمایا: ”إِنَّمَا يُرِيدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2424 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 6131 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 6131
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “cloak”: With a kasrah on the mim and sukun on the ra, meaning a garment of silk or wool with camel saddle patterns, as mentioned by the commentator. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله مرط بكسر ميم وسكون راء كساء يكون من خز وصوف فيه علم مرحل بفتح الحاء المهملة المشددة ضرب من برود اليمن لما عليه من تصاوير الرحل، ذكره شارح. كذا في «المرقاة».
Note 1
علامہ بیضاوی نے فرمایا: شیعہ حضرات کا اہل بیت کو سیدہ فاطمہ اور حضرت علی اور ان کے دو صاحبزادوں کے ساتھ خاص کرنا اور ان کے معصوم ہونے پر اس سے استدلال کرنا اور ان کے اجماع کو حجت بنانا ضعیف ہے۔ کیونکہ اہل بیت کو ان کے ساتھ خاص کرنے کی، آیت کے ماقبل اور مابعد سے کوئی مناسبت نہیں اور احادیث شریفہ سے یہ معلوم ہوتا ہے وہ اہل بیت ہیں یہ نہیں کہ اہل بیت ان کے سوا نہیں ہیں۔