العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٠٥ - وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «فَاطِمَةُ1 بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: يُرِيبُنِي مَا أَرَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3714 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2449a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “Fatimah is a part of me”: Al-Nawawi, as cited by Al-Kirmani, said: There is disagreement about whether Fatimah or Aishah is superior. In Al-Lama’at, it is said: There is disagreement about the superiority of Aishah over Khadijah, and likewise Fatimah over Aishah, or vice versa. Malik said: “Fatimah is a part of the Prophet (ﷺ), and none is superior to a part of the Messenger of Allah (ﷺ).” Imam As-Subki was asked about this and said: “We hold that Fatimah is superior, then her mother Khadijah, then Aishah.” As-Suyuti said regarding Fatimah and Aishah’s superiority: There are three opinions, the most correct being that Fatimah is superior, though some leaned toward withholding judgment. In Al-Naqaya, As-Suyuti said: “We believe the most superior women are Maryam (Mary)am and Fatimah, and the most superior of the Mothers of the Believers are Khadijah and Aishah, with differing opinions on their ranking, the third being to withhold judgment.” I say: Withholding judgment regarding all is preferable, as there is no definitive evidence in the matter, and speculative opinions are contradictory and do not contribute to beliefs based on certainty. Allah knows best. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فاطمة بضعة مني : وفي الكرماني: قال النووي: اختلفوا في فاطمة وعائشة أيتها أفضل، انتهى قال في «اللمعات»: اختلفوا في فضل عائشة على خديجة، وكذا في فضل فاطمة على عائشة، أو العكس، ونقل عن مالك أنه قال فاطمة بضعة من النبي ، ولا أفضل على بضعة من رسول الله ، وسئل الإمام السبكي عن ذلك، فقال الذي نختاره: إن فاطمة أفضل، ثم أمها خديجة، ثم عائشة. قال السيوطي في فاطمة وعائشة أيتها أفضل: فيه ثلاثة مذاهب أصحها أن فاطمة أفضل، ومال بعضم إلى التوقف انتهى ما في اللمعات». وفي المرقاة»: قال السيوطي في النقاية»: نعتقد أن أفضل النساء مريم وفاطمة، وأفضل أمهات المؤمنين خديجة وعائشة. وفي التفضيل بينهما أقوال، ثالثها التوقف. أقول: التوقف في حق الكل أولى؛ إذ ليس في المسألة دليل قطعي، والظنيات متعارضة غير مفيدة للعقائد المبنية على اليقينيات، انتهى. والله أعلم بالصواب.
Note 1
(10) قوله: فاطمة بضعة مني۔ کرمانی میں ہے امام نووی نے فرمایا سیدہ فاطمہ اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے کہ ان میں سے کون افضل ہے۔ صاحب لمعات نے فرمایا کہ علماء نے حضرت عائشہ کی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر فضیلت سے متعلق اختلاف کیا ہے اسی طرح سیدہ فاطمہ کی حضرت عائشہ پر فضیلت یا اسکے برخلاف معاملہ میں اختلاف ہے اور امام مالک سے منقول ہے آپ نے فرمایا فاطمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کا ٹکڑا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے حصے سے کوئی شئی افضل نہیں ہوسکتی۔ امام (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) سبکی سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ہمارے پاس مختار یہ ہے کہ سیدہ فاطمہ افضل ہیں پھر ان کی والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں میں کون افضل ہیں سے متعلق فرمایا اس میں تین مذاہب ہیں ان میں راجح مذہب سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی افضلیت کا ہے اور بعض حضرات اس باب میں توقف کرتے ہیں لمعات کی بات یہاں ختم ہوئی۔ اور مرقات میں ہے کہ علامہ سیوطی نے نقایہ میں فرمایا ہم سمجھتے ہیں کہ افضل النساء بی بی مریم اور سیدہ فاطمہ ہیں اور امہات المؤمنین میں حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ افضل ہیں اور ان دونوں میں فضیلت دینے سے متعلق چند اقوال ہیں ان میں تیسرا قول توقف کرنے کا ہے۔ اور میں کہتا ہوں سب میں توقف کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس مسئلہ میں کوئی دلیل قطعی نہیں ہے اور دلائل ظنیہ آپس میں متعارض ہیں اور وہ یقینیات پر بھی عقائد میں مفید نہیں ہوتے واللہ اعلم بالصواب۔