العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٨٨ - وَعَنْ جَابِر(رضي الله عنه)ٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «اهْتَزَّ1 الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ».
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ: «اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3803 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2466a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “the Throne trembled at the departure of Sa’d ibn Mu’adh”: Meaning it trembled with joy and delight at his transition from the perishable to the eternal abode, as the souls of the righteous and martyrs reside under the Throne, housed in lanterns hung there. (As stated in Al-Mirqat) In Al-Lama’at, it is said: The trembling of the Throne is a metaphor for its joy and eagerness at his soul’s arrival, either literally or figuratively. The former is correct, as Allah has granted inanimate objects knowledge and discernment. Some said: It means the joy of its inhabitants. Others said: Its movement signaled the angels of his departure. Others said: The trembling is a metaphor for the magnitude of his passing, like saying, “The world shook at so-and-so’s departure.”
Note 1
(۱) قوله: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ والمعنى اهتز اهتشاشا و سرورا بتقلبه من الدار الفانية إلى الدار الباقية، وذلك لأن أرواح السعداء والشهداء مستقرها تحت العرش تأوي إلى قناديل معلقة هناك. كذا في «المرقاة». وقال في «اللمعات»: قيل: اهتزازا العرش كناية عن فرحه ونشاطه بقدوم روحه إليه، وذلك إما حقيقة أو مجاز، والأول هو الصواب، فقد جعل الله تعالى في الجمادات علما وتمييزا. وقيل: المراد فرح أهله. وقيل: حركته علامة للملائكة على موته. وقيل: اهتزاز العرش كناية عن عظم شأن وفاته، كما يقال: قامت القيامة بموت فلان. وقيل: اهتزازه لفقده ومصيبته.
Note 1
(34) قوله: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ. اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے دار فانی سے دار باقی میں منتقل ہونے کی فرحت میں عرش جھومنے لگا اور یہ اس لئے ہے کہ اہل سعادت اور شہداء کی ارواح کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے اور وہ وہاں کی لٹکی ہوئی قندیلوں میں رہتی ہیں۔ (مرقات) صاحب لمعات نے فرمایا: عرش کا ہلنا اور جھومنا، یہ کنایہ ہے اس بات کا کہ ان کی ارواح کے وہاں آنے سے اس کو خوشی ہے۔ اس میں حقیقت وجاز دونوں باتیں ہوسکتی ہیں، اور ٹھیک بات تو پہلی بات ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جمادات میں بھی علم وتمیز رکھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرش سے اہل عرش کی خوشی مراد ہے۔ اور یہ بھی قول ہے کہ عرش کا حرکت کرنا اُن کی وفات پر فرشتوں کیلئے علامت واطلاع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرش کا ہلنا ان کی (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وفات کی عظمت شان سے کنایہ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے قامت القيامة بموت فلان۔ فلاں کی موت سے قیامت قائم ہوگئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے عرش کا ہل جانا ان کے رحلت اور مصیبت کی وجہ سے ہے