اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7714
حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے فرمایا میں مسجد مدینہ میں بیٹھا ہوا تھا
ایک صاحب آئے ان کے چہرہ پر خشوع کا اثر تھا(40) صحابہ نے کہا یہ جنتی صاحب ہیں اور وہ صاحب
اختصار کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے پھر نکل گئے تو میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے کہا جب آپ مسجد
میں داخل ہوئے تو لوگوں نے کہا یہ جنتی حضرات میں سے ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم کسی کے لئے
بھی یہ نہز اور(41) نہیں کہ وہ ایسی کوئی بات کہے جس کو وہ نہیں جانتا۔ میں تم کو بتاتا ہوں یہ کیوں ہے
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ سے وہ خواب بیان کیا میں نے
دیکھا گویا میں ایک باغ میں ہوں۔ اور پھر انہوں نے اس باغ کی وسعت اور اس کی رونق کو بیان کیا۔
اس کے درمیان لوہے کا ایک ستون ہے اس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اس کا اوپر کا حصہ آسمان میں
ہے۔ اس کے اوپر ایک حلقہ ہے اور مجھ سے کہا گیا اس پر چڑھ جاؤ تو میں نے کہا میں اس کی
استطاعت نہیں رکھتا تو میرے پاس ایک خادم آیا اور میرے پیچھے سے میرے کپڑے چڑھایا تو میں
چڑھ گیا یہاں تک کہ میں اس کے اوپر کے حصے میں پہنچ گیا اور حلقہ کو پکڑ لیا تو کہا گیا اس کو تھام لو اور وہ
حلقہ میرے ہاتھ میں تھا میں بیدار ہوگیا۔ میں یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ
نے فرمایا وہ باغ اسلام ہے وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ (42) عروة الوثقىٰ ہے اور تم مرنے
تک اسلام پر رہوگے اور وہ صاحب عبداللہ بن سلام ہیں۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3813 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
(1) The statement “traces of humility”: Meaning calmness, dignity, and presence. They said: Meaning some present said, “This is a man from the people of Paradise.” He prayed two rak’ahs, meaning the mosque’s greeting or otherwise, briefly, fulfilling only the essentials. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) The statement “no one should say what they do not know”: An-Nawawi said: This is Abdullah ibn Salam’s disapproval of their declaring him among the people of Paradise. Perhaps they heard Sa’d ibn Abi Waqqas’s narration that Ibn Salam was among them, but he had not. Or he disliked the praise out of humility and aversion to fame. The statement “I saw a dream” explains the reason. The statement “he described”: Meaning Abdullah ibn Salam. The statement “in its center” is an adverbial phrase, the predicate preceding the subject “pillar.” The statements “its base in the earth” and “its top in the sky” describe the pillar. The statement “climb it”: With a silent ha, though some narrations have a dammah, possibly referring to the pillar. The statement “servant”: Meaning a helper. The statement “I awoke, and it was in my hand”: Meaning the awakening coincided with grasping, not that it remained in his hand when awake, though this is possible in Allah’s power, but the context suggests otherwise. It may mean its effect remained, as he awoke with his hand clenched. (Derived from Al-Mirqat)
Note 3
(3) The statement “that handle”: The subject, with its predicate “the firmest handle.” At-Tibi said: The firmest handle is a strong, secure rope that cannot break. The statement “until you die” concludes his speech. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أثر الخشوع: أي السكون والوقار والحضور، فقالوا أي بعض الحاضرين: هذا رجل من أهل الجنة فصلى ركعين أي تحية المسجد أو غيرها تجوز» بتشديد الواو أي اختصر فيهما على ما لا بُدَّ منه وخففهما. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: ما ينبغي لأحد أن يقول ما لا يعلم: قال النووي: هذا إنكار من عبد الله بن سلام عليهم حيث قطعوا له بالجنة، فيحتمل أن هؤلاء بلغهم خبر سعد بن أبي وقاص أن ابن سلام من أهل الجنة، ولم يسمع هو ذلك. ويحتمل أنه كره الثناء عليه بذلك وتواضعا وإيثارا للخمول وكراهة للشهرة. وقوله: إني رأيت رؤيا إلخ، وهذا لا يدل على النص بقطع النبي له على أني من أهل الجنة كما نص على غيري. وقوله: ورأيت» بيان لما قبله. وقوله: «ذكر أي عبد الله بن سلام. وقوله: «وسطها بالنصب على أنه ظرف وقع خبرا مقدما لمبتدأ مؤخر هو قوله: عمود وقوله: «أسفله في الأرض وأعلاه في السماء والجملتان صفتان لعمود. وقوله: «أرقه بفتح القاف وسكون الهاء للسكت. وفي نسخة بضم الهاء على أنه ضمير، ويجوز أن يعود إلى العمود. وقوله: «منصف بكسر الميم وفتح الصاد، وهو الخدم. وقوله: «فرفع أي المنصف. وقوله: «فاستيقظت وإنها لفي يدي أي إن الاستيقاظ كان حال الأخذ من غير فاصل، فلم يرد أنها بقيت في يده حال يقظته، ولو حمل على ظاهره ما امتنع في قدرة الله تعالى، لكن يظهر خلافه. ويحتمل أن يردى أن أثرها بقي في يدي بعد الاستيقاظ كان يُصبح، فيرى يده مقبوضة. التقطته من «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله: تلك العروة: مبتدأ خبره قوله: «العروة الوثقى قال الطيبي : الوثقى من الحبل الوثيق المحكم المأمون انقطاعها. وقوله: «حتى تموت انتهى كلامه . كذا في «المرقاة».
Note 1
(40) قوله: اثر الخشوع۔ یعنی سکون، وقار اور حضوری کا اثر تھا۔ فقالوا یعنی بعض حاضرین نے کہا یہ اہل جنت میں سے ہے۔ فصلى ركعتين یعنی وہ صاحب دو رکعت تحیۃ المسجد یا کوئی دوسری نماز پڑھے۔ تجوز ذال کو تشدید ہے یعنی ان دونوں رکعتوں میں جو ضروری ہے اس پر اکتفاء کئے اور ان دونوں میں تخفیف کی۔ (مرقات) (41) قوله: ما ينبغي لاحد ان يقول مالايعلم۔ علامہ نووی نے فرمایا: کسی کیلئے بھی یہ نہز اور نہیں کہ وہ ایسی کوئی بات کہے جس کو وہ نہیں جانتا۔ علامہ نووی نے فرمایا: ان لوگوں نے عبداللہ بن سلام کیلئے جنت کا جو قطعی حکم لگایا اس کا آپ رضی اللہ عنہ اس قول کے ذریعہ انکار فرمارہے ہیں۔ انہوں نے اس کا جو قطعی فیصلہ فرمایا عبداللہ بن سلام اس کا انکار فرمارہے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے ان حضرات کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پہنچی ہو کہ حضرت عبداللہ بن سلام اہل جنت میں سے ہیں اور ابن سلام اس کو نہ سنے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بطور تواضع اپنی تعریف کو پسند نہیں کیا۔ پوشیدہ رہنے کو پسند کیا اور شہرت کو ناپسند کیا ہو۔ وقوله: انى رايت رويا الخ۔ اس میں صراحتاً کوئی دلیل نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جنتی ہونے کا قطعی فیصلہ دیا ہو۔ جیسا کہ میرے علاوہ دوسروں کے لئے فیصلہ دیا ہے۔ قوله: ورأيت یہ سابق کا بیان ہے۔ قوله: ذكر۔ یعنی عبداللہ بن سلام نے ذکر کیا۔ وقوله: وسطها یہ ظرف ہونے کی بناء پر طاء کو زبر ہے اس لئے طاء کو زبر ہے اور مبتداء مؤخر عمود کی خبر مقدم ہے۔ وقوله: اسفله فى الارض واعلاه فى السماء۔ یہ جملہ عمود کی دو صفتیں ہیں۔ وقوله: ارقه۔ قاف کو زبر (فتحہ) اور ہاء سکتہ کی ہے اس لئے اس کو سکون ہے اور ایک نسخہ میں ہاء کو پیش ہے ایسی صورت میں وہ ہاء ضمیر ہے اور اس کا مرجع عمود ہوسکتا ہے۔ قوله: منصف۔ میم کو زیر (کسرہ) اور صاد کو زبر (فتحہ) ہے۔ اور اس کے معنی خادم ہے۔ وقوله: فرفع یعنی خادم نے اٹھایا۔ وقوله: فاستيقظت وانها لفى يدى۔ جب میں حلقہ کو پکڑا تھا اسی وقت بلاتا خیر بیدار ہوا۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس وقت میں بیدار ہوا یہ حلقہ میرے ہاتھ میں تھا۔ اور اگر اس کو مان لیا جائے تو بھی یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی امر مانع نہیں۔ لیکن بظاہر الفاظ کا مفہوم اس کے خلاف ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ان کی اس سے مراد یہ تھی کہ بیدار ہونے کے بعد بھی میرے ہاتھ میں اس کا اثر تھا کیونکہ وہ اپنی مٹھی کو بند رکھے رہے تھے۔ (ماخوذ از مرقات) (42) قوله: تلك العروة. مبتداء ہے اس کی خبر العروة الوثقى ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا الوثقىٰ ایسی رسی ہے جو مضبوط ہو اور ٹوٹنے سے محفوظ رہتی ہے۔ وقوله: حتى تموت یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام مکمل ہوا۔ (مرقات)