Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 615

(یہ باب ہے نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(یہ باب ہے نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں)

Zujajat al-Masabih 615Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 690
ابوالملیح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے درندوں کے چمڑوں کی قیمت لینے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1271 (unverified) 65% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He disliked the price of the skins of wild animals,

(1) Regarding the statement: "He disliked the price of the skins of wild animals," Al-Mazhar explained that this was before the tanning due to their impurity. However, after tanning, there is no dislike. In the Fatawa Qazi Khan, it is mentioned that the sale of the skins of dead animals is invalid if they are not slaughtered or tanned. This is also mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كره ثمن جلود السباع: قال المظهر ذلك قبل الدباغ لنجاستها، أما بعده فلا كراهة. وفي فتاوى قاضي خان» أن بيع جلود الميتات باطل، إذا لم تكن مذبوحة أو مدبوغة. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: ابو الملیح رضی اللہ عنہ نے درندوں کے چمڑوں کی قیمت کے استعمال کو مکروہ کہا ہے، اس بارے میں مظہر نے کہا ہے کہ قیمت کا لینا اس وقت مکروہ ہوگا کہ چمڑے کی دباغت نہ ہوئی ہو، اس لئے کہ قبل دباغت چمڑا نجس رہتا ہے لیکن دباغت کے بعد اس کو فروخت کر کے قیمت کا حاصل کرنا مکروہ نہیں ہے، اور فتاوائے قاضی خان میں صراحت ہے کہ مردہ جانوروں کے چمڑوں کا فروخت کرنا باطل اور ناجائز ہے بشرطیکہ وہ جانور ذبح کئے ہوئے نہ ہوں، یا ان کے چمڑوں کو دباغت نہ ہوئی ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)