العربية
Typed, pending editorial approval
٦٢٠ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: (اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ؛ فَإِنَّ عَامَّةَ
عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ». رَوَاهُ الْحَاكِمُ وَقَالَ: صَحِيحُ عَلَى شَرْطِهِمَا.
وَرَوَى الْبَزَّارُ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ وَقَالَ: صَحِيحٌ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْحَاكِمِ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ صَحَابِي صَالِحٍ ابْتُلِيَ بِعَذَابٍ الْقَبْرِ، جَاءَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَسَأَلَهَا عَنْ أَعْمَالِهِ ، فَقَالَتْ: كَانَ يَرْعَى1 الْغَنَمَ، وَلَا يَتَنَزَّهُ مِنْ بَوْلِهِ، فَحِينَئِذٍ قَالَ : اسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ؛ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ». قَالَ الْحَاكِمُ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحٌ، وَاتَّفَقَ الْمُحَدِّثُوْنَ عَلَى صِحَّتِهِ.
Commentary and footnotes (3)
Unnumbered commentary
The statement "He used to tend to the sheep" indicates the abrogation of the ruling in the hadith of the two men from the tribe of Urayni. The indication that the hadith of the Urayni tribe is abrogated by this narration is that the mutilation mentioned in the hadith of the Urayni tribe has been abrogated by consensus, as it was a practice in the early days of Islam. This is mentioned in "Nur al-Anwar."
Note 1
(۱) قوله: كان يرعى الغنم فيه دلالة على نسخ حكم حديث العرينيين، والذي يدل على كون حديث العرينيين منسوخا بهذا الحديث: أن المثلة التي تضمنها حديث العرينيين منسوخة بالاتفاق؛ لأنها كانت في ابتداء الإسلام. قاله في «نور الأنوار».
Note 1
ف: یہ حدیث دراصل حدیث ”عُرَيْنِيِّين“ کے اس جزو کی ناسخ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عرینہ کو اونٹوں کے پیشاب کے پینے کی اجازت دی تھی اور ”عُرَيْنِيِّين“ کا واقعہ اس طرح پیش آیا تھا۔ وادی عرینہ کے چند لوگ جب مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو ان کو آب و ہوا موافق نہ آئی جس سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور ان کے پیٹ پھول گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں کی جگہ چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا کریں، اس طریقہ سے جب ان کو صحت حاصل ہوگئی تو سب کے سب مرتد ہوگئے اور چرواہوں کو قتل کر ڈالا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تلاش میں ایک جماعت روانہ فرمائی اور اس جماعت نے ان لوگوں کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر کردیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئے جائیں اور آنکھوں میں سلائی پھیر دی جائے اور ان کو دھوپ میں چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائیں۔ ”عُرَیْنِیِّینَ“ کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں، ایک تو مثلہ کرنے کی اجازت اور دوسرے وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کے پیشاب کے پاک ہونے اور پینے کا ثبوت، اہل عرینہ کے واقعہ کے پہلے جز ء، مثلہ کرنے کا حکم بالاتفاق منسوخ ہے حدیث ”عُرَیْنِیِّینَ“ کا ایک جز ء یعنی مثلہ کرنے کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا جو بالاتفاق منسوخ ہوگیا، اب رہا دوسرا جز ء یعنی وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب کا پینا اور اس کا پاک ہونا تو حدیث ”عُرَیْنِیِّینَ“ کا یہ دوسرا جز ء بھی ان دونوں حدیثوں سے منسوخ ہے ایک تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ الصدر حدیث (اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ“) پیشاب سے بچو چونکہ بالعموم عذاب قبر اسی سے ہوتا ہے۔ اور دوسرے حاکم کی وہ حدیث جس کی صحت پر سب محدثین متفق ہیں اور جس کے الفاظ یہ ہیں: ( كَانَ يَرْعَى الْغَنَمَ وَلَا يَتَنَزَّهُ مِنْ بَوْلِهِ فَحِينَئِذٍ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ“)۔ وہ صحابی بکریاں چرایا کرتے اور بکریوں کے پیشاب سے نہیں بچتے تھے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیشاب سے بچو کیونکہ اکثر عذاب قبر پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔) تو یہ دونوں حدیثیں حدیث عُرَنیین کے دوسرے جز جو گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پیشاب کے پینے اور ان کے پاک سے متعلق ہے ناسخ ہیں۔ الغرض ثابت ہو گیا کہ مثلہ کرنا حرام ہے اور وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک ہے اور ان کے پیشاب کا پینا بھی حرام ہے۔ (نورالانوار، قمرالاقمار)12۔