Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Purification

Hadith 710

Chapter on Menstruation

In this book

Current reading

Purification

Chapter on Menstruation

Zujajat al-Masabih 710Volume 1

English

Abdullah bin Sa’d said: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ), 'What is permissible for me from my wife when she is menstruating?' He said: 'What is above the waist wrapper (izar).' 1" [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, and Ahmad] In Nayl it is mentioned: "In Abu Dawud’s narration, there are two truthful narrators, and the rest are trustworthy." Abu Ya’la also narrated it from Umar, and its narrators are those of the authentic collections.

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۱۰ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ : سَأَلْتُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ : مَا يَحِلُّ لِي مِنِ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضُ ؟ قَالَ: «لَكَ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ1. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهِ وَأَحْمَدُ. وَفِي النَّيْلِ»: فِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ صَدُوْقَانِ وَبَقِيَّتُهُ ثِقَاتُ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ عُمَرَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 797Noor 798
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی حیض کی حالت میں ہو تو مجھے اپنی بیوی سے کیا چیز حلال ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے جائز ہے کہ ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا ڈھانک کر کپڑے کے اوپر سے نفع لیں (اور بغیر کپڑا ڈھانکے ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے نفع لینا جائز نہیں۔) (اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور امام احمد نے کی ہے۔) نیز اس کی روایت ابویعلی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور ابویعلی رضی اللہ عنہ کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 212 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

What is above the waist wrapper (izar)

(1) His statement: "What is above the waist wrapper (izar)": The jurists have defined it as the area between the navel and the knees, based on common customary practice. This is mentioned in Fath al-Bari.

Note 1

قوله

(۱) قوله : ما فوق الإزار : وحده الفقهاء بما بين السرة والركبة؛ عملا بالعرف الغالب. كذا في «فتح الباري».

Note 1

اور نیل میں مذکور ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں دو راوی صدوق ہیں اور ابوداؤد کے باقی راوی بھی ثقہ ہیں۔

Note 2

ف: عورت جب حیض کی حالت میں ہو تو اس کے بدن سے استفادہ کے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ عورت کی ناف اور ناف کے اوپر کے سارے بدن اور گھٹنا اور گھٹنے کے نیچے پیروں تک کے حصہ سے کپڑا ڈھانکے بغیر عورت کے جسم سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے بلکہ ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے بھی کپڑا ڈھانک کر نفع حاصل کیا جا سکتا ہے اگرچہ کہ صرف یعنی حیض کے کپڑے پر خون آ رہا ہو، امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا قول یہی ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول جدید میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ردالمحتار ومرقات۔)