Narrated by Abu Umamah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The minimum period of menstruation for a virgin girl is three days, and the maximum is ten days. If it exceeds that, she is considered to be experiencing irregular bleeding (Istihadah)."
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ باکرہ اور ثَیِّبَہ دونوں کے لئے کم از کم حیض کی مدت تین دن کی ہے اور زائد سے زائد
مدت دس دن کی ہے، اس لئے اگر حیض دس دن سے زیادہ ہو جائے تو عورت مستحاضہ کہلائے گی
۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے)۔
And the saying of Allah, the Exalted: "And they ask you about menstruation. Say, 'It is harm, so keep away from women during menstruation.'" (Al-Baqarah: 222)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مستحاضہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے رحم سے خون بغیر ایامِ حیض اور نفاس کے جاری رہتا
ہے، عورت کے رحم میں ایک رگ ہوتی ہے جس کو ”عاذل“ کہتے ہیں اور اس رگ کے پھٹ جانے سے
خون جاری ہوتا ہے تو عورت کو جب اس قسم کا خون جاری ہو تو وہ نماز، روزہ اور تمام عبادتیں بدستور پڑھا
کرے اور اس حالت میں صحبت بھی ممنوع نہیں ہے۔ (مرقات 12)۔
Narrated by Anas: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The period of menstruation can be three, four, five, six, seven, eight, nine, or ten days. If it exceeds ten days, she is considered to be experiencing irregular bleeding."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ حیض کی مدت (3) تین دن اور (4) چار دن اور (5) پانچ دن اور (6) چھ دن اور (7) سات
دن اور (8) آٹھ دن اور (9) نو دن اور (10) دس دن ہے اور جب دس دن سے زائد ہوجائے تو
عورت مستحاضہ کہلائے گی۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
اور دارقطنی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح موقوفاً روایت کی ہے۔
واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیض کی مدت کم از کم تین دن ہے اور زائد سے زائد مدت دس دن ہے۔ (اس
کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیض کی مدت تین دن سے کم کی نہیں، اور دس دن سے زائد مدت حیض میں شمار
نہیں ہے۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
Narrated by Al-Khudri: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The minimum period of menstruation is three days, and the maximum is ten days. The minimum period between two menstrual cycles is fifteen days." [Narrated by Ibn al-Jawzi]
And it was stated in Radd al-Muhtar: "The determination of the minimum and maximum menstruation period has been reported from six of the Companions through various narrations, which go back to Al-Hasan, as elaborated by Kamal and Al-Ayni in their commentary on Al-Hidayah and summarized in Al-Bahr."
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زائد سے زائد مدت دس دن کی ہے اور دو حیض کے درمیان کم
سے کم پاک رہنے کی مدت پندرہ دن ہے۔ (اس کی روایت ابن الجوزی نے کی ہے۔)
ردالمحتار میں لکھا ہے کہ حیض کی کم سے کم اور زائد سے زائد مدت کے تعین کے متعلق چند صحابہ
سے مختلف اسناد کے ذریعہ روایتیں آئی ہیں اور یہ تمام اسناد حسن کے درجہ تک پہنچتی ہیں جس کی تفصیل
علامہ کمال اور علامہ عینی رحمہما اللہ نے شرح ہدایہ میں بیان کی ہیں اور جس کی تلخیص ”بحر“ میں بھی کی گئی
ہے۔12
Narrated by Uthman 1 bin Abi al-As: He said: "If the menstruation exceeds ten days, she is considered to be in the state of Istihadah (irregular bleeding). She should perform Ghusl and pray." [Narrated by Al-Daraqutni]
Al-Bayhaqi said: "This narration has no objection in its chain of transmission."
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حیض والی
عورت کا خون دس دن سے متجاوز ہو جائے تو وہ عورت مستحاضہ کی طرح ہے، اس لئے وہ غسل کرے
اور نماز پڑھے۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے اور بیہقی نے اس اثر (یعنی حدیث کے متعلق کہا ہے کہ اس
کے اسناد میں کوئی ضعف نہیں۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حیض کی کم سے کم مدت تین دن
ہے۔ (اس کی روایت دارمی نے اپنی سنن میں کی ہے اور اس حدیث کے راوی مسلم کے راوی ہیں۔)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانے میں نفاس والی عورت چالیس دن تک بیٹھی رہا کرتی تھی۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی
نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاس والی
عورت کے لئے چالیس دن معین فرمایا ہے مگر یہ کہ چالیس دن کے پہلے پاکی دیکھ لے (یعنی چالیس
دن کے اندر خون بند ہو جائے تو وہ پاک سمجھی جائے گی۔ (اس کی روایت دارقطنی اور ابن ماجہ نے کی
ہے۔)
Abu al-Darda and Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The woman experiencing postpartum bleeding (nifas) observes (the period) for forty days unless she sees purity before that. If she reaches forty days and has not seen purity, she should perform ghusl, and she is in the state of a mustahada (a woman experiencing irregular bleeding)."
ابودرداء اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نفاس والی عورت چالیس دن تک انتظار کرے مگر یہ کہ پاکی کو چالیس دن کے
پہلے دیکھ لے اور اگر چالیس دن کی مدت کو پہنچ جائے اور پاکی نہ دیکھے تو وہ غسل کرلے اور وہ مستحاضہ کی
طرح ہوگی۔ (اس کی روایت ابن عدی اور ابن عساکر نے کی ہے۔)
Aisha reported regarding a pregnant woman who sees blood: "1 This does not prevent her from praying." Narrated by Ibn Abi Shaybah in his Musannaf, and its narrators are those of the authentic collections.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی عورت کے متعلق روایت ہے جو حاملہ ہو
اور حمل کی حالت میں خون دیکھتی ہو تو اس کو خون کا آنا ادائی نماز کے لئے مانع نہیں ہے اس لئے کہ یہ
مستحاضہ سمجھی جائے گی۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں کی ہے اور اس کے راوی
جماعت محدثین کے راوی ہیں۔)
(1) His statement: "Regarding a pregnant woman who sees blood, etc.": Based on these narrations, it is stated in Al-Hidayah that the blood seen by a pregnant woman, whether at the beginning of pregnancy or during childbirth before the child is born, is considered istihadah (irregular bleeding), even if it is prolonged. Imam Al-Shafi'i, however, regarded it as hayd (menstruation), by analogy with nifas (postpartum bleeding), since both originate from the womb. Our stance is that during pregnancy, the mouth of the womb remains closed as per natural practice, and nifas occurs only after it opens upon the child's birth.
Note 1
قوله
(۱) قوله: في الحامل ترى الدم إلخ: لهذه الآثار قال في «الهداية والدم الذي تراه الحامل ابتداء أو حال ولادتها قبل خروج الولد استحاضة، وإن كان ممتدا. وقال الشافعي الله : حيض؛ اعتبارًا بالنفاس؛ إذ هما جميعا من الرحم. ولنا أن بالحبل يَنْسَدُّ فمُ الرَّحِم كذا العادة، والنفاس بعد انفتاحه بخروج الولد.
Note 1
ف: ان حدیثوں کے پیش نظر صاحب بدایہ نے وضاحت کی ہے کہ وہ خون جس کو حاملہ عورت
حمل کے زمانہ میں دیکھے یا زچگی کے وقت بچے کے پیدا ہونے سے پہلے دیکھے وہ استحاضہ کا خون ہوگا اور
اگر دوران حمل میں خون زیادہ دنوں تک جاری رہے تو وہ بھی استحاضہ ہی ہوگا، البتہ امام شافعی رحمہ اللہ
علیہ نے اس خون کو جو ولادت کے وقت بچے کی پیدائش سے قبل نظر آتا ہے نفاس کا اعتبار کرتے ہوئے
حیض قرار دیا ہے کیونکہ امام موصوف کے پاس نفاس کا خون اور وہ خون جو ولادت سے پہلے نظر آتا ہے
رحم ہی سے نکلتے ہیں، لیکن احناف کی تحقیق یہ ہے کہ عادۃً حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے جو بچہ
کے پیدا ہونے کے بعد کھلتا ہے، اس لئے ولادت سے پہلے جو خون نظر آئے گا وہ رحم کا خون نہیں ہے
بلکہ ایک رگ کے پھٹ جانے کی وجہ سے آ رہا ہے، اس خون کو حیض کا خون کہنا یا نفاس کا خون
کہنا مناسب نہیں اور اسی بناء پر ہمارے پاس یہ استحاضہ ہی ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ میں بھی ایسا ہی مذکورہ
ہے۔)
Ali said: "Indeed, Allah has lifted menstruation from the pregnant woman and has made the blood that the wombs withhold (for the nourishment of the fetus)."
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ حیض کے خون کو حاملہ سے
روک دیتے ہیں اور اس حیض کے خون کو (جو رحم میں جمع ہوتا ہے) بچے کی غذا بنا دیتے ہیں (1)
Ibn Abbas said: "Indeed, Allah has lifted the blood from the pregnant woman and has made it sustenance for the child." Both were narrated by Ibn Shahin and quoted by the author of Al-Jawhar Al-Naqi.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حاملہ
کے خون کو روک دیا ہے اور اسی کو بچہ کا رزق بنایا ہے۔ (2)
(ان دونوں حدیثوں کی روایت ابن شاہین نے کی ہے جن کو صاحب الجوہر النقی نے نقل کیا
ہے۔)
Ibrahim said: "If a pregnant woman sees blood, she is not menstruating; she should pray, fast, her husband may approach her, and she should act as any pure woman does." Narrated by Muhammad in Al-Athar.
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر حاملہ عورت خون
دیکھے تو وہ حائضہ نہیں ہے تو اس کو چاہئے کہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور اس سے اس کا شوہر صحبت بھی
کرسکتا ہے اور وہ ان تمام کاموں کو کرسکتی ہے جو ایک پاک عورت کرتی ہے۔
(اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے۔)
Alqama bin Abi Alqama narrated from his mother, who was a servant of Aisha, the wife of the Prophet (ﷺ), that she said: "Women used to send cloths with traces of yellow discharge from menstruation to Aisha for guidance. She would say: 'Do not rush until you see the white discharge,' meaning the sign of purity from menstruation."
علقمہ بن ابی علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی ماں سے روایت کرتے
ہیں جو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ باندی تھیں، علقمہ رضی اللہ عنہ کی ماں نے
کہا: عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں تھیلی میں حیض کی چندیاں رکھ کر بھیجا کرتی
تھیں اگر حیض کے خون کا رنگ زرد ہوتا تو عائشہ رضی اللہ عنہا فرما دیا کرتیں کہ جلدی مت کرو، تاوقتیکہ تم
حیض کو سفید پانی کی طرح نہ دیکھ لو(کیوں کہ حیض جب ختم ہوجاتا ہے تو آخر میں سفید پانی خارج
ہوتا ہے جس سے رحم کی پاکی معلوم ہوتی ہے) یہ فرمانے سے اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا منشاء یہ
ہوتا تھا کہ حیض سے بالکل پاکی حاصل ہوجائے۔ (اس کی روایت امام مالک نے کی ہے اور
عبدالرزاق نے بھی اس کی روایت اسناد صحیح کے ساتھ کی ہے اور امام بخاری نے بھی اسی طرح تعلیقاً
روایت کی ہے۔)
Mu'adhah said: "I asked Aisha, 'Why is it that a menstruating woman makes up the missed fasts but does not make up the missed prayers?' She replied: 'Are you a Haruriyyah (i.e., from the Kharijites)?' I said, 'I am not a Haruriyyah, but I am asking.' She said: 'We used to experience this, and we were commanded to make up the fasts but not the prayers.'" Agreed upon
معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے اُم المومنین عائشہ
رضی اللہ عنہا سے دریافت کی کہ کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزے کی قضاء کرتی ہے اور نماز کی قضاء نہیں
کرتی؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ کیا تم خارجی عورت ہو؟ میں جواب دی کہ جی نہیں میں
خارجی عورت نہیں ہوں بلکہ صرف دریافت کرنا چاہتی ہوں، تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی
ہیں کہ ہم کو حیض آیا کرتا تھا تو ہم کو روزوں کی قضاء کرنے کا حکم دیا جاتا تھا لیکن نمازوں کی قضاء کرنے
کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
(اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 335c (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 321 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں لفظ حروریہ جو مذکور ہے وہ حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح
میں ایک قریہ ہے اور حروراء وہ قریہ ہے جہاں سے فتنہ خارجیت کا آغاز ہوا اور خوارج ایک ایسا فرقہ ہے
جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ہے اور اہل سنت و جماعت کے مسلک سے
ہٹ کر عقائد اور اعمال میں ایک علیحدہ راستہ اختیار کیا جو آگے چل کر ایک گمراہ فرقہ بن گیا۔
اس حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سائلہ عورت نے جب سوال کیا تو ام
المومنین رضی اللہ عنہا کو اندیشہ ہوا کہ ان کا یہ سوال بد اعتقادی کی وجہ سے تو نہیں ہے اس لئے ام المومنین
عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ تمہارا تعلق حروریہ یعنی فرقہ خوارج سے تو نہیں ہے ام المومنین عائشہ رضی
اللہ عنہا نے یہ اس لئے بھی دریافت کیا کہ خوارج کی ایک جماعت نے حائضہ پر ایام حیض میں فوت
شدہ نمازوں کی قضاء کو واجب قرار دیا ہے جو خلاف اجماع ہے اور جب سائلہ عورت نے جواب دیا کہ
میں خارجی نہیں ہوں تو پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو جو جواب دیا تھا وہ حدیث میں مذکور ہے۔
(عینی، معجم البلدان اور دائرۃ المعارف بستانی۔)12۔
Abdullah bin Sa’d said: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ), 'What is permissible for me from my wife when she is menstruating?' He said: 'What is above the waist wrapper (izar).' 1" [Narrated by Abu Dawud, Ibn Majah, and Ahmad]
In Nayl it is mentioned: "In Abu Dawud’s narration, there are two truthful narrators, and the rest are trustworthy." Abu Ya’la also narrated it from Umar, and its narrators are those of the authentic collections.
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی حیض کی حالت میں ہو تو مجھے اپنی بیوی سے کیا چیز حلال
ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لئے جائز ہے کہ ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا
ڈھانک کر کپڑے کے اوپر سے نفع لیں (اور بغیر کپڑا ڈھانکے ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے نفع لینا
جائز نہیں۔) (اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور امام احمد نے کی ہے۔)
نیز اس کی روایت ابویعلی رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کی ہے اور ابویعلی
رضی اللہ عنہ کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 212 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
What is above the waist wrapper (izar)
(1) His statement: "What is above the waist wrapper (izar)": The jurists have defined it as the area between the navel and the knees, based on common customary practice. This is mentioned in Fath al-Bari.
Note 1
قوله
(۱) قوله : ما فوق الإزار : وحده الفقهاء بما بين السرة والركبة؛ عملا بالعرف الغالب. كذا في «فتح الباري».
Note 1
اور نیل میں مذکور ہے کہ ابوداؤد کی روایت میں دو راوی صدوق ہیں اور ابوداؤد کے باقی راوی
بھی ثقہ ہیں۔
Note 2
ف: عورت جب حیض کی حالت میں ہو تو اس کے بدن سے استفادہ کے متعلق علامہ شامی رحمۃ
اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ عورت کی ناف اور ناف کے اوپر کے سارے بدن اور گھٹنا اور گھٹنے کے نیچے
پیروں تک کے حصہ سے کپڑا ڈھانکے بغیر عورت کے جسم سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے بلکہ ناف اور گھٹنے
کے درمیانی حصہ سے بھی کپڑا ڈھانک کر نفع حاصل کیا جا سکتا ہے اگرچہ کہ صرف یعنی حیض کے کپڑے پر
خون آ رہا ہو، امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کا قول یہی ہے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قول
جدید میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ردالمحتار ومرقات۔)
Aisha said: "The Prophet (ﷺ) and I used to bathe from a single vessel while both of us were in a state of janabah. He would instruct me to wrap myself with a waist wrapper (izar), and then he would be intimate with me 1 while I was menstruating. He would also extend his head towards me while he was in i'tikaf, and I would wash it while I was menstruating." Agreed upon
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں خود اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے اور حیض کی حالت
میں آپ مجھے حکم دیا کرتے تھے کہ میں ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا ڈھانک لوں اور آپ مجھ
سے لپٹتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں (مسجد میں بیٹھ کر) میری جانب
اپنے سر مبارک کو بڑھاتے (اور میں مسجد کے باہر رہتی تھی) اور حیض کی حالت میں آپ کے سر مبارک
کو دھویا کرتی تھی۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 300 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
So I wrapped myself with a waist wrapper, and he would be intimate with me, etc.
(1) His statement: "So I wrapped myself with a waist wrapper, and he would be intimate with me, etc." The meaning is that I tied the izar around my waist. This indicates the permissibility of enjoyment above the izar but not below it. This is the opinion of Abu Hanifa, Malik, and Al-Shafi‘i in his later opinion.
Perhaps the saying: "Do everything except intercourse" was a concession, while his (the Prophet's) action was a firm directive to teach the ummah, as it is more cautious. For indeed, whoever grazes near the forbidden pasture is likely to enter it. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فأتزر فيباشرني إلخ والمعنى: فأعقد الإزار في وسطي، وهذا يدل على جواز الاستمتاع بما فوق الإزار دون ما تحته، وبه قال أبو حنيفة ومالك والشافعي في قوله الجديد. ولعل قوله : اصنعوا كل شيء إلا النكاح، كان رخصة، وفعله غزيمة؛ تعليما للأمة، فإنه أحوط، فإن من يرتع حول الحمى يوشك أن يقع فيه، كذا في «المرقاة».
Zayd bin Aslam said: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ), "What is permissible for me regarding my wife while she is menstruating?" The Messenger of Allah (ﷺ) replied, "Wrap a waist wrapper (izar) around her, and then you may enjoy what is above it."
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میری بیوی حائضہ ہو تو ایسی حالت میں میرے لئے میری بیوی
کی کیا چیز حلال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا کہ تمہاری بیوی اپنی ناف اور
گھٹنے کے درمیانی حصہ پر کپڑا باندھ لے اور پھر تم (ناف اور گھٹنے کے درمیانی حصہ سے) کپڑے کے
اوپر سے بغیر جماع کے نفع حاصل کریں (اس کی روایت امام مالک اور دارمی نے مرسلاً کی ہے۔)
Aisha said: "I would drink while menstruating, then hand the vessel to the Prophet (ﷺ), and he would place his mouth on the same spot as mine and drink. I would chew on a piece of meat (araq) while menstruating, then hand it to the Prophet (ﷺ), and he would place his mouth on the same spot as mine."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی
حالت میں پانی پیا کرتی اور پھر اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتی تو آپ (اس
پانی کے کٹورے سے) جہاں میں منہ لگا کر پانی پیتی تھی، اسی جگہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منہ
لگا کر پانی پیتے اور اسی طرح حیض کی حالت میں گوشت والی ہڈی کے گوشت کو منہ سے چھڑا کر کھاتی اور
اسی ہڈی کو آپ کی خدمت میں پیش کرتی تو آپ میرے منہ لگا کر کھانے کی جگہ سے اپنا دَہن مبارک لگا
کر گوشت کھاتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی
حالت میں ہوتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گود سے ٹیکا لگاتے پھر قرآن پڑھتے۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Aisha said: "The Prophet (ﷺ) said to me, 'Hand me the prayer mat (khumrah) from the mosque.' I said, 'I am menstruating.' He replied, 'Your menstruation is not in your hand.'"
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ہاتھ بڑھا کر مسجد میں سے مجھے حصیر دے دو، میں جواب دی کہ میں
حالت حیض میں ہوں آپ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔)
Maymunah said: "The Messenger of Allah (ﷺ) would pray while wearing a cloak, part of which was covering me, and part was covering him, while I was menstruating."
اُم المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھ کر نماز پڑھا کرتے تھے کہ جس کا کچھ حصہ مجھ پر ہوتا تھا اور کچھ حصہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم پر ہوتا اور میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ
طور پر کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حیض کی حالت میں نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی لحاف میں سو جایا کرتی تھیں۔ (اس کی روایت سعید بن منصور نے
کی ہے۔)
Abu Huraira said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever has intercourse with a menstruating woman, engages in anal intercourse, or consults a soothsayer has disbelieved in what was revealed to Muhammad."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جس نے حائضہ سے جماع کیا، یا عورت کی پچھلی راہ سے صحبت کی، یا نجومی کے پاس گیا تو اس
نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو چیز اتاری گئی ہے اس سے کفر کیا۔ (اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور
دارمی نے کی ہے۔) اور ابن ماجہ اور دارمی کی روایت میں ہے کہ جس نے نجومی کے قول کی تصدیق کی،
پس بے شک وہ کافر ہوا۔
Ibn Abbas said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If a man has intercourse with his wife while she is menstruating, he should give charity of half a dinar."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کر لے تو وہ نصف دینار خیرات
کرے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی، دارمی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Ibn Abbas narrated from the Prophet (ﷺ) that he said: "If the blood is red, then the charity is one dinar, and if the blood is yellow, then it is half a dinar." [Narrated by Al-Tirmidhi]
Most scholars have stated that there is no obligation on the person except to seek forgiveness, and this is also the opinion of our companions. Those who hold that charity is not obligatory interpret the Prophet's statement "let him give charity" as a recommendation—if he wishes, he may give charity, and if not, he is not obliged to. This was mentioned by Al-Allama Al-'Ayni in ‘Umdat al-Qari and similarly in Al-Alamkiriyya.
In Badh al-Majhud, it is stated: There is a difference of opinion regarding the obligation of expiation for intercourse with a menstruating woman. Malik, Abu Hanifa, and Al-Shafi'i said: Nothing is obligatory on him, but it is recommended that he give charity—if he had intercourse at the beginning of menstruation, then a dinar; if at the end, then half a dinar—and he should seek forgiveness from Allah Almighty.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر (ایسی حالت میں جماع کرے کہ) حیض
کا خون سرخ ہو تو ایک دینار (یعنی ساڑھے چار ماشہ سونا) خیرات کرے اور اگر خون کا رنگ زرد ہو تو
نصف دینار، خیرات کرے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 137 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور اکثر علماء نے کہا ہے کہ حیض کی حالت میں جماع کرنے والے پر استغفار کے سوا کوئی چیز
واجب نہیں ہے اور ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے، واضح رہے کہ جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ
حالت حیض میں جماع کرنے سے خیرات واجب نہیں ہوتی، انہوں نے یہ جواب دیا کہ حائضہ سے
جماع کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں خیرات کرنے کا جو ذکر ہے وہ استحباب
پر محمول ہے چاہے تو خیرات کرے اور چاہے تو نہ کرے، چنانچہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو عمدۃ
القاری میں بیان کیا ہے اور اسی طرح عالمگیریہ میں مذکور ہے، البتہ بذل المجہود میں لکھا ہے کہ علماء نے
حائضہ سے جماع کرنے سے کفارہ واجب ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم نے کہا ہے کہ ایسے شخص پر کچھ بھی واجب نہیں ہے بلکہ خیرات دینا مستحب ہے اگر ابتدائی
حیض میں جماع کرلیا ہو تو ایک دینار خیرات کرے اور اگر آخری حیض میں جماع کیا ہو تو نصف دینار خیرات
کرے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مستحاضہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے رحم سے خون بغیر ایامِ حیض اور نفاس کے جاری رہتا ہے، عورت کے رحم میں ایک رگ ہوتی ہے جس کو ”عاذل“ کہتے ہیں اور اس رگ کے پھٹ جانے سے خون جاری ہوتا ہے تو عورت کو جب اس قسم کا خون جاری ہو تو وہ نماز، روزہ اور تمام عبادتیں بدستور پڑھا کرے اور اس حالت میں صحبت بھی ممنوع نہیں ہے۔ (مرقات 12)۔