English
It is narrated from 'Abdullah ibn Zayd that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) had considered using a horn and ordered the use of a bell, which was carved. Then 'Abdullah ibn Zayd was shown in a dream. He said: "I saw a man wearing two green garments carrying a bell. I said to him, 'O servant of Allah, will you sell the bell?' He said, 'What will you do with it?' I said, 'I will call people to prayer with it.' He said, 'Shall I not guide you to something better than this?' I said, 'What is it?' He said, 'Say:
اللَّهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ'"
'Abdullah ibn Zayd then went to the Messenger of Allah (peace be upon him) and informed him of what he had seen. He said, "O Messenger of Allah, I saw a man wearing two green garments," and he related the story. The Messenger of Allah (peace be upon him) said, "Your companion has seen a true dream. Go with Bilal to the mosque and teach it to him, and let Bilal call the Adhan, for his voice is louder than yours." 'Abdullah said: "I went with Bilal to the mosque, and I taught him the Adhan, and he called it out." 'Umar ibn Al-Khattab heard the voice and came out, saying, "O Messenger of Allah, I saw the same thing that he saw."
العربية
Typed, pending editorial approval
۸۷۳ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ قَدْ هَمَّ بِالْبُوقِ وَأَمَرَ بِالتَّاقُوسِ فَنُحِتَ، فَأُرِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ فِي الْمَنَامِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ يَحْمِلُ نَاقُوْسًا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا عَبْدَ اللهِ، أَتَبِيعُ النَّاقُوْسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قُلْتُ: أُنَادِي بِهِ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: تَقُوْلُ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ.
قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُ رَجُلًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ، فَقَصَّ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ رَأَى رُؤْيَا، فَاخْرُجْ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَلْقِهَا عَلَيْهِ، فَلْيُنَادِ بِلَالُ؛ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ». قَالَ: فَخَرَجْتُ مَعَ بِلَالٍ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَجَعَلْتُ أُلْقِيْهَا عَلَيْهِ، وَهُوَ يُنَادِي بِهَا. قَالَ: فَسَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالصَّوْتِ فَخَرَجَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهِ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِثْلَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 979
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا تھا کہ (لوگوں کو نماز کیلئے سینگ بجا کر جمع کیا جائے) اور ناقوس خریدنے کا
بھی حکم دے دیا تھا عبداللہ بن زید کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں غمگین تھا کہ مجھے ایک خواب دکھائی دیا جس
میں میں نے ایک شخص کو دیکھا جو دو سبز چادروں میں ہے اور ناقوس لیا ہوا ہے، میں نے اس شخص سے
کہا اے بندۂ خدا کیا ناقوس کو بیچو گے؟ اس شخص نے کہا کہ تم اس کو کیا کرو گے؟ میں نے جواب دیا کہ
میں اس سے لوگوں کو نماز کے لئے بلاؤں گا، اس شخص نے کہا کہ کیا میں تم کو اس سے بہتر چیز نہ
بتلاؤں؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس شخص نے کہا کہ (نماز کیلئے) یہ
کہہ کر بلایا کرو:
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا خواب بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں
نے ایک شخص کو خواب میں دو سبز کپڑے میں دیکھا اور پورا خواب سنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تمہارے دوست نے ایک خواب دیکھا ہے (پھر ان سے یہ فرمایا کہ تم)
بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کو جاؤ اور ان کو اذان کے الفاظ سکھا دو، اور بلال رضی اللہ عنہ اذان
دیں، اس لئے کہ بلال تم سے زیادہ بلند آواز والے ہیں، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں
بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کو گیا اور میں ان کو اذان کے الفاظ سکھاتا گیا اور بلال رضی اللہ عنہ اذان
دیتے گئے، عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو اذان کی آواز
سنائی دی تو مسجد کو تشریف لائے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیشک میں نے بھی اسی
طرح کا خواب دیکھا ہے جس طرح انہوں نے دیکھا ہے۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 706 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 499 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.