English
It is narrated from Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) that he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) was delayed one morning from the Fajr prayer until we almost saw the sun. He came out quickly, and the Iqamah was called. He prayed and shortened his prayer. When he finished, he called out to us and said: "Stay in your rows as you are." Then he turned to us and said: "I will tell you what delayed me this morning. I got up at night, performed ablution, and prayed what was decreed for me. I dozed off during my prayer until I became heavy with sleep. Then I saw my Lord, the Blessed and Exalted, in the most beautiful form. He said: 'O Muhammad.' I said: 'Here I am, my Lord.' He said: 'What are the highest assembly disputing about?' I said: 'I do not know.' He repeated this three times. Then I felt His hand between my shoulders, and I felt the coolness of His fingers between my chest. Everything became clear to me, and I understood. He said: 'O Muhammad.' I said: 'Here I am, my Lord.' He said: 'What are the highest assembly disputing about?' I said: 'About the expiations.' He said: 'What are they?' I said: 'Walking on foot to congregational prayers, sitting in the mosques after the prayers, and perfecting ablution in difficult conditions.' He said: 'Then what?' I said: 'About the levels.' He said: 'What are they?' I said: 'Feeding others, speaking kindly, and praying at night while people are asleep.' He said: 'Ask.' I said: 'O Allah, I ask You for the ability to do good deeds, to avoid evil deeds, and to love the poor. Forgive me and have mercy on me. If You intend to test a people, take me to You without being tested. I ask for Your love, the love of those who love You, and the love of deeds that bring me closer to Your love.'" The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "This is the truth, so study it and learn it." [Narrated by Ahmad and Al-Tirmidhi, who said: "This is a good and authentic hadith." I asked Muhammad ibn Isma'il (Al-Bukhari) about this hadith, and he said: "This is an authentic hadith."
العربية
Typed, pending editorial approval
٩٨٤ - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنه) قَالَ: احْتُبِسَ عَنَّا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى عَيْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ سَرِيعًا فَثُوبَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بَصَوْتِهِ، فَقَالَ لَنَا: عَلَى مَصَافَّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ: إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدَّرَ لِي، فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَثْقَلْتُ، فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ، قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي - قَالَهَا ثَلَاثًا - قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْنِيَّ، فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ. فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَبِّ. قَالَ: فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ قُلْتُ: فِي الْكَفَّارَاتِ. قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ حِيْنَ الْكَرِيْهَاتِ.
قَالَ: ثُمَّ فِيمَ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قُلْتُ: إِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِيْنُ الْكَلَامِ، وَالصَّلَاةَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ. قَالَ: سَلْ قَالَ: قُلْتُ : اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَّ فِتْنَةٌ فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُوْنٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبَّكَ.
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوْهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1103
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دن رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز صبح میں اس قدر تاخیر فرمائی قریب تھا کہ ہم آفتاب کو دیکھ لیتے حضور صلی
اللہ علیہ وسلم (حجرۂ مبارک سے) عجلت کے ساتھ نکلے اور نماز کیلئے اقامت کہی گئی، رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور (خلاف عادت) اختصار کے ساتھ ادا فرمائی اور جب سلام پھیرے تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے ہم کو پکارا کہ اپنی اپنی صفوں میں جیسے ہو ویسے ہی بیٹھے رہو پھر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے فرمایا واضح ہو میں تم کو خبر دوں گا کہ آج
صبح کس چیز نے مجھے تمہارے پاس آنے سے روک رکھا تھا وہ یہ ہے کہ میں رات کو (تہجد کیلئے) اٹھا
میں نے وضوء کیا اور میرے لئے جتنی نماز تہجد مقدر تھی ادا کیا پس مجھے نماز میں غنودگی آ گئی یہاں تک
کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہو گیا، بس یکایک میں نے اپنے پروردگار تبارک و تعالیٰ کو نہایت حسین صورت میں
دیکھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے رب!
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب
دیا کہ میں نہیں جانتا، یہ سوال و جواب تین مرتبہ ہوتے رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے
دیکھا اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے
انگلیوں کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی اور مجھ پر ہر ہر چیز منکشف ہوگئی اور میں نے سب کو
پہچان لیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) میں نے جواب میں کہا لبیک اے میرے
رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے
جواب دیا کہ (ملاء اعلیٰ کے فرشتے) کفارات یعنی ان اعمال میں بحث کر رہے ہیں جو گناہوں کو مٹانے
والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون سے عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل یہ تین ہیں، (1) پہلا
نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کیلئے مسجدوں کو پیدل جانا، (2) دوسرا نمازوں کے بعد (ذکر)
دعاء اور دوسری نماز کیلئے انتظار میں مخلوق سے دوری اور مشغول بحق رہنے کیلئے مسجدوں میں ٹھہرے
رہنا، (3) تیسرا ناگوار حالات (جیسے بیماری اور موسم سرما) میں اعضاء وضوء کا مل طور پر دھونا، اللہ تعالیٰ
نے فرمایا کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے اور کن اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا
کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے درجات یعنی ان کے اعمال کی فضیلت میں بحث کر رہے ہیں جن سے بندوں
کے درجے بلند ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کون سے عمل ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ عمل
جن سے بندوں کے درجے بلند ہوتے ہیں وہ بھی تین ہیں۔ (1) پہلا کھانا کھلانا، (2) دوسرا نرمی سے
کلام کرنا (یعنی لوگوں کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا) (3) تیسرا رات میں نماز پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے
ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جو دعاء چاہو مانگ لو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا میں نے یہ دعا مانگی ”اللّٰهُمَّ اِنِّي اَسْئَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ،
(اے اللہ! میں آپ سے نیک کاموں کے کرنے، برے کاموں کے چھوڑنے اور مسکینوں
سے محبت کرنے اور اپنی مغفرت کرنے اور مجھ پر رحمت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب آپ
کسی قوم کو فتنے میں (یعنی عذاب دنیوی میں) مبتلا کرنے کا ارادہ کریں تو فتنے میں مبتلا کئے بغیر مجھے
وفات دیجئے اور میں آپ سے آپ کی محبت مانگتا ہوں اور ان کی محبت بھی مانگتا ہوں جو آپ سے محبت
رکھتے ہیں، اور ان اعمال کی محبت بھی مانگتا ہوں جو مجھے آپ کی محبت سے قریب کردیں۔) اس کے
بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ خواب سچا ہے اس لئے اس کو یاد رکھو اور اسے
دوسروں کو سکھلاؤ۔
(اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور میں نے اس حدیث کے متعلق محمد بن
اسماعیل یعنی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3235 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 725 (unverified) 96% confidence
Mishkat (candidate) 725
Confidence and text similarity are not editorial verification.