(1) The statement: "Move the Muslims…" in Sharh Ma'ani al-Athar: "Umar (may Allah be pleased with him) commanded the people to leave the plague, and the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) agreed with him. Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) something that supports this view."
The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith."
The author of al-Ashbah wa al-Naza'ir said: "In al-Bazzaziyyah: If the earth shakes and someone is in their home, it is recommended for them to flee to the open land, based on Allah's saying: 'And do not throw yourselves into destruction' (Qur'an 2:195). It is said: Fleeing from what one cannot bear is from the practices of the prophets." This indicates the permissibility of fleeing from the plague if it strikes a town.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فانهض وفي شرح معاني الآثار»: فهذا عمر الله قد أمر الناس أن يخرجوا من الطاعون، ووافقه على ذلك أصحاب رسول الله ﷺ ، وروى عبد الرحمن بن عوف عن النبي الله ما يوافق ما ذهب إليه من ذلك انتهى.
وقال صاحب الدر المختار» في مسائل شتى منه وإذا خرج من بلدة بها الطاعون، فإن علم أن كل شيء بقدر الله تعالى فلا بأس بأن يخرج ويدخل. وإن كان عنده أنه لو خرج نجا ولو دخل ابتلى به كره له ذلك، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. وعليه حمل النهي في الحديث الشريف. مجمع الفتاوى انتهى.
وقال في «الأشباه والنظائر»: وفي «البزازية»: إذا تزلزلت الأرض وهو وفي بيته يستحب له الفرار إلى الصحراء؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) (البقرة: (۱۹۵) وفيه: قيل : الفرار مما لا يُطاق من سُنَن المرسلين انتهى. ويفيد جواز الفرار من الطاعون إذا نزل ببلدة، انتهى قول الأشباه والنظائر».
Note 1
لکھا کہ امیر المؤمنین جس ضرورت کے لئے مجھے بلا رہے ہیں میں اس کو معلوم کرلیا ہوں ضرور حاضر
ہوتا لیکن میں اس وقت مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار ہوں مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ اپنی جان بچا کر
چلے آؤں اور مسلمانوں کو موت کے منھ میں دیدوں (نہ وہاں آنے سے پہلے موت سے بچ سکتا نہ
یہاں رہنے سے مرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ ہے وہ پورا ہوکر رہتا ہے اس لئے مجھے مسلمانوں کے
ساتھ ہی رہنے دیجئے) اور مجھے آنے کے لئے آپ جو قسم دیئے ہیں (وہ واقع میں قسم تو ہے نہیں،
صرف تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے) اس لئے مجھے اس کی پابندی سے معاف فرمائیے، جب یہ خط
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ (خط دیکھ) کر رونے لگے (آپ کو روتے ہوئے دیکھ کر) لوگوں
نے عرض کیا: امیر المؤمنین آپ رو رہے ہیں کیا حضرت ابوعبیدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو حضرت عمر رضی
اللہ عنہ ارشاد فرمائے: نہیں، انتقال تو نہیں ہوا مگر ان کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انتقال ہونے
والا ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو نقل مکان کروا رہے تھے اس سے
معلوم ہوا کہ اعتقاد صحیح کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کرنا جائز ہے باوجود اعتقاد صحیح کے اگر طاعون
میں نقل مکان کرنا جائز نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہرگز نہ بلاتے،
اس کی تائید اس خط سے بھی ہوتی ہے جو اس خط سے پہلے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا گیا تھا کہ فوج میں
صحابہ کرام ہیں ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ
جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتا ہے نقل
مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں اس لئے) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جاتا ہے کہ اردن
ایک پست نشیبی مقام ہے وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے، اس لئے سب فوجوں کو وہاں سے ہٹا کر
مقام جابیہ میں لے جاؤ کہ وہ بلند مقام ہے وہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان دیکھ کر مجھ سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یہ
فرمائے: حضرت امیر المؤمنین کے حکم کی تعمیل کر کے یہاں تمام فوجوں کو منتقل کر کے جابیہ لے جانے کا
انتظام کر لو تو حضرت ابوموسیٰ کہنے لگے میں آپ کے حکم کی ضرور تعمیل کرتا مگر میرے گھر میں خود طاعون
ہوگیا ہے میں خود پریشان ہوں، اتنا بڑا انتظام (اس وقت) مجھ سے نہیں ہوسکتا، یہ سن کر حضرت
ابوعبیدہ خود انتظام کرنے کا ارادہ کئے اور سوار ہونے لگے اور لوگ بھی جابیہ کی طرف کوچ کرنے لگے،
ایسے میں حضرت ابوعبیدہ کو طاعون ہوگیا، اور طاعون ہی سے ان کا انتقال ہوگیا، اور ادھر طاعون بھی
ختم ہوگیا۔ (اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی پہلے شخص ہیں کہ صحیح اعتقاد کے
ساتھ طاعون میں نقل مکان کو جائز قرار دیتے ہیں)۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Note 2
حکم کے خلاف نہیں تھا۔
اور شرح معانی الآثار میں لکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طاعون زدہ مقام سے
ہٹ کر نقل مقام کرنے کے حکم سے موافقت رکھتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کا طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے
بھی ثابت ہے اسی لئے صاحب درمختار نے مسائل شتیٰ میں مجمع الفتاویٰ کے حوالہ سے لکھا ہے، جب
کسی شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے طاعون زدہ مقام سے نکلنے کو بچ
جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کو مر جانے میں کوئی دخل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ
چاہیں نہ کوئی مر سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا ہے ایسا صحیح اعتقاد رکھنے والا طاعون زدہ مقام سے نکل کر نقل
مقام کرے، یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہو تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں، ایسے شخص کو طاعون
زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے، برخلاف اس کے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ طاعون زدہ
مقام میں جانے سے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا، یا وہ سمجھتا ہے کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے
میں طاعون سے محفوظ رہے گا تو اس کا یہ اعتقاد غلط ہے اور جس کا ایسا اعتقاد ہے اس کو چاہئے کہ اپنا
اعتقاد درست رکھنے کی خاطر نہ تو طاعون زدہ مقام سے نکلے اور نہ طاعون زدہ مقام میں جائے، اور
جس حدیث شریف میں طاعون زدہ مقام سے نقل مقام کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ ممانعت بھی
مذکورہ اعتقاد رکھنے والوں سے ہی متعلق ہے اور جن کا یہ اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے
کی وجہ سے بچ جائے گا تو ایسا غلط اعتقاد رکھنے والے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نکلنا جائز نہیں
ہے۔ (درمختار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) مذکورہ صحیح اعتقاد رکھنے والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل
مکان کرنا جائز ہونے کی تائید الاشباہ والنظائر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے اس کو الاشباہ والنظائر
نے بزازیہ سے نقل کی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر میں ہو اور اس وقت زلزلے کے آثار ظاہر ہو رہے ہوں
تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے فوری کھلے میدان کی طرف بھاگ
جائے، اللہ تعالیٰ کا بھی ایسا ہی ارشاد ہے: ”وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ“ (سورۃ
بقرہ، پ:2، ع:24، آیت نمبر:195) یعنی تم اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو، جہاں تک
ہو سکے اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچایا کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ زلزلے کے وقت کھلے
میدان کی طرف نکل جانا، اور طاعون زدہ مقام سے صحیح اعتقاد رکھ کر نقلِ مقام کرنا جائز ہے، ورنہ
لازم آئے گا کہ زلزلہ سے بھاگ کر اور طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان نہ کر کے اپنے ہاتھوں سے خود
کو ہلاکت میں ڈالا جو صریح آیت کے خلاف ہے، اس لئے صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام
سے نقلِ مکان کرنا جائز ہے، اور ہلاکت کے موقعوں سے اپنے کو بچانا پیغمبروں کی سنت ہے۔
(الاشباہ والنظائر کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3923 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Leave it
(1) The statement: "Leave it" is similar to "Leave it; it is wretched." Ali al-Qari (may Allah have mercy on him) said: "This is not about contagion but about health. Good air is one of the greatest aids to physical health, and bad air is one of the quickest causes of illness."
Note 1
قوله
(۱) قوله: دعها عنك: مثله ذروها ذميمة. قال علي القاري رحمه الله الباري: ليس هذا من باب العدوى، وإنما هو من باب الطب؛ فإن استصلاح الأهواء من أعون الأشياء على صحة الأبدان وفساد الهواء من أسرع الأشياء إلى الأسقام.
Note 1
صاحبو! آپ نے ان دونوں حدیثوں کو سنا، اس میں طب کے ایک مسئلہ کو حل کیا گیا ہے کہ
صحت کے لئے آب و ہوا کا اچھا ہونا ضروری ہے اور جب آب و ہوا خراب ہو جاتی ہے تو صحت بھی
بگڑ جاتی ہے ان دونوں حدیثوں میں، بہترین آب و ہوا کے لئے نقلِ مکان کی اجازت دی گئی ہے ایسا
ہی طاعون کی وجہ سے جب آب و ہوا خراب ہو جائے تو صحت باقی رہنے کے لئے نقلِ مکان کرنے
میں کچھ مضائقہ نہیں، ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ ایسا ہی فرمائے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3473 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2218a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Do not enter it, etc.
(2) The statement: "Do not enter it, etc.": Imam al-Nawawi (may Allah have mercy on him) said in Sharh Muslim: "These Hadiths prohibit entering a land afflicted by the plague and fleeing from it out of fear. However, leaving for a valid reason is permissible. This is the view of our school and the majority of scholars. Al-Qadi said: 'This is the opinion of most scholars.' He added: 'Even Aisha (may Allah be pleased with her) said: Fleeing from it is like fleeing from battle.' Some scholars, however, permitted entering a plague-stricken land and fleeing from it. [Narrated from Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), who regretted returning from Sargh. It was also narrated from Abu Musa al-Ash'ari, Masruq, and al-Aswad ibn Hilal that they fled from the plague. Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) said: 'Flee from this punishment to the valleys and mountain tops.' Muadh (may Allah be pleased with him) replied: 'Rather, it is a martyrdom and mercy.' These scholars interpreted the prohibition as not being due to fear of what is not decreed but to avoid causing confusion among people, lest they think that the death of those who entered was due to their entering and the safety of those who fled was due to their fleeing. They said: 'This is similar to the prohibition of superstition and sitting near a leper.' It was narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): 'The plague is a trial for both the one who stays and the one who flees. The one who flees says: "I fled and was saved," and the one who stays says: "I stayed and died." In reality, the one who flees is saved because their time has not come, and the one who stays dies because their time has come.'"
Al-Tahawi said in Mushkil al-Athar: "The interpretation of this Hadith is that if someone believes that entering will cause them to be afflicted and fleeing will save them, they should neither enter nor flee to protect their belief. However, if they know that everything is by the decree of Allah and that nothing will afflict them except what Allah has written, there is no harm in entering or leaving."
Note 2
قوله
(٢) قوله : فلا تقدموا عليه إلخ : قال الشيخ النووي في شرح مسلم»: وفي هذه الأحاديث منع القدوم على بلد الطاعون ومنع الخروج منه فرارا من ذلك. أما الخروج لعارض فلا بأس به، وهذا الذي ذكرناه هو مذهبنا ومذهب الجمهور قال القاضي: هو قول الأكثرين، قال: حتى قالت عائشة: الفرار منه كالفرار من الزحف، قال: ومنهم من جوز القدوم عليه، والخروج منه فرارا. قال: وروى هذا عن عمر بن الخطاب، وأنه ندم على رجوعه من سرغ. وعن أبي موسى الأشعري ومسروق والأسود بن هلال أنهم فروا من الطاعون. وقال عمرو بن العاص: فروا عن هذا الرجز في الشعاب والأودية ورؤوس الجبال، فقال معاذ بل هو شهادة ورحمة. ويتأوّل هؤلاء النهي على أنه لم ينه عن الدخول عليه والخروج منه مخافة أن يصيبه غير المقدر، لكن مخافة الفتنة على الناس؛ لئلا يظنوا أن هلاك القادم إنما حصل بقدومه، وسلامة الفار إنما كانت بفراره. قالوا: وهو من نحو النهي عن الطيرة والقرب من المجذوم. وقد جاء عن ابن مسعود قال: الطاعون فتنة على المقيم والفار.
أما الفار فيقول: فررت نجوت وأما المقيم فيقول: أقمت فمت. وإنما فرّ من لم يأت أجله، وأقام من حضر أجله انتهى. وذكر الطحاوي في مشكل الآثار»: هذا الحديث فقال: تأويله أنه إذا كان بحال لو دخل وابتلي به وقع عنده أنه ابتلى بدخوله، ولو خرج ونجا وقع عنده أنه نجا بخروجه، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. فأما إذا كان يعلم أن كل شيء بقدر الله، وأنه لا يصيبه إلا ما كتبه الله، فلا بأس بأن يدخل ويخرج. كذا في الظهيرية». قاله في العالمكيرية».
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: "Move the Muslims…" in Sharh Ma'ani al-Athar: "Umar (may Allah be pleased with him) commanded the people to leave the plague, and the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) agreed with him. Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) something that supports this view." The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith." The author of al-Ashbah wa al-Naza'ir said: "In al-Bazzaziyyah: If the earth shakes and someone is in their home, it is recommended for them to flee to the open land, based on Allah's saying: 'And do not throw yourselves into destruction' (Qur'an 2:195). It is said: Fleeing from what one cannot bear is from the practices of the prophets." This indicates the permissibility of fleeing from the plague if it strikes a town.
Note 1
(۱) قوله: فانهض وفي شرح معاني الآثار»: فهذا عمر الله قد أمر الناس أن يخرجوا من الطاعون، ووافقه على ذلك أصحاب رسول الله ﷺ ، وروى عبد الرحمن بن عوف عن النبي الله ما يوافق ما ذهب إليه من ذلك انتهى. وقال صاحب الدر المختار» في مسائل شتى منه وإذا خرج من بلدة بها الطاعون، فإن علم أن كل شيء بقدر الله تعالى فلا بأس بأن يخرج ويدخل. وإن كان عنده أنه لو خرج نجا ولو دخل ابتلى به كره له ذلك، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. وعليه حمل النهي في الحديث الشريف. مجمع الفتاوى انتهى. وقال في «الأشباه والنظائر»: وفي «البزازية»: إذا تزلزلت الأرض وهو وفي بيته يستحب له الفرار إلى الصحراء؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) (البقرة: (۱۹۵) وفيه: قيل : الفرار مما لا يُطاق من سُنَن المرسلين انتهى. ويفيد جواز الفرار من الطاعون إذا نزل ببلدة، انتهى قول الأشباه والنظائر».
Note 1
لکھا کہ امیر المؤمنین جس ضرورت کے لئے مجھے بلا رہے ہیں میں اس کو معلوم کرلیا ہوں ضرور حاضر ہوتا لیکن میں اس وقت مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار ہوں مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ اپنی جان بچا کر چلے آؤں اور مسلمانوں کو موت کے منھ میں دیدوں (نہ وہاں آنے سے پہلے موت سے بچ سکتا نہ یہاں رہنے سے مرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ ہے وہ پورا ہوکر رہتا ہے اس لئے مجھے مسلمانوں کے ساتھ ہی رہنے دیجئے) اور مجھے آنے کے لئے آپ جو قسم دیئے ہیں (وہ واقع میں قسم تو ہے نہیں، صرف تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے) اس لئے مجھے اس کی پابندی سے معاف فرمائیے، جب یہ خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ (خط دیکھ) کر رونے لگے (آپ کو روتے ہوئے دیکھ کر) لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین آپ رو رہے ہیں کیا حضرت ابوعبیدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرمائے: نہیں، انتقال تو نہیں ہوا مگر ان کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انتقال ہونے والا ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو نقل مکان کروا رہے تھے اس سے معلوم ہوا کہ اعتقاد صحیح کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کرنا جائز ہے باوجود اعتقاد صحیح کے اگر طاعون میں نقل مکان کرنا جائز نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہرگز نہ بلاتے، اس کی تائید اس خط سے بھی ہوتی ہے جو اس خط سے پہلے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا گیا تھا کہ فوج میں صحابہ کرام ہیں ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتا ہے نقل مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں اس لئے) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جاتا ہے کہ اردن ایک پست نشیبی مقام ہے وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے، اس لئے سب فوجوں کو وہاں سے ہٹا کر مقام جابیہ میں لے جاؤ کہ وہ بلند مقام ہے وہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان دیکھ کر مجھ سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یہ فرمائے: حضرت امیر المؤمنین کے حکم کی تعمیل کر کے یہاں تمام فوجوں کو منتقل کر کے جابیہ لے جانے کا انتظام کر لو تو حضرت ابوموسیٰ کہنے لگے میں آپ کے حکم کی ضرور تعمیل کرتا مگر میرے گھر میں خود طاعون ہوگیا ہے میں خود پریشان ہوں، اتنا بڑا انتظام (اس وقت) مجھ سے نہیں ہوسکتا، یہ سن کر حضرت ابوعبیدہ خود انتظام کرنے کا ارادہ کئے اور سوار ہونے لگے اور لوگ بھی جابیہ کی طرف کوچ کرنے لگے، ایسے میں حضرت ابوعبیدہ کو طاعون ہوگیا، اور طاعون ہی سے ان کا انتقال ہوگیا، اور ادھر طاعون بھی ختم ہوگیا۔ (اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی پہلے شخص ہیں کہ صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کو جائز قرار دیتے ہیں)۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Note 2
حکم کے خلاف نہیں تھا۔ اور شرح معانی الآثار میں لکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کے حکم سے موافقت رکھتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے بھی ثابت ہے اسی لئے صاحب درمختار نے مسائل شتیٰ میں مجمع الفتاویٰ کے حوالہ سے لکھا ہے، جب کسی شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے طاعون زدہ مقام سے نکلنے کو بچ جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کو مر جانے میں کوئی دخل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہیں نہ کوئی مر سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا ہے ایسا صحیح اعتقاد رکھنے والا طاعون زدہ مقام سے نکل کر نقل مقام کرے، یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہو تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں، ایسے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے، برخلاف اس کے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ طاعون زدہ مقام میں جانے سے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا، یا وہ سمجھتا ہے کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے میں طاعون سے محفوظ رہے گا تو اس کا یہ اعتقاد غلط ہے اور جس کا ایسا اعتقاد ہے اس کو چاہئے کہ اپنا اعتقاد درست رکھنے کی خاطر نہ تو طاعون زدہ مقام سے نکلے اور نہ طاعون زدہ مقام میں جائے، اور جس حدیث شریف میں طاعون زدہ مقام سے نقل مقام کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ ممانعت بھی مذکورہ اعتقاد رکھنے والوں سے ہی متعلق ہے اور جن کا یہ اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے کی وجہ سے بچ جائے گا تو ایسا غلط اعتقاد رکھنے والے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نکلنا جائز نہیں ہے۔ (درمختار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) مذکورہ صحیح اعتقاد رکھنے والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہونے کی تائید الاشباہ والنظائر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے اس کو الاشباہ والنظائر نے بزازیہ سے نقل کی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر میں ہو اور اس وقت زلزلے کے آثار ظاہر ہو رہے ہوں تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے فوری کھلے میدان کی طرف بھاگ جائے، اللہ تعالیٰ کا بھی ایسا ہی ارشاد ہے: ”وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ“ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:24، آیت نمبر:195) یعنی تم اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو، جہاں تک ہو سکے اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچایا کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ زلزلے کے وقت کھلے میدان کی طرف نکل جانا، اور طاعون زدہ مقام سے صحیح اعتقاد رکھ کر نقلِ مقام کرنا جائز ہے، ورنہ لازم آئے گا کہ زلزلہ سے بھاگ کر اور طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان نہ کر کے اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالا جو صریح آیت کے خلاف ہے، اس لئے صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان کرنا جائز ہے، اور ہلاکت کے موقعوں سے اپنے کو بچانا پیغمبروں کی سنت ہے۔ (الاشباہ والنظائر کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)