Shaqiq (may Allah be pleased with him) narrated that Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) fell ill, and they visited him. He began to cry, and they scolded him. He said: "I am not crying because of the illness, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Illness is an expiation.' I am crying because it has afflicted me during a period of laxity, and not during a period of striving, for a servant is rewarded for the deeds he used to do before falling ill, but the illness prevents him from doing them"
شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ (کے بڑھاپے کا زمانہ تھا ایسے وقت آپ) بیمار ہوئے، ہم (کئی شخص مل کر حضرت ابن مسعود کی)
بیمار پرسی کے لئے گئے (ہم حضرت ابن مسعود کو) دیکھے کہ آپ رو رہے ہیں، (ہم سمجھے کہ بیماری کی
تکلیف کی وجہ سے اور دنیا کے چھٹنے کے خیال سے آپ رو رہے؟ آپ کے اس مرتبہ اور شان کے
لحاظ سے آپ کا یہ رونا) ہم کو ناگوار گزرا (ہم عرض کئے حضرت بیماری کی وجہ سے اور دنیا چھٹنے کے
خیال سے آپ بھی روتے ہیں۔ یہ آپ کی شان کے مناسب نہیں ہے) تو (حضرت ابن مسعود)
فرمایا: (نہیں) میں بیماری کی وجہ سے نہیں رو رہا ہوں (مرض کی وجہ سے کیسے روتا جب) خود میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ بیماری (بیمار کے) سارے گناہوں کو مٹا دیتی ہے
(اور اس کو گناہوں سے پاک و صاف کر دیتی ہے، حضور سے یہ سننے کے بعد میں کیسے اس بیماری کی
وجہ سے روتا،) سنو! (جب کوئی شخص صحت کے زمانہ میں جو نیک اعمال کیا کرتا ہے اور بیمار ہونے کی
وجہ سے حسب عادت جو نیک عمل کیا کرتا تھا وہ اب بیماری میں نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم
سے نیکیاں لکھنے والے فرشتے کو فرماتے ہیں کہ صحت کے زمانہ میں وہ جو نیک اعمال کیا کرتا تھا اور تم جو
اس کا ثواب لکھا کرتے تھے اب اس بیماری میں بغیر اس کے نیک اعمال کئے کہ اس کے نامۂ اعمال
میں وہی ثواب لکھو جس کو وہ صحت کے زمانہ میں کیا کرتا تھا، گو اب وہ بیماری کی وجہ سے نیک اعمال
نہیں کر رہا ہے، کیا کہوں میں اپنی جوانی میں کثرت سے نیک اعمال کیا کرتا تھا، اگر جوانی میں بیمار ہوتا
تو بغیر نیک اعمال کے کثرت سے نیک اعمال کرنے کا ثواب ملتا) میرے رونے کی وجہ یہ ہے کہ
افسوس اب بیماری ضعیفی اور بڑھاپے کے زمانہ میں آئی ہے (بڑھاپے میں صحت کے زمانہ میں کثرت
سے نیک اعمال نہیں کر سکتا، اب یہ بڑھاپے کی بیماری میں نیک اعمال کا ثواب بھی ویسا ہی کم ملے گا
جیسا کہ بڑھاپے میں نیک اعمال کم کیا کرتا ہوں) جوانی کے زمانہ میں مجھے بیماری نہیں آئی (جوانی
کے زمانہ کے کثرت سے نیک اعمال کرنے کا ثواب اب نہیں ملے گا اس کا مجھے بڑا افسوس ہے ان
نیکیوں کے خسارے کی وجہ سے رو رہا ہوں) اس لئے کہ بندہ جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے لئے ان
نیک اعمال کا ثواب لکھا جاتا ہے جو بیماری سے پہلے (یعنی صحت کے زمانہ میں) لکھا جاتا تھا اور
بیماری نے اس کو ان اعمال سے روک دیا تھا۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ طاعون سے جو مسلمان مرتے ہیں وہ شہید ہوتے ہیں۔ (ان کو شہادت
کا ثواب ملتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Al-Irbad ibn Sariyah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The martyrs and those who die in their beds will dispute before our Lord, the Exalted, regarding those who die of the plague. The martyrs will say: 'Our brothers were killed as we were killed.' Those who died in their beds will say: 'Our brothers died in their beds as we died.' Then our Lord will say: 'Look at their wounds. If their wounds resemble the wounds of the martyrs, then they are among them and with them.' And indeed, their wounds will resemble theirs"
ایاض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (طاعون سے جو لوگ مرتے ہیں ان کو شہید سمجھنا چاہئے یا
ان کو ان لوگوں کی طرح سمجھنا چاہئے جو اپنے اپنے گھروں میں بستروں پر مرتے ہوں (اس کا فیصلہ
خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) جب اللہ تعالیٰ کے سامنے شہداء اپنا دعویٰ پیش کریں گے کہ طاعون سے مرنے
والے ہم میں سے ہیں یعنی جیسے ہم زخمی ہو کر کفار کے ہاتھوں سے مارے گئے ویسے ہی یہ طاعون سے
مرنے والے بھی جنات کے ہاتھ سے زخمی ہو کر مرے ہیں (اس لئے کہ طاعون کا زخم جنات کی وجہ
سے ہوتا ہے) اور جہاد میں گئے بغیر اپنے اپنے گھروں میں بستروں پر مرنے والی جماعت اللہ تعالیٰ
سے عرض کرے گی کہ یہ طاعون سے مرنے والے ہمارے جیسے گھروں میں بستروں پر مر رہے ہیں
(اس لئے یہ طاعون سے مرنے والے لوگ ہمارے ساتھ شامل ہیں) اس پر رب عزّوجل ارشاد
فرمائیں گے کہ طاعون سے مرنے والوں کے زخموں کو دیکھو اگر ان کے زخم جہاد فی سبیل اللہ میں شہید
ہونے والوں کے زخم کے مشابہ ہیں تو ان لوگوں کا شمار بھی جہاد میں مارے جانے والوں میں ہوگا اور
یہ انہی کے جیسے سمجھے جائیں گے اور ان کو بھی شہیدوں کا ثواب دیا جائے گا، پھر جب طاعون سے
مرنے والوں کے زخموں کو دیکھا جائے گا تو ان کے زخم بھی شہیدوں کے زخم کی طرح نظر آئیں گے۔
(اس طرح طاعون سے مرنے والے شہید سمجھے جائیں گے اور شہیدوں کے ساتھ ہوں گے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The martyrs are five: the one who dies of the plague, the one who dies of a stomach illness, the one who drowns, the one who dies under a collapsed structure, and the one who is martyred in the way of Allah"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: شہید پانچ قسم کے ہیں: (1) طاعون سے مرنے والا (2) پیٹ کی
بیماری (جیسے پیچش، اسہال، استسقاء اور درد شکم) سے مرنے والا (3) پانی میں ڈوب کر مرنے والا
(اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو وہ شخص ہے جو قصداً خودکشی کے لئے پانی میں گر کر اپنے کو مارتا ہے
ایسا شخص شہید نہیں ہے بلکہ اس کو ناجائز موت سے مرنے کی وجہ عذاب ہوگا، پانی میں ڈوب کر مرنے
والے کی دوسری قسم یہ ہے کہ پانی میں گر کر مرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ اتفاق سے پانی میں گرا اور مر گیا)
(4) دیوار یا چھت کے گرنے سے (ان کے نیچے دب کر) مرنے والا (5) (جہاد ہو رہا ہو، اعلاء کلمۃ
اللہ کے لئے) خدا کے راستہ میں (کافروں سے) مارا جانے والا (یہ اصلی شہید ہے، ایسا ہی وہ شخص
بھی شہید ہے جس کو ناحق ظلم سے اگر کسی نے مار دیا ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Sulaiman ibn Surad (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever is killed by his stomach will not be punished in his grave"
سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں جو مسلمان پیٹ کی بیماریوں (جیسے ہیضہ، پیچش، اسہال، استسقاء،
قولنج اور درد شکم) سے مر جائے تو (قبر میں) قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔ (اور آخرت میں
شہیدوں کا ثواب پائے گا۔) اس حدیث کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
Jabir ibn Atik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are seven types of martyrdom besides being killed in the way of Allah: the one who dies of the plague is a martyr, the one who drowns is a martyr, the one who dies of pleurisy is a martyr, the one who dies of a stomach illness is a martyr, the one who dies in a fire is a martyr, the one who dies under a collapsed structure is a martyr, and the woman who dies in childbirth is a martyr"
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: (حقیقی شہادت تو وہ ہے کہ کوئی شخص جہاد میں کافروں کے ہاتھ
سے مارا جائے) اس شہادت فی سبیل اللہ کے سوا اور بھی سات قسم کی شہادتیں ہیں (1) طاعون سے
مرنے والا شہید ہے (اور جو خود کشی کے لئے قصداً (پانی میں گر کر مر گیا تو یہ ناجائز موت ہے، ایسا
شخص شہید نہیں ہوگا بلکہ) (2) وہ شخص (جو اتفاق سے) پانی میں گرا، (بچ نہ سکا اور مر گیا یہ شہید ہے
(3) ذات الجنب یعنی نمونیہ کی بیماری سے مرنے والا بھی شہید ہے (4) اور پیٹ کی بیماریوں (جیسے
ہیضہ، پیچش، اسہال، استسقاء، قولنج اور درد شکم) سے مرنے والا بھی شہید ہے (جو خود کشی کے لئے
قصداً آگ میں جل کر مرے تو وہ شہید نہیں ہے وہ ناجائز موت سے مرنے والا سمجھا جائے گا بلکہ)
(5) جو اتفاقاً جل کر مرے وہ شہید ہے (6) جو شخص کسی چیز کے نیچے دب کر مر جائے تو وہ بھی شہید
ہے (7) جو عورت کہ اس کی زچگی ہو رہی تھی بچہ پیدا نہ ہو سکا اور پیٹ میں رہ گیا اور وہ عورت مر گئی،
ایسی عورت شہید ہے (ایسے ہی وہ عورت جس کا بچہ تو پیدا ہو گیا مگر آنول نہ نکل سکی اور اس کا زہر چڑھ
گیا اور وہ مر گئی تو وہ بھی شہید ہے، ایسا ہی وہ عورت جو زچگی کے بعد زچگی کی وجہ سے مر جائے وہ بھی
شہید ہے ایسے ہی جو باکرہ عورت (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) باکرہ ہی
رہ کر یا کسی بھی بیماری سے مر جائے وہ بھی شہید ہے۔)۔
اس حدیث کی روایت امام مالک، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that a man who was born in Madinah died there, and the Prophet (ﷺ) prayed over him and said: "I wish he had died somewhere other than his birthplace." They asked: "Why is that, O Messenger of Allah?" He said: "When a person dies away from his birthplace, a distance equal to the span from his birthplace to the farthest point of his footsteps is measured for him in Paradise"
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں
ایک شخص کا انتقال ہوا وہ مدینہ منورہ ہی میں پیدا ہوا (مدینہ منورہ ہی ان کا وطن تھا اور مدینہ منورہ ہی
ان کی پیدائش کی جگہ تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی نماز جنازہ پڑھائے اور ارشاد فرمائے
کاش ان کو سفر میں غُربت کی موت نصیب ہوتی (اپنی پیدائش کی جگہ سے دور کہیں سفر میں انتقال
کرتے تو اچھا ہوتا) صحابہ عرض کئے! حضور ایسا کیوں ارشاد فرما رہے ہیں (حضور کے فرمانے کا
مطلب ہمارے سمجھ میں نہیں آیا) حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ جب کوئی مسلمان
سفر کی حالت میں غُربت کی موت مرتا ہے تو (جیسے بعضوں کی قبر تنگ کی جاتی ہے جس سے اس کی
پھسلیاں ادھر ادھر ہوجاتی ہیں برخلاف اس کے سفر کی حالت میں مرنے والے کی قبر (جیسا کہ
مرقات، سندھی اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) کو اتنی مسافت کی مقدار تک وسیع کرتے ہیں
جتنی مسافت اس کی پیدائش کی جگہ سے سفر میں موت کے مقام تک ہوتی ہے۔ (یہ ہے سفر کی حالت
میں غُربت کی موت مرنے والے کی فضیلت۔ (اس حدیث کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو مسلمان سفر کی حالت میں پردیس میں مرتا ہے وہ شہید ہوتا
ہے (کیوں کہ پردیس میں جب آدمی بیمار ہوتا ہے تو اس کو بہت تکلیف ہوتی ہے، عزیز و اقرباء کی
جدائی اور تنہائی بہت شاق ہوتی ہے، پس اگر ایسی حالت میں مرجائے تو مرتے وقت اس کو بہت
رنج ہوتا ہے، اسی لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی عنایت سے اس کا بدلہ یہ دیا ہے کہ اس کو شہادت کا
ثواب عطا فرمایا)۔
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Tariq ibn Shihab (may Allah be pleased with him) narrated: "We were conversing with Abu Musa al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) when one day he said to us: 'Do not feel obliged to hide anything from me, for the plague has struck my family. Whoever among you wishes to avoid it may do so, but beware of two things: Do not let anyone say, "Someone left and was saved, while someone stayed and was afflicted. If I had left, I would have been saved like so-and-so," or "If I had stayed, I would have been afflicted like so-and-so." I will tell you what people should do regarding the plague. I was with Abu Ubaidah (may Allah be pleased with him) when the plague struck Syria. Umar (may Allah be pleased with him) wrote to him: "If this letter reaches you in the evening, do not wait until morning; ride to me immediately, for I have a need for you that I cannot do without." When Abu Ubaidah read the letter, he said: "The Commander of the Faithful wants to save someone who is not destined to live." He wrote back to Umar: "I am among a group of Muslims, and I will not flee from death or destiny. I will not prioritize myself over them. I understand the need of the Commander of the Faithful, so release me from your command." When Umar received the letter, he wept. Someone said to him: "Has Abu Ubaidah died?" He said: "No." Umar had written to him: "The Jordan Valley is a deep and unhealthy land, while al-Jabiyah is a pleasant land. Move the Muslims to al-Jabiyah." 1 Abu Ubaidah said to me: "Go and prepare a place for the Muslims." I said: "I cannot." He then went to ride and said to me: "Prepare the people's mounts." He was struck by the plague and died, and the plague subsided" [Narrated by al-Tahawi]
In a version by Ibn Asakir: "Umar had written to him: 'The Jordan Valley is a deep and unhealthy land, while al-Jabiyah is a pleasant land. Move the Muhajireen there.' When Abu Ubaidah read the letter, he said: 'We hear and obey the command of the Commander of the Faithful.' He ordered me to ride and prepare places for the people. My wife was struck by the plague, so I went to Abu Ubaidah. He went to prepare places for the people but was struck by the plague and died, and the plague subsided."
Sufyan ibn Uyaynah narrated a similar but shorter version in his collection.
The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith."
طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ابوموسیٰ
اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس حدیث سننے جایا کرتے تھے ایک دن انھوں نے ہم سے فرمایا کہ میرے
گھر میں طاعون پھوٹ پڑا ہے اس لئے آپ لوگ میرے پاس نہ آیا کریں آپ لوگوں میں سے جو
تبدیل آب و ہوا کے لئے مقام بدلنا چاہیں وہ جاسکتے ہیں، مگر ایسا اعتقاد رکھ کر مقام نہ بدلیں کہ میں
طاعون زدہ مقام سے نکل گیا تھا اس لئے طاعون سے بچ گیا اور فلاں صاحب طاعون زدہ مقام
میں رہتے تھے اس لئے طاعون میں مبتلا ہو کر مر گئے، اگر میں بھی طاعون زدہ مقام میں رہتا تو طاعون
میں مبتلا ہو جاتا، ایسا ہی طاعون زدہ مقام میں جو رہ گیا تھا وہ طاعون میں مبتلا ہو کر یہ نہ کہے کہ میں بھی
فلاں صاحب کی طرح طاعون زدہ مقام سے نکل جاتا تو میں بھی بچ جاتا، اس طرح کا اعتقاد نہ جانے
والے کو ہونا چاہئے نہ رہنے والے کو بلکہ دونوں یہ سمجھیں کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے ارادے
سے ہوتا ہے بچ گیا بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کے ارادہ سے بچا اور اگر مبتلا ہو گیا بھی تو اللہ ہی کے ارادہ سے
ہوا، اس میں طاعون زدہ مقام کو چھوڑنے کا اثر ہے نہ اس مقام میں رہنے کا اثر ہے، اس طرح سمجھے
والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے اور جانے سے بچنا اور رہنے سے مرنا سمجھنا یہ
اعتقاد درست نہیں ہے اور ایسے اعتقاد رکھنے والے کو نقل مکان کرنا جائز نہیں ہے) حضرت ابوموسیٰ
اشعری رضی اللہ عنہ اس کے بعد فرمائے کہ میں تم کو حدیث سناتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ طاعون
کے موقع پر لوگوں کو کیا کرنا چاہئے، (ایک دفعہ) ملک شام میں طاعون پھوٹ پڑا تھا اور اس وقت
میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ملک شام کے جہاد میں شریک تھا (اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ
اس وقت فوج کے سپہ سالار تھے، ملک شام میں طاعون پھوٹ پڑنے کی اطلاع امیر المؤمنین حضرت
عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو یہ خط لکھا کہ
آپ کو میرا یہ خط ملتے ہی آپ فوراً مدینہ منورہ آنے کے لئے روانہ ہو جائیں میں آپ کو قسم دیتا ہوں
کہ اگر میرا یہ خط آپ کو صبح ملے تو آپ اسی وقت شام ہونے سے پہلے مدینہ منورہ آنے کے لئے
روانہ ہو جائیں اور اگر آپ کو میرا یہ خط شام کے وقت ملے تو صبح ہونے کا انتظار نہ کرنا، اسی وقت
مدینہ منورہ آنے کے لئے روانہ ہو جانا، اس لئے کہ مجھے ایک اہم ضرورت پیش آئی ہے اور اس میں
آپ سے مشورہ لینا ہے اور یہ کام آپ کے مشورہ کے بغیر طے نہیں پا سکتا، جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ
اس خط کو پڑھ چکے تو فرمایا کہ امیر المؤمنین ایک ایسے شخص کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں جس کی موت آ گئی
ہے یہ کہہ کر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خط کا جواب اس طرح
اور ایسا ہی ابن عساکر کی ایک روایت میں بھی اس طرح مروی ہے کہ
امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو اُس وقت شام کی فوج کے سپہ
سالار تھے اس طرح لکھے کہ (فوج میں اکثر صحابہ کرام ہیں، ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ طاعون
میں نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ
جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتا ہے، نقل مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں، اس لئے
اردن میں طاعون پھیل گیا ہے اور اردن ایک وبائی اور نشیبی زمین ہے، وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں
ہے اس کے برخلاف جابیہ بلند مقام ہے جہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے اس لئے سب فوجوں کو
اردن سے ہٹا کر جابیہ میں لے جاؤ، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کو
پڑھ کر فرمایا کہ: ہم امیرالمؤمنین کے فرمان کی تعمیل کر کے جابیہ کی طرف فوجوں کو لے جاتے ہیں، ابو
موسیٰ تم فوجوں کو لے کر جابیہ کی طرف چلو اور ان کو وہاں اتارنے کا انتظام کرو، ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ
ایسے میں میری بیوی طاعون میں مبتلا ہوگئیں، میں نے حضرت ابوعبیدہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس
واقعہ کی اطلاع دی (اور اپنی مجبوری کا اظہار کیا) تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ خود فوجوں کو جابیہ لے
جانے کا انتظام کرنے کا ارادہ کئے (ان کا ارادہ پورا نہ ہوا) خود حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ طاعون
میں مبتلا ہو کر انتقال فرمائے اور ادھر طاعون بھی ختم ہوگیا۔
اور سفیان بن عیینہ نے بھی اپنی جامع میں ابن عساکر کی روایت کی طرح
روایت کی ہے لیکن وہ ابن عساکر کی روایت کے بہ نسبت مختصر ہے اور شرح معانی الآثار میں یہ بھی
مذکور ہے کہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جنہوں نے صحابہ کرام کو یہ حکم دیا کہ وہ طاعون زدہ مقام
سے ہٹ کر دوسرے مقام میں منتقل ہوجائیں اور وہاں اس وقت کثیر تعداد میں صحابہ کرام موجود تھے
اور کسی صحابی نے بھی آپ کے حکم کے خلاف نہیں کیا بلکہ سب نے اس کی موافقت فرمائی اور ایسا
مبارک زمانہ تھا کہ صحابہ اللہ و رسول اللہ کے حکم کے خلاف ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے فوراً
اعتراض کر دیتے تھے تمام صحابہ نے بغیر اعتراض کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو مان لیا۔ اس
سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طاعون میں نقل مقام کرنے کا حکم اللہ اور اس کے رسول کے
(1) The statement: "Move the Muslims…" in Sharh Ma'ani al-Athar: "Umar (may Allah be pleased with him) commanded the people to leave the plague, and the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) agreed with him. Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) something that supports this view."
The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith."
The author of al-Ashbah wa al-Naza'ir said: "In al-Bazzaziyyah: If the earth shakes and someone is in their home, it is recommended for them to flee to the open land, based on Allah's saying: 'And do not throw yourselves into destruction' (Qur'an 2:195). It is said: Fleeing from what one cannot bear is from the practices of the prophets." This indicates the permissibility of fleeing from the plague if it strikes a town.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فانهض وفي شرح معاني الآثار»: فهذا عمر الله قد أمر الناس أن يخرجوا من الطاعون، ووافقه على ذلك أصحاب رسول الله ﷺ ، وروى عبد الرحمن بن عوف عن النبي الله ما يوافق ما ذهب إليه من ذلك انتهى.
وقال صاحب الدر المختار» في مسائل شتى منه وإذا خرج من بلدة بها الطاعون، فإن علم أن كل شيء بقدر الله تعالى فلا بأس بأن يخرج ويدخل. وإن كان عنده أنه لو خرج نجا ولو دخل ابتلى به كره له ذلك، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. وعليه حمل النهي في الحديث الشريف. مجمع الفتاوى انتهى.
وقال في «الأشباه والنظائر»: وفي «البزازية»: إذا تزلزلت الأرض وهو وفي بيته يستحب له الفرار إلى الصحراء؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) (البقرة: (۱۹۵) وفيه: قيل : الفرار مما لا يُطاق من سُنَن المرسلين انتهى. ويفيد جواز الفرار من الطاعون إذا نزل ببلدة، انتهى قول الأشباه والنظائر».
Note 1
لکھا کہ امیر المؤمنین جس ضرورت کے لئے مجھے بلا رہے ہیں میں اس کو معلوم کرلیا ہوں ضرور حاضر
ہوتا لیکن میں اس وقت مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار ہوں مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ اپنی جان بچا کر
چلے آؤں اور مسلمانوں کو موت کے منھ میں دیدوں (نہ وہاں آنے سے پہلے موت سے بچ سکتا نہ
یہاں رہنے سے مرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ ہے وہ پورا ہوکر رہتا ہے اس لئے مجھے مسلمانوں کے
ساتھ ہی رہنے دیجئے) اور مجھے آنے کے لئے آپ جو قسم دیئے ہیں (وہ واقع میں قسم تو ہے نہیں،
صرف تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے) اس لئے مجھے اس کی پابندی سے معاف فرمائیے، جب یہ خط
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ (خط دیکھ) کر رونے لگے (آپ کو روتے ہوئے دیکھ کر) لوگوں
نے عرض کیا: امیر المؤمنین آپ رو رہے ہیں کیا حضرت ابوعبیدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو حضرت عمر رضی
اللہ عنہ ارشاد فرمائے: نہیں، انتقال تو نہیں ہوا مگر ان کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انتقال ہونے
والا ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو نقل مکان کروا رہے تھے اس سے
معلوم ہوا کہ اعتقاد صحیح کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کرنا جائز ہے باوجود اعتقاد صحیح کے اگر طاعون
میں نقل مکان کرنا جائز نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہرگز نہ بلاتے،
اس کی تائید اس خط سے بھی ہوتی ہے جو اس خط سے پہلے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا گیا تھا کہ فوج میں
صحابہ کرام ہیں ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ
جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتا ہے نقل
مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں اس لئے) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جاتا ہے کہ اردن
ایک پست نشیبی مقام ہے وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے، اس لئے سب فوجوں کو وہاں سے ہٹا کر
مقام جابیہ میں لے جاؤ کہ وہ بلند مقام ہے وہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان دیکھ کر مجھ سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یہ
فرمائے: حضرت امیر المؤمنین کے حکم کی تعمیل کر کے یہاں تمام فوجوں کو منتقل کر کے جابیہ لے جانے کا
انتظام کر لو تو حضرت ابوموسیٰ کہنے لگے میں آپ کے حکم کی ضرور تعمیل کرتا مگر میرے گھر میں خود طاعون
ہوگیا ہے میں خود پریشان ہوں، اتنا بڑا انتظام (اس وقت) مجھ سے نہیں ہوسکتا، یہ سن کر حضرت
ابوعبیدہ خود انتظام کرنے کا ارادہ کئے اور سوار ہونے لگے اور لوگ بھی جابیہ کی طرف کوچ کرنے لگے،
ایسے میں حضرت ابوعبیدہ کو طاعون ہوگیا، اور طاعون ہی سے ان کا انتقال ہوگیا، اور ادھر طاعون بھی
ختم ہوگیا۔ (اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی پہلے شخص ہیں کہ صحیح اعتقاد کے
ساتھ طاعون میں نقل مکان کو جائز قرار دیتے ہیں)۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Note 2
حکم کے خلاف نہیں تھا۔
اور شرح معانی الآثار میں لکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طاعون زدہ مقام سے
ہٹ کر نقل مقام کرنے کے حکم سے موافقت رکھتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ
کا طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے
بھی ثابت ہے اسی لئے صاحب درمختار نے مسائل شتیٰ میں مجمع الفتاویٰ کے حوالہ سے لکھا ہے، جب
کسی شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے طاعون زدہ مقام سے نکلنے کو بچ
جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کو مر جانے میں کوئی دخل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ
چاہیں نہ کوئی مر سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا ہے ایسا صحیح اعتقاد رکھنے والا طاعون زدہ مقام سے نکل کر نقل
مقام کرے، یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہو تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں، ایسے شخص کو طاعون
زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے، برخلاف اس کے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ طاعون زدہ
مقام میں جانے سے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا، یا وہ سمجھتا ہے کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے
میں طاعون سے محفوظ رہے گا تو اس کا یہ اعتقاد غلط ہے اور جس کا ایسا اعتقاد ہے اس کو چاہئے کہ اپنا
اعتقاد درست رکھنے کی خاطر نہ تو طاعون زدہ مقام سے نکلے اور نہ طاعون زدہ مقام میں جائے، اور
جس حدیث شریف میں طاعون زدہ مقام سے نقل مقام کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ ممانعت بھی
مذکورہ اعتقاد رکھنے والوں سے ہی متعلق ہے اور جن کا یہ اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے
کی وجہ سے بچ جائے گا تو ایسا غلط اعتقاد رکھنے والے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نکلنا جائز نہیں
ہے۔ (درمختار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) مذکورہ صحیح اعتقاد رکھنے والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل
مکان کرنا جائز ہونے کی تائید الاشباہ والنظائر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے اس کو الاشباہ والنظائر
نے بزازیہ سے نقل کی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر میں ہو اور اس وقت زلزلے کے آثار ظاہر ہو رہے ہوں
تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے فوری کھلے میدان کی طرف بھاگ
جائے، اللہ تعالیٰ کا بھی ایسا ہی ارشاد ہے: ”وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ“ (سورۃ
بقرہ، پ:2، ع:24، آیت نمبر:195) یعنی تم اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو، جہاں تک
ہو سکے اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچایا کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ زلزلے کے وقت کھلے
میدان کی طرف نکل جانا، اور طاعون زدہ مقام سے صحیح اعتقاد رکھ کر نقلِ مقام کرنا جائز ہے، ورنہ
لازم آئے گا کہ زلزلہ سے بھاگ کر اور طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان نہ کر کے اپنے ہاتھوں سے خود
کو ہلاکت میں ڈالا جو صریح آیت کے خلاف ہے، اس لئے صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام
سے نقلِ مکان کرنا جائز ہے، اور ہلاکت کے موقعوں سے اپنے کو بچانا پیغمبروں کی سنت ہے۔
(الاشباہ والنظائر کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that a man said: "O Messenger of Allah, we were in a land where our numbers and wealth increased, but we moved to a land where our numbers and wealth decreased." The Prophet (ﷺ) said: "Leave it; it is wretched"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض
کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم ایک مکان میں رہا کرتے تھے جہاں ہمارے، بہت سے
آدمی تھے اور مال بھی افراط سے تھا اس کے بعد ہم ایک دوسرے مکان میں جا کر رہے تو اس میں
ہمارے آدمی بھی کم ہو گئے اور مال میں بھی کمی آ گئی یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے: یہ مکان اچھا نہیں ہے تم اس کو چھوڑ دو۔ (اور دوسرے مکان میں منتقل ہو جاؤ۔)
اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Yahya ibn Abdullah ibn Bukhayr reported that someone informed him that Farwah ibn Musayk (may Allah be pleased with him) said: "I said: 'O Messenger of Allah, we have a land called Abyan, which is our farmland and source of livelihood, but its epidemic is severe.' The Prophet (ﷺ) said: 'Leave it, 1 for destruction comes from mixing with filth'"
ابوداؤد کی ایک دوسری حدیث میں اس طرح ہے جس کو یحییٰ بن عبداللہ بن بحیر
رضی اللہ عنہ فروہ بن مسک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، فروہ بن مسک فرماتے ہیں کہ میں نے
عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس ایک زمین ہے جس کو ابین کہتے ہیں وہ
ہمارے کھیت کی ایسی زمین ہے جس میں زراعت بھی ہوتی ہے اور غلہ کا گودام بھی اسی میں ہے
(معلوم نہیں کیا وجہ ہے کہ) وہ سخت وبائی زمین ہے یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے (جہاں کی آب و ہوا خراب ہو) وہاں رہنا اچھا نہیں نقصان کا اندیشہ رہتا ہے تم اس زمین کو
چھوڑ دو۔ (اور دوسری جگہ منتقل ہو جاؤ۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3923 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Leave it
(1) The statement: "Leave it" is similar to "Leave it; it is wretched." Ali al-Qari (may Allah have mercy on him) said: "This is not about contagion but about health. Good air is one of the greatest aids to physical health, and bad air is one of the quickest causes of illness."
Note 1
قوله
(۱) قوله: دعها عنك: مثله ذروها ذميمة. قال علي القاري رحمه الله الباري: ليس هذا من باب العدوى، وإنما هو من باب الطب؛ فإن استصلاح الأهواء من أعون الأشياء على صحة الأبدان وفساد الهواء من أسرع الأشياء إلى الأسقام.
Note 1
صاحبو! آپ نے ان دونوں حدیثوں کو سنا، اس میں طب کے ایک مسئلہ کو حل کیا گیا ہے کہ
صحت کے لئے آب و ہوا کا اچھا ہونا ضروری ہے اور جب آب و ہوا خراب ہو جاتی ہے تو صحت بھی
بگڑ جاتی ہے ان دونوں حدیثوں میں، بہترین آب و ہوا کے لئے نقلِ مکان کی اجازت دی گئی ہے ایسا
ہی طاعون کی وجہ سے جب آب و ہوا خراب ہو جائے تو صحت باقی رہنے کے لئے نقلِ مکان کرنے
میں کچھ مضائقہ نہیں، ملا علی قاری رحمہ اللہ علیہ ایسا ہی فرمائے ہیں۔
Usamah ibn Zayd (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The plague is a punishment that was sent upon a group of the Children of Israel or upon those before you. If you hear of it in a land, do not enter it, 2 and if it occurs in a land where you are, do not flee from it"
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے کی گزری ہوئی قوموں پر
(ان کے گناہوں کی وجہ سے) بھیجا گیا تھا (جب کبھی طاعون کسی مقام میں پھیل جائے تو تم اپنی
حالت پر غور کرو اگر تمہارا یہ اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام میں چلے جانے سے طاعون میں مبتلا
ہوجاؤ گے یا تم سمجھتے ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے میں طاعون سے بچ جاؤں گا تو تمہارا یہ
اعتقاد غلط ہے اس لئے کہ عذاب تو بہ و استغفار سے ٹل جاتا ہے، بھاگنے سے عذاب نہیں ٹلتا، اسی
لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایسے شخص کو اپنا اعتقاد درست رکھنے کی
خاطر) نہ تو طاعون زدہ مقام میں جانا چاہئے اور نہ طاعون زدہ مقام سے بھاگنا چاہئے (بخلاف اس
کے اگر تمہارا یہ اعتقاد ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتی ہے، طاعون زدہ مقام سے نکلنے کو بچ
جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کو مرنے میں کوئی دخل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ
چاہیں نہ تو کوئی مر سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا ہے تو تمہارا یہ اعتقاد درست ہے اور ایسا اعتقاد رکھنے والا
طاعون زدہ مقام سے نکل کر نقلِ مکان کرے یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہو تو اس میں کوئی مضائقہ
نہیں، ایسے شخص کا طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان کرنا جائز ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3473 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2218a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Do not enter it, etc.
(2) The statement: "Do not enter it, etc.": Imam al-Nawawi (may Allah have mercy on him) said in Sharh Muslim: "These Hadiths prohibit entering a land afflicted by the plague and fleeing from it out of fear. However, leaving for a valid reason is permissible. This is the view of our school and the majority of scholars. Al-Qadi said: 'This is the opinion of most scholars.' He added: 'Even Aisha (may Allah be pleased with her) said: Fleeing from it is like fleeing from battle.' Some scholars, however, permitted entering a plague-stricken land and fleeing from it. [Narrated from Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him), who regretted returning from Sargh. It was also narrated from Abu Musa al-Ash'ari, Masruq, and al-Aswad ibn Hilal that they fled from the plague. Amr ibn al-As (may Allah be pleased with him) said: 'Flee from this punishment to the valleys and mountain tops.' Muadh (may Allah be pleased with him) replied: 'Rather, it is a martyrdom and mercy.' These scholars interpreted the prohibition as not being due to fear of what is not decreed but to avoid causing confusion among people, lest they think that the death of those who entered was due to their entering and the safety of those who fled was due to their fleeing. They said: 'This is similar to the prohibition of superstition and sitting near a leper.' It was narrated from Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): 'The plague is a trial for both the one who stays and the one who flees. The one who flees says: "I fled and was saved," and the one who stays says: "I stayed and died." In reality, the one who flees is saved because their time has not come, and the one who stays dies because their time has come.'"
Al-Tahawi said in Mushkil al-Athar: "The interpretation of this Hadith is that if someone believes that entering will cause them to be afflicted and fleeing will save them, they should neither enter nor flee to protect their belief. However, if they know that everything is by the decree of Allah and that nothing will afflict them except what Allah has written, there is no harm in entering or leaving."
Note 2
قوله
(٢) قوله : فلا تقدموا عليه إلخ : قال الشيخ النووي في شرح مسلم»: وفي هذه الأحاديث منع القدوم على بلد الطاعون ومنع الخروج منه فرارا من ذلك. أما الخروج لعارض فلا بأس به، وهذا الذي ذكرناه هو مذهبنا ومذهب الجمهور قال القاضي: هو قول الأكثرين، قال: حتى قالت عائشة: الفرار منه كالفرار من الزحف، قال: ومنهم من جوز القدوم عليه، والخروج منه فرارا. قال: وروى هذا عن عمر بن الخطاب، وأنه ندم على رجوعه من سرغ. وعن أبي موسى الأشعري ومسروق والأسود بن هلال أنهم فروا من الطاعون. وقال عمرو بن العاص: فروا عن هذا الرجز في الشعاب والأودية ورؤوس الجبال، فقال معاذ بل هو شهادة ورحمة. ويتأوّل هؤلاء النهي على أنه لم ينه عن الدخول عليه والخروج منه مخافة أن يصيبه غير المقدر، لكن مخافة الفتنة على الناس؛ لئلا يظنوا أن هلاك القادم إنما حصل بقدومه، وسلامة الفار إنما كانت بفراره. قالوا: وهو من نحو النهي عن الطيرة والقرب من المجذوم. وقد جاء عن ابن مسعود قال: الطاعون فتنة على المقيم والفار.
أما الفار فيقول: فررت نجوت وأما المقيم فيقول: أقمت فمت. وإنما فرّ من لم يأت أجله، وأقام من حضر أجله انتهى. وذكر الطحاوي في مشكل الآثار»: هذا الحديث فقال: تأويله أنه إذا كان بحال لو دخل وابتلي به وقع عنده أنه ابتلى بدخوله، ولو خرج ونجا وقع عنده أنه نجا بخروجه، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. فأما إذا كان يعلم أن كل شيء بقدر الله، وأنه لا يصيبه إلا ما كتبه الله، فلا بأس بأن يدخل ويخرج. كذا في الظهيرية». قاله في العالمكيرية».
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the plague, and he informed me that it is a punishment that Allah sends upon whom He wills, but Allah has made it a mercy for the believers. There is no one who stays in his land during the outbreak of the plague, remaining patient and hopeful, knowing that nothing will befall him except what Allah has decreed for him, except that he will receive the reward of a martyr
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہے کہ میں (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کی: حضور طاعون ایک عجیب
بیماری ہے اللہ تعالیٰ اس بیماری کو اپنے بندوں پر بھیجتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: سنو عائشہ! (جب بندوں سے نافرمانیاں کثرت سے ہوتی ہیں تو)
طاعون کو عذاب بنا کر ان پر بھیجتے ہیں تو (یہ طاعون) کافروں اور مسلمانوں دونوں پر آتا ہے عذاب
ہو کر پھر مسلمانوں کے لئے رحمت بن جاتا ہے، جب کسی مسلمانوں کی بستی میں طاعون آ جائے اور وہ
اپنی بستی میں طاعون کے زمانہ میں صبر کیا ہوا ثواب کی نیت سے ٹھہرا رہے اور اس کو یہ یقین کامل ہے
کہ مرنا اور جینا دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے ارادے سے ہوتے ہیں، (جب اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں تو لوگ
طاعون میں رہ کر بچ جاتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ موت دینا چاہتے ہیں تو وہ طاعون میں مبتلا ہو کر مر
جاتے ہیں جو یہ صحیح اعتقاد رکھ کر طاعون زدہ بستی میں ٹھہرا رہے) تو ایسے شخص کو شہید کا ثواب ملے گا۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one who flees from the plague is like the one who flees from battle, and the one who remains patient during it will have the reward of a martyr"
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص (طاعون زدہ مقام میں تھا وہ یہ سمجھا کہ اگر میں یہاں رہوں گا تو
میں بھی طاعون میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاؤں گا اور یہاں سے بھاگ گیا تو بچ جاؤں گا اس خیال سے
وہ) طاعون زدہ مقام سے بھاگ کر دوسرے مقام میں چلا گیا تو وہ ایسا ہی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا،
جیسے جہاد میں کفار کے مقابلے سے بھاگنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور جو شخص (یہ سمجھے کہ اللہ
تعالیٰ کے ارادے کے بغیر کوئی نہیں مرتا اگر میں اس طاعون زدہ مقام میں رہا اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ نہ
ہو تو میں نہیں مر سکتا اس خیال سے) صبر کیا ہوا طاعون زدہ مقام میں رہے (وہ مرے یا نہ مرے ہر
حال میں) اس کو (اس صحیح اعتقاد کی وجہ سے) شہید کا ثواب ضرور ملے گا۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: I heard the Prophet (ﷺ) say: "Allah, the Exalted, says: 'If I afflict My servant with the loss of his two beloved ones (meaning his eyes), and he remains patient, I will compensate him with Paradise'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حدیث قدسی ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: جب میں کسی
بندہ مومن کی دو آنکھیں جو اس کے پاس نہایت پیاری اور محبوب ہیں چھین لے کر نابینا بنا دیتا ہوں تو
وہ اس پر صبر کر کے (نہ زبان سے خلاف ادب کچھ کہتا ہے نہ دل سے ناراض ہوتا ہے بلکہ) راضی
برضائے الٰہی رہتا ہے تو اس کو میں اس کے بدلے میں (ابتداءً نجات پانے والوں میں شریک کر کے
گناہوں کی سزا دئے بغیر پہلے پہل جنت میں داخل کروں گا) اور جنت میں نابیناؤں کے لئے جو
خاص مقام رکھا ہوں، اس مقام پر اس کو پہنچاؤں گا۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: "Move the Muslims…" in Sharh Ma'ani al-Athar: "Umar (may Allah be pleased with him) commanded the people to leave the plague, and the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) agreed with him. Abdur Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (ﷺ) something that supports this view." The author of al-Durr al-Mukhtar said in various issues: "If someone leaves a town afflicted by the plague, knowing that everything is by the decree of Allah, there is no harm in leaving or entering. However, if he believes that leaving will save him and entering will afflict him, it is disliked for him to do so. He should neither enter nor leave to protect his belief. This is the understanding of the prohibition in the noble Hadith." The author of al-Ashbah wa al-Naza'ir said: "In al-Bazzaziyyah: If the earth shakes and someone is in their home, it is recommended for them to flee to the open land, based on Allah's saying: 'And do not throw yourselves into destruction' (Qur'an 2:195). It is said: Fleeing from what one cannot bear is from the practices of the prophets." This indicates the permissibility of fleeing from the plague if it strikes a town.
Note 1
(۱) قوله: فانهض وفي شرح معاني الآثار»: فهذا عمر الله قد أمر الناس أن يخرجوا من الطاعون، ووافقه على ذلك أصحاب رسول الله ﷺ ، وروى عبد الرحمن بن عوف عن النبي الله ما يوافق ما ذهب إليه من ذلك انتهى. وقال صاحب الدر المختار» في مسائل شتى منه وإذا خرج من بلدة بها الطاعون، فإن علم أن كل شيء بقدر الله تعالى فلا بأس بأن يخرج ويدخل. وإن كان عنده أنه لو خرج نجا ولو دخل ابتلى به كره له ذلك، فلا يدخل ولا يخرج؛ صيانة لاعتقاده. وعليه حمل النهي في الحديث الشريف. مجمع الفتاوى انتهى. وقال في «الأشباه والنظائر»: وفي «البزازية»: إذا تزلزلت الأرض وهو وفي بيته يستحب له الفرار إلى الصحراء؛ لقوله تعالى: ﴿وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ) (البقرة: (۱۹۵) وفيه: قيل : الفرار مما لا يُطاق من سُنَن المرسلين انتهى. ويفيد جواز الفرار من الطاعون إذا نزل ببلدة، انتهى قول الأشباه والنظائر».
Note 1
لکھا کہ امیر المؤمنین جس ضرورت کے لئے مجھے بلا رہے ہیں میں اس کو معلوم کرلیا ہوں ضرور حاضر ہوتا لیکن میں اس وقت مسلمانوں کی فوج کا سپہ سالار ہوں مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ اپنی جان بچا کر چلے آؤں اور مسلمانوں کو موت کے منھ میں دیدوں (نہ وہاں آنے سے پہلے موت سے بچ سکتا نہ یہاں رہنے سے مرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ ہے وہ پورا ہوکر رہتا ہے اس لئے مجھے مسلمانوں کے ساتھ ہی رہنے دیجئے) اور مجھے آنے کے لئے آپ جو قسم دیئے ہیں (وہ واقع میں قسم تو ہے نہیں، صرف تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے) اس لئے مجھے اس کی پابندی سے معاف فرمائیے، جب یہ خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملا تو آپ (خط دیکھ) کر رونے لگے (آپ کو روتے ہوئے دیکھ کر) لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین آپ رو رہے ہیں کیا حضرت ابوعبیدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرمائے: نہیں، انتقال تو نہیں ہوا مگر ان کے طرز تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ انتقال ہونے والا ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جو نقل مکان کروا رہے تھے اس سے معلوم ہوا کہ اعتقاد صحیح کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کرنا جائز ہے باوجود اعتقاد صحیح کے اگر طاعون میں نقل مکان کرنا جائز نہ ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو ہرگز نہ بلاتے، اس کی تائید اس خط سے بھی ہوتی ہے جو اس خط سے پہلے حضرت ابوعبیدہ کو لکھا گیا تھا کہ فوج میں صحابہ کرام ہیں ان کا اعتقاد تو یہ نہیں ہوسکتا کہ نقل مکان کرنے سے طاعون میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے، سب صحابہ کرام کا یہ اعتقاد تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتا ہے نقل مکان کرنے کو اس میں کچھ دخل نہیں اس لئے) حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا جاتا ہے کہ اردن ایک پست نشیبی مقام ہے وہاں کی آب و ہوا اچھی نہیں ہے، اس لئے سب فوجوں کو وہاں سے ہٹا کر مقام جابیہ میں لے جاؤ کہ وہ بلند مقام ہے وہاں کی آب و ہوا بہت اچھی ہے، حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان دیکھ کر مجھ سے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ یہ فرمائے: حضرت امیر المؤمنین کے حکم کی تعمیل کر کے یہاں تمام فوجوں کو منتقل کر کے جابیہ لے جانے کا انتظام کر لو تو حضرت ابوموسیٰ کہنے لگے میں آپ کے حکم کی ضرور تعمیل کرتا مگر میرے گھر میں خود طاعون ہوگیا ہے میں خود پریشان ہوں، اتنا بڑا انتظام (اس وقت) مجھ سے نہیں ہوسکتا، یہ سن کر حضرت ابوعبیدہ خود انتظام کرنے کا ارادہ کئے اور سوار ہونے لگے اور لوگ بھی جابیہ کی طرف کوچ کرنے لگے، ایسے میں حضرت ابوعبیدہ کو طاعون ہوگیا، اور طاعون ہی سے ان کا انتقال ہوگیا، اور ادھر طاعون بھی ختم ہوگیا۔ (اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی پہلے شخص ہیں کہ صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون میں نقل مکان کو جائز قرار دیتے ہیں)۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Note 2
حکم کے خلاف نہیں تھا۔ اور شرح معانی الآثار میں لکھا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کے حکم سے موافقت رکھتی ہے اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا طاعون زدہ مقام سے ہٹ کر نقل مقام کرنے کا حکم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے بھی ثابت ہے اسی لئے صاحب درمختار نے مسائل شتیٰ میں مجمع الفتاویٰ کے حوالہ سے لکھا ہے، جب کسی شخص کا یہ اعتقاد ہو کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے ارادہ سے ہوتی ہے طاعون زدہ مقام سے نکلنے کو بچ جانے میں اور طاعون زدہ مقام میں جانے کو مر جانے میں کوئی دخل نہیں ہے، جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہیں نہ کوئی مر سکتا ہے اور نہ کوئی بچ سکتا ہے ایسا صحیح اعتقاد رکھنے والا طاعون زدہ مقام سے نکل کر نقل مقام کرے، یا طاعون زدہ مقام میں داخل ہو تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں، ایسے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہے، برخلاف اس کے اگر کسی شخص کا یہ خیال ہے کہ طاعون زدہ مقام میں جانے سے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا، یا وہ سمجھتا ہے کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے میں طاعون سے محفوظ رہے گا تو اس کا یہ اعتقاد غلط ہے اور جس کا ایسا اعتقاد ہے اس کو چاہئے کہ اپنا اعتقاد درست رکھنے کی خاطر نہ تو طاعون زدہ مقام سے نکلے اور نہ طاعون زدہ مقام میں جائے، اور جس حدیث شریف میں طاعون زدہ مقام سے نقل مقام کرنے کی ممانعت آئی ہے وہ ممانعت بھی مذکورہ اعتقاد رکھنے والوں سے ہی متعلق ہے اور جن کا یہ اعتقاد ہو کہ طاعون زدہ مقام سے نکل جانے کی وجہ سے بچ جائے گا تو ایسا غلط اعتقاد رکھنے والے شخص کو طاعون زدہ مقام سے نکلنا جائز نہیں ہے۔ (درمختار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) مذکورہ صحیح اعتقاد رکھنے والے کو طاعون زدہ مقام سے نقل مکان کرنا جائز ہونے کی تائید الاشباہ والنظائر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے اس کو الاشباہ والنظائر نے بزازیہ سے نقل کی ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر میں ہو اور اس وقت زلزلے کے آثار ظاہر ہو رہے ہوں تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے فوری کھلے میدان کی طرف بھاگ جائے، اللہ تعالیٰ کا بھی ایسا ہی ارشاد ہے: ”وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ“ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:24، آیت نمبر:195) یعنی تم اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو، جہاں تک ہو سکے اپنی جانوں کو ہلاکت سے بچایا کرو، اس آیت سے بھی ثابت ہوا کہ زلزلے کے وقت کھلے میدان کی طرف نکل جانا، اور طاعون زدہ مقام سے صحیح اعتقاد رکھ کر نقلِ مقام کرنا جائز ہے، ورنہ لازم آئے گا کہ زلزلہ سے بھاگ کر اور طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان نہ کر کے اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاکت میں ڈالا جو صریح آیت کے خلاف ہے، اس لئے صحیح اعتقاد کے ساتھ طاعون زدہ مقام سے نقلِ مکان کرنا جائز ہے، اور ہلاکت کے موقعوں سے اپنے کو بچانا پیغمبروں کی سنت ہے۔ (الاشباہ والنظائر کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)