Narrated by Ibn Umar, may Allah be pleased with him: The Prophet, peace be upon him, used to go to the prayer ground with a short spear (Anazah) carried in front of him. It would be planted in the prayer ground, and he would pray facing it.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے
وقت (نماز عید کے لئے) عیدگاہ تشریف لے جاتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے برچھی
لئے ہوئے چلتے اور برچھی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے عیدگاہ میں نصب کر دیتے تھے تو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم اس کی جانب ہو کر نماز ادا فرماتے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Hujayfah, may Allah be pleased with him: I saw the Messenger of Allah, peace be upon him, in Makkah at Al-Abtah in a red leather tent. I saw Bilal take the water left from the ablution of the Messenger of Allah, peace be upon him, and the people rushed to it. Whoever got some of it would rub it on themselves, and whoever did not get any would take the moisture from the hands of their companions. Then I saw Bilal take a short spear and plant it. The Messenger of Allah, peace be upon him, came out wearing a red cloak, with his clothes rolled up, and led the people in two units of prayer facing the spear. I saw the people and animals passing in front of the spear.
ابو جُحَیْفَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ معظم کی وادی بطح میں چمڑے کے سرخ ڈیرے میں دیکھا اور بلال رضی اللہ عنہ کو
دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا مستعمل پانی لئے ہوئے ہیں اور لوگوں کو دیکھا کہ اس
مستعمل پانی کو تبرکاً لینے کے لئے گرے جا رہے ہیں۔ بس جس کسی کو اس میں سے کچھ پانی مل گیا تو اس
کو وہ برکت کے لئے اپنے چہرہ پر مل رہا ہے اور جس کو نہیں ملا تو وہ اپنے ساتھ والے کے ہاتھ کی تری کو
لے رہا ہے پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے برچھی لی اور اس کو زمین میں سترہ بنانے
کے لئے نصب کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دامن اٹھائے ہوئے سرخ دھاریدار جوڑا زیب تن
فرمائے ہوئے ڈیرے سے نکلے اور برچھی کی جانب ہو کر ہم سب کو دو رکعت نماز (قصر) پڑھائی (اس
لئے کہ آپ سفر کی حالت میں تھے) اور میں نے لوگوں کو اور جانوروں کو دیکھا کہ برچھی کے پرے
سے گزر رہے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Narrated by Al-Fadl ibn Abbas, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, came to us while we were in a desert area, and Abbas was with him. He prayed in an open space without a Sutrah in front of him, and our donkey and a dog were playing in front of him, but he did not pay attention to it.
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم (عرب کے
دستور کے مطابق تفریح کی غرض سے) اپنے جنگل میں ٹھیرے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عباس رضی اللہ عنہ بھی
تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگل میں ایسی حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا
اور ہمارے کتے اور گدھے آپ کے سامنے کودتے پھر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کچھ
خیال نہ فرمایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور نسائی نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 718 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ نمازی کے لئے بوقت نماز سترہ قائم کرنا واجب نہیں ہے
اگر عوام کی گزرگاہ ہو تو سترہ کا قائم کرنا مستحب ہے اور عوام کی گزرگاہ نہ ہونے کی صورت میں بھی سترہ
کا قائم کرنا اولیٰ ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ، اشعۃ اللمعات۔)
Narrated by Nafi', from Ibn Umar, may Allah be pleased with him: The Prophet, peace be upon him, would place his riding animal in front of him and pray facing it. [Agreed upon by Al-Bukhari and Muslim]
Al-Bukhari added: I asked, "What if the riding animals became restless?" He replied, "He would take this saddle and adjust it, then pray facing its rear."
نافع رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم اپنی سواری کے اونٹ کو اپنے اور اپنے قبلہ کے درمیان عرضاً (آڑا) بٹھاتے تھے اور (اس کو
سترہ بنا کر) اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) اور بخاری نے یہ عبارت زیادہ کی ہے،
نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا کہ اگر اونٹ (چرنے یا پانی پینے) چلے جاتے تو بتلائیے
کہ حضور کیا کرتے تھے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کجاوے کو لیتے اور اس کو سامنے رکھ کر کجاوے کے
آخری حصہ کی پچھلی لکڑی کو (سترہ بناتے) اور اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرماتے تھے۔
Narrated by Talha ibn Ubaidullah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "When one of you places something like the back of a saddle in front of him, let him pray and not worry about whoever passes behind it." [Narrated by Muslim]
In a narration by Abu Dawud: "It suffices for him if they pass in front of him at a distance of a stone's throw." 1
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی کے برابر
کسی چیز کو (سترہ بنا کر) کھڑا کرلے تو اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھے اور جو بھی اس کے پرے
سے گزرے تو اس کی کوئی پروا نہ کرے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے
سامنے (اس کی سجدہ کی جگہ سے) تین ہاتھ پرے سے گزریں تو یہ سترہ کا قائم مقام ہوگا۔ (یہ حکم مسجد
اور صحراء دونوں کو شامل ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
At a distance of a stone's throw
(1) The statement: "At a distance of a stone's throw" – In An-Nihayah: The correct view is that if one prays with full humility, keeping their gaze fixed on the place of prostration during the standing position and not looking at those passing by, it is not disliked. This is the preferred opinion of Fakhr al-Islam. Ibn al-Humam favored what is mentioned in An-Nihayah without distinguishing between the mosque and an open space, as stated in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: على قذفة بحجر وفي النهاية»: الأصح أنه لوصلى صلاة الخاشعين بأن يكون بصره حال قيامه إلى موضع سجوده لا يقع بصره على المار: لا يكره، وهو مختار فخر الإسلام. ورجح ابن الهمام ما ذكره في النهاية» من غير تفصيل بين المسجد والصحراء، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابوداؤد کی اس حدیث میں ”قذف حجر“ کے الفاظ ہیں اور علماء نے قذف
حجر سے مراد ”رمی جمار“ لیا ہے۔
حج کے موقع پر منٰی میں جو کنکریاں ماری جاتی ہیں اس کو ”رمی جمار“ کہا جاتا ہے، اور یہ
کنکریاں تین ہاتھ کے فاصلے سے ماری جاتی ہیں اس لئے حدیث کے الفاظ ”قذف حجر“ کا ترجمہ
تین ہاتھ پر سے گزرنا کیا گیا ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)
Narrated by Abu Juhaifah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "If the one who passes in front of a praying person knew what sin he incurs, it would be better for him to stand still for forty (units of time) than to pass in front of him." Abu an-Nadr said, "I do not know whether he said forty days, months, or years."
ابوجُہَیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کو (سترہ نہ ہونے کی صورت
میں نمازی کے سامنے سے گزرنے میں) کس قدر گناہ ہوتا ہے تو وہ (بجائے سامنے سے گزرنے کے
چالیس دن یا ماہ یا سال تک (راوی کو تعیین مدت میں شک ہے) رکا ہوا کھڑے رہنا پسند کرتا۔) (اس
کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "If one of you knew what sin he incurs by passing in front of his brother while he is praying, standing still for a hundred years would be better for him than taking that step."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے سے جب کہ وہ نمازی کی
حالت میں ہو عرضاً (آڑا) گزرنے میں اس کو کتنا گناہ ہوتا ہے تو اس کو سو سال تک کھڑا رہنا (نمازی
کے سامنے) چلنے سے بہتر معلوم ہوتا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Narrated by Ka'b al-Ahbar: "If the one who passes in front of a praying person knew what sin he incurs, it would be better for him to be swallowed by the earth than to pass in front of him." In another narration: "It would be easier for him."
کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نمازی کے سامنے
سے گزرنے والے کو معلوم ہوتا کہ اس پر نمازی کے سامنے سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو گزرنے
والے کو اپنا زمین میں دھنسا دیا جانا اس گزرنے سے بہتر معلوم ہوتا۔
اور ایک روایت میں ہے کہ اس پر (اس گزرنے سے زمین میں دھنس جانا
آسان ہوتا۔ (امام مالک۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: شرح منیہ میں مذکور ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے گزرنے والا نمازی کے سجدہ کی جگہ
یا نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا ”سُبْحَانَ
اللّٰه“ کہہ کر روکے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ روکے کیونکہ یہ بھی عمل کثیر ہے اور قاضی عیاض
نے نقل کیا ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گزرنے والے کو روکنے کے لئے نمازی عمل کثیر کا مرتکب نہ ہو۔
(یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
Narrated by Abu Sa'id, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "Nothing invalidates the prayer. Repel (distractions) as much as you can, 1 for it is only Satan." [Narrated by Abu Dawud, and a similar narration is
ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ (نماز کے سامنے سے گزرنے والی) کوئی چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی جہاں تک تم سے
ہوسکے گزرنے والے کو روکو کیونکہ وہ شیطان ہے (کہ تمہارے سامنے سے گزر کر تمہارے خشوع میں
خلل ڈالتا ہے۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور طبرانی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 719 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Repel as much as you can
(1) The statement: "Repel as much as you can" – In Sharh al-Munyah: "One should repel the passerby if they intend to pass in front of the place of prostration or between the worshipper and the Sutrah by gesturing or saying 'Subhanallah,' but not both together." Al-Qadi 'Iyad has conveyed the consensus that it is not permissible to engage in excessive actions to repel them, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: وادرؤوا ما استطعتم وفي شرح المنية ويدرأ المار إذا أراد أن يمر في موضع سجوده أو بينه وبين السترة بالإشارة أو التسبيح، لا بهما معا. وقد نقل القاضي عياض الاتفاق على أنه لا يحل له العمل الكثير في مدافعته، قاله في المرقاة».
Note 1
ف: شرح منیہ میں مذکور ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے گزرنے والا نمازی کے سجدہ کی جگہ
یا نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا سبحان اللہ کہہ
کر روکے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ روکے کیونکہ یہ بھی عمل کثیر ہے، اور قاضی عیاض نے نقل کیا
ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گزرنے والے کو روکنے کے لئے نمازی عمل کثیر کا مرتکب نہ ہو۔
(یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
Narrated by Sa'id ibn al-Musayyab: Ali and Uthman, may Allah be pleased with them, said, "Nothing invalidates a Muslim's prayer. Repel (distractions) from it as much as you can." 2
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی اور حضرت عثمان
رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ (نمازی کے سامنے گزرنے والی کوئی چیز مسلمان کی نماز کو فاسد نہیں کرتی اور
جہاں تک تم سے ہوسکے (گزرنے والے کو) روکو۔ (اس کی روایت طحاوی اور بیہقی نے کی ہے۔)
(2) The statement: "Repel from it as much as you can" – Muhammad (Imam Malik) said in Al-Muwatta: "It is disliked for a person to pass in front of a praying person. If someone intends to pass in front of them, they should repel them as much as possible without fighting. If they fight, the disturbance caused by fighting during the prayer is worse than the passerby crossing in front of them. We do not know of anyone who reported fighting except what was narrated from Abu Sa'id al-Khudri, and this is not the general practice. Rather, it is as I have described to you." End quote.
Note 2
قوله
(۲) قوله: وادرؤوا عنها ما استطعتم: قال محمد في الموطأ» يكره أن يمر الرجل بين يدي المصلي، فإن أراد أن يمر بين يديه فليدراً ما استطاع، ولا يقاتله. فإن قاتله كان ما يدخل عليه في صلاته من قتاله إياه أشد عليه من تمر هذا بين يديه، ولا نعلم أحدا روى قتاله إلا ما روي عن أبي سعيد الخدري، وليست العامة عليها، ولكنها على ما وصفت لك. انتهى
Note 1
ف: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے موطاء میں کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے
لئے مکروہ تحریمی ہے، اگر کوئی نمازی کے سامنے سے گزرنا چاہے تو نمازی جہاں تک ہوسکے اس کو روکے
لیکن اس آدمی سے نہ لڑے۔
اگر نمازی گزرنے والے سے لڑ پڑے تو نمازی کا لڑنا گناہ میں گزرنے والے کے گناہ سے
زیادہ سخت ہوگا اس لئے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا گزرنے والے کے لئے مکروہ ہے فاسد
نماز نہیں، اس کے برخلاف نمازی کا اس آدمی سے لڑنا عمل کثیر ہونے کی وجہ سے خود اس کی نماز کے لئے
مفسد ہوگا، اب رہا یہ کہ حدیث شریف میں نمازی کے سامنے سے گزرنے والے نمازی کو ”فَلْيُقَاتِلْهُ
“ فرما کر (لڑنے) کا جو حکم ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ روکنے میں مبالغہ کیا جائے نہ کہ ایسی حقیقی لڑائی
اختیار کی جائے کہ جس سے اس کی نماز فاسد ہو جائے۔ عامۃ العلماء کا یہی قول ہے۔ (التعلیق الممجد.)
Narrated by Ali, may Allah be pleased with him: "A dog, a donkey, a woman, or any other animal does not invalidate a Muslim's prayer. Repel (distractions) as much as you can." [Narrated by At-Tahawi]
Our scholars said: The hadith about prayer being invalidated by the passing of a woman or others is abrogated by these hadiths and the upcoming narrations. Ibn al-Malik mentioned this, as clarified in Al-Hilyah. Imam As-Sarakhsi said: "The command to fight in the hadith, 'Let him fight, for it is Satan,' is abrogated. It is also interpreted as referring to the early period when actions during prayer were permissible."
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی نماز کو
(اس کے سامنے سے گزرنے والی) کوئی چیز خواہ وہ کتا ہو یا گدھا ہو یا عورت ہو، فاسد نہیں کرتی اور
ان کے سوا دوسرے جانور بھی نمازی کے سامنے سے گزر جائیں تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور جہاں تک تم
سے ہوسکے (سامنے سے گزرنے والے کو عمل قلیل سے) روکو۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ یہ مذکورہ بالا حدیثیں اور آئندہ آنے والی حدیثیں اس حدیث کی
ناسخ ہیں جس میں یہ مذکور ہے کہ نمازی کے سامنے سے عورت، کتا یا گدھا وغیرہ گزر جائیں تو نماز فاسد
ہوجاتی ہے۔ اس کو ابن الملک نے ذکر کیا ہے، اور حلیہ کی تحقیق بھی یہی ہے کہ ان ہی مذکورہ حدیثوں
سے وہ تمام حدیثیں منسوخ ہیں جن میں عورت، کتا، گدھا وغیرہ گزرنے سے نماز فاسد ہونے کا ذکر ہے۔
اور امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ وہ حدیث بھی منسوخ ہے جس میں ”فَلْيُقَاتِلْهُ“ فرما کر
نمازی کو اس کے سامنے سے گزرنے والے سے لڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ نیز امام موصوف نے یہ بھی کہا
ہے کہ ”فَلْيُقَاتِلْهُ“ والی حدیث میں نمازی کے سامنے سے گزرنے والے سے لڑنے کا جو حکم مذکور ہے
وہ اسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ حالت نماز میں عمل کثیر کی ممانعت نہ تھی۔12
Narrated by Aisha, may Allah be pleased with her: "The Prophet, peace be upon him, used to pray at night while I was lying in front of him, between him and the Qiblah, like a corpse."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم رات کو نماز پڑھا کرتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح عرض میں سوتی
تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Narrated by Aisha, may Allah be pleased with her: "I used to sleep in front of the Messenger of Allah, peace be upon him, with my legs in the direction of the Qiblah. When he prostrated, he would nudge me, and I would draw my legs back. When he stood up, I would stretch them out again. The houses at that time had no lamps."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی ہوتی اور میرے دونوں پاؤں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے
درمیان ہوتے (آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو (میرے پیر کو اپنے ہاتھ سے دبا کر اشارہ
فرماتے تو میں اپنے دونوں پاؤں کھینچ لیتی اور جب آپ کھڑے ہوتے تو پھر میں پاؤں دراز
کر لیتی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس زمانہ میں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Narrated by Ibn Abbas, may Allah be pleased with him: "I came riding a donkey, and I had just reached the age of puberty. The Messenger of Allah, peace be upon him, was leading the people in prayer at Mina without a wall in front of him. I passed in front of part of the row, dismounted, let the donkey graze, and joined the row. No one objected to this." 1
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بالغ ہونے کے
قریب تھا اس زمانہ کا ذکر ہے کہ ایک روز میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم بغیر دیوار اور سترہ کے منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے پس میں صف کے کچھ حصہ کے سامنے سے گزر
کر سواری سے اتر گیا اور گدھی کو (گھاس) چرنے چھوڑ کر نماز میں شریک ہو گیا اور کسی شخص نے بھی
میرے اس فعل کو برا نہ سمجھا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 76 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 493 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 504a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
No one objected to this
(1) The statement: "No one objected to this" – Ibn al-Malik said: "The purpose is to show that the passing of a donkey in front of someone praying does not invalidate the prayer," as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فلم ينكر ذلك علي أحد قال ابن الملك والغرض منه أن مرور الحمار بين يديه لا يقطع الصلاة، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث کے پیش نظر ابن الملک نے کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گدھا گزرنے
سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہے،
مقتدی کو علیحدہ سترہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسی وجہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے
صف کے سامنے گزرنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ (مرقات۔)
Narrated by Umm Salamah, may Allah be pleased with her: "The Prophet, peace be upon him, was praying in Umm Salamah's room when Abdullah or Umar ibn Abi Salamah passed in front of him. He gestured with his hand, and the child turned back. Then Zaynab bint Umm Salamah passed, and he gestured similarly, but she continued. After finishing the prayer, the Messenger of Allah, peace be upon him, said, 'Women are more determined.'"
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
میرے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ ؓ
گزرے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ (گزرنے سے روکا) تو وہ رک گئے پھر
زینب بنت ام سلمہ گزر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ فرمایا کہ (ان کو بھی
روکا)، لیکن وہ نہ رکیں، اور آپ کے سامنے سے چلی گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ
ہوئے تو فرمایا کہ عورتیں (مردوں پر) غالب ہو کر رہتی ہیں۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Narrated by Abu Hurairah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "When one of you prays, let him place something in front of him. If he cannot find anything, let him set up a stick. If he does not have a stick, let him draw a line. Then, whatever passes in front of him will not harm him." [Narrated by Abu Dawud and Ibn Majah]
Ibn Abidin said in Radd al-Muhtar: "Either placing something or drawing a line is sufficient—meaning the Sunnah is achieved through it. Placing something is recommended, as Al-Quduri narrated from Abu Yusuf. It is also said that it should be placed lengthwise, not widthwise, to resemble planting. Drawing a line is also recommended, as per the second narration from Muhammad, based on the hadith of Abu Dawud: 'If he does not have a stick, let him draw a line.' Although this hadith is weak, it is permissible to act upon it in matters of virtue. This is why Ibn al-Humam said: 'The Sunnah is more worthy of being followed, as it generally serves the purpose of focusing the mind by tying the imagination to it, so it does not wander.' This is mentioned in Al-Bahr and Sharh al-Munyah."
It is said in Al-Hilyah: "The weakening of this hadith may be countered by the fact that Ahmad, Ibn Hibban, and others authenticated it."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنا چاہے تو وہ (دیوار، درخت یا کھمب جیسی کسی چیز
کے آڑ میں) نماز پڑھے اور اگر کوئی ایسی چیز (آڑ کے لئے) نہ ملے تو اپنے ہاتھ کی لکڑی نصب کرے
اور اگر لکڑی بھی اس کے پاس نہ ہو تو پھر ایک لکیر ہی کھینچ لے (یہ سب سترہ کا کام دیتے ہیں) اس کے
بعد اس کے سامنے سے گزرنے والا (اس کی نماز میں) خلل نہ ڈالے گا اور گزرنے والے کو بھی گناہ
نہ ہوگا۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 689 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 943 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابن عابدین رحمہ اللہ علیہ نے ردالمحتار میں کہا ہے کہ سترہ کے لئے لکڑی یا سترہ کے قائم
مقام کسی چیز کے نہ ہونے کی صورت میں نمازی اپنے سامنے سترہ کے مقدار کی کوئی چیز زمین پر رکھ لے
اور یہ بھی نہ ہو تو زمین پر خط کھینچ لے تو یہ سترے کے قائم مقام ہیں اور اس سے سنت پر عمل ہو جاتا
ہے، چنانچہ قدوری نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ زمین پر کسی چیز کو سترے کے لئے
رکھنا سنت ہے واضح ہو کہ جس چیز کو بطور سترہ زمین پر رکھا جائے اس کو طول میں رکھے عرض میں آڑا نہ
رکھے تا کہ اس کا طول میں رکھنا نصب کرنے کے اس طرح قائم مقام ہو جائے جس طرح کھڑے
ہوئے سترہ کا سایہ طول میں گرتا ہے اگر سترہ کھڑا کرنے کے لئے لکڑی یا کوئی اور چیز نہ ہو کہ جس کو سترہ
کی بجائے رکھا جا سکے تو ابو داؤد کی مذکور الصدر حدیث کی وجہ سے امام محمد رحمة اللہ علیہ سے دوسری روایت
یہ آئی ہے کہ نمازی کا اپنے سامنے طول میں خط کھینچ لینا بھی مسنون ہے۔ (مرقات، عمدة الرعایہ۔)
Narrated by Sahl ibn Abi Hathmah, may Allah be pleased with him: The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "When one of you prays facing a Sutrah (screen), let him stand close to it, so that Satan does not interrupt his prayer."
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (کسی چیز کو سترہ بنا کر) نماز پڑھتا ہے تو اس
کو چاہئے کہ وہ سترہ سے اتنا قریب ہو کہ (سترے کے نزدیک سجدہ کر سکے) تا کہ شیطان (سترہ سے دور
رہنے کی صورت میں کسی کے گزرنے کے وسوسہ کی وجہ سے خشوع میں خلل ڈال کر) اس کی نماز خراب
نہ کر سکے۔ (اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔)
Narrated by Al-Miqdad ibn al-Aswad, may Allah be pleased with him: "I never saw the Messenger of Allah, peace be upon him, pray facing a stick, pillar, or tree without placing it to his right or left side. He did not face it directly."
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ جب کبھی کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے تو اس
کو اپنے دائیں یا بائیں ابرو کے مقابل رکھ کر پڑھتے اور اس کو اپنی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ کے
مقابل نہیں رکھتے تھے (تا کہ بت پرستی سے مشابہت نہ ہو)۔
(اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ نمازی کے لئے بوقت نماز سترہ قائم کرنا واجب نہیں ہے اگر عوام کی گزرگاہ ہو تو سترہ کا قائم کرنا مستحب ہے اور عوام کی گزرگاہ نہ ہونے کی صورت میں بھی سترہ کا قائم کرنا اولیٰ ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ، اشعۃ اللمعات۔)