Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 41

(یہ باب جمعہ کے فضائل کے بیان میں ہے)

Section: (2)

14 narrations · In source reading order

Hadith 1778

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
3/2053-2055۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم (دنیا میں) سب سے پیچھے آئے اور قیامت کے دن سب سے پہلے (اس طرح ہوں گے) کہ قبروں سے سب سے پہلے اٹھائے جائیں گے اور سب سے پہلے پل صراط پر سے گزر جائیں گے اور سب امتوں سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا۔ انتظار کی تکلیف نہیں اٹھانا پڑے گا اور پھر جنت میں داخل ہونے میں سب امتوں سے پہلے، ہم داخل جنت ہوں گے) ہاں یہ سچ ہے کہ اہل کتاب کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد کتاب عطا ہوئی۔ (کتاب کے پہلے دینے میں کوئی شرف کی بات نہیں ہے) نفس کتاب کے دینے میں ہم اور وہ مشترک ہیں، مگر قابل غور بات یہ ہے کہ ہماری کتاب ان کے کتابوں کی ناسخ ہے اور ان کے زمانے میں ان سے جو جو فضیحتیں ہوئی ہیں، ان کو ہماری کتاب ظاہر کرنے والی ہے اور ان پر جو جو عذاب آیا ان کو ظاہر کی ہے اس لحاظ سے، ہم کو ان سے عبرت لینے کا موقع حاصل ہے اور ان کی سزاؤں سے نصیحت لینے کا بھی موقع ملتا ہے، ان کے حالات سنا کر ہم کو ادب دیا گیا ہے، اس لحاظ سے بھی، ہمارا آخر میں آنا باعث شرف ہے بجملہ اہل کتاب کی کوتاہیوں کے ایک یہ بھی ہے کہ عبادت کرنے کے لئے کوئی خاص دن مقرر کرنا تھا) ان کو جمعہ کا دن مقرر کر کے دیا گیا (مگر اس جمعہ کے دن کی ان کو کچھ قدر نہ ہوئی) وہ جمعہ کے لینے میں اختلاف کر کے جمعہ کو قبول نہیں کئے (اپنی ٹھہرائی ہوئی مصلحتوں سے یہود نے شنبہ کو عبادت کے لئے اختیار کیا اور نصاریٰ نے اتوار کو۔) خدا کا شکر ہے کہ اللہ نے، ہم کو جمعہ کے دن کے اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی، ہم جمعہ کو اختیار کئے اور اس دن کے لحاظ سے اہل کتاب ہم سے پیچھے ہوگئے۔ یہود (شنبہ کے دن کو اختیار کر کے) ایک دن پیچھے ہوگئے اور نصاریٰ (اتوار کو اختیار کر کے) دو دن پیچھے ہوگئے (یہ جمعہ کی نعمت ہم کو اور دوسرے دینی نعمتوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارک سے حاصل ہوئی)۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Almighty says: “By the promised Day and by the witness and what is witnessed.” (Qur’an 85:2-3)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 876 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 855a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1354 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 1354

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1779

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2056
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمام دنوں سے بہتر جمعہ کا دن ہے (جس دن جو واقعات ظاہر ہوتے ہیں، ان واقعات سے اس دن کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن بھی جو واقعات پیش آئے ہیں، ایسے واقعات کسی اور دن ظاہر نہیں ہوئے، ایک واقعہ تو یہ ہوا کہ اشرف المخلوقات) حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیدائش کی تکمیل جمعہ کے دن ہوئی (جمعہ کے دن ہی آپ کے جسم مبارک میں روح ڈالی گئی) پھر آپ کو جمعہ کے دن ہی جنت میں داخل کیا گیا۔ پھر آپ کو جمعہ کے دن ہی جنت سے باہر لایا گیا (حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کے باہر لانے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس میں حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اہانت ہے بلکہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جنت سے نکالنے میں بڑی مصلحت یہ تھی کہ آدم علیہ السلام کو زمین کا خلیفۃ اللہ بنایا گیا تھا اس کا ظہور زمین پر لانے سے ہی ہوا، کتابوں کا نازل کرنا، اور پیغمبروں کا بھیجنا یہ بھی حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے جنت سے نکلنے سے ہی ہوا۔ یہ اور اس طرح کے اور حالات جنت سے نکلنے کی وجہ سے ہوئے، اس لئے جنت سے نکلنا بھی ایک عظیم الشان کام تھا جو جمعہ کے دن ہوا۔ اس سے بھی جمعہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے) اور قیامت (یعنی نفخ ثانی جس سے تمام مخلوق زندہ ہو کر میدان حشر میں آئے گی) جمعہ کے دن ہی ہوگی (اس سے اہل جنت کو بڑے بڑے مراتب جنت میں ملیں گے، اس کے بعد اسی کی وجہ سے جنت کی نعمتیں بھی ان کو حاصل ہوں گی، یہ معظم کام بھی جمعہ کے دن ہی ہوں گے، اس سے بھی جمعہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 854b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1780

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2057
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے کہ آپ (ایک دن یہ آیت پڑھتے نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا“ (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) (مسلمانو!) آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام پورا کر دیا۔ اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لئے پسند کرلیا)۔ جب حضرت ابن عباس یہ آیت پڑھتے تو اس وقت آپ کے پاس ایک یہودی (بیٹھا ہوا) تھا اس نے کہا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو آپ دیکھتے کہ ہم اس دن کو عید مناتے (مسلمانوں پر افسوس ہے کہ اس آیت کے اترنے کی کچھ قدر نہیں کئے، یہودی سے یہ سن کر) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمائے: ہم تو ایک عید مناتے ہم تو اس آیت کی خوشی میں دو عید مناتے ہیں (سالانہ بھی اور ہفتہ واری بھی) تم کو معلوم ہے کہ یہ آیت کب اتری ہے؟ یہ آیت عرفات میں عصر کے وقت جمعہ کے روز ذی الحجہ کی نویں تاریخ یعنی عرفہ کے روز نازل ہوئی ہے (عرفہ کے دن عرفات میں سالانہ عید ہوتی ہے جس میں تمام دنیا کے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور جمعہ کے دن ہفتہ واری عید ہوتی ہے، جس میں شہر کے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اس طرح اس آیت کے اترنے کے دن ہم دو خوشیاں منایا کرتے ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3044 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1781

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2058
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب رجب کا مہینہ آتا تھا تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ“ اے اللہ! رجب آ گیا ہے، رجب اور شعبان میں ہمارے نیک اعمال میں برکت عطا فرمائیے (کہ بہت نیکیاں کر کے دل کو رمضان کے قابل بنا لیں) پھر ہم کو رمضان تک پہنچائیے (کہ ہم رمضان میں روزے رکھ کر اور تراویح پڑھ کر دل کو خوب جلا دیں اور روشن کر لیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق بن جائیں، راوی کہتے ہیں کہ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ (اللہ تعالیٰ کے انوار جمعہ میں اس قدر برستے ہیں کہ) جمعہ کی رات نورانی رات ہو جاتی ہے اور اس کا دن روشن دن ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔)

[Narrated by Al-Bayhaqi in Al-Da’awat al-Kabir]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1369 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 1369

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1782

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2059
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سورہ بروج کی تفسیر میں) ارشاد فرمایا کہ اَلْيَوْمُ الْمَوْعُوْدُ (وہ دن جس کا وعدہ ہے) سے مراد قیامت کا دن ہے اور اَلْيَوْمُ الْمَشْهُوْدُ (وہ دن جس دن میں لوگ تمام دنیا سے عرفات میں حاضر ہوتے ہیں) سے مراد عرفہ کا دن ہے اور شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے (کہ لوگ تو اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں اور جمعہ ان پر حاضر ہوتا ہے) اور سب دنوں سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو بندہ مومن اللہ تعالیٰ سے اس وقت دعا خیر کرتا ہے تو اس کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے ہیں اور جس شر سے بچانے کی دعا کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس شر سے بچائے رکھتے ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3339 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1783

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2060Noor 2061
ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا دن سب دنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے پاس سب دنوں سے زیادہ جمعہ کی عظمت ہے اور عید الفطر اور عید الاضحی سے بھی زیادہ اللہ کے نزدیک اس کی عظمت ہے، جمعہ میں پانچ عظیم الشان کام (کچھ ہوئے) ہیں (اور کچھ ہونے والے ہیں) اس لئے جمعہ کی سب دنوں سے زیادہ عظمت ہے (اشرف المخلوقات) حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کی تکمیل جمعہ کے دن ہوئی (جمعہ کے دن ہی آپ کے جسم مبارک میں روح ڈالی گئی) آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن ہی زمین کی طرف اتارا گیا (جس سے آدم علیہ السلام کی خلیفۃ اللہ ہونے کی تکمیل ہوئی، پیغمبر آئے، کتابیں اتاری گئیں، یہ سب جنت سے اترنے سے ہی ہوا۔ اس سے بھی جمعہ کی عظمت ثابت ہوتی ہے) اور جمعہ کے دن ہی حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا (جس سے حضرت آدم علیہ اسلام پریشانیوں کے گھر سے نکل کر امن و عافیت کے گھر میں پہنچے، اس سے بھی جمعہ کی عظمت ثابت ہوتی ہے) اور جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جو بندہ مومن اللہ تعالیٰ سے اس وقت دعاء خیر کرتا ہے تو اس کی دعا اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتے ہیں، ہاں اس گھڑی میں اگر بندہ کوئی حرام اور ناجائز کام کی دعا کرے تو وہ دعا قبول نہیں ہوگی۔ (اس میں بندے کا ہی فائدہ ہے۔ وہ اپنی بے سمجھی سے ناجائز امور کا سوال کر رہا تھا اس لئے اس کی دعا قبول نہیں کئے۔ اور اس کو اسی دعا کے شر سے بچا دئے۔ قیامت (کے نفخ ثانی کی طرح نفخ اول بھی) جمعہ کے دن ہوگا۔ اسی وجہ سے جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو (انسان کے سوا) مقرب فرشتے، آسمان و زمین، ہوائیں، پہاڑ، دریا سب ڈرے اور سہمے ہوئے رہتے ہیں (کہ شاید اسی جمعہ کو قیامت قائم ہوجائے، اور ہم تباہ ہوجائیں نفخ اول کا یہ عظیم الشان کام بھی جمعہ کے دن ہوگا)۔ (اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔) اور امام احمد کی روایت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مذکور ہے) کہ ایک انصاری صحابی حضرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کئے کہ حضور جمعہ میں کیا کیا خیر و برکات ہیں ان کو بیان فرمائیے، آپ ان انصاری کو وہی پانچ بتلائے جن کا صدر میں ذکر ہوا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1084 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1363 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 1363

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1784

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2062Noor 2063
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو وہ مل جائے اور وہ اس میں اللہ تعالیٰ سے کوئی بھلائی کی دعاء کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعاء قبول کر کے وہ بھلائی اس کو عطا فرماتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے اور مسلم میں اتنا اور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبولیت کی وہ ساعت بہت تھوڑی ہے۔ اور بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ضرور ایک ساعت ایسی ہے اگر ٹھیک اس ساعت میں کوئی مسلمان دعاء میں مشغول ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی وہ دعاء (اس ساعت کی برکت سے) ضرور قبول فرماتے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 935 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 852a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1785

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2064
ابو بردہ بن ابی موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعاء قبول ہوتی ہے امام کے (پہلے خطبہ کے لئے) منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر فرض جمعہ کے ختم ہونے کے درمیان میں کسی وقت آ جاتی ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 853 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعاء مقبول ہوتی ہے وہ امام کے خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھنے کے وقت سے لے کر فرض جمعہ کے ختم تک رہتی ہے حالانکہ خطیب کے خطبہ بیان کرنے کے وقت انصات یعنی چپ رہنے کا حکم ہے اور نماز میں تو بات کر ہی نہیں سکتے پھر دعا کا کیا موقع ملے گا۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے علامہ بلقینی رحمہ اللہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ دعاء کے لئے زبان سے تلفظ شرط نہیں ہے، صرف دل میں دعاء کا خیال رکھنا کافی ہے۔ ایسا خیال رکھنے سے بھی قبول ہو جاتی ہے (مرقات)۔

Hadith 1786

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2065
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے طور جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں کعب احبار سے ملاقات ہوئی، میں ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا (چونکہ) وہ اس زمانہ میں یہودی تھے) اپنی توراۃ کے کچھ مضامین سنانے لگے، میں بھی ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احادیث سنا رہا تھا منجملہ ان احادیث کے جو میں ان کو سنا رہا تھا، ایک حدیث یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، یوں تو ہر دن آفتاب نکلتا ہے اور جمعہ کے دن بھی آفتاب نکلتا ہے، مگر جمعہ کے دن آفتاب نکلنے سے جمعہ کا جو ظہور ہوتا ہے اس دن جو خیر و برکات ظاہر ہوتے ہیں، ایسے کسی دن میں ظاہر نہیں ہوتے، اس لئے جمعہ کا دن سب دنوں میں افضل ہے۔ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی دن پیدا کئے گئے اور اسی دن (جنت) سے زمین پر اتارے گئے اور اسی دن ان کا قصور معاف ہوا۔ اور اسی دن انہوں نے وفات پائی۔ اسی دن قیامت قائم ہوگی (اور پہلی بار صور پھونکا جائے گا۔ جس سے سارا عالم فنا ہو جائے گا) جن و انس کے سوا ہر جاندار کو اس کی خبر ہے کہ جب کبھی قیامت آئے گی تو جمعہ کے دن صبح صادق سے طلوع آفتاب کے درمیان ہی آئے گی) اس لئے جن و انس کے سوا کوئی جانور ایسا نہیں جو جمعہ کے دن صبح صادق سے طلوع آفتاب تک قیامت قائم ہونے کے خوف سے صور پھونکے جانے کی آواز کی طرف کان نہ لگائے رکھتا ہو، جمعہ کے دن میں ایک ساعت ایسی ہے کہ کوئی مسلمان نماز پڑھ رہا ہو اور اتفاق سے وہ ساعت نماز میں آ گئی (اور اس کے دل میں دعا کا مضمون حاضر تھا) تو اللہ تعالیٰ اس گھڑی کی برکت سے اس کی دعا قبول فرما کر جو بھلائی وہ مانگ رہا تھا، اس کو عطا فرماتے ہیں (یہ سن کر) کعب احبار نے فرمایا کہ (ہمارے پاس بھی اس کا داخلہ ہے) یہ ساعت جس میں دعا قبول ہوتی ہے، سال میں ایک مرتبہ آتی ہے، میں نے ان سے کہا نہیں، یہ مقبول ساعت تو ہر جمعہ میں آتی ہے (یہ سن کر) کعب نے تورات کی تلاوت کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ فرمایا (مجھے خیال نہیں رہا تھا) تورات میں بھی ویسا ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعہ کو وہ مقبول ساعت آتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات عبداللہ بن سلّام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میری اور کعب احبار کی جمعہ کی مقبول ساعت کے متعلق جو گفتگو ہوئی تھی اس کو میں عبداللہ بن سلّام کے سامنے دہرایا کہ کعب کہہ رہے تھے کہ یہ مقبول ساعت ہر سال ایک دن میں آتی ہے (یہ سن کر عبداللہ بن سلّام کہے: کعب کو یاد نہ رہا ہوگا، وہ غلط کہے، پھر میں عبداللہ بن سلّام سے کہا کہ کعب توراۃ پڑھنے لگے ان کو اپنی غلطی کا علم ہوگیا اس لئے پھر کعب نے کہا: سچ ہے وہ مقبول ساعت ہر جمعہ میں آتی ہے عبداللہ بن سلّام یہ سن کر کہے: اب کعب نے سچ کہا، پھر عبداللہ بن سلّام نے کہا کہ میں اس ساعت کو جانتا ہوں کہ وہ جمعہ کے دن کس وقت آتی ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن سلّام سے کہا کہ مجھے وہ ساعت بتادیجئے اور مجھ سے اس ساعت کو نہ چھپائیے تو عبداللہ بن سلّام نے فرمایا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت کیسے ہوسکتی ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو مسلمان بندہ نماز پڑھتے ہوئے اس ساعت کو پالے، حالانکہ (عصر کے بعد) جمعہ کی آخری ساعت میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی ہے یہ سن کر عبداللہ بن سلام نے فرمایا کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنے کہ حضور فرمائے ہیں کہ جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو تو سمجھا جائے گا کہ وہ نماز ہی میں ہے، میں نے کہا ہاں بیشک میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی فرمائے ہیں! تو عبداللہ بن سلام نے کہا: بس اب سمجھ لو کہ نماز پڑھتے ہوئے وہ ساعت پانے سے مطلب یہ ہے کہ جو بندہ مومن نماز کے انتظار میں ہو تو وہ نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے) ایسے نماز کے انتظار کی حالت میں اس کو وہ ساعت ملی تو سمجھا جائے گا کہ نماز میں ہی اس کو وہ ساعت ملی۔ اس وقت وہ جو دعا کرے قبول ہوتی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام مالک، ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور امام احمد نے بھی اس کے قریب قریب روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1046 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 491 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1787

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2066
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ ساعت جس میں دعاء قبول ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک کی وقت آتی ہے، اس لئے اس مقبول ساعت کو اس وقت میں تلاش کرو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 489 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1788

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2067
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ حضور جمعہ کے دن کو جمعہ کیوں کہتے ہیں؟ کون چیزیں اس میں جمع کی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کو جمعہ کہتے ہیں: حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: سنو! (اس دن میں بہت سے اہم اور عظیم الشان امور جمع ہوتے ہیں) جمعہ میں ایک بات تو یہ ہوئی کہ آدم علیہ السلام کو بنانے کے لئے مٹی کو خمیر کیا گیا، جمعہ کے دن ہی پہلا صور پھونکا جائے گا (جس سے تمام عالم فنا ہو جائے گا) اور جمعہ کے دن ہی (دوسرا صور پھونکا جائے گا جس سے) تمام عالم پھر زندہ ہو جائے گا۔ جمعہ کے دن ہی میدان قیامت (میں وہ ہنگامہ) قائم ہوگا (جس کی دہشت سے بچے بوڑھے ہو جائیں گے) جمعہ کے دن آخری حصہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس گھڑی میں جو کوئی دعاء کرے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتے ہیں۔ (اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن عصر
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1364 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 8102 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1364

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

سے مغرب تک کے درمیان مقبول ساعت آتی ہے اس لئے عصر سے مغرب تک کے وقت کو اور دنیوی امور میں ضائع نہ کریں بلکہ عبادات اور دعاء میں مشغول رہیں)۔ (اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

Hadith 1789

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2068
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جن دنوں کو افضل سمجھتے ہو منجملہ ان کے جمعہ کا دن بھی ایک افضل دن ہے، جمعہ کے دن ہی آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بنانے کے لئے مٹی کو خمیر کیا گیا اور جمعہ کے دن ہی آپ کی وفات ہوئی اور جمعہ کے دن ہی دوسرا صور پھونکا جائے گا (جس سے تمام عالم پھر زندہ ہوگا) اور جمعہ کے دن ہی پہلا صور پھونکا جائے گا (جس سے تمام عالم فنا ہوگا) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر ارشاد فرمائے کہ جب تم سن چکے کہ) جمعہ افضل دنوں میں سے ہے تو اس دن (افضل عبادات یعنی) مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو، کیونکہ جمعہ کے دن درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے (چونکہ جمعہ افضل ایام سے ہے تو اس دن میں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں درود پڑھنا نہایت مناسب ہے، جمعہ کے دن درود شریف کثرت سے پڑھنے کے لئے اس لئے ارشاد ہو رہا ہے کہ اور دنوں میں فرشتوں کے ذریعہ سے حضور کی خدمت میں درود پیش کیا جاتا ہے مگر) جمعہ کے دن ایک خاص (کشف کا یہ مضمون مرقات میں مذکور ہے۔) کشف کی کیفیت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظاہر ہوتی ہے جس کی وجہ سے درود پڑھنے والے کے درود کو حضور بلا واسطہ خود سماعت فرماتے ہیں (جیسے ہدیہ دینے والے کے ہدیہ (جیسا کہ سندھی حاشیہ نسائی میں مذکور ہے۔12) کو ہدیہ لینے والا خود لیتا ہے) صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہمارے درود آپ پر کس طرح پیش کئے جائیں گے (اور آپ کو کیسا کشف ہوگا) جبکہ حضور کا جسم مبارک (بعد وصال کے) محفوظ نہ رہے گا۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ عزّ وجلّ نے انبیاء کے جسم زمین پر حرام کر دیئے ہیں (کہ مٹی انبیاء کے جسم کو نہیں کھاتی بلکہ جسم صحیح و سالم رہتے ہیں)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1047 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1374 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1085 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1361 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 1361

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(ایسا ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک بھی زمین پر حرام کر دیا گیا ہے اور آپ کے جسم کی کوئی نظیر عالم برزخ میں نہ ہونے سے اسی جسم مطہر میں روح اقدس واپس کر دی گئی ہے، آپ قبر شریف میں زندہ تشریف فرما ہیں اور کشف جسم مطہر پر ہی ہوتا ہے اس لئے حضور جمعہ کے دن اپنی امت کے درود کو جسم مطہر ہی سے سنتے ہیں، خواہ امتی دنیا کے کسی حصے سے بھی درود پڑھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جمعہ کے دن اپنے امتی کے درود کو فرشتہ کے واسطے کے بغیر سن لینا کوئی تعجب کی بات نہیں، جب کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا واقعہ ہوا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے ایران کے میدان جنگ میں حضرت ساریہ سپہ سالار کو دیکھے اور ان کو صحیح جنگ کرنے کا اعلان کئے، اس اعلان کو حضرت ساریہ بھی سینکڑوں میل کے فاصلہ سے سن لئے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب سینکڑوں میل دور سے کشف ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بدرجہ اولیٰ امتی کے درود کا خواہ دنیا کے کسی حصے سے بھی ہو کشف ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں بلکہ امر یقینی ہے)۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت دعوات کبیر میں کی ہے۔)

Hadith 1790

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2069
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، اس وجہ سے کہ جمعہ کا دن (بہت متبرک دن ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث 399 سے معلوم ہوتا ہے کہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1637 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

جمعہ شاہد ہے، اس لئے کہ لوگ تو اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں، جمعہ ان لوگوں کے پاس ان کو فیض پہنچانے خود حاضر ہوتا ہے، ایسا ہی جمعہ) مشہود بھی ہے، اس لئے کہ جمعہ کے دن رحمت کے فرشتے کثرت سے آتے ہیں اور رحمت پھیلاتے ہیں (کسی دن میں ایسی رحمت نازل نہیں ہوتی، جیسے جمعہ کے دن نازل ہوتی ہے صلوٰۃ یعنی درود بھی رحمت ہی ہے اس لئے کثرت سے بھیجا کرو) (تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ جمعہ کے دن درود بھیجنے میں اور دوسرے دنوں میں درود بھیجنے میں بڑا فرق ہے اور دنوں میں تم جو درود بھیجتے ہو وہ درود فرشتے میرے پاس لا کر پیش کرتے ہیں، بخلاف) جمعہ کے کہ اس دن مجھے ایسا کشف ہوجاتا ہے کہ بغیر فرشتوں کے واسطوں کے تمہارا درود کشف کے ذریعے سے مجھ پر ظاہر ہوجاتا ہے (یہ پورا مضمون مرقات میں مذکور ہے۔) (میں تمہارے درود کو خود سنتا ہوں اور یہ کشف تمہارا درود پڑھنا ختم ہونے تک باقی رہتا ہے (گو کتنی ہی دیر ہو اور کتنی ہی دور سے پڑھا جائے، یہ بات اور دنوں میں حاصل نہیں ہوتی ہے، اس لئے تم کو تاکید سے کہتا ہوں کہ جمعہ کے دن کثرت سے مجھ پر درود بھیجا کرو) ابودرداء کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: حضور یہ کشف ہونا آپ کی زندگی تک ہی ہے یا آپ کے وصال کے بعد بھی ایسا ہی آپ کو جمعہ کے دن درود پڑھے جانے کا کشف ہوتا رہے گا: یہ سن کر حضور ارشاد فرمائے سنو: ابو درداء (پیغمبروں کا تم عوام پر قیاس نہ کرنا) اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے جسم زمین پر حرام کر دئے ہیں کہ پیغمبروں کے جسم کو (عوام کے جسم کی طرح) مٹی نہیں کھاتی ہے، وہ اپنے جسموں کے ساتھ اپنی قبروں میں زندہ موجود ہیں (ایسا ہی میں اپنی قبر میں اپنے جسم کے ساتھ زندہ رہوں گا۔ ابو درداء تم سمجھتے ہوں گے صرف روحانی زندگی ہوگی، نہیں نہیں بلکہ روح جسم کے ساتھ ایسی موجود رہے گی جیسے دنیا میں ہے، اس لئے) وہاں رزق بھی دیا جائے گا۔ (اس لئے میں قبر میں زندہ رہوں گا اور مجھے کشف بھی ہوتا رہے گا اور میں امتیوں کے درود کو خود سنوں گا۔ اس خصوص کی وجہ سے کہتا ہوں کہ جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو)۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)

Hadith 1791

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2070
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر ایسے مسلمان کو (ہمیشہ (مرقات۔12) کے لئے) قبر کے عذاب اور سوال سے محفوظ رکھتے ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1074 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1367 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 1367

Confidence and text similarity are not editorial verification.