Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے) · Chapter 5

(یہ باب ان دعاؤں کے بیان میں ہے جو صبح شام اور سوتے وقت پڑھی جائیں)

33 narrations · In source reading order

Hadith 2866

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3377
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اپنی مشقت کی شکایت کرنے کے لئے آئیں جو چکی (پیسنے کی وجہ) ان کے ہاتھوں کو پہنچتی تھی۔ (اس لئے کہ) آپ کو یہ اطلاع ملی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس غلام آئے ہوئے ہیں (چونکہ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما نہ تھے اس لئے) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آپ سے ملاقات نہ ہوئی تو آپ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ سارا قصہ بیان کر دیا (کہ ان کو خادم کی ضرورت ہے)۔ جب حضور تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قصہ کی خبر دی، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور (اس وقت) ہم اپنے بچھونوں پر لیٹے ہوئے تھے ہم نے اٹھنے کا ارادہ کیا آپ نے فرمایا: تم اسی حالت پر رہو آپ میرے اور بی بی فاطمہؓ کے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں اپنے پیٹ پر آپ کے قدم مبارک کی ٹھنڈک محسوس کی آپ نے فرمایا: کیا میں تم کو اس چیز سے بہتر بات نہ بتلاؤں جو تم نے مانگی ہے وہ یہ ہے کہ جب تم بستر پر (سونے کے لئے) جاؤ تو تینتیس (33) بار سُبْحَانَ اللّٰهِ تینتیس (33) بار اَلْحَمْدُلِلّٰهِ چونتیس (34) بار اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھا کرو یہ (وظیفہ) تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5361 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2727a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

he sat between us

(1) The statement "he sat between us" indicates that Fatimah and Ali were under one blanket. As mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فقعد بيني وبينها إلخ يدل على أن فاطمة وعليا كانا تحت لحاف واحد. قاله في «المرقاة».

Hadith 2867

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3378
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک خادم مانگنے کے لئے تشریف لائیں تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم کو میں ایک ایسی چیز (یعنی وظیفہ) نہ بتادوں جو خادم سے بہتر ہے تم ہر نماز کے وقت اور اپنے سونے وقت (33) مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰهِ (33) مرتبہ اَلْحَمْدُلِلّٰهِ اور (34) مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھ لیا کرو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2728 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2383 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 2383

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2868

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3379Noor 3380
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: دو عادتیں ایسی ہیں کہ جو مرد مسلم ان کی حفاظت کرے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ سن لو یہ دونوں (باتیں بہت) آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے کم ہیں (ان میں کی ایک بات یہ ہے) ہر نماز کے بعد (10) دس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰهِ، (10) دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور (10) دس مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھا کرے (راوی نے) فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے ہاتھ (کی انگلیوں پر ان تسبیحات) کو شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ زبان سے (پانچوں نمازوں کے) ڈیڑھ سو (150) ہوئے اور (قیامت کے دن وزن میں) میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے (اور دوسری بات یہ ہے کہ) جب کوئی (بستر پر) سونے کے لئے جائے تو (33) مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰهِ (33) مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اور (34) مرتبہ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھے (جو) سو (100) بار ہوئے اور یہ زبان سے سو (100) ہوئے اور میزان میں ایک ہزار ہوئے (اس طرح دن رات میں تمہاری ڈھائی ہزار نیکیاں ہوئیں) تو تم میں کون ہے جو دن اور رات میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہوگا صحابہ نے عرض کیا (اتنے آسان عمل کی) ہم کس طرح حفاظت نہیں کریں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ: شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے اور (تمہارے دل میں) وسوسہ پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر! یہاں تک وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے ممکن ہے کہ وہ ان (تسبیحات) کی حفاظت نہ کر سکے۔ اسی طرح (ہو سکتا ہے کہ) وہ (شیطان) اس کے بستر پر آئے اور اس پر نیند طاری کرتا رہتا ہے یہاں تک (غفلت میں تسبیحات پڑھے بغیر) سو جاتا ہے۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، اور نسائی نے کی ہے۔ اور ابوداؤد میں اسی مفہوم کی ایک اور روایت مروی ہے جس میں کچھ لفظی اختلاف ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5065 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3410 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1348 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.