حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں کہا میں نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہوں: سعد بن معاذ کی وفات سے عرش جھوم گیا(34)۔
اور ایک روایت میں ہے: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات سے رحمن کا
عرش جھوم گیا۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3803 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2466a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
the Throne trembled at the departure of Sa’d ibn Mu’adh
(1) The statement “the Throne trembled at the departure of Sa’d ibn Mu’adh”: Meaning it trembled with joy and delight at his transition from the perishable to the eternal abode, as the souls of the righteous and martyrs reside under the Throne, housed in lanterns hung there. (As stated in Al-Mirqat) In Al-Lama’at, it is said: The trembling of the Throne is a metaphor for its joy and eagerness at his soul’s arrival, either literally or figuratively. The former is correct, as Allah has granted inanimate objects knowledge and discernment. Some said: It means the joy of its inhabitants. Others said: Its movement signaled the angels of his departure. Others said: The trembling is a metaphor for the magnitude of his passing, like saying, “The world shook at so-and-so’s departure.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ والمعنى اهتز اهتشاشا و سرورا بتقلبه من الدار الفانية إلى الدار الباقية، وذلك لأن أرواح السعداء والشهداء مستقرها تحت العرش تأوي إلى قناديل معلقة هناك. كذا في «المرقاة». وقال في «اللمعات»: قيل: اهتزازا العرش كناية عن فرحه ونشاطه بقدوم روحه إليه، وذلك إما حقيقة أو مجاز، والأول هو الصواب، فقد جعل الله تعالى في الجمادات علما وتمييزا. وقيل: المراد فرح أهله. وقيل: حركته علامة للملائكة على موته. وقيل: اهتزاز العرش كناية عن عظم شأن وفاته، كما يقال: قامت القيامة بموت فلان. وقيل: اهتزازه لفقده ومصيبته.
Note 1
(34) قوله: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ. اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے دار فانی سے دار باقی میں منتقل ہونے
کی فرحت میں عرش جھومنے لگا اور یہ اس لئے ہے کہ اہل سعادت اور شہداء کی ارواح کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے اور
وہ وہاں کی لٹکی ہوئی قندیلوں میں رہتی ہیں۔ (مرقات)
صاحب لمعات نے فرمایا: عرش کا ہلنا اور جھومنا، یہ کنایہ ہے اس بات کا کہ ان کی ارواح کے وہاں آنے سے اس کو
خوشی ہے۔ اس میں حقیقت وجاز دونوں باتیں ہوسکتی ہیں، اور ٹھیک بات تو پہلی بات ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے
جمادات میں بھی علم وتمیز رکھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرش سے اہل عرش کی خوشی مراد ہے۔ اور یہ بھی قول ہے
کہ عرش کا حرکت کرنا اُن کی وفات پر فرشتوں کیلئے علامت واطلاع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرش کا ہلنا ان کی
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وفات کی عظمت شان سے کنایہ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے قامت القيامة بموت فلان۔ فلاں
کی موت سے قیامت قائم ہوگئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے عرش کا ہل جانا ان کے رحلت اور مصیبت کی وجہ سے ہے
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: جب حضرت سعد بن
معاذ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے کہا: ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے، اور یہ بنی قریظہ میں ان کے فیصلہ کی
وجہ سے ہے(35)۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: فرشتے اس کو اٹھا رہے
تھے۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3849 (unverified) 65% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
his judgment regarding Banu Qurayzah
(1) The statement “his judgment regarding Banu Qurayzah”: Meaning to kill their fighters and take their dependents captive, which the hypocrites attributed to injustice. The Messenger of Allah (ﷺ) testified to the correctness of his judgment. The statement “the angels were carrying him”: Hence, his funeral was light for the people. A heavy body indicates attachment to the world, while lightness reflects a strong longing for the Lord and the swift ascent of the soul to the highest goal. Allah said: And honor belongs to Allah, His Messenger, and the believers, but the hypocrites do not know [Qur’an 63:8]. At-Tibi said: They meant to belittle and disdain him, but the response highlighted the honor and grandeur of his status. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: الحكمه في بني قريظة: أي بأن تقتل المقاتلة وتسبى الذرية، فنسبه المنافقون إلى الجور والعدوان. وقد شهد رسول الله ﷺ له بالإصابة في حكمه. وقوله: إن الملائكة كانت تحمله أي ولذا كانت جنازته خفيفة على الناس، وأيضًا ثقل الميت مشعر بتعلقه إلى الدنيا وخفته إلى قوة شوقه للمولى وسرعة طيران روحه إلى المقصد الأعلى. قال تعالى: ﴿وَاللَّهُ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ المَنَافِقِينَ لا يَعلمون (المنافقون (۸) . قال الطيبي: كانوا يريدون بذلك حقارته وازدراءه، فأجاب بما يلزم من تلك الخفة بتعظيم شأنه وتفخيم أمره. كذا في «المرقاة».
Note 1
(35) قوله: لحكمه في بني قريظة. یعنی ان کے اس فیصلہ کی وجہ سے کہ لڑنے والی جماعت کو قتل کردیا جائے اور
بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا جائے منافقوں نے اس فیصلہ کو ظلم و زیادتی پر محمول کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان کے فیصلہ کے درست ہونے کی گواہی دی۔
وقوله: ان الملائكة كانت تحمله. فرشتے ان کو اٹھا رہے تھے، اس لئے ان کا جنازہ لوگوں کے اوپر ہلکا تھا۔
نیز میت کا بوجھل اور وزنی ہونا اس کے دنیا سے تعلق کو بتاتا ہے، اور اس کا ہلکا ہونا اللہ سے ملاقات کے شوق کی قوت
اور اس کے روح کی اپنے مقصد عالی کی طرف تیز پرواز کو بتاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ
وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ“۔ (63، المنافقون، آیت نمبر:8) اللہ ہی کیلئے ہے عزت اور اس
کے رسول کیلئے اور مومنین کیلئے، لیکن منافقین جانتے نہیں ہیں۔ علامہ طیبی نے فرمایا: منافقین کی مراد اس سے ان کو
حقیر قرار دینا اور ان کو عیب لگانا تھا۔ پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب اس طرح مرحمت فرمایا کہ ان
کے جنازے کا ہلکا ہونا ان کی عظمت شان اور ان کے معاملہ کی بلندی کی وجہ سے ہے۔ (مرقات)
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کیلئے ریشم کا جوڑا ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ کے صحابہ اس کو چھوتے اور اس کی لطافت پر تعجب کرتے تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کی لطافت پر تعجب کرتے ہو سعد بن معاذ کے رومال(36)
جنت میں اس سے بہتر اور اس سے زیادہ ملائم ہیں۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3802 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2468a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
the handkerchiefs of Sa’d ibn Mu’adh
(1) The statement “the handkerchiefs of Sa’d ibn Mu’adh”: Al-Khattabi said: The example of handkerchiefs was used because they are not among fine garments but are used for practical purposes, like wiping hands, dusting the body, covering gifted items, or wrapping clothes. They are like servants, while other garments are like the served. If the least of them is so, what of the finest? (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: لمناديل سعد بن معاذ إلخ : قال الخطابي : إنما ضرب المثل بالمناديل؛ لأنها ليست من علية الثياب، بل هي تبذل من أنواع المرافق، فيمسح بها الأيدي وينفض بها الغبار عن البدن وتغطى ما يهدى في الأطباق وتتخذ لفافا للثياب، فصار سبيلها سبيل الخادم، وسبيل سائر الثياب سبيل المخدوم، فإذا كان أدناها هكذا فما ظنك بأعلاها. كذا في «المرقاة».
Note 1
(36) قوله: لمناديل سعد بن معاذ الخ. علامہ خطابی نے فرمایا اس میں حضرت سعد کے رومال کی مثال دی گئی ہے،
وہ اس لئے کہ رومال اعلی درجے کے کپڑے نہیں ہوتے بلکہ وہ مختلف کاموں میں استعمال کی نوعیت کے کپڑے
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ہوتے ہیں اس سے ہاتھ صاف کئے جاتے ہیں بدن سے گرد و غبار کو جھٹکا جاتا ہے اس سے ہدایا
اور تحفے کے طبق کو ڈھانکا جاتا ہے اور اس کو کپڑے لپیٹنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یہ دوسرے کپڑوں کے لئے
خادم کی طرح ہیں۔ جب ادنیٰ کی یہ شان ہے تو تم بتاؤ اعلیٰ کی شان کیا ہوگی۔ (مرقات)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: کتنے (37) ایک پراگندہ بال غبار آلود اور دو پرانے کپڑے پہنے ہوئے جن کی پرواہ نہیں کی
جاتی ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردے گا ان میں سے براء بن مالک ہیں۔
(ترمذی۔ بیہقی دلائل النبوۃ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3854 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
how many a disheveled
(1) The statement “how many a disheveled”: Ibn Al-Malik said: “How many” is the subject, “from” clarifies it, and the predicate is “unnoticed.” The apparent predicate is “if he swears by Allah, He fulfills it,” meaning He makes him truthful among people. The statement “with two worn garments”: Meaning possessing two tattered clothes. The statement “unnoticed”: Meaning disregarded or ignored due to insignificance. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: كم من أشعث إلخ : قال ابن الملك: «كم» خبرية مبتدأ، و «من» مبين لها، وخبره لا يؤبه». والظاهر أن الخبر هو قوله: «لو أقسم على الله لأبره أي لأمضاه على الصدق وجعله بارا في الخلق. وقوله: «ذي طمرين» بكسر فسكون، أي صاحب ثوبين خلقين. وقوله: «لا يؤبه بضم ياء وسكون واو. وقد يهمزه وفتح موحدة، ففي النهاية»: لا يبالي به، ولا يلتفت إليه الحقارته. كذا في «المرقاة».
Note 1
(37) قوله: كم من اشعث الخ. علامہ ابن ملک نے فرمایا کم خبریہ ہے اور مبتداء ہے اور لفظ من بیانیہ ہے۔ اور
لايؤبه اس کی خبر ہے مگر ظاہری بات یہ ہے کہ لو أقسم على الله لابره یہ جملہ اس کی خبر ہے لابره یعنی اس کو سچا
کر دکھائے گا اور مخلوق میں اس کو قسم پوری کرنے والا بنا دے گا۔ وقوله: ذى طمرين. طاء کو زیر (کسرہ) میم کو جزم
یعنی دو پرانے کپڑے والا۔ وقوله: لايؤبه یاء کو پیش اور واو کو جزم اور کبھی وہ ہمزہ سے پڑھا جاتا ہے اور باء کو فتحہ
(زبر)۔ صاحب نہایہ نے فرمایا: جس کی پرواہ نہیں کی جاتی اور اس کو حقیر سمجھ کر اس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔
(مرقات)
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا(38) سے روایت ہے وہ عرض کیں یا رسول
اللہ انس آپ کا خادم ہے اس کے لئے آپ دعا فرمائیں تو آپ نے دعا فرمائی اے اللہ تو ان کو بکثرت
مال اور اولاد عطا فرما۔ اور ان کو تو جو کچھ عطا فرمایا اس میں برکت دے انس نے فرمایا خدا کی قسم میرا مال
بہت ہے اور میری اولاد اور اولاد کی اولاد آج کے دن تقریباً ایک سو سے متجاوز ہو جاتی ہیں۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6334 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2481a (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Umm Sulaim
(1) The statement “Umm Sulaim”: She is Anas’s mother. The statement “bless him in what You have given him”: Meaning wealth, children, and blessings, which is the increase in benefit and goodness. This shows it is recommended, when praying for worldly matters, to include a request for blessing and preservation. The statement “number nearly a hundred today”: Meaning at the time of this narration, they exceed this number. (Derived from Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : أم سليم: وهي أم أنس. وقوله: وبارك له فيما أعطيته، أي من المال والولد والبركة زيادة النماء في إفادة النعماء. وفيه استحباب أنه إذا دعي بشيء يتعلق بالدنيا ينبغي أن يضم إلى دعائه طلب البركة فيه والصاينة. وقوله: ليتعادون بضم الدال المشدده، أي يزيدون في العدد على نحو المائة اليوم، أي في هذا الوقت من الحديث. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(38) وقوله: ام سليم. آپ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں۔ وقوله: وبارك له فيما اعطيته. یعنی
تو نے جو مال و اولاد دیا ہے اس میں برکت دے اور برکت لغت میں فائدہ میں ترقی ہوتے رہنے کو کہا جاتا ہے اور
اس میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا سے متعلق کسی چیز کے لئے دعا کی جائے تو مستحب ہے کہ اس کے ساتھ اس
میں برکت اور اس کی حفاظت کے لئے بھی دعا شامل کی جائے۔ وقوله: ليتعادون. دال کو پیش اور تشدید ہے
یعنی آج کے دن وہ گنتی میں تقریباً سو سے زائد ہوتے ہیں اليوم اس سے مراد آج کے اس وقت میں۔ (ماخوذ از مرقات)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام کے سوا کسی زمین پر چلنے والے کے بارے میں یہ
فرماتے نہیں سنا(39) کہ وہ اہل جنت سے ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3812 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2483 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
I never heard
(1) The statement “I never heard”: An-Nawawi said: This does not contradict the Prophet’s (ﷺ) statement: “Abu Bakr is in Paradise, Umar is in Paradise,” and others among the ten promised Paradise, as Sa’d said, “I never heard,” and negating his hearing does not negate the glad tidings for others. Affirmation takes precedence over negation. Al-Hafidh Al-Asqalani said: The Hadith was questioned because others were promised Paradise besides Abdullah ibn Salam (may Allah be pleased with him), and it is unlikely Sa’d was unaware or denied hearing it to avoid self-praise. It seems this was after the departure of those promised Paradise, as Abdullah ibn Salam outlived them, with only Sa’d and Sa’id (may Allah be pleased with them) remaining. This is supported by “walking the earth.” Ad-Daraqutni’s narration: “I never heard the Prophet (ﷺ) say about a living person walking: He is among the people of Paradise.” The ambiguity remains unless Sa’d excluded himself, as his glad tidings came through others, while he heard this directly, as the Hadith’s opening suggests. Sa’id’s survival poses a question, but it may be resolved similarly, or “walking” may mean the glad tidings for Abdullah occurred while he was walking, unlike others, removing the issue. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: ما سمعت إلخ : قال النووي: ليس هذا مخالفا لقوله : أبو كر في الجنة وعمر في الجنة» إلى آخر العشرة وغيرهم من المبشرين بالجنة؛ فإن سعدا قال: ما سمعت ونفي سماعه ذلك لا يدل على نفي البشارة للغير، وإذا اجتمع النفي والإثبات فالإثبات مقدم عليه. ويؤيد ما قدمناه ما ذكره الحافظ العسقلاني بأن الحديث استشكل بأنه قال الجماعة: إنهم من أهل الجنة غير عبد الله بن سلام، ويبعد أن لا يطلع سعد على ذلك أو ينفي سماع ذلك عن نفسه كراهة تزكية نفسه، فالظاهر أن ذلك بعد موت المبشرين؛ لأن عبد الله بن سلام عاش بعدهم ولم يتأخر بعده من العشرة غير سعد وسعيد، ويؤخذ ذلك من قوله: يمشي على وجه الأرض. ووقع عند الدارقطني ما سمعت النبي ﷺ يقول لحي يمشي: إنه من أهل الجنة. ولا يخفى ما فيه من الغموض على حصول المدعي، اللهم إلا أن يقال: إن سعدا لم يذكر نفسه، بناء على أن تبشيره بلغه من غيره. وهذا سمعه بنفسه، كما يشير إليه صدر الحديث، لكن يبقى الكلام في وجود سعيد حيا، ويمكن دفعه به أيضًا، ويمكن أن يراد بقوله: يمشي» أنه وقع بشارته لعبد الله حين كان يمشي على وجه الأض، بمعنى أنه يسير بخلاف بشارات غيره وبه يزول الإشكال، والله أعلم بالأحوال. كذا في «المرقاة».
Note 1
(39) قوله: ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم الخ۔ علامہ نووی نے فرمایا یہ اس حدیث کے مخالف نہیں ہے
کہ ابوبکر جنت میں ہیں اور عمر جنت میں ہیں یہاں تک کہ دس عشرہ مبشرہ اور ان کے علاوہ بہت سے صحابہ جن کے
بارے میں جنتی ہونے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری دی ہے کیونکہ حضرت سعد نے فرمایا ما سمعت میں
نے نہیں سنا ان کا اس کو نہ سننا دوسروں کی خوشخبری کی نفی نہیں کرتا اور نفی و اثبات دونوں جمع ہوں تو اثبات مقدم ہوتا
ہے۔ اور اس کی تائید حافظ ابن حجر عسقلانی کے کلام سے ہوتی ہے۔ حافظ صاحب نے فرمایا اس حدیث میں ایک
اشکال یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن سلام کے علاوہ بھی ایک بڑی جماعت ہے جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے جنت کی خوشخبری دی ہے اور حضرت سعد کا اس پر مطلع نہ ہونا یا اپنے نفس کے تزکیہ کو نامناسب سمجھ کر خود
اپنے بارے میں اس کے سننے کی نفی کرنا بعید ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت سعد اس سے واقف نہ رہے ہوں یا وہ اپنے
نفس کے تزکیہ کو نامناسب سمجھ کر اپنے نفس سے اس کی نفی کر رہے ہوں۔
تو ظاہر بات یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا ان صحابہ کے انتقال کے بعد ہوا ہے جن کو خوشخبری دی گئی تھی کیونکہ عبداللہ بن سلام
ان سب کے بعد بھی زندہ رہے اور ان کے بعد تک حضرت سعد اور حضرت سعید کے سوا کوئی باقی نہیں رہے اور یہ
بات ان کے اس قول يمشى على وجه الارض سطح زمین پر جو چل رہے ہوں سے سمجھ میں آتی ہے اور دار
قطنی کی روایت میں ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لحى يمشى انه من اهل الجنة
ہے۔ انہی گذشتہ دعاء کے لئے اس استدلال میں جو پیچیدگی اور گہرائی ہے وہ ظاہر ہے سوائے اس کے کہ یہ کہا
جائے کہ حضرت سعد نے اس میں اپنا جو ذکر نہیں کیا تو وہ اس لئے کہ اس حدیث کو انہوں نے بنفس نفیس سنا ہوا اور ان
کے بارے میں بشارت والی جو حدیث ہے اس کو دوسروں سے سنا ہو جیسا کہ حدیث شریف کے ابتدائی حصہ سے
اس کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن حضرت سعید کا اس وقت باحیات رہنے کا سوال رہتا ہے تو اس کا بھی جواب اسی سے دیا
جا سکتا ہے اور راوی کے قول يمشى (جو سطح زمین پر چل رہے ہوں) سے یہ مراد لینا بھی ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے دوسروں کے برخلاف عبداللہ بن سلام کو یہ خوشخبری ایسے وقت میں دی ہو جب کہ وہ چل رہے تھے۔
اس سے یہ اشکال دور ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ احوال کو خوب جاننے والا ہے۔ (مرقات)
حضرت قیس بن عباد سے روایت ہے فرمایا میں مسجد مدینہ میں بیٹھا ہوا تھا
ایک صاحب آئے ان کے چہرہ پر خشوع کا اثر تھا(40) صحابہ نے کہا یہ جنتی صاحب ہیں اور وہ صاحب
اختصار کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے پھر نکل گئے تو میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے کہا جب آپ مسجد
میں داخل ہوئے تو لوگوں نے کہا یہ جنتی حضرات میں سے ہیں تو انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم کسی کے لئے
بھی یہ نہز اور(41) نہیں کہ وہ ایسی کوئی بات کہے جس کو وہ نہیں جانتا۔ میں تم کو بتاتا ہوں یہ کیوں ہے
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ سے وہ خواب بیان کیا میں نے
دیکھا گویا میں ایک باغ میں ہوں۔ اور پھر انہوں نے اس باغ کی وسعت اور اس کی رونق کو بیان کیا۔
اس کے درمیان لوہے کا ایک ستون ہے اس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اس کا اوپر کا حصہ آسمان میں
ہے۔ اس کے اوپر ایک حلقہ ہے اور مجھ سے کہا گیا اس پر چڑھ جاؤ تو میں نے کہا میں اس کی
استطاعت نہیں رکھتا تو میرے پاس ایک خادم آیا اور میرے پیچھے سے میرے کپڑے چڑھایا تو میں
چڑھ گیا یہاں تک کہ میں اس کے اوپر کے حصے میں پہنچ گیا اور حلقہ کو پکڑ لیا تو کہا گیا اس کو تھام لو اور وہ
حلقہ میرے ہاتھ میں تھا میں بیدار ہوگیا۔ میں یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ
نے فرمایا وہ باغ اسلام ہے وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ (42) عروة الوثقىٰ ہے اور تم مرنے
تک اسلام پر رہوگے اور وہ صاحب عبداللہ بن سلام ہیں۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3813 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
traces of humility
(1) The statement “traces of humility”: Meaning calmness, dignity, and presence. They said: Meaning some present said, “This is a man from the people of Paradise.” He prayed two rak’ahs, meaning the mosque’s greeting or otherwise, briefly, fulfilling only the essentials. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
no one should say what they do not know
(2) The statement “no one should say what they do not know”: An-Nawawi said: This is Abdullah ibn Salam’s disapproval of their declaring him among the people of Paradise. Perhaps they heard Sa’d ibn Abi Waqqas’s narration that Ibn Salam was among them, but he had not. Or he disliked the praise out of humility and aversion to fame. The statement “I saw a dream” explains the reason. The statement “he described”: Meaning Abdullah ibn Salam. The statement “in its center” is an adverbial phrase, the predicate preceding the subject “pillar.” The statements “its base in the earth” and “its top in the sky” describe the pillar. The statement “climb it”: With a silent ha, though some narrations have a dammah, possibly referring to the pillar. The statement “servant”: Meaning a helper. The statement “I awoke, and it was in my hand”: Meaning the awakening coincided with grasping, not that it remained in his hand when awake, though this is possible in Allah’s power, but the context suggests otherwise. It may mean its effect remained, as he awoke with his hand clenched. (Derived from Al-Mirqat)
Note 3
that handle
(3) The statement “that handle”: The subject, with its predicate “the firmest handle.” At-Tibi said: The firmest handle is a strong, secure rope that cannot break. The statement “until you die” concludes his speech. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: أثر الخشوع: أي السكون والوقار والحضور، فقالوا أي بعض الحاضرين: هذا رجل من أهل الجنة فصلى ركعين أي تحية المسجد أو غيرها تجوز» بتشديد الواو أي اختصر فيهما على ما لا بُدَّ منه وخففهما. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: ما ينبغي لأحد أن يقول ما لا يعلم: قال النووي: هذا إنكار من عبد الله بن سلام عليهم حيث قطعوا له بالجنة، فيحتمل أن هؤلاء بلغهم خبر سعد بن أبي وقاص أن ابن سلام من أهل الجنة، ولم يسمع هو ذلك. ويحتمل أنه كره الثناء عليه بذلك وتواضعا وإيثارا للخمول وكراهة للشهرة. وقوله: إني رأيت رؤيا إلخ، وهذا لا يدل على النص بقطع النبي له على أني من أهل الجنة كما نص على غيري.
وقوله: ورأيت» بيان لما قبله. وقوله: «ذكر أي عبد الله بن سلام. وقوله: «وسطها بالنصب على أنه ظرف وقع خبرا مقدما لمبتدأ مؤخر هو قوله: عمود وقوله: «أسفله في الأرض وأعلاه في السماء والجملتان صفتان لعمود. وقوله: «أرقه بفتح القاف وسكون الهاء للسكت. وفي نسخة بضم الهاء على أنه ضمير، ويجوز أن يعود إلى العمود. وقوله: «منصف بكسر الميم وفتح الصاد، وهو الخدم. وقوله: «فرفع أي المنصف. وقوله: «فاستيقظت وإنها لفي يدي أي إن الاستيقاظ كان حال الأخذ من غير فاصل، فلم يرد أنها بقيت في يده حال يقظته، ولو حمل على ظاهره ما امتنع في قدرة الله تعالى، لكن يظهر خلافه. ويحتمل أن يردى أن أثرها بقي في يدي بعد الاستيقاظ كان يُصبح، فيرى يده مقبوضة. التقطته من «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: تلك العروة: مبتدأ خبره قوله: «العروة الوثقى قال الطيبي : الوثقى من الحبل الوثيق المحكم المأمون انقطاعها. وقوله: «حتى تموت انتهى كلامه . كذا في «المرقاة».
Note 1
(40) قوله: اثر الخشوع۔ یعنی سکون، وقار اور حضوری کا اثر تھا۔ فقالوا یعنی بعض حاضرین نے کہا یہ اہل جنت میں
سے ہے۔ فصلى ركعتين یعنی وہ صاحب دو رکعت تحیۃ المسجد یا کوئی دوسری نماز پڑھے۔ تجوز ذال کو تشدید ہے
یعنی ان دونوں رکعتوں میں جو ضروری ہے اس پر اکتفاء کئے اور ان دونوں میں تخفیف کی۔ (مرقات)
(41) قوله: ما ينبغي لاحد ان يقول مالايعلم۔ علامہ نووی نے فرمایا: کسی کیلئے بھی یہ نہز اور نہیں کہ وہ ایسی کوئی
بات کہے جس کو وہ نہیں جانتا۔ علامہ نووی نے فرمایا: ان لوگوں نے عبداللہ بن سلام کیلئے جنت کا جو قطعی حکم لگایا اس
کا آپ رضی اللہ عنہ اس قول کے ذریعہ انکار فرمارہے ہیں۔ انہوں نے اس کا جو قطعی فیصلہ فرمایا عبداللہ بن سلام اس
کا انکار فرمارہے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے ان حضرات کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پہنچی
ہو کہ حضرت عبداللہ بن سلام اہل جنت میں سے ہیں اور ابن سلام اس کو نہ سنے ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں
نے بطور تواضع اپنی تعریف کو پسند نہیں کیا۔ پوشیدہ رہنے کو پسند کیا اور شہرت کو ناپسند کیا ہو۔ وقوله: انى رايت
رويا الخ۔ اس میں صراحتاً کوئی دلیل نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جنتی ہونے کا قطعی فیصلہ دیا
ہو۔ جیسا کہ میرے علاوہ دوسروں کے لئے فیصلہ دیا ہے۔ قوله: ورأيت یہ سابق کا بیان ہے۔ قوله: ذكر۔
یعنی عبداللہ بن سلام نے ذکر کیا۔ وقوله: وسطها یہ ظرف ہونے کی بناء پر طاء کو زبر ہے اس لئے طاء کو زبر ہے اور مبتداء
مؤخر عمود کی خبر مقدم ہے۔ وقوله: اسفله فى الارض واعلاه فى السماء۔ یہ جملہ عمود کی دو صفتیں ہیں۔
وقوله: ارقه۔ قاف کو زبر (فتحہ) اور ہاء سکتہ کی ہے اس لئے اس کو سکون ہے اور ایک نسخہ میں ہاء کو پیش ہے ایسی
صورت میں وہ ہاء ضمیر ہے اور اس کا مرجع عمود ہوسکتا ہے۔ قوله: منصف۔ میم کو زیر (کسرہ) اور صاد کو زبر
(فتحہ) ہے۔ اور اس کے معنی خادم ہے۔ وقوله: فرفع یعنی خادم نے اٹھایا۔ وقوله: فاستيقظت وانها لفى
يدى۔ جب میں حلقہ کو پکڑا تھا اسی وقت بلاتا خیر بیدار ہوا۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس وقت میں بیدار ہوا
یہ حلقہ میرے ہاتھ میں تھا۔ اور اگر اس کو مان لیا جائے تو بھی یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی امر مانع نہیں۔ لیکن
بظاہر الفاظ کا مفہوم اس کے خلاف ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے ان کی اس سے مراد یہ تھی کہ بیدار ہونے کے بعد بھی
میرے ہاتھ میں اس کا اثر تھا کیونکہ وہ اپنی مٹھی کو بند رکھے رہے تھے۔ (ماخوذ از مرقات)
(42) قوله: تلك العروة. مبتداء ہے اس کی خبر العروة الوثقى ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا الوثقىٰ ایسی رسی ہے جو
مضبوط ہو اور ٹوٹنے سے محفوظ رہتی ہے۔ وقوله: حتى تموت یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام مکمل ہوا۔ (مرقات)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب آپ کے
وصال کا وقت آ گیا تو آپ نے فرمایا تم علم کو چار اصحاب کے پاس تلاش کرو (43) حضرت عویمر
ابوالدرداء اور حضرت سلمان کے پاس حضرت ابن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس جو
یہودی تھے اسلام لائے کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہوں کہ آپ دس
جنتیوں میں سے دسوں ہیں۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3804 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
seek knowledge
(1) The statement “seek knowledge”: Meaning knowledge of the Book and the Sunnah, or knowledge of the permissible and the forbidden, which is more apparent due to the Prophet’s (ﷺ) saying: “The most knowledgeable among you regarding the permissible and the forbidden is Mu’adh ibn Jabal.” This also clarifies the reason for their distinction. The statement “who was a Jew”: At-Tibi said: This is not a distinguishing attribute for Abdullah, as no one else shares his name. Rather, it is praise for recommending seeking knowledge from him, as he combined knowledge of both scriptures. The statement “the tenth of ten in Paradise”: Meaning like the tenth of ten, similar to Abu Yusuf to Abu Hanifah, as he is not among the ten promised Paradise. This is as stated by Mirak and At-Tibi. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: التمسوا العلم: أي علم الكتاب والسنة أو علم الحلال والحرام، وهو الأظهر؛ لقوله ﷺ: «أعلمكم بالحلال والحرام معاذ بن جبل». وبهذا يظهر أيضًا وجه الخصوصية. وقوله: الذي كان يهوديا قال الطيبي: ليس بصفة مميزة لعبد الله؛ لأنه لا يشارك في اسمه غيره، بل هو مدح له في التوصية بالتماس العلم منه؛ لأنه جمع بين الكتابين. وقوله: عاشر عشرة في الجنة أي مثل عاشر عشرة ونحوه أبو يوسف أبو حنيفة؛ إذ ليس هو من العشرة المبشرة، كذا ذكره ميرك، وهو قول الطيبي. كذا في «المرقاة».
Note 1
(43) قوله: التمسوا العلم. یعنی کتاب و سنت کا علم یا حلال و حرام کا علم اور یہی بات ظاہر ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ
وسلم کا ارشاد ہے اعلمكم بالحلال والحرام معاذ بن جبل تم میں حلال و حرام کے زیادہ واقف معاذ بن جبل
ہیں اور اس سے اس کے ساتھ خصوصیت کی وجہ بھی ہوتی ہے۔ وقوله: الذي كان يهوديا. علامہ طیبی نے فرمایا
یہ ان کی صفت ممیزہ یعنی ان کو دوسروں سے ممتاز کرنے والی صفت نہیں ہے کیونکہ آپ کے نام (عبداللہ بن سلام)
میں کوئی شریک نہیں بلکہ یہ آپ کی مدح و توصیف کی صفت ہے اس میں لوگوں کے لئے ان سے علم حاصل کرنے کی
نصیحت و وصیت ہے کیونکہ یہ دونوں کتابیں انجیل و قرآن کے جامع تھے۔ وقوله: عاشر عشرة في الجنة.
یعنی وہ دس میں دسویں کے مثل تھے اور اسی طرح حضرت ابو یوسف حضرت ابوحنیفہ رحمہما اللہ ہیں کیونکہ وہ عشرہ مبشرہ
میں سے نہیں ہیں علامہ میرک نے اسی طرح فرمایا ہے اور یہ ملا علی طیبی کا قول ہے۔ (مرقات)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت
ثابت بن قیس بن شماس خطیب الانصار(44) (انصار کے خطیب) ہیں اور جب یہ آیت نازل ہوئی
تَشْعُرُونَ“ (49۔ الحجرات، آیت نمبر:2) تو حضرت ثابت بن قیس اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر نہیں ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
سعد بن معاذ سے دریافت فرمایا(45) ثابت کا کیا حال ہے کیا وہ بیمار ہیں حضرت سعد ان کے پاس
آئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا تو ثابت نے فرمایا یہ آیت: ”لَا تَرْفَعُوا
أَصْوَاتَكُمْ“ نازل ہوئی اور تم جانتے ہو میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سب
سے بلند آواز والا ہوں(46) میں دوزخیوں میں سے ہوں تو سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 119a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
orator of the Ansar
(1) The statement “orator of the Ansar”: Meaning their eloquent speaker in prose, as one would say “poet” for verse. The statement “refrained”: Meaning he kept to himself. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
the Prophet asked Sa’d ibn Mu’adh
(2) The statement “the Prophet asked Sa’d ibn Mu’adh”: It was questioned because the mentioned verse was revealed in the ninth year, while Sa’d ibn Mu’adh departed from this world in the fifth year. It was answered that what was revealed regarding Thabit’s incident was only about raising the voice, not the beginning of the surah, which is: Do not put yourselves forward before Allah and His Messenger [Qur’an 49:1]. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
you all know that I am among those who raise their voice most
(3) The statement “you all know that I am among those who raise their voice most”: Meaning by natural disposition, so I am among the people of the Fire. He did not know that the prohibition refers to intentionally raising one’s voice in a manner that shows lack of etiquette. The statement “among the people of Paradise”: Meaning because he went to great lengths in maintaining etiquette, to the extent that he did not permit even raising his natural voice. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: خطيب الأنصار : أي فصيحهم، أي في النثر، كما يقال الشاعر في النظم. وقوله: «واحتبس» أي في نفسه. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: فسأل النبي و سعد بن معاذ: استشكل بأن الآية المذكورة نزلت سنة تسع، وسعد بن معاذ مات قبل ذلك سنة خمس، وأجيب بأن ما نزل في قصة ثابت مجرد رفع الصوت لا أول السورة، وهو : ﴿ لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (الحجرات: (1). كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: ولقد علمتم أني من أرفعكم صوتا على رسول الله : بحسب الجبلة، فأنا من أهل النار، ولم يعرف أن المرد به رفع صوت يكون اختياريا يقتضي قلة الأدب. وقوله: من أهل الجنة أي حيث بالغ حيث بالغ في الأدب حتى لم يجوز رفع الصوت الجبلي أيضًا. كذا في «المرقاة».
Note 1
(44) قوله: خطيب الانصار۔ یعنی ان انصار میں فصیح البیان ہیں یعنی نثر میں، جس طرح نظم میں فصیح البیان کو شاعر
کہا جاتا ہے۔ وقوله: احتبس۔ یعنی اپنے آپ کو (حاضر ہونے) سے روک لیا۔ (مرقات)
(45) قوله: فسأل النبي صلى الله عليه وسلم سعد بن معاذ اس میں بظاہر ایک اشکال ہے وہ یہ ہے کہ یہ
آیت 9ہجری میں نازل ہوئی اور حضرت سعد بن معاذ اس سے پہلے 5ہجری میں انتقال کر گئے ہیں۔ اس کا جواب
یہ دیا گیا ہے کہ حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متعلق صرف آواز بلند نہ کرنے کی آیت نازل ہوئی اور ابتدائی
سورہ ”لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ“ ان سے متعلق نہیں ہے۔ (مرقات)
(46) قوله: ولقد علمتم انى من ارفعكم صوتا على رسول الله صلى الله عليه وسلم یعنی فطری طور پر
میری آواز بلند ہے۔ فانا من اهل النار۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھے کہ یہاں مراد اپنے اختیار سے آواز بلند کرنا ہے
جو کہ ادب کے خلاف ہے۔
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: من اهل الجنة کیونکہ انہوں نے انتہائی ادب کو ملحوظ رکھا یہاں تک کہ فطری طور پر بھی
آواز کے بلند ہونے کو گوارا نہیں کیا۔ (مرقات)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتنے اچھے آدمی ہیں ابوبکر اور کتنے اچھے ہیں عمر اور کتنے اچھے ہیں ابوعبیدہ
بن جراح اور کتنے اچھے ہیں اسید بن حضیر اور کتنے اچھے ہیں ثابت بن قیس بن شماس اور کتنے اچھے ہیں
معاذ بن جبل اور کتنے اچھے ہیں معاذ بن عمرو بن جموح۔ (ترمذی)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا ہر نبی کے سات نجباء اور رقباء(47) ہیں اور مجھے چودہ عطا کئے گئے ہیں۔ ہم عرض کئے وہ
کون ہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں اور میرے دونوں صاحبزادے اور حضرت جعفر وحمزہ
وابوبکر وعمر مصعب بن عمیر اور بلال وسلمان وعمار وعبداللہ بن مسعود اور ابوذر اور مقداد۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3785 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
seven noble guardians
(1) The statement “seven noble guardians”: With “seven” added, both “noble” and “guardians” are in the plural form. “Noble” refers to the honorable and chosen, and “guardians” to those who protect with capability. The meaning refers to those present during the time of each prophet, as indicated by “I have been given.” The statement “we said”: Meaning, to Ali, “Who are they?” The statement “he said”: Meaning Ali said: “Myself, etc.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: سبعة نجباء رقباء بإضافة سبعة، وهما على وزن فعلاء جمع، والنجيب وهو الكريم المختار، والرقيب الحافظ على الاقتدار، والمراد بهم الموجودون في زمن كل نبي لقوله: وأعطيت وقوله: «قلنا» أي لعلي من هم؟ «قال» أي علي: أنا إلخ.
Note 1
(47) وقوله: سبعة نجباء رقباء۔ سبعہ مضاف ہے اور نجباء ورقباء مضاف الیہ ہیں۔ اور یہ دونوں فعلاء کے وزن پر جمع
ہیں۔ نجیب کے معنی ہیں کریم منتخب شدہ پسندیدہ اور رقیب اقتدار کی حفاظت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ان سے مراد
ہر نبی کے زمانہ میں موجود حضرات ہیں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و اعطیت سے سمجھ میں آتی ہے۔
وقوله: قلنا۔ یعنی ہم حضرت علی سے عرض کئے وہ کون ہیں۔ آپ نے یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
میں الخ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ تو اپنے اس چھوٹے بندے(48) یعنی ابوہریرہ اور ان کی والدہ کو
اپنے مومن بندوں کے پاس محبوب بنا دے اور ان مومنین کو دونوں کے پاس محبوب بنا دے۔ (مسلم)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا لوگوں میں سے ایسا
کوئی نہیں ہے جس کو فتنہ گھیر لیتا ہو مگر میں اس پر اس کا خوف کھاتا ہوں سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا فتنہ کو نقصان نہیں پہنچائیگا۔ (ابوداؤد)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے حضرت زبیر کے گھر میں چراغ کو دیکھا تو فرمایا اے عائشہ میں اسماء کو نہیں دیکھتا مگر ان کو بچہ پیدا
ہوا اور تم اس کا نام مت رکھو یہاں تک کہ میں اس کا نام رکھوں پس آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا اور
کھجور چبا کر(49) اپنے دست اقدس سے ان کی تالو میں لگا دیا۔ (ترمذی)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
rubbed his palate with a date
(1) The statement “rubbed his palate with a date”: With emphasis on the “n” sound. It is said: “I rubbed the palate of the child” when one chews a date or similar and rubs it on the child’s palate. This indicates that when a child is born to someone, it is recommended to request a noble person to name the child and rub their palate with a date, honey, or similar sweets for blessing with their saliva. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله وحنكه بتمرة بتشديد النون بيده يقال
(۱) قوله وحنكه بتمرة بتشديد النون بيده يقال: حنكت الصبي إذا مضغت تمرا وغيره، ثم دلكته بحنكه. وفيه أنه ولد لأحد ولد أن يطلب من شريف القوم أن يسمى ذلك الولد، ويحنكه بتمرة أو عسل ونحوهما من الحلواء تبركا ببزاقه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(49) قوله: وحنكه بتمرة. نون کو تشدید ہے، بیدہ کہا جاتا ہے حنكت الصبي جب تم کھجور یا اس کے علاوہ کوئی
چیز چبا دو پھر تم اس کو اس کی تالو پر لگا دو اور اس حدیث میں یہ بات بھی ہے کہ جب کسی کے یہاں لڑکا پیدا ہو تو اس کو
چاہئے کہ قوم کے معزز آدمی سے اس لڑکے کا نام رکھنے کی خواہش کرے اور وہ کھجور یا شہد یا ان جیسی کوئی میٹھی چیز
چبا کر اس کے منہ میں دے تا کہ ان کے لعاب کی برکت حاصل ہو۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی عمیرہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے حضرت معاویہ سے فرمایا اے اللہ ان کو ہدایت دینے والا(50) اور
ہدایت یافتہ بنا دے اور ان کے ذریعہ ہدایت کا کام لے۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3842 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
a guide, rightly guided
(1) The statement “a guide, rightly guided”: Guidance is either mere direction or direction leading to the goal. I say: If “guide” is taken in the first sense, “rightly guided” completes it, as some guides are not rightly guided. The statement “guide others through him” perfects it, as one who achieves guidance may not be followed. Thus, it is completed and perfected. If taken in the second sense, “rightly guided” is for emphasis, and “guide others through him” completes it, meaning he is complete and perfecting others. This was stated by At-Tibi. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: هاديا مهديا : الهداية إما مجرد الدلالة، أو هي الدلالة الموصلة إلى البغية. أقول: لو حمل هاديا على الأول كان قوله: «مهديا تكميلا له؛ لأن رُبَّ هاديا لا يكون مهديا . وقوله: «اهد به تتميها؛ لأن الذي فاز بمدلوله قد لا يتبعه أحد، فكمل، ثم تمم، وإذا ذهب إلى المعنى الثاني كان مهديا تأكيدا، واهد به تكميلا يعني أنه كامل مكمل، قاله الطيبي.
Note 1
(50) قوله: هاديا مهديا. ہدایت یا تو صرف رہبری ہے یا مقصود تک پہنچانا میں کہتا ہوں اگر ہادیا پہلے معنی پر محمول کیا
جائے تو مهديا اس کا تکملہ ہوگا کیونکہ بعض ہدایت دینے والے ہدایت یافتہ نہیں ہوتے۔ وقوله: اهد به. بطور
تکملہ کے ہے، کیونکہ جو شخص اپنے مقصود کو پا لیتا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی اس کی پیروی نہیں کرتا پہلے وہ کامل ہوتا
ہے پھر مکمل ہوتا ہے۔ اور اگر دوسرے معنی مراد ہو تو مهديا تاکید ہوگا اور اهد به اس کا تکملہ، یعنی وہ کامل و مکمل
ہیں۔ (طیبی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3844 (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
the people submitted, but Amr ibn Al-As believed
(1) The statement “the people submitted, but Amr ibn Al-As believed”: This indicates that they submitted out of fear, while Amr believed out of desire. Submission may be mixed with reluctance, but faith comes only from desire, as stated by At-Tibi and others. Ibn Al-Malik said: He was singled out for faith because his Islam took root in his heart in Abyssinia when the Negus acknowledged the Prophet’s (ﷺ) prophethood. He came to the Messenger of Allah (ﷺ) as a believer without anyone inviting him, arriving in Madinah immediately and believing. The Prophet (ﷺ) placed him in charge of a group including As-Siddiq and Al-Faruq. This was because, before his Islam, he was intensely hostile to the Prophet (ﷺ) and sought to destroy his companions. Upon believing, he wished to remove the lingering effect of that hostility from his heart, ensuring security from his side and not despairing of Allah’s mercy. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: أسلم الناس وآمن عمرو بن العاص هذا تنبيه على أنهم أسلموا رهبة، وآمن عمرو رغبة؛ فإن الإسلام يحتمل أن يشوبه كراهة، والإيمان لا يكون إلا عن رغبة، ذكره الطيبي وغيره. وقال ابن الملك: إنما خصه بالإيمان رغبة؛ لأنه وقع إسلامه في قلبه في الحبشة حين اعترف النجاشي بنبوته، فأقبل إلى رسول الله ﷺ مؤمنا من غير أن يدعوه أحد إليه، فجاء إلى المدينة في الحال ساعيا فآمن، فأمره النبي الله على جماعة فيهم الصديق والفاروق، وذلك لأنه كان مبالغا قبل إسلامه في عداوة النبي الله وإهلاك أصحابه، فلما آمن أراد أن يزيل عن قبله أثر تلك الوحشة المتقدمة حتى يأمن جهته، ولا ييئس من رحمة الله تعالى. كذا في «المرقاة».
Note 1
(51) قوله: اسلم الناس وآمن عمرو بن العاص. یہ آگاہی ہے اس بات کی کہ وہ لوگ خوف کے مارے اسلام
لائے اور عمرو بن عاص خوشدلی کے ساتھ ایمان لائے کیونکہ اسلام لانا ناپسندیدگی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور ایمان
لانا صرف رضامندی کے ساتھ ہوتا ہے اس کو علامہ طیبی وغیرہ نے ذکر کیا ہے اور علامہ ابن ملک نے کہا کہ حضور نے
ان کو خوشدلی کے ساتھ ایمان لانے سے خاص کیا کیونکہ ان کا اسلام لانا ان کے دل میں حبشہ ہی میں اثر کیا تھا جس
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقت نجاشی نے آپ کی نبوت کا اعتراف کیا اور کسی نے ان کو بلائے بغیر ہی وہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے پاس بحالت ایمان حاضر ہو گئے پھر اسی وقت لوٹتے ہوئے مدینہ آئے اور ایمان لائے پھر نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جماعت کا امیر مقرر کیا جن میں حضرت صدیق و فاروق بھی تھے اور یہ اس لئے تھا
کیونکہ وہ اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور آپ کے صحابہ کو ہلاک کرنے کے لئے پیش
پیش رہتے تھے جب وہ ایمان لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ ان کے دل سے اس پرانی کلفت کا اثر
زائل ہو جائے یہاں تک کہ وہ اس طرف سے مطمئن ہو جائیں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ (مرقات)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم مجھ سے ملاقات کے تو فرمایا: اے جابر! کیا ہوا ہے مجھ کو کہ میں تم کو افسردہ دیکھ رہا ہوں میں نے کہا
میرے والد شہید ہو گئے اور بال بچے و قرض چھوڑ گئے آپ نے فرمایا کیا میں تم کو خوشخبری نہ دوں اس
معاملہ کی جو اللہ نے تمہارے والد کے ساتھ کیا میں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ آپ نے فرمایا اللہ
نے کسی کے ساتھ کلام نہیں کیا مگر حجاب کے پیچھے سے اور اس نے تمہارے والد کو زندہ(52) کیا اور ان
سے راست کلام کیا کہا اے میرے بندے مجھ سے خواہش کر میں تجھ کو عطا کروں گا انہوں نے کہا اے
میرے رب تو مجھے زندہ(53) کر کہ میں تیری خاطر دوبارہ شہید کر دیا جاؤں رب تبارک و تعالیٰ نے کہا
کہ میرا یہ قول گزر چکا ہے کہ وہ (مردے) نہیں لوٹیں گے پس آیت ”وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي
سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا“ (3، آل عمران، آیت نمبر:169) نازل ہوئی اور تم ان لوگوں کو ہرگز مردے نہ
سمجھو جنہیں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا گیا ہے۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3010 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
revived your father
(1) The statement “revived your father”: If you ask: How does this Hadith align with Allah’s statement: But they are alive with their Lord [Qur’an 3:169], since it implies they are alive, so how can He revive the living? Al-Mudhir said: It is said that Allah placed that soul in the body of a green bird, thus reviving the bird with that soul, making the revival valid. Or, “revival” refers to strengthening his soul, enabling him to witness the truth with that strength. At-Tibi said: This response is also from wise rhetoric, meaning: Do not be concerned with his worldly affairs, such as the care of his dependents or settling his debts, for Allah will settle his debts through the blessing of His Prophet and show kindness to his dependents. But I give you glad tidings of his nearness to Allah and the honor and gifts he received. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
revive me so that I may be killed for Your sake a second time
(2) The statement “revive me so that I may be killed for Your sake a second time”: This is a report in the form of a supplication, meaning: Revive me so that I may be martyred in Your cause again, as a means to increase the pleasure of the Lord. The statement “they shall not return”: It is more apparent that the pronoun refers to the martyrs, meaning they do not return by their request or wish, so it does not conflict with the martyr of the Dajjal. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: وأحيا أباك: فإن قلت: كيف الجمع بين هذا الحديث وبين قوله تعالى: ﴿بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ﴾ (آل عمران: ١٦٩)؛ لأن التقدير وهم أحياء فكيف يحيي الي ؟ فقال المظهر : قيل: جعل الله تعالى تلك الروح في جوف طير خضر، فأحيا ذلك الطير بتلك الروح، فصح الإحياء، أو أراد بالإحياء زيادة قوة روحه، فشاهد الحق بتلك القوة. قال الطيبي: وهذا الجواب أيضًا من الأسلوب الحكيم، أي لا تهتم بشأن أمر دنياه من هم عياله وقضاء دينه، فإن الله تعالى يقضي عنه دينه ببركة نبيه ويلطف بعياله، ولكن أبشرك بما هو فيه من القرب عند الله سبحانه وما لقيه به من الكرامة والمنحة. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: تحييني فاقتل فيك ثانية: خبر بمعنى الدعاء، أي أحيني حتى استشهد في سبيلك مرة أخرى؛ ليكون وسيلة إلى زيادة مرضاة المولى. وقوله: إنهم لا يرجعون». والأظهر أن الضمير راجع إلى الشهداء، ومعناه لا يرجعون بالتماسهم وتمنيهم، فلا يشكل بشهيد الدجال. كذا في المرقاة».
Note 1
(52) قولہ: واحیا اباک۔ اگر تم کہو یہ حدیث اور اللہ تعالیٰ کے قول: ”بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ“ کے درمیان تطبیق کیسے
ہو گی کیونکہ تقدیر عبارت ہم احیاء ہے یعنی وہ زندہ ہیں تو کیسے زندہ کو زندہ کیا جائے گا مظہر نے کہا کہا گیا اللہ
تعالیٰ اس روح کو ایک ہرے پرندے کے پیٹ میں کر دیا پھر وہ پرندے کو اس روح سے پیدا کیا تو زندہ کرنا درست
ہوا زندہ کرنے سے ان کی روحانی طاقت کی زیادتی مراد لی ہو پس انہوں نے اسی قوت سے اللہ کا مشاہدہ کیا ہو طیبی
نے کہا یہ جواب بھی اسلوب حکیم سے ہے یعنی تم ان کے دنیاوی معاملہ کی فکر نہ کرو، ان کے بال بچوں اور ان کے
قرض کی ادائیگی کی پرواہ نہ کرو۔ بے شک اللہ ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرے گا ان کی نیت کی برکت سے اور ان
کے بال بچوں پر مہربانی کرے گا لیکن میں تم کو خوشخبری دیتا ہوں (اس معاملہ) جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی قربت
میں ہے اور جس کی وجہ سے وہ بزرگی و عطا کو پائے۔ (مرقات)
(53) قولہ: تحیینی فاقتل فیک ثانیۃ۔ صیغہ خبر ہے دعاء کے معنی میں یعنی مجھے زندہ کر یہاں تک کہ میں دوبارہ
تیری راہ میں شہید کر دیا جاؤں تا کہ یہ ہلاک کی زیادہ خوشنودی کا ذریعہ ہو جائے۔ قولہ: انهم لا يرجعون۔
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ظاہری بات تو یہ ہے کہ ضمیر شہداء کی لوٹ رہی ہے اور مطلب یہ ہے وہ نہیں لوٹیں گے اپنی خواہش
و آرزو سے پس دجال کے شہید پر اشکال باقی نہیں رہتا۔ (کہ اس کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا)(مرقات)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایمان کی علامت(54) انصار کی محبت ہے اور نفاق کی علامت
انصار سے بغض ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 17 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 74a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
sign of faith
(1) The statement “sign of faith”: Meaning a sign of its perfection. The statement “love for the Ansar”: Ibn At-Tin said: This refers to loving all of them, as this is for the sake of religion. If someone hates one of them for a justifiable reason, they are not included in this. This is a good explanation. The Ansar are the supporters of the Messenger of Allah (ﷺ) from the Aws and Khazraj. Before Islam, they were known as the sons of Qaylah, their common ancestress. The Prophet (ﷺ) named them the Ansar, and it became their title. The Qur’an praised them. The term extended to their children, allies, and freed slaves. They earned this virtue by sheltering and supporting the Prophet (ﷺ), establishing faith and a home in Madinah, making it their permanent base. This led to enmity from Arabs and non-Arabs, resulting in envy and hatred. Hence, the warning against hating them and the encouragement to love them. Whoever loves them has perfected their faith, and whoever hates them shows a sign of hypocrisy and deficiency. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : آية الإيمان أي علامة كماله. وقوله: «حب الأنصار قال ابن التين المراد حب جميعهم؛ لأن ذلك إنما يكون للدين، فمن أبغض بعضهم لمعنى يسوغ البغض به فليس داخلا في ذلك، وهو تقرير حسن، والمراد بالأنصار أنصار رسول الله ﷺ من الأوس والخزرج، وكانوا يُعرفون قبل الإسلام بأبناء قيلة، وهي الأم التي تجمع القبيلتين، فسماهم النبي ﷺ الأنصار، فصار علما لهم، ونزل القرآن بمدحهم.
وقد أطلق على أولادهم وحلفائهم ومواليهم، وإنما فازوا بهذه المنقبة لأجل إيوائهم النبي ﷺ ونصرته حيث تبوؤا الدار والإيمان، وجعلوه مستقرا ومتوطنا لهم؛ لتمكنهم منه واستقامتهم عليه، كما جعلوا المدينة كذلك، فكان ذلك موجبا لمعاداة العرب والعجم، فأفضى ذلك إلى الحسد، وهو يجر إلى البغض، فلذا جاء الترهيب عن بغضهم والترغيب في حبهم، فمن أحبهم فذلك من كمال إيمانه، ومن أبغضهم فذلك من علامة نفاقه ونقصانه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(54) قوله: آية الايمان. یعنی کمال ایمان کی علامت۔ قوله: حب الانصار. ابن تین نے کہا مراد تمام انصار کی
محبت ہے کیونکہ یہ دین کی وجہ سے ہے پس جو ان میں سے کسی سے دلی صفائی نہ رکھے کسی مناسب معنی کی وجہ سے تو
وہ اس وعید کے تحت داخل نہ ہوگا، اور انصار سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار ہیں اوس و خزرج قبیلوں
کے اور وہ اسلام سے پہلے ابناء قیلہ سے جانے جاتے تھے اور یہ اصل ہے جو دو قبیلوں کو جمع کرتی ہے سو نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم نے ان کو انصار سے موسوم کیا تو وہ ان کا نام ہی ہوگیا اور قرآن کریم ان کی تعریف میں نازل ہوا اور ان
کی اولاد ”وحلیفوں“ غلاموں پر انصار کا اطلاق کیا گیا بے شک وہ اس فضیلت کے حقدار بنے ان کے نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کو (خالصانہ طور پر) ٹھکانہ دینے اور آپ کے دین کی (بے لوث) مدد کرنے کی وجہ سے جیسا کہ وہ گھر
اور ایمان کو ٹھکانا بنانے اور انہوں نے اس کو اپنے لئے مستقر اور وطن بنا لیا ان کے ایمان پر قابو پا لینے اور اس پر
استقامت کی وجہ سے جیسا کہ انہوں نے مدینہ کو اسی طرح بنا لیا سو یہ بات عرب و عجم کیلئے ان سے دشمنی کا باعث
ہوئی اور یہ حسد تک پہنچا دیتی اور حسد بغض تک لے جاتا اسی لئے ان سے بغض رکھنے سے ترہیب آئی اور ان سے
محبت رکھنے میں ترغیب آئی پس جو ان سے محبت کرے یہ اس کے کمال ایمان کی علامت اور جو ان سے بغض رکھے
یہ اس کے نفاق اور یقین کی کمزوری کی علامت ہے۔ (مرقات)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا انصار سے کوئی بغض(55) نہیں کرتا جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔
ترمذی نے اس کو روایت کیا اور کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا انصار سے محبت نہیں کرتا مگر مومن اور ان سے بغض نہیں کرتا مگر منافق
پس جو ان سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض
رکھے۔ (متفق علیہ)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے چند بچوں اور عورتوں کو(56) شادی سے آتے ہوئے دیکھا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے
ہوئے اور کہا: اے اللہ! تم میرے نزدیک محبوب لوگوں میں سے ہو اے اللہ! تم میرے نزدیک محبوب
ترین لوگوں میں سے ہو یعنی انصار۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3785 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2508a (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
from a wedding feast
(1) The statement “from a wedding feast”: Ibn Al-Malik said: This refers to the food of the wedding celebration. The statement “O Allah, you”: This is a rhetorical shift, meaning: O Allah, You know the truth of what I say about the Ansar. Then he addressed them, saying: “You are among the most beloved people to me,” repeating it for emphasis. The address involves a rhetorical shift, prioritizing the children over the women or the absent over the present. This is supported by the narrator’s statement “meaning the Ansar,” indicating the Prophet (ﷺ) meant the Ansar community by “you.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: من عرس وهو بضم العين طعام الوليمة، ذكره ابن الملك. وقوله: «اللهم أنتم فيه التفات، والتقدير: اللهم أنت تعلم صدقي فيما أقول في حق الأنصار ، ثم خاطبهم بقوله: «أنتم من أحب الناس إلي إلخ» كرره للتأكيد في الخطاب. وفي الخطاب التفات وتغليب للصبيان على النساء أو للغائبين على الحاضرين، ويؤيده قول الراوي يعني الأنصار، أي يريد النبي ﷺ بقوله : «أنتم» طائفة الأنصار. كذا في «المرقاة».
Note 1
(56) قولہ: من عرس۔ عین کو پیش ہے ولیمہ کا کھانا اس کو ابن مالک نے ذکر کیا۔
قولہ: اللهم انتم۔ اس میں التفات ہے اور تقدیر عبارت اے اللہ تو جانتا ہے میری سچائی کو جو کچھ کہ میں انصار
کے حق میں بول رہا ہوں پھر آپ نے انہیں انتم من احب الناس سے خطاب کیا الخ۔ اس جملہ کو مکرر لایا
خطاب میں تاکید کیلئے اور خطاب میں التفات ہے اور بچوں کو غلبہ دینا ہے عورتوں پر یا غائبین کو غلبہ دینا ہے حاضرین
پر اور اس کی تاکید کرتا ہے راوی کا قول یعنی الانصار مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول انتم سے انصار کی
جماعت مراد لے رہے ہیں۔ (مرقات)
انہی سے روایت ہے، کہا: انصار کے کچھ لوگوں نے کہا: جس وقت اللہ نے
اپنے رسول کو ہوازن کے مالوں میں سے(57) عطاء کیا جو کچھ عطاء کیا، آپ قریش کے کچھ لوگوں کو سو
سو اونٹ دینا شروع کئے تو انہوں نے کہا اللہ اللہ کے رسول کی کی شان بلند کرے آپ قریش کو
(زیادہ) دیتے ہیں اور ہمیں (کم دیکر) چھوڑ دیتے ہیں جبکہ ہماری تلواریں ان کا خون ٹپکا رہی ہیں سو
ان کی یہ گفتگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر دی گئی تو آپ نے انصار کی طرف (کسی کو) بھیجا
اور انہیں چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا اور ان کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کو نہیں بلایا جب وہ جمع
ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور کہا یہ کیا بات ہے جو تمہاری جانب
سے مجھے پہنچی تو ان کے سمجھ دار لوگوں نے کہا اب رہے ہم اصحاب رائے تو ان لوگوں نے کچھ نہیں کہا
اور اب رہے ہم میں سے کچھ نوعمر لوگ انہوں نے کہا اللہ اللہ کے رسول کی شان بلند کرے جو قریش کو
(زیادہ) دیتے ہیں اور انصار کو (کم دیکر) چھوڑ دیتے ہیں جبکہ ہماری تلواریں ان کا خون ٹپکا رہی ہیں تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک میں کفر سے قریب العہد لوگوں کو دے رہا ہوں ان کی
دلجوئی کرتے ہوئے کیا تم راضی نہیں ہوگے کہ لوگ تو مالوں کو لے جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کے
رسول کے ساتھ لوٹو گے انہوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ بے شک ہم راضی ہوگئے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3147 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1059a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Allah granted His Messenger
(1) The statement “Allah granted His Messenger”: Meaning He gave him spoils. The statement “he began”: Meaning the Messenger of Allah (ﷺ) started, and this was at Al-Ji’ranah upon his return from Ta’if. The statement “with their blood”: Meaning the blood of the disbelievers of Quraysh, due to our fighting them until they embraced Islam. The statement “inviting”: With a silent dal and dammah on the ‘ayn, meaning he did not call. In another version, with a fatha on the dal and a silent ‘ayn, meaning he did not leave anyone with them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : أفاء الله على رسوله : أي أعطاه فيئا، أي غنيمة. وقوله: «فطفق أي شرع رسول الله ، وهو بالجعرانة حين مرجعه من الطائف. وقوله: من دمائهم أي من دماء كفار قريش بمحاربتنا إياهم حتى يسلموا. وقوله: «لم يدع» بسكون الدال وضم العين، أي لم يطلب. وفي نسخة بفتح الدال وسكون العين، أي لم يترك معهم. كذا في «المرقاة».
Note 1
(57) قولہ: افاء الله على رسوله۔ یعنی اللہ نے آپ کو فیء یعنی غنیمت عطاء کیا۔
قولہ: فطفق۔ یعنی شروع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ اس وقت طائف سے لوٹتے ہوئے جعرانہ
میں تھے۔ قولہ: من دمائهم۔ یعنی کفار قریش کے خون ہمارے ان سے جنگ کرنے کی وجہ سے یہاں تک کہ وہ
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اسلام لائے۔ قوله: لم يدع. دال کو جزم ہے اور عین کو پیش ہے یعنی آپ نے طلب نہیں کیا
اور ایک نسخہ میں دال کو زبر ہے اور عین کو جزم ہے یعنی ان کے ساتھ نہیں چھوڑا۔ (مرقات)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ تھے فتح (58) مکہ کے دن سو آپ نے فرمایا جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل
ہو جائے وہ امن میں ہے اور جو شخص ہتھیار ڈال دے وہ (بھی) امن میں ہے پس انصار بولے حضور پر
اپنے خاندان والوں کے ساتھ مہربانی اور اپنے اہل وطن کی چاہت غالب آ گئی ہے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی آپ نے فرمایا تم لوگوں نے ایسا کہا ہے کہ مجھ پر اپنے خاندان والوں کے
ساتھ مہربانی اور اپنے اہل وطن کی چاہت غالب آگئی ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے بے شک میں اللہ کا بندہ
اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ کی طرف اور تمہاری طرف ہجرت کرلی ہے (اب تو) میری زندگی
تمہاری زندگی ہے اور میری وفات تمہاری وفات کے ساتھ ہے انہوں نے کہا: خدا کی قسم! ہم نے نہیں
کہا؛ مگر اللہ اور اس کے رسول کی عطا کو محدود سمجھتے ہوئے(59) آپ نے فرمایا بے شک اللہ اور اس کے
رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1780a (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
the day of the conquest
(1) The statement “the day of the conquest”: Meaning the conquest of Makkah. The statement “whoever enters the house of Abu Sufyan is safe”: At-Tibi said: The Prophet (ﷺ) said this after Abu Sufyan embraced Islam. Al-Abbas said to the Messenger of Allah (ﷺ): “This man loves honor, so grant him something.” He said: “Yes, whoever enters the house of Abu Sufyan is safe.” The statement “for his town”: Meaning the people of his town. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
we only said this out of protectiveness for Allah and His Messenger
(2) The statement “we only said this out of protectiveness for Allah and His Messenger”: At-Tibi said: They meant they only said it out of zeal for the honor Allah granted them, fearing it might be lost to others, and out of protectiveness for the Messenger, lest he move from their town to his own. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: يوم الفتح: أي فتح مكة. وقوله: من دخل دار أبي سفيان فهو آمن. قال الطيبي: إنما قال النبي ﷺ ذلك حين أسلم أبو سفيان. وقال العباس الرسول الله ﷺ : هذا رجل يحب الفخر فاجعل له شيئا، قال: «نعم، من دخل دار أبي سفيان فهو آمن. وقوله: «في قريته أي في أهل بلدته. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: ما قلنا إلا ضنا بالله ورسوله قال الطيبي: يريدون ما قلنا ذلك إلا ضنا بما آتانا الله من كرامته، خشية أن يفوتنا فيناله غيرنا وشحا برسوله له أن ينتقل من بلدتنا إلى بلدته. كذا في «المرقاة».
Note 1
(58) قوله: يوم الفتح. یعنی فتح مکہ کا دن۔ قوله: من دخل دار ابى سفيان فهو آمن. طیبی نے کہا بے شک
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کے اسلام لانے کے وقت ایسا کہا اور حضرت عباس نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے کہا یہ وہ آدمی ہیں جو بڑائی چاہتے ہیں آپ ان کے لئے کچھ کر دیجئے آپ نے کہا ٹھیک ہے جو شخص
ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے وہ امن میں ہے۔ قوله: في قريته. یعنی آپ کے شہر والے۔ (مرقات)
(59) قوله: ما قلنا الا ضنا بالله وبرسوله. طیبی نے کہا (ہم نے ایسا نہیں کیا) مگر بخل تھا اس ڈر کے ساتھ کہ جو کچھ
اللہ تعالیٰ نے ہم کو اپنے فضل و کرم سے عطا کیا ہے کہیں وہ ہم سے فوت نہ ہوجائے (یعنی آپ کی ہمسائیگی و قربت)
اور اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بخل تھا کہ آپ ہمارا شہر چھوڑ کر اپنے شہر منتقل ہوجائے۔ (مرقات)
انہی سے روایت ہے کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہجرت(60)
نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک دوسری وادی میں چلیں(61)
(فرمایا) تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا انصار تو شعار ہیں اور لوگ دثار ہیں (اے انصار) تم
میرے بعد ترجیح دیکھو گے تم صبر کرو یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے ملو۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4330 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
were it not for the migration, I would have been a man of the Ansar
(1) The statement “were it not for the migration, I would have been a man of the Ansar”: In Sharh As-Sunnah, it is said: This does not mean changing his lineage, as that is forbidden, and his lineage is the most noble. Rather, it refers to territorial affiliation, meaning: Were it not for the migration, which is a religious duty I was commanded to undertake, I would have affiliated with your city and not abandoned this name for you. It is also said: This was to honor the Ansar and indicate that no rank after migration is higher than support. It shows they reached such a level of honor that, were he not among the Migrants, he would count himself among the Ansar due to their nobility with Allah. In sumMaryam (Mary): Were it not for my superiority over the Ansar due to migration, I would be one of them. This is humility from him and an encouragement to honor and respect them, though they do not reach the rank of the early Migrants who were expelled from their homes, cut off from kin, and deprived of their lands and wealth for the sake of Allah’s pleasure and His Messenger’s, and to elevate Allah’s religion and His Messenger’s Sunnah. The Ansar, despite their support, selflessness, love, and sheltering, remained in their homes with their kin. This statement highlights the greatness of migration, as no migrant prophet would abandon it for an Ansari. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
or pass
(2) The statement “or pass”: With a kasra and then a sukoon, indicating the narrator’s uncertainty, as both terms mean the same. The statement “I would take the valley or pass of the Ansar”: This indicates his approval of them and preference for them over others due to their fulfillment of covenants and good companionship. It does not mean they must be followed, as following him is obligatory for every believer, for he is the followed and obeyed, not the follower. The statement “the Ansar are my inner circle”: Meaning they are the closest to me and the most entitled to my regard. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : لولا الهجرة لكنت أمراً من الأنصار في شرح السنة»: ليس المراد منه الانقتال من النسب الولادي؛ لأنه حرام مع أن نسبه أفضل الأنساب وأكرمها، وإنما أراد به النسب البلادي، ومعناه لولا الهجرة من الدين ونسبتها دينية لا يسعني تركها؛ لأنها عبادة كنت مأمورا بها لانتسبت إلى داركم، ولا نتقلت عن هذا الاسم إليكم. وقيل: أراد بهذا الكلام إكرام الأنصار، والتعريض بأن لا رتبة بعد الهجرة أعلى من النصرة، وبيان أنهم بلغوا من الكرامة مبلغا لولا أنه من المهاجرين إلى المدينة لعد نفسه من الأنصار؛ لكرامتهم عند الله تعالى، وتلخيصه لولا فضلي على الأنصار بسبب الهجرة لكنت واحدا منهم. وهذا تواضع منه الله وحث للناس على إكرامهم واحترامهم، لكن لا يبلغون درجة المهاجرين السابقين الذين أخرجوا من ديارهم، وقطعوا عن أقاربهم وأحبابهم، وحرموا أوطانهم وأموالهم - وهم ما نالوا ذلك بآلة - لأجل رضا الله ورسوله، وإعلاء لدين الله وسنة رسوله، والأنصار وإن اتصفوا بصفة النصرة والإيثار والمحبة والإيواء، ولكنهم مقيمون في مواطنم ساكنون مع أقاربهم وأحبابهم، وحسبك شاهدا في فضل المهاجرين قوله هذا؛ لأن فيه إشارة إلى جلالة رتبة الهجرة، فلا يتركها نبي مهاجري لأنصاري. كذا في المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: أو شعبا: بكسر فسكون شك من الراوي؛ إذ مالهما واحد. وقوله: لسلكت وادي الأنصار إلخ» أراد بذلك حسن موافقته إياهم وترجيحهم في ذلك على غيرهم؛ لما شاهد منهم حسن الوفاء بالعهد وحسن الجوار، وما أراد بذلك وجوب متابعته إياهم؛ فإن متبابعته حق على كل مؤمن؛ لأنه الله هو المتبوع المطاع لا التابع المطيع. وقوله: «الأنصار شعار والمعنى أنهم أقرب الناس إلي وأولاهم مني منزلة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(60) قوله: لولا الهجرة لكنت امرأ من الانصار. (شرح السنہ میں ہے اس سے مراد پیدائشی نسب سے منتقل ہونا
نہیں ہے کیونکہ یہ حرام ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب تمام نسبوں میں افضل اور انہیں کا معزز ہے، بے شک
آپ نے اس سے وطنی و مقامی نسبت مراد لی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے اگر ہجرت (کا تعلق) دین سے نہ ہوتا اور
اس کی طرف منسوب ہونا دینی نہ ہوتا تو مجھے اس کا چھوڑنا گوارا نہ ہوتا کیونکہ وہ عبادت ہے مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے
تو ضرور میں تمہارے گھر کی طرف منسوب ہوتا اور میں یہ نام چھوڑ کر تمہاری طرف منتقل ہوجاتا اور یہ بھی کہا گیا آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام سے انصار سے عزت افزائی کا ارادہ کیا اور اشارہ کرنا ہے کہ ہجرت کے بعد نصرت
(دینی) سے اونچا کوئی مرتبہ نہیں اور یہ بتلانا ہے کہ وہ (انصار) بزرگی کے ایسے مقام پر پہنچے ہوئے ہیں اگر آپ صلی
اللہ علیہ وسلم مدینہ کی جانب ہجرت کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو اپنے آپ کو انصار میں سے شمار کرتے ان کے
اللہ کے نزدیک برگزیدہ ہونے کی وجہ اور اس کا خلاصہ یہ ہے اگر انصار کے اوپر ہجرت کے سبب میری فضیلت نہ
ہوتی تو میں انہیں میں کا ایک ہوتا یہ آپ کی جانب سے تواضع ہے اور لوگوں کو ابھارنا ہے ان کی عزت افزائی
و احترام پر لیکن وہ لوگ سبقت کرنے والے مہاجرین کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے جنہیں ان کے گھروں سے نکال دیا
گیا، ان کے رشتہ داروں سے دوست احباب سے دور کردیا گیا اور ان کے شہروں مال و دولت سے محروم کردیا گیا۔
درآں حالیکہ مہاجرین رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ سب کرد و کاوش برداشت کئے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کی خاطر
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کو بلند کرنے کے خاطر انصار اگرچہ نصرت ایثار محبت
ٹھکانہ دینا جیسے اوصاف سے متصف ہیں لیکن وہ اپنے گھروں میں مقیم ہیں، اپنے رشتہ داروں دوست واحباب کے
ساتھ سکونت پذیر ہیں۔ مہاجرین کی فضیلت میں تم کو بطور دلیل آپ کا یہ قول ہی کافی ہے، کیونکہ اس میں اشارہ ہے
ہجرت کے مرتبہ کی عظمت کی طرف پس ایک بھی مہاجر انصاری بننے کیلئے اسے ترک نہیں کرسکتا۔ (مرقات)
(61) قولہ: او شعبا۔ شین کو کسرہ (زیر) ہے عین کو جزم ہے وادی کی جانب سے تنگ ہے۔ قولہ: لسلكت
وادي الانصار الخ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ان کے ساتھ اپنی اچھی مطابقت ہونے دوسروں پر ان
کی ترجیح ہونے کو بتلایا ہے آپ کا ان کے اندر عہد کو اچھا پورا کرنا اور اچھی سنگت ہونا (جیسے اوصاف) کا مشاہدہ
کرنے کی وجہ سے اور آپ نے اس سے ان کی اتباع کا واجب ہونا مراد نہیں لیا کیونکہ آپ کی اتباع تمام مومنوں
پر لازم ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت کی جاتی ہے نہ کہ آپ کی پیروی کرنے والے اطاعت
کرنے والے ہیں۔ قولہ: الانصار شعار۔ معنی یہ ہے کہ وہ (انصار) رتبہ کے اعتبار سے میرے نزدیک لوگوں
میں سب سے زیادہ قریب اور ان میں سب سے زیادہ حقدار ہیں میرے درجہ کے اعتبار سے۔ (مرقات)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت
ابوبکر اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما انصار کی مجلسوں میں سے کسی مجلس کے پاس سے گزرے جبکہ
وہ رو رہے تھے(62)، تو ان دونوں نے ان سے کہا کہ کیا چیز تم کو رلا رہی ہے؟ ان لوگوں نے کہا کہ ہم
یاد کئے ہمارے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو، پس ان دونوں میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی، پس نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر چادر کا کنارہ باندھے ہوئے تھے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور اس دن کے بعد آپ منبر پر نہیں چڑھے، پس آپ
نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثناء بیان فرمائی پھر ارشاد فرمایا کہ میں تم کو انصار کے لئے وصیت کرتا
ہوں کیونکہ یہ لوگ میرے مخلص اور مشیر خاص ہیں، اور انہوں نے ان پر جو واجب تھا ادا کر دیا ہے اور
جو ان کا حق ہے وہ باقی ہے، پس ان کے اچھوں سے عذر کو قبول کرو اور ان میں سے جن سے
نامناسب بات سرزد ہو جائے ان سے درگزر کرو۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3799 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
they were weeping
(1) The statement “they were weeping”: Meaning during his illness. The statement “we remembered the gatherings with the Prophet”: Meaning they feared losing them if Allah decreed his departure. The statement “my inner circle”: Meaning my close companions. In Sharh As-Sunnah: “My confidants” means my trusted ones, as Arabs use “confidant” for the heart or chest, the repository of secrets, just as a container holds clothes. The statement “they have fulfilled their obligations”: Meaning the Ansar fulfilled what was incumbent upon them through their pledge at Aqabah, where they vowed to support the Prophet (ﷺ) in exchange for Paradise, and they fulfilled it. Al-Asqalani said: “What is due to them” refers to their reward and recompense with Allah. “Accept from their good-doers” means if they provide an excuse for their actions, and “overlook their wrongdoers” means if they fail to provide an excuse. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: وهم يبكون أي في أيام مرضه . وقوله: «ذكرنا مجلس النبي ) يعنون نخاف فوته إن قدر الله موته. وقوله: «كرشي» أي بطانتي. وفي شرح السنة»: عيبتي، أي خاصتي، وهو موضع سري والعرب تكنى عن القلب والصدر بالعيبة؛ لأنهما مستودع السرائر كما أن العياب مستودع الثياب. وقوله: وقد قضوا أي أدى الأنصار الذي عليهم أي من الوفاء بما وقع لهم من المبائعة ليلة العقبة، فإنهم بايعوا على أنهم ينصرون النبي ولهم الجنة فوفوا بذلك، ذكره العسقلاني، وبقي الذي لهم أي من الأجر والثواب عند الله تعالى، فأقبلوا من محسنهم أي إن أتوا بعذر فيما صدر عنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم أي إن عجزوا عن عذر التقطته من المرقاة».
Note 1
(62) قولہ: وهم يبكون۔ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کے زمانہ میں۔ وقولہ: ذكرنا مجلس النبي
صلى الله عليه وسلم. ان کی مراد یہ تھی کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ رہنے کا اندیشہ کرتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ
نے آپ کے لئے حیات کو مقدر فرما دیا ہے۔ وقولہ: كرشي. یعنی میرے مخلص۔ اور شرح السنہ میں ہے
”عیبتی“ یعنی میرے خواص، اور وہ راز کا مقام ہے۔ اور عرب دل اور سینہ کو عیبۃ سے کنایہ استعمال کرتے ہیں
کیونکہ یہ دونوں رازوں کی حفاظت کے مقام ہیں، جیسا کہ صندوقیں کپڑوں کی حفاظت کا مقام ہیں۔ وقولہ: وقد
قضوا. یعنی انصار نے ادا کر دیا الذي عليهم جو کچھ ان پر واجب تھا، یعنی اس عہد وپیمان کے پورا کرنے کو جو
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) عقبہ کی رات ان کے حق ثابت ہوا تھا۔ کیونکہ انہوں نے اس بات کی بیعت کی تھی کہ وہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں گے اور ان کے لئے جنت ہوگی، پس انہوں نے اسے پورا کیا۔ اس کو امام عسقلانی نے
بیان کیا ہے۔ وبقي الذي لهم۔ یعنی ان کے لئے جو اجر و ثواب ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس باقی ہے۔ فاقبلوا
من محسنهم۔ یعنی اگر وہ عذر پیش کریں اس بارے میں جوان سے صادر ہوا ہے تو تم قبول کرو۔ وتجاوزوا
عن مسيئهم۔ اور ان میں سے جن سے کوئی نامناسب بات سرزد ہو جائے اور وہ عذر پیش کرنے سے عاجز ہوں تو
ان سے درگزر کرو۔ (ماخوذ از مرقات)
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ میرے مشیر خاص(63) جن کی جانب میں رجوع
کرتا ہوں میرے اہل بیت ہیں اور میرے مخلص انصار ہیں۔ پس جن سے نامناسب کام سرزد ہو تم ان
سے درگزر کرو اور ان کے اچھوں سے قبول کرو۔ (یہ حدیث حسن ہے۔ ترمذی)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
my confidants
(1) The statement “my confidants”: Meaning my trusted ones. The statement “my inner circle”: Meaning my close companions. The statement “forgive their wrongdoers and accept from their good-doers”: The pronoun refers to both the household and the Ansar, as in Allah’s statement: These are two adversaries who have disputed [Qur’an 22:19]. It is possible it refers only to the latter, with the former understood in the same way. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله عيبتي أي خاصتي. وقوله
(۱) قوله عيبتي أي خاصتي. وقوله: كرشي أي بطانتي. وقوله: فاعفوا عن مسيتهم واقبلوا عن محسنهم والضمير رجع إلى الصنفين من أهل البيت والأنصار على حد قوله تعالى: ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا ﴾ (الحج: ۱۹). ويحتمل أن يرجع إلى الأخير، والأول يفهم بالطريق الأولى. كذا في «المرقاة».
Note 1
(63) قوله: عيبتي۔ یعنی میرے خواص۔ وقوله: كرشي۔ یعنی میرے مخلص۔ وقوله: فاعفوا عن مسيئهم
واقبلوا عن محسنهم ضمیر اہل بیت اور انصار دونوں کی طرف راجع ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”هٰذَانِ
خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا“۔ (22الحج، آیت نمبر:19) میں ہے۔ اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ (ضمیر) اخیر
والوں کی طرف لوٹ رہی ہو۔ اور پہلے والے بطریق اولیٰ اس سے سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ (مرقات)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اپنے اس مرض میں جس میں آپ کا وصال ہوا یہاں تک کہ آپ
منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ پس آپ نے اللہ کی حمد اور اس کی ثناء بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اما
بعد: پس لوگ (64) بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگوں میں کھانے
میں نمک کے مانند ہو جائیں گے۔ پس تم میں سے جس کو تھوڑا سا بھی اقتدار حاصل ہو، جس میں وہ ایک قوم
کو نقصان اور دوسروں کو نفع پہنچا سکتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ ان کے اچھوں سے قبول کرے اور ان
میں کے جن سے نامناسب کام سرزد ہو ان سے درگزر کرے۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3800 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
the people
(1) The statement “the people”: Meaning the people of Islam, as they are the essence of humanity. The statement “will increase, and the Ansar will decrease”: At-Turbushti said: Because the Ansar are those who sheltered and supported the Messenger of Allah (ﷺ) in times of weakness and hardship. This status is unique to them, unattainable by those who come later. As each of them passes, there is no replacement, so others increase while they decrease. At-Tibi said: This also applies to the Migrants who migrated from Makkah to Madinah. It is more apparent to take it literally, as the Migrants and their descendants multiplied, spread, and ruled lands, unlike the Ansar. This is evident among the Ashraf, Alawites, Abbasids, Banu Khalid, and others. The statement “something”: Meaning a small portion of authority. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: فإن الناس: أي أهل الإسلام؛ لأنهم خلاصة الناس. وقوله: يكثرون ويقل الأنصار» قال التوربشتي؛ لأن الأنصار هم الذين أووا رسول الله الله ونصروه في حال الضعف والعسرة. وهذا أمر قد انقضى زمانه لا يلحقهم اللاحق ولا يدرك شأوهم السابق، فكلما مضى منهم واحد مضى من غير بدل، فيكثر غيرهم ويقلون. قال الطيبي: وهذا المعنى، أي التقليل قائم في حق المهاجرين الذين هاجروا من مكة إلى المدينة. ولعل الحمل على الحقيقة أظهر؛ لأن المهاجرين وأولادهم كثروا وتبسطوا في البلاد وانتشروا فيها وملكوها بخلاف الأنصار، انتهى. وهذا أمر مشاهد في الأشراف والعلويين والعباسية وبني خالد وأمثالهم. وقوله: شيئًا» أي قليلا من الولاية. التقطته من المرقاة».
Note 1
(64) قوله: فان الناس۔ سے مراد اہل اسلام ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی اصل ہیں۔ قوله: يكثرون ويقل الانصار.
امام تورپشتی نے بیان کیا ہے کہ انصار وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جگہ کا انتظام کیا اور
کمزوری اور تنگی کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس کا زمانہ گزر چکا ہے
نہ بعد میں آنے والے کی ان تک رسائی ہو سکتی ہے اور نہ ہی کوئی پہلے والا ان کی رفتار کو پا سکتا ہے۔ پس جب بھی
ان میں سے کوئی انتقال کر گئے تو ان کا کوئی بدل نہ رہا۔ پس اسی وجہ سے دوسرے لوگ بڑھ رہے ہیں اور وہ کم
ہو رہے ہیں۔ علامہ طیبی نے بیان کیا ہے کہ یہ معنی یعنی تقلیل ان مہاجرین کے حق میں بھی ثابت ہے جنہوں نے مکہ
سے مدینہ کی جانب ہجرت کی تھی اور حقیقت پر محمول کرنا راجح ہے کیونکہ مہاجرین اور ان کی اولاد بڑھتے گئے اور شہروں
میں پھیلتے گئے اور انہیں پھیل گئے اور ان کے مالک بن گئے برخلاف انصار کے۔ اور یہ بات سادات علوی اور عباسی
حضرات اور بنو خالد اور ان جیسے خاندانوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ وقوله: شيئا۔ یعنی تھوڑا سا بھی اقتدار۔ (مرقات)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ روایت کرتے ہیں حضرت
ابوطلحہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ارشاد فرمایا کہ تم اپنی قوم کو سلام کہو
کیونکہ وہ لوگ جیسا میں جانتا ہوں (65) پاک باز صبر کرنے والے ہیں۔ (ترمذی)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
as far as I know
(1) The statement “as far as I know”: “Know” is a relative pronoun, meaning based on what I know of their qualities. “Chaste” is the plural of chaste, and “patient” is the plural of patient. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: ما علمت «ما» موصولة أي بناءً على ما علمته فيهم من الصفات، أعفة بفتح فكسر فتشديد جمع عفيف وهي خبر إن ما علمت معترضة صبر) بضمتين جمع صابر. كذا في «المرقاة».
Note 1
(65) قوله: ما علمت۔ میں ”ما“ موصولہ ہے۔ یعنی ان میں موجود صفات کی بنا پر جن کو میں جانتا ہوں۔ اعفة: ”أ“ کو
فتح (زبر) ہے ”ع“ کو کسرہ (زیر) ہے ”ف“ کو تشدید ہے۔ عفیف کی جمع ہے اور یہ ”ان“ کی خبر ہے اور ما
علمت جملہ معترضہ ہے۔ صبر صاد اور باء دونوں کو ضمہ اور یہ صابر کی جمع ہے۔
حضرت سیدنا ابو اُسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصار کا سب سے بہترین قبیلہ (66) بنو نجار ہے، پھر بنو
عبدالاشہل پھر بنو حارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ ہیں اور انصار کے تمام قبیلوں میں خیر ہے۔ (متفق علیہ)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
the best houses of the Ansar
(1) The statement “the best houses of the Ansar”: Meaning their best tribes. Al-Asqalani said: The first “best” means most virtuous, and the second means possessing virtue, indicating that goodness exists in all the Ansar, though their ranks differ. An-Nawawi said: They said their ranking is based on their precedence in Islam and their merits in it. This proves the permissibility of ranking tribes and individuals without recklessness or bias, and it is not considered backbiting. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: خير دور الأنصار: أي أفضل قبائلهم. قال العسقلاني: الخير الأول بمعنى أفضل، والثاني بمعنى الفضل يعني الخير حاصل في جميع الأنصار وإن تفاوتت مراتبهم. وقال النووي: قالوا : تفضيلهم على قدر سبقهم في الإسلام ومآثرهم فيه. وفي هذا دليل على جواز تفضيل القبائل والأشخاص من غير مجازفة ولا هوى، ولا يكون هذ غيبة. كذا في المرقاة».
Note 1
(66) قوله: خير دور الأنصار. انصار کا سب سے بہترین قبیلہ، یعنی ان کا سب سے فضیلت والا قبیلہ۔ امام عسقلانی
نے فرمایا ہے کہ یہاں ”خیر“ افضل کے معنی میں ہے اور دوم غیر افضل کے معنی میں یعنی تمام انصار میں فضل موجود ہے
اگرچہ ان کے مراتب مختلف ہیں۔ امام نووی نے کہا کہ علماء کہتے ہیں کہ اُن کی فضیلت میں زیادتی ان کے اسلام
میں سبقت لے جانے اور اس میں کارناموں کے بقدر ہے۔ اس میں قبیلوں اور اشخاص کو افضل قرار دینے کے جواز پر
دلیل ہے جبکہ محض اندازے اور خواہش نفسانی سے نہ ہو اور یہ بات غیبت نہیں ہے۔ (مرقات)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “the Throne trembled at the departure of Sa’d ibn Mu’adh”: Meaning it trembled with joy and delight at his transition from the perishable to the eternal abode, as the souls of the righteous and martyrs reside under the Throne, housed in lanterns hung there. (As stated in Al-Mirqat) In Al-Lama’at, it is said: The trembling of the Throne is a metaphor for its joy and eagerness at his soul’s arrival, either literally or figuratively. The former is correct, as Allah has granted inanimate objects knowledge and discernment. Some said: It means the joy of its inhabitants. Others said: Its movement signaled the angels of his departure. Others said: The trembling is a metaphor for the magnitude of his passing, like saying, “The world shook at so-and-so’s departure.”
Note 1
(۱) قوله: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ والمعنى اهتز اهتشاشا و سرورا بتقلبه من الدار الفانية إلى الدار الباقية، وذلك لأن أرواح السعداء والشهداء مستقرها تحت العرش تأوي إلى قناديل معلقة هناك. كذا في «المرقاة». وقال في «اللمعات»: قيل: اهتزازا العرش كناية عن فرحه ونشاطه بقدوم روحه إليه، وذلك إما حقيقة أو مجاز، والأول هو الصواب، فقد جعل الله تعالى في الجمادات علما وتمييزا. وقيل: المراد فرح أهله. وقيل: حركته علامة للملائكة على موته. وقيل: اهتزاز العرش كناية عن عظم شأن وفاته، كما يقال: قامت القيامة بموت فلان. وقيل: اهتزازه لفقده ومصيبته.
Note 1
(34) قوله: اهتز العرش لموت سعد بن معاذ. اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے دار فانی سے دار باقی میں منتقل ہونے کی فرحت میں عرش جھومنے لگا اور یہ اس لئے ہے کہ اہل سعادت اور شہداء کی ارواح کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے اور وہ وہاں کی لٹکی ہوئی قندیلوں میں رہتی ہیں۔ (مرقات) صاحب لمعات نے فرمایا: عرش کا ہلنا اور جھومنا، یہ کنایہ ہے اس بات کا کہ ان کی ارواح کے وہاں آنے سے اس کو خوشی ہے۔ اس میں حقیقت وجاز دونوں باتیں ہوسکتی ہیں، اور ٹھیک بات تو پہلی بات ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جمادات میں بھی علم وتمیز رکھا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرش سے اہل عرش کی خوشی مراد ہے۔ اور یہ بھی قول ہے کہ عرش کا حرکت کرنا اُن کی وفات پر فرشتوں کیلئے علامت واطلاع ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرش کا ہلنا ان کی (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وفات کی عظمت شان سے کنایہ ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے قامت القيامة بموت فلان۔ فلاں کی موت سے قیامت قائم ہوگئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے عرش کا ہل جانا ان کے رحلت اور مصیبت کی وجہ سے ہے