And the saying of Allah, the Almighty: "And remember the name of your Lord." (Quran 73:8)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1120 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 769a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
گناہوں سے مغفرت کی جو دعا ہے وہ امت کے تعلیم کے لئے ہے، حضور ﷺ کے گناہوں سے
معصوم ہونے کی تحقیق نور المصابیح، حصہ دوم صفحہ 376 میں گزر چکی ہے۔12)
” مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ اَنْتَ
الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ “
(اے اللہ میں گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب آپ کو میں اپنا حاکم سمجھتا ہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ
معاف نہیں کرسکتا اس لئے) اس لئے آپ میرے اگلے پچھلے چھپے ہوئے اور ظاہری اور جن کو مجھ
سے زیادہ آپ جانتے ہیں، ان سب گناہوں کو آپ ایسا معاف کیجئے کہ میں گناہوں سے ایسا پاک
ہوجاؤں جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت پاک تھا (یہ اس لئے عرض کررہا ہوں کہ آپ
جو کرنا چاہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں) جس کو چاہیں آپ آگے کرسکتے ہیں اور جس کو چاہیں آپ
پیچھے ڈال سکتے ہیں، آپ ہی میرے معبود ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 775 (unverified) 99% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 242 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ یہ اور اس قسم کی حدیثوں کی وجہ سے عشاء کے بعد نوافل میں مذکورہ دعاؤں اور
مسنون اذکار کا اضافہ کر سکتے ہیں، حنفی مذہب بھی یہی ہے، اس کی تفصیل نور المصابیح حصہ دوم حدیث
نمبر (393) کے فائدہ میں ملاحظہ کی جائے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
گناہوں سے مغفرت کی جو دعا ہے وہ امت کے تعلیم کے لئے ہے، حضور ﷺ کے گناہوں سے معصوم ہونے کی تحقیق نور المصابیح، حصہ دوم صفحہ 376 میں گزر چکی ہے۔12) ” مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ “ (اے اللہ میں گناہ نہ کرنا تھا کیا، اب آپ کو میں اپنا حاکم سمجھتا ہوں، آپ کے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا اس لئے) اس لئے آپ میرے اگلے پچھلے چھپے ہوئے اور ظاہری اور جن کو مجھ سے زیادہ آپ جانتے ہیں، ان سب گناہوں کو آپ ایسا معاف کیجئے کہ میں گناہوں سے ایسا پاک ہوجاؤں جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت پاک تھا (یہ اس لئے عرض کررہا ہوں کہ آپ جو کرنا چاہیں اس کو کوئی روکنے والا نہیں) جس کو چاہیں آپ آگے کرسکتے ہیں اور جس کو چاہیں آپ پیچھے ڈال سکتے ہیں، آپ ہی میرے معبود ہیں آپ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)