Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب ایمان کے بیان میں

Hadith 144

(کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مضبوطی سے جمے رہنے کا بیان)

In this book

Current reading

کتاب ایمان کے بیان میں

(کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مضبوطی سے جمے رہنے کا بیان)

Zujajat al-Masabih 144Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 156
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ آل عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7، کی) یہ آیت تلاوت فرمائی ﴿هُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) وہی (ذات پاک) جس نے تم پر (یہ) کتاب اُتاری جس میں بعض آیتیں پکی (یعنی صاف اور صریح) ہیں کہ وہی اصل کتاب ہیں اور بعض دوسری مبہم (کہ ان کے معنوں میں کئی پہلو نکل سکتے ہیں) تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ تو (دین میں فساد پیدا کرنے اور ان کے اصل مطلب ڈھونڈنے کی غرض سے قرآن کی انہیں مبہم آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں حالانکہ اللہ کے سوا ان کا اصلی مطلب کسی کو معلوم نہیں اور جو لوگ علم (دین میں) پختہ ہیں وہ تو اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جن کو عقل اور سمجھ ہے۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت تم دیکھے۔ اور مسلم میں یوں ہے: جب تم ان کو دیکھو کہ جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑ گئے ہیں تو سمجھو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا نام اللہ نے (اس آیت میں) کج روی کرنے والے رکھا ہے تو تم ایسے لوگوں سے دور رہو۔ (بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4547 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2665 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.