اردو
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ایک دفعہ اپنی
قوم سے فرمایا) اے جماعت اشعریین تم سب جمع ہو جاؤ اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی جمع کر لو تا کہ
میں تم کو بتلا دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ (یہ سن کر) سب لوگ جمع ہو گئے اور
عورتوں اور بچوں کو بھی جمع کیا تو ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے خود وضوء کر کے دکھایا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح وضوء فرمایا کرتے تھے پھر امامت کے لئے ابو مالک آگے بڑھے اور
(پہلے) مردوں کی صف اپنے قریب بنائی، ان کے پیچھے لڑکوں کی صف بندی کی اور لڑکوں کے پیچھے
(سب سے آخر میں) عورتوں کی صف رکھی (پھر نماز شروع کی)۔
(اس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند میں کی ہے۔)
اور حارث ابن ابی نعامہ کی روایت میں ابو مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی
ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے صفوں کو خود اس طرح قائم فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کی
صفوں کو لڑکوں کے آگے رکھتے تھے، اور لڑکوں کی صفیں مردوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور عورتیں لڑکوں
کے پیچھے کھڑی ہوا کرتی تھیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1116 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 1116
Confidence and text similarity are not editorial verification.