عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں: (ایک مرتبہ)
میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں رات گزاری، جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز تہجد کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
بائیں جانب نماز کے لئے کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی پیٹھ
کے پیچھے سے گھما کر مجھے اپنی سیدھی جانب کھڑا کر دیا، (یہ کہہ کر) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا
نے ویسے ہی کر کے بتلایا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔ اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے شرح السنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے کئی مسائل
معلوم ہوئے:
مسئلہ (1) نفل نماز کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے لئے اذان اور
اقامت نہ دی جائے۔
مسئلہ (2) امام کی اقتداء اگر صرف ایک مقتدی کر رہا ہو تو وہ امام کے داہنے جانب اس طرح
کھڑا رہے کہ مقتدی کے پیروں کی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس رہیں۔
(یہ اعلاء السنن میں طحاوی کے حوالہ سے مذکور ہے۔12)
مسئلہ (3) اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما
کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر گھماتے ہوئے سیدھے جانب کھڑا کر دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمل قلیل نماز
میں ضرورتاً جائز ہے۔
مسئلہ (4) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی
اللہ عنہما کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے گھما کر داہنے جانب کھڑا کر دیا۔ حالانکہ سامنے سے گھما کر کھڑا کرنا
آسان تھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کا امام کے آگے ہونا جائز نہیں ہے، اسی لئے حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سے لائے، سامنے سے نہیں لائے۔
مسئلہ (5) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہا نماز شروع
فرمائی اور بعد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی اقتداء کی، اس سے ثابت ہوا کہ ایسے تنہا نماز
پڑھنے والے کی اقتداء جائز ہے جس نے امامت کی نیت نہیں کی ہو۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اگر ہم تین ہوں تو نماز کے لئے ہم میں سے ایک آگے بڑھ کر
امام بنے اور باقی دو امام کے پیچھے باہم مل کر کھڑے رہیں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے (ایک طویل حدیث میں) مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے، میں بھی آ کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی
بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ الصلوۃ والسلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھمایا یہاں تک مجھے
اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ پھر جبار بن صخر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں
جانب کھڑے ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم دونوں کے ہاتھوں کو پکڑ کر ہم کو (عمل
قلیل کے ذریعہ) ہٹا دیا، یہاں تک ہم کو اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک
دفعہ) ان کو اور ان کی ماں یا خالہ کو (ان کے گھر میں) (نفل) نماز پڑھائی انس رضی اللہ عنہ فرماتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو اپنی سیدھی جانب کھڑا کیا اور ان عورت کو (جو
ہمارے ساتھ نماز میں شریک تھیں) ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 660b (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ اگر امام کے پیچھے صرف ایک مرد اور صرف ایک
عورت اقتداء کر رہے ہوں تو مرد امام کے سیدھے جانب کھڑا ہو اور عورت ان کے پیچھے کھڑی
ہوجائے۔ (ردالمحتار)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اور یتیم نامی بچے نے
جو ہمارے گھر میں تھا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور (میری ماں حضرت) ام سلیم
رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 658b (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ مقتدی دو یا زیادہ ہوں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں
اور امام آگے ہو اور عورت ایک ہو تو سب سے پیچھے تنہا کھڑی ہو۔ (ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے)
ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر مردوں کے ساتھ صرف ایک بچہ
اقتداء کررہا ہو تو وہ مردوں کے ساتھ صف میں شریک ہوجائے، اور رد المحتار میں لکھا ہے کہ اگر بچے ایک
سے زائد ہوں تو وہ مردوں کے پیچھے اور عورتوں سے پہلے صف بنا کر کھڑے ہوں اور عورتیں بچوں کی
صف کے پیچھے اپنی صف بنالیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی مُلَیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک خاص قسم کا کھانا تیار کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت
کی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تشریف لائے اور) اس میں سے کچھ تناول فرمائے پھر ارشاد فرمایا:
کھڑے ہوجاؤ میں (برکت کے لئے) تم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں
نے (نماز پڑھنے کے لئے) ایک حصیر اٹھالائی جو دھری رہنے سے اس میں سختی آگئی تھی اور گرد جم کر
سیاہ ہوگئی تھی، میں نے اس پر کچھ پانی چھڑک دیا۔ (تاکہ وہ نرم اور صاف ہوجائے) رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوگئے اور اسی حصیر پر میں اور یتیم نامی بچے نے باہم مل کر حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف بنالی اور بوڑھی دادی ہمارے پیچھے (تنہا) کھڑی ہوگئیں، رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو دو رکعتیں (نفل) پڑھائیں (اور واپس تشریف لے گئے)۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 234 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انس رضی اللہ عنہ
کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا کو نماز میں سب کے پیچھے علیحدہ تنہا کھڑا کیا، حالانکہ جماعت میں صف کے
پیچھے الگ تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو مفسد نماز بھی ہے، اس کے باوجود
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ملیکہ رضی اللہ عنہا کو تنہا پیچھے کھڑا کرنے کی بجز اس کے کوئی وجہ معلوم
نہیں ہوتی کہ عورت کا نماز میں مردوں یا لڑکوں کے ساتھ صف میں برابر کھڑا ہونا مردوں یا لڑکوں
دونوں کی نماز کے لئے مفسد ہے، اگر عورت کا صف میں مردوں یا لڑکوں کے برابر کھڑا ہونا جائز ہوتا تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان بڑھیا کو تنہا کھڑا ہونے سے ضرور منع فرماتے جبکہ اس واقعہ میں ملیکہ رضی
اللہ عنہا انس رضی اللہ عنہ کی دادی ہیں اور ان کے ساتھ ایک بچہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہاں کسی قسم کا خطرہ
شہوت بھی نہیں ہے، اس کے باوجود بھی ان بڑھیا کو تنہا کھڑا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کا صف میں
مردوں یا لڑکوں کے برابر کھڑا ہونا مطلقاً مردوں یا لڑکوں کی نماز کا مفسد ہے۔ (ردالمحتار اور اعلاء السنن)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک روز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(ہمارے گھر تشریف لائے اس وقت مکان میں) صرف انس رضی اللہ عنہ ان کی والدہ اور ان کی خالہ
موجود تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو (نفل) نماز پڑھائی تو انس رضی اللہ عنہ کو اپنی
سیدھی جانب کھڑا کیا اور ان کی ماں اور خالہ کو پیچھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ اگر امام کے ساتھ ایک مرد اور دو عورتیں اقتداء کر رہے
ہوں تو مرد امام کے سیدھے جانب کھڑا ہو اور دونوں عورتیں ان کے پیچھے صف بنا کر کھڑی ہو جائیں۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نماز میں عورتوں (کی
صف) کو مردوں (کی صف) سے آخر میں رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی عورتوں کو ہر حیثیت سے آخر
میں رکھا ہے (یعنی پہلے مرد کو پیدا فرمایا، پھر عورت کو، پہلے مردوں کا ذکر فرماتا ہے پھر عورتوں کا پہلے
مردوں کے احکام بیان فرماتا ہے پھر عورتوں کے، اور مرتبہ میں عورتوں کا مردوں سے پیچھے ہونا ظاہر
ہی ہے۔ اس کی روایت طبرانی اور عبدالرزاق نے کی ہے۔
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سنو! میں تم سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا طریقہ بیان کرتا ہوں (یہ کہہ کر ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ
نے فرمایا کہ جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کرنے کا ارادہ فرمایا تو پہلے مردوں
کی صفیں قائم فرمائیں، پھر بچوں کی، پھر ان کو نماز پڑھائی (اور ختم نماز پر) ارشاد فرمایا کہ یہ میری
امت کی نماز ہے۔ (اسی طرح ان کو پڑھنا چاہئے کہ پہلے مردوں کی صفیں ہوں، پھر بچوں کی)۔
(اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔)
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (ایک دفعہ اپنی
قوم سے فرمایا) اے جماعت اشعریین تم سب جمع ہو جاؤ اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی جمع کر لو تا کہ
میں تم کو بتلا دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کیسی تھی؟ (یہ سن کر) سب لوگ جمع ہو گئے اور
عورتوں اور بچوں کو بھی جمع کیا تو ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے خود وضوء کر کے دکھایا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح وضوء فرمایا کرتے تھے پھر امامت کے لئے ابو مالک آگے بڑھے اور
(پہلے) مردوں کی صف اپنے قریب بنائی، ان کے پیچھے لڑکوں کی صف بندی کی اور لڑکوں کے پیچھے
(سب سے آخر میں) عورتوں کی صف رکھی (پھر نماز شروع کی)۔
(اس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند میں کی ہے۔)
اور حارث ابن ابی نعامہ کی روایت میں ابو مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی
ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے صفوں کو خود اس طرح قائم فرمایا کرتے تھے کہ مردوں کی
صفوں کو لڑکوں کے آگے رکھتے تھے، اور لڑکوں کی صفیں مردوں کے پیچھے ہوتی تھیں اور عورتیں لڑکوں
کے پیچھے کھڑی ہوا کرتی تھیں۔
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز کے وقت) ہمارے مونڈھوں پر ہاتھ رکھ کر ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ (صفوں
میں) برابر کھڑے ہو جاؤ اور آگے پیچھے نہ ہو (اگر صفوں میں آگے پیچھے کھڑے ہو کر اختلاف پیدا
کرو گے تو) تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے گا (اس کی وجہ یہ ہے کہ اعضاء کو قلب کے
ساتھ ایک خاص تعلق ہے جیسے قلب کی خرابی کا اعضاء پر اثر پڑتا ہے اور اعضاء بھی خراب ہو جاتے
ہیں، ایسا ہی اعضاء کی خرابی کا اثر قلب پر پڑتا ہے اور قلب بھی خراب ہو جاتا ہے، اسی طرح جب
صف میں آگے پیچھے کھڑے ہو کر اختلاف پیدا کرو گے تو اس کا اثر قلب پر پڑے گا اور تمہارے دلوں
میں بھی اختلاف ہو جائے گا اور تم ایک دوسرے کے موافق نہ رہو گے تو نا اتفاقی اور پھوٹ پیدا
ہو جائے گی) (اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ نماز میں) میرے قریب
علماء و عقلاء کھڑے ہوا کریں، پھر وہ جو (علم میں) ان کے قریب ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ ابو
مسعود رضی اللہ عنہ نے (حدیث بیان کر کے) فرمایا: اسی لئے تم میں باہم سخت اختلاف ہے (کہ تم صف
میں برابر نہیں کھڑے ہوتے، کیونکہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (نماز میں) میرے قریب علماء و عقلاء کھڑے ہوا کریں پھر وہ جو
(علم میں) ان کے قریب ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آخری جملہ کو تین بار ارشاد فرمایا،
(اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا) کہ تم مسجدوں میں بازاروں کی طرح شور و
شغب اور لڑائی جھگڑا کرنے سے بچتے رہو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں مسجد میں پہلی صف
میں کھڑا تھا کہ مجھے پیچھے سے کسی شخص نے کھینچ کر اپنی جگہ سے ہٹا دیا اور خود میری جگہ کھڑا ہو گیا۔ خدا
کی قسم (صف اول چھوٹ جانے سے مجھے اس قدر شدید رنج ہوا) اور ایسا غصہ آیا کہ غصہ میں سمجھ نہ
سکا کہ میں نے نماز (کس طرح) پڑھی (اور کتنی رکعتیں پڑھیں؟) جب وہ صاحب نماز سے فارغ
ہو کر پلٹے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ جلیل القدر صحابی ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ) ہیں (جنہوں نے
مجھے پیچھے کھینچا تھا) (اس طرح پیچھے کھینچنے سے مجھے جو صدمہ ہوا تھا اس کی تسلی کے لئے) ابی بن کعب
رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے نوجوان! خدا تم کو کبھی رنج و غم نہ دے، میں نے تمہیں جو پیچھے کھینچا ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو وصیت فرمائے ہیں کہ ہم نماز میں امام سے
قریب رہا کریں، (تو میں نے اس وقت اسی حکم کی تعمیل کی ہے۔ میرے ایسا کرنے سے تمہیں آزردہ
نہ ہونا چاہئے) پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے قبلہ رو ہو کر فرمایا: ربّ کعبہ کی قسم امراء ہلاک ہوں
(احکام کی پابندی کروانا ان کا کام تھا، ان کے خاموش رہنے سے ہم کو کروانا پڑ رہا ہے) اس طرح
آپ نے تین مرتبہ فرمایا، پھر فرمایا: مجھے ان امراء پر دکھ نہیں ہو رہا ہے بلکہ ان علماء پر دکھ ہو رہا ہے
جنہوں نے ان امراء کو گمراہ کیا (کہ ان امراء کو احکام نافذ کرنے کے مشورے نہیں دیتے اور خاموش
رہے) راوی کا بیان ہے کہ میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے ابو یعقوب!
آپ نے جو اہل العُقَد فرمایا ہے اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا اہل العقد سے
میری مراد امراء ہیں۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مردوں کی صفوں میں (فضیلت اور ثواب کے اعتبار سے) سب سے بہتر
اگلی صف ہے (کیونکہ یہ امام سے قریب اور عورتوں سے دور ہوتی ہے) اور مردوں کی صفوں میں سب
سے بدتر پچھلی صف ہے (اس لئے کہ یہ عورتوں سے قریب اور امام سے دور ہوتی ہے، البتہ جماعت
میں عورتوں کی صفیں نہ ہوں بلکہ صرف مردوں ہی کی صفیں ہوں تو ایسی صورت میں مردوں کی آخری
صف امام سے دور ہونے کی وجہ سے فضیلت اور ثواب میں سب سے کمتر ہوگی) اور عورتوں کی صفوں میں
سب سے بہتر پچھلی صف ہے (کیونکہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے) اور عورتوں کی صفوں میں سب سے
بدتر اگلی صف ہے (اس لئے کہ مردوں سے قریب ہوتی ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پہلی صف پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے
لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
دوسری صف کے لئے (بھی یہی فرما دیجئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دوسری بار بھی)
ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پہلی صف پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لئے دعائے
مغفرت کرتے ہیں، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری صف کے لئے (بھی
یہی فرما دیجئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تیسری بار بھی یہی) ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ
پہلی صف پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لئے دعاء مغفرت کرتے ہیں، صحابہ
کرام نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے صف کے لئے (بھی یہی ارشاد فرما
دیجئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (چوتھی بار) ارشاد فرمایا کہ دوسری صف پر (بھی اللہ
تعالی اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں، اور فرشتے ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں) اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ تم اپنی صفوں کو سیدھی کرو، اور مونڈھوں کو ایک
دوسرے کے برابر رکھو (یعنی آگے پیچھے نہ ہو) اور نرم ہو جاؤ اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں (یعنی کوئی
مونڈھے پر ہاتھ رکھ کر صف میں برابر کرے تو اس کا کہا مانو) اور صف میں شیطان کے لئے خالی جگہ نہ چھوڑو
کیونکہ شیطان بکری کے بچہ کی طرح بن کر تمہارے درمیان (صف کی خالی جگہ میں) گھس جایا کرتا ہے۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی ان لوگوں پر اپنی رحمت نازل فرماتے ہیں جو
صفوں میں دائیں جانب ہوتے ہیں، اور فرشتے ان لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
(بشرطیکہ صفوں کا بایاں جانب خالی نہ رہے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ فقہاء رحمہم اللہ نے صف بندی کا قاعدہ یہ بتلایا ہے کہ اول ایک شخص امام کے
پیچھے کھڑا ہو، پھر ایک اس کے دائیں طرف ایک بائیں طرف، پھر ایک دائیں طرف ایک بائیں طرف
اسی طرح کرتے رہیں، تا کہ امام سب کے بیچ میں ہو، پس دائیں جانب میں کھڑا ہونا اس وقت افضل
ہے جبکہ دائیں جانب اور بائیں جانب برابر ہو، یا دائیں طرف آدمی کم ہوں ورنہ بائیں طرف کھڑا ہونا
افضل ہے۔ (مرقات۔ اعلاء السنن)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام کو بیچ میں کھڑا کیا کرو (یعنی صف میں امام کے پیچھے دائیں بائیں
آدمی برابر برابر رہیں) اور صف کے شگافوں کو بند کیا کرو (یعنی صف میں جگہ خالی نہ چھوڑو اور چسپیدہ
رہا کرو)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 681 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اعلاء السنن میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ ”توسطوا الامام“ (امام کو بیچ
میں کھڑا کیا کرو) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک صف بھر جانے کے بعد دوسری صف امام کے سیدھ
میں پیچھے سے شروع کی جائے، اور پھر دائیں اور بائیں آدمی برابر کھڑے ہوتے رہیں۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے اور) وہ خدمت اقدس میں ایسے وقت پہنچے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم رکوع میں تھے (رکوع میں شریک ہونے کے لئے وہ دوڑتے ہوئے چلے، جس سے ان کی سانس
پھول گئی تو وہ صف کے پیچھے کھڑے ہوگئے، نیت کی اور تکبیر تحریمہ اداء کئے) پھر صف تک پہنچنے سے
پہلے (دوسری تکبیر کہتے ہوئے) وہیں رکوع کئے۔ پھر (رکوع ہی کی حالت میں ایک یا دو قدم) چل کر
صف میں شریک ہوگئے (ختم نماز پر جب) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکرہ! اللہ تعالیٰ اسی طرح (نیک کاموں پر)
تمہاری حرص بڑھادے، یہ کہہ کر حضور نے فرمایا ”لَا تَعُدْ“ (تاء کے زبر، عین کے پیش، دال کے
جزم کے ساتھ) دوبارہ ایسا نہ کرنا (یعنی نماز کے لئے دوڑ کر نہ چلنا (جیسا کہ ایک روایت میں
”لَا تَعْدُ“ (تاء کے زبر، عین کے جزم، دال کے پیش کے ساتھ۔12) صف کے پیچھے تنہا نماز شروع
نہ کرنا اور پھر صف میں شریک ہونے کے لئے نماز کی حالت میں ایسا نہ چلنا) (چونکہ اس واقعہ میں
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا جو مفسد نماز ہو، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے آپ کو نماز کے اعادہ کا حکم نہیں دیا) اسی لئے ایک روایت میں ”لَا تُعِدْ“ (تاء کے پیش، عین
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو وہ صف میں شامل ہوئے
بغیر صف کے پیچھے رکوع نہ کرے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
عدی بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ شہر مدائن میں حضرت عمار
رضی اللہ عنہ کی امامت کا واقعہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے
(تنہا) ایک چبوترہ پر کھڑے ہوگئے اور سارے مقتدی اس چبوترے کے نیچے صف باندھے کھڑے
تھے (یہ دیکھ کر) حذیفہ رضی اللہ عنہ صف سے آگے بڑھے اور عمار رضی اللہ عنہ کو (چبوترہ سے اتارنے
کے لئے ان کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے (تاکہ امام اور مقتدی ایک سطح پر ہو جائیں) عمار رضی اللہ عنہ
نے حضرت حذیفہ کی اطاعت کرلی تو حضرت حذیفہ نے ان کو چبوترہ پر سے اتار کر مقتدیوں کی سطح پر
کھڑا کردیا (چونکہ نماز شروع ہو رہی تھی اس لئے اس وقت حضرت حذیفہ کو کچھ کہنے کا موقع نہیں ملا)
نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا
آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے نہیں سنا ہے کہ جب کوئی شخص کسی قوم کو نماز
پڑھائے تو وہ مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا نہ ہو، تو عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کے ہاتھ
پکڑنے سے وہ حدیث یاد آگئی اور میں نیچے اتر گیا۔ (ابوداؤد)۔
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے آپ سے
دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منبر شریف کس چیز سے بنا تھا تو انہوں نے جواب دیا
کہ مدینہ منورہ سے (9) میل کے فاصلہ پر غابہ نامی ایک جنگل ہے اس جنگل کے جھاؤ (جھاؤ ایک
درخت ہوتا ہے، جس کی لکڑی ساگوان کی طرح عمدہ اور مضبوط ہوتی ہے۔12) نامی درخت کی
لکڑی سے منبر شریف بنایا گیا تھا۔ اس منبر شریف کو عائشہ انصاریہ کے آزاد کردہ غلام باقوم رومی نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تیار کیا (جس کی تین سیڑھیاں تھیں ہر سیڑھی کی اونچائی ایک
بالشت اور اس کا طول ایک ذراع یعنی ایک ہاتھ تھا) جب منبر شریف تیار ہوا اور (حسب ہدایت مسجد
میں) رکھ دیا گیا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام (صحابہ کو نماز سکھانے کے لئے منبر شریف کی سب سے
نچلی سیڑھی پر) کھڑے ہوئے، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ ادا فرمائے اور صحابہ بھی (آپ کے اقتداء
کر کے) آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ نے قرأت کی، رکوع کیا اور لوگوں نے بھی آپ
کے پیچھے رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھائے اور قبلہ سے منہ پلٹائے بغیر منبر شریف سے نیچے اترے
اور منبر کے بازو زمین پر سجدہ ادا فرمائے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل دو قدم میں ہوا اور یہ
عمل قلیل ہے اور عمل قلیل سے نماز فاسد نہیں ہوتی) (پھر سجدہ سے سر اٹھائے اور قبلہ سے پلٹے بغیر)
منبر شریف پر تشریف لائے، پھر قرأت کی، رکوع فرمایا اور رکوع سے سر اٹھائے اور قبلہ سے منہ
پلٹائے بغیر پچھلے پیر منبر شریف سے نیچے اترے اور منبر شریف کے بازو زمین پر سجدہ فرمائے۔ جب
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر ارشاد فرمائے: میں
نے یہ جو کچھ کیا ہے صرف اس لئے کہ تم میری نماز دیکھ لو) میری اقتداء کرو اور میری نماز سیکھ لو (اور
لوگوں کو سکھاؤ)۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 377 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 544a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز سکھانے کے
لئے منبر شریف پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔ اس بارے میں علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ
ضرورۃً امام کا مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہونا جائز ہے، ورنہ بلا ضرورت امام مقتدیوں سے بلند مقام پر کھڑا ہو تو
یہ مکروہ ہے، اس کی تائید حضرت عمار کی امامت والی مذکورہ حدیث اور اسی قسم کی دیگر احادیث سے ہوتی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ
((ان دنوں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے اور آپ کے لئے حصیر کا ایک حجرہ بنایا
گیا تھا)) آپ نے اس حجرہ میں (تراویح کی نیت سے) نماز پڑھی تو صحابہ کرام نے اس حجرہ کے باہر
آپ کی اقتداء (اس طرح) کی (کہ آپ کے جسم مبارک کا اکثر حصہ مقتدیوں کو نظر آ رہا تھا، جس
سے آپ کے افعال نماز مقتدیوں پر مشتبہ نہیں ہوتے تھے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1126 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امام اور مقتدی کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو اقتداء
صحیح ہے بشرطیکہ امام اور مقتدی ایک مکان میں ہوں اور امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ نہ ہو، یہ درمختار میں
مذکور ہے۔ چونکہ اس حدیث شریف میں صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء ایک
ہی مقام میں کی، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال بھی صحابہ پر مشتبہ نہ تھا اس لئے صحابہ کی اقتداء صحیح تھی۔
خلاصہ اس مسئلہ کا یہ ہے کہ مکان مختلف ہو یعنی امام اور مقتدی ایک مکان میں نہ ہوں تو اقتداء
درست نہیں ہے اگرچیکہ امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ ہو یا نہ ہو، ایسا ہی اگر امام کا حال مقتدیوں پر مشتبہ
ہو تو بھی اقتداء ناجائز ہے اگرچیکہ امام اور مقتدی کا مکان مختلف ہو یا نہ ہو۔
(یہ خلاصہ ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے پاس ایک حصیر تھی جس کو دن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچھا لیتے تھے اور رات میں اس کو کھڑا
کر کے حجرہ کی طرح بنا لیتے تھے (رمضان کے دن تھے اور حضور اعتکاف میں تھے اور آپ اس حجرے
کے اندر کھڑے ہو کر رات کی نماز ادا فرماتے تھے) صحابہ نے آپ کو اس میں نماز پڑھتے دیکھا تو
آپ کے پیچھے (اقتداء کر کے) صف بنا کر نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ (ان دنوں
میں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے اور آپ کے لئے حصیر کا ایک حجرہ بنایا گیا
تھا) آپ حصیر کے اس حجرہ میں رات کی نماز ادا فرماتے تھے (چونکہ) حصیر کے اس حجرہ کی دیواریں
چھوٹی تھیں اس لئے صحابہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حجرہ میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو
صحابہ بھی آپ کی اقتداء کر کے نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے شرح السنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے کئی مسائل معلوم ہوئے: مسئلہ (1) نفل نماز کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے لئے اذان اور اقامت نہ دی جائے۔ مسئلہ (2) امام کی اقتداء اگر صرف ایک مقتدی کر رہا ہو تو وہ امام کے داہنے جانب اس طرح کھڑا رہے کہ مقتدی کے پیروں کی انگلیاں امام کی ایڑی کے پاس رہیں۔ (یہ اعلاء السنن میں طحاوی کے حوالہ سے مذکور ہے۔12) مسئلہ (3) اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر گھماتے ہوئے سیدھے جانب کھڑا کر دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمل قلیل نماز میں ضرورتاً جائز ہے۔ مسئلہ (4) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے گھما کر داہنے جانب کھڑا کر دیا۔ حالانکہ سامنے سے گھما کر کھڑا کرنا آسان تھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کا امام کے آگے ہونا جائز نہیں ہے، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سے لائے، سامنے سے نہیں لائے۔ مسئلہ (5) اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تنہا نماز شروع فرمائی اور بعد میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی اقتداء کی، اس سے ثابت ہوا کہ ایسے تنہا نماز پڑھنے والے کی اقتداء جائز ہے جس نے امامت کی نیت نہیں کی ہو۔