اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1870
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نفل نماز پڑھ رہا ہے تو اس کو خیال رہے کہ جب
تک دل میں فرحت و نشاط رہے اور پڑھنے کو جی چاہے اس وقت تک تو نماز پڑھتا رہے، جب نفل
نمازوں کو پڑھنے سے دل اکتا جائے اور بیزار ہونے لگے تو (زبردستی نفس کو مجبور کر کے نفل نماز نہ
پڑھے بلکہ) تھوڑی دیر بیٹھ جائے اور آرام لے لے، پھر جب نشاط و فرحت پیدا ہو تو نفل نماز پڑھے
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1150 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 784a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
۔ اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو شخص اوراد و وظائف و نوافل افراط سے پڑھ رہا ہو، یعنی اکثر اوقات کثرت سے پڑھا کرتا ہے اگرچہ یہ محمود ہے مگر یہ خیال رہے کہ کہیں تھک کر یا بیزار ہو کر چھوڑ نہ دے، اس لئے اعتدال کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح کوئی شخص اوراد و وظائف و نوافل میں تفریط کر رہا ہے یعنی اس کے نہ اوراد ہیں نہ وظائف ہیں اور نہ نوافل ہیں تو ایسے شخص کو ابھارا جاتا ہے کہ تیری یہ تفریط مناسب نہیں تجھے اعتدال سے اوراد و وظائف و نوافل قائم کرنا چاہئے۔ ایک دن آنے والا ہے کہ جس دن اوراد و وظائف و نوافل پڑھنے والوں کو جو درجات ملیں گے ان کو دیکھ کر یہ پچھتائے گا اور اس وقت پچھتانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ اب وقت ہے کہ تو اوراد و وظائف و نوافل اعتدال کے ساتھ جاری کر تو اعتدال کا جو ارشاد ہوا ہے وہ افراط کرنے والے اور تفریط کرنے والے دونوں کے لئے ہے۔ (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)