اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3334
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اس (بندۂ مومن) کی مثال جو برائیوں کے بعد نیکیاں کرنے
لگے اس شخص کے مانند ہے جس کے جسم پر ایک تنگ درع تھی جس نے اس (کے جسم) کو دبا رکھا تھا
اس کے نیکیاں کرنے کی وجہ سے اس (درع) کا ایک ایک حلقہ کھلنے لگا یہاں تک کہ ہر نیکی کے بدلہ
میں اس (کی درع) کے حلقے کھلتے چلے گئے اور وہ (ڈھیلی ہوکر) زمین پر گرگئی۔ اس کی روایت شرح
السنہ میں کی گئی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف کا حاصل یہ ہے کہ: برائی کرنے سے انسان کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے کاموں پر متحیر رہتا ہے اور لوگ اس کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس حالت کو زرع کی تنگی سے تشبیہ دی گئی ہے اس کے برخلاف نیکیاں کرنے سے سینہ کشادہ ہوتا ہے اور کام آسان ہوتے ہیں اور لوگ اس کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حدیث شریف میں اس حالت کو درع کے کھلنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مرقات۔