2/2418-2419۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا، ہم چند عورتیں ان کو غسل دے رہے
تھے، ایسے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو تین بار یا پانچ
بار اور مناسب سمجھو تو زیادہ سے زیادہ (سات بار) بیری کے پتے ڈال کر پکایا ہوا نیم گرم پانی سے
غسل دینا اور آخری مرتبہ کافور ملے ہوئے پانی سے نہلانا، جب تم غسل دینے سے فارغ ہو جاؤ تو
غسل سے فارغ ہونے کی مجھے اطلاع دینا (حضور کے حکم کی تعمیل کر کے) غسل سے فارغ ہونے کی
ہم حضور کو اطلاع کر دئے تو حضور اپنا تہہ بند ہماری طرف پھینک کر فرمائے کہ (عورتوں کے کفن کے
پانچ کپڑے ہوتے ہیں، جن میں سے ایک ازار بھی ہوتی ہے) میرے اس تہہ بند کو ازار کے طور پر
استعمال کرو تاکہ میرا یہ تہہ بند ان کے جسم کو لگا ہوا رہے اور اس کی برکت (جیسا کہ عمدۃ القاری میں
مذکور ہے۔12) شامل حال رہے، بزرگوں کی عادت یہ ہے کہ ایک داؤنی (اوڑھنی) دیتے ہیں کہ
اس کو رکھ چھوڑیں اور کفن میں اس کا استعمال کریں، حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی فعل سے
ماخوذ ہے۔ اس لئے مریدنیوں کو داؤنی دینا درست ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور عبدالرزاق کی روایت میں اس طرح ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا ملاحظہ فرمائیں کہ چند عورتیں ایک عورت کو غسل دے رہی تھیں اور اس کے سر میں کنگھی کر رہی
تھیں تو ام المؤمنین ان عورتوں سے ارشاد فرمائیں کہ تم اس مردہ کو جو کنگھی کر رہی ہو (تمہارے پاس
اس کا کیا ثبوت ہے) کس بناء پر تم کنگھی کر رہی ہو، جب تک ثابت نہ ہو تم کو کنگھی کرنا جائز نہیں تھا)
اور ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے کہ ام المومنین
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ملاحظہ فرمائیں کہ چند عورتیں ایک عورت کو غسل دے رہی تھیں اور اس کے
سر میں کنگھی کر رہی تھیں تو ام المومنین نے ان عورتوں سے ارشاد فرمائیں کہ تم اس عورت کو کیوں کنگھی
کر رہی ہو، تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے جب تک ثابت نہ ہو تم کو کنگھی کرنا جائز نہیں تھا۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1253 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 939a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Why are you combing your deceased?
(1) His statement: "Why are you combing your deceased?" Ash-Shafi'i said: "Her hair should be combed, made into three braids, and placed behind her back." This is also the opinion of Ahmad and Ishaq. We say: The hadith cited by Ash-Shafi'i and Ahmad does not indicate that the Prophet (ﷺ) commanded this. It only mentions that Umm Atiyyah braided her hair into three braids, and it is possible that she did so on the Prophet's (ﷺ) order, but rulings cannot be established based on possibilities. Moreover, what is mentioned is adornment, and the deceased has no need for it. This is stated in Umdat al-Qari. The narration of Abdur Razzaq and our Imam Abu Hanifah mentioned in this book supports our view.
Note 1
قوله
(۱) قوله: علام تنصون ميتكم : قال الشافعي يُسرح شعرها، ويجعل ثلاث ظفائر، ويجعل خلف ظهرها، وبه قال أحمد وإسحاق. قلنا: ليس في الحديث الذي استدل به الشافعي وأحمد إشارة من النبي له إلى ذلك. وإنما المذكور فيه الإخبار من أم عطية أنها مشطت شعرها ثلاثة قرون، وكونها فعلت ذلك بأمر النبي ﷺ احتمال، والحكم لا يثبت به، ولأن ما ذكره زينة، والميت مستغن عنها. قاله في عمدة القاري». وحديث عبد الرزاق وإمامنا أبو حنيفة الذي ذكر في هذا الكتاب يؤيد مذهبنا.
Note 1
ف: ان دونوں مذکورہ حدیثوں سے ثابت ہوا کہ میت کے بالوں میں کنگھی نہ کی جائے، اس
لئے کہ بالوں میں کنگھی کرنا زینت کے لئے ہوا کرتا ہے اور میت کو زینت کی ضرورت نہیں، یہ عمدۃ
القاری میں مذکور ہے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔12
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں
میں کفنایا گیا تھا؟ تو ام المومنین فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا
تھا، اور یہ کپڑے سحولی تھے یعنی دھلے ہوئے تھے۔ (اس سے ثابت ہوا کہ مرد کو تین کپڑوں میں کفنانا
سنت ہے۔) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا تھا جو یمن کے مقام نجران کے تھے منجملہ تین کپڑوں کے
ایک حلّہ تھا (حلہ سے مراد دو کپڑے ہیں، ایک چادر اور دوسرے ازار) اور تیسرا کپڑا قمیص تھا جس
میں آپ انتقال فرمائے تھے۔
اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے اور اس پر سکوت اختیار کیا ہے اور ابو داؤد نے کی ہے اور اس
پر سکوت اختیار کیا ہے اور ابو داؤد کا سکوت حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی (جو منافقوں
کا سردار تھا) جب اس کی نعش قبر میں رکھ دی گئی (تو عبداللہ بن ابی کے فرزند جو سچے مسلمان تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کئے: حضور میرے والد عبداللہ بن ابی دفن کئے جا رہے ہیں،
حضور تشریف لے چلیں تا کہ آپ کی برکت سے اس کی مغفرت ہو جائے، عبداللہ بن ابی کے فرزند
کے کہنے سے) حضور عبداللہ بن ابی کی قبر پر تشریف لے گئے، عبداللہ بن ابی کو قبر کے گڑھے میں
ڈال دیا گیا تھا، حضور کے حکم سے پھر باہر نکالا گیا تو حضور اپنے گھٹنوں کا ٹیکہ دے کر اس کو بٹھائے اور
اپنا مبارک تھوک اس کے منھ میں ڈالے (تا کہ منکر و نکیر کے سوال کے وقت آسانی ہو) پھر عبداللہ
بن ابی کو اپنا قمیص پہنائے (تا کہ قمیص کی برکت سے عذاب قبر سے محفوظ رہے، قمیص دینے میں ایک
یہ بھی حکمت تھی کہ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر کے بعد سب کافروں کے ساتھ قید ہو کر
مدینہ منورہ میں لائے گئے تو حضرت عباس کے جسم پر کرتہ نہیں تھا، حضرت عباس طویل القامت تھے
کسی کا کرتہ حضرت عباس کو نہیں آیا، عبداللہ بن ابی بھی طویل القامت تھا اس کا کرتہ عباس کو آیا اس
لئے) عبداللہ بن ابی نے اپنا کرتہ حضرت عباس کو پہنایا تھا (عبداللہ بن ابی کا یہ احسان حضرت کو یاد
تھا، اس کا احسان اتارنے کے لئے اپنا کرتہ عبداللہ بن ابی کو پہنائے، اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ
عبداللہ بن ابی کے فرزند جو سچے مسلمان تھے خوش ہو جائیں، یہ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے اخلاق حسنہ کہ سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی آپ کے یہ کریمانہ اخلاق اور کریمانہ برتاؤ تھا،
اس لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا ہے ”وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ“۔ (سورۃ
قلم، پ:29، ع:1، آیت نمبر:4) بے شک اے رسول آپ بڑے حسن اخلاق والے ہیں، اس کو
کریمانہ اخلاق کا یہ اثر ہوا کہ ایک ہزار کافر اس کریمانہ برتاؤ کو دیکھ کر مسلمان ہوگئے۔) اس حدیث
کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1270 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 1350 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2773 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
And clothed him in his shirt.
(1) His statement: "And clothed him in his shirt." Al-'Allamah Al-'Ayni said in Umdat al-Qari: "This indicates that shrouding in a shirt is permissible. It also shows that it is permissible to remove a deceased person from the grave if there is a need or benefit. Blowing saliva is also mentioned." Al-Karmani said: "If the earth has been leveled over him, it is too late to remove him." Ibn Wahb said: "If the earth has been poured over him, it is too late to remove him, and he should be prayed over in his grave." Ashhab said the same.
Note 1
قوله وألبسه قميصه وقال العلامة العيني في عمدة القاري فيه دلالة على الكفن في القميص، وفيه جواز إخراج الميت من قبره الحاجة أو لمصلحة ونفث الريق فيه قاله الكرماني. وقال ابن وهب
(۱) قوله وألبسه قميصه وقال العلامة العيني في عمدة القاري فيه دلالة على الكفن في القميص، وفيه جواز إخراج الميت من قبره الحاجة أو لمصلحة ونفث الريق فيه قاله الكرماني. وقال ابن وهب: إذا سوى عليه التراب فات إخراجه، وقاله يحيى بن يحيى، وقال أشهب : إذا أهيل عليه التراب فات إخراجه، ويصلى عليه في قبره انتهى.
سماک رضی اللہ عنہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، حضرت
جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا تھا اور وہ تین کپڑے یہ
تھے ایک 1 قمیص، دوسرے 2 ازار، اور تیسرے 3 لفافہ۔ اس کی روایت ابن عدی نے کامل میں کی ہے۔
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا تھا منجملہ ان تین کپڑوں کے ایک حلہ تھا جو یمن کا تھا، (حلہ سے
مراد دو کپڑے ہیں ایک چادر یعنی لفافہ اور دوسرے ازار) اور تیسرا کپڑا قمیص تھا۔ اس کی روایت امام
محمد نے کتاب الآثار میں مرسلاً کی ہے اور عبدالرزاق نے بھی اس کی روایت اسی طرح اپنی مصنف
میں کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے مسلمان بھائی کو کفن دو تو (وہ کفن نہ تو بالکل گھٹیا ہو، اور نہ
ریشم اور زر کا ہو بلکہ سوت کا) پاک و صاف سفید اور خوشنما ہو، اور سنت طریقہ کے موافق پورا پورا ہو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مردہ کے لئے قیمتی کفن نہ دیا کرو، کیونکہ کفن جلد خراب ہو جاتا
ہے۔ (پھر قیمتی کپڑا لے کر مال کے اسراف کرنے سے کیا فائدہ اور کفن سے غرض تو مردہ کا ستر
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمان (مردوں) کو چاہئے کہ وہ سفید لباس پہنا کریں (اس لئے
کہ سفید لباس میں ایک قسم کی وجاہت ہونے سے) یہ بہترین لباس ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے سفید لباس پسند کرنے سے سفید لباس پہننا مستحب ہے اور اس میں ثواب بھی ہے) اور
مُردوں کو کفن بھی سفید ہی دیا کرو، اور اثمد جو سرمہ ہے بہترین سرمہ ہے (رات کو سوتے وقت اس
سرمہ کی تین تین سلائیاں ہر آنکھ میں لگایا کرو، اس طرح سرمہ لگانا سنت ہے) اس سے پلک کے بال
جمتے ہیں، اور بینائی بھی تیز ہوتی ہے، اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے
صرف مُردوں کو کفن دیا کرو تک روایت کی ہے۔
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ
کے انتقال کا جب وقت آیا تو وہ نئے کپڑے (جو پاک وصاف ستھرے اور خوشنما تھے) منگوا کر پہن
لئے (اس لئے کہ ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے، ظاہرًا نئے ستھرے کپڑے پہننے سے باطن کی بھی
طہارت اور صفائی ہوجاتی ہے، اسی لئے حضرت ابوسعید خدری آخر وقت میں ظاہری صفائی سے باطن
کی صفائی کا ارادہ فرمائے، حضرت ابوسعید خدری جو کپڑے پہنے یہ ان کا کفن نہیں تھا، انتقال کے بعد
یہ کپڑے اتار کر کفن پہنایا گیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جو ارشاد ہوا ہے کہ مُردوں کے
لئے پرانے کپڑے کافی ہیں اور نئے کپڑے زندوں کے لئے ہیں، یہ ارشاد کفن کے متعلق ہے،
حضرت ابوسعید کا نئے کپڑے پہننا کفن نہیں تھا اس لئے دونوں حدیثوں میں تعارض نہ رہا) حضرت
ابوسعید خدری انتقال کے وقت نئے کپڑے پہن کر یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد
ہوا ہے کہ میدان حشر میں جب لوگ آئیں گے تو مرتے وقت جن کپڑوں میں تھے، وہی کپڑے پہنے
ہوئے آئیں گے۔ (اسی لئے میں نئے اور صاف ستھرے کپڑے پہن رہا ہوں، اب رہی دوسری
حدیث میں جس میں مردوں کا قبروں سے برہنہ اٹھنے کا ذکر ہے، تو یہ قبروں سے اٹھنے کے وقت کا
واقعہ ہے لیکن جب میدان حشر میں آئیں گے تو انہی کپڑوں میں ہونگے جن کو مرتے وقت پہنے
تھے، اسی طرح ان دونوں حدیثوں میں تعارض نہ رہا۔) اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے،
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سکرات شروع ہوئی تو میں (اس وقت کی حالت کے
لحاظ سے عام لوگوں کے احوال کے اعتبار سے آپ کے سامنے) یہ شعر پڑھی:
اے ملامت کرنے والے (یہ وقت نہ نصیحت کرنے کا ہے نہ ملامت کرنے کا) مال و دولت
کچھ کام نہیں آتا ہے جب سکرات شروع ہوتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے)۔
یہ شعر سن کر حضرت ابوبکر صدیق ارشاد فرمائے بیٹی عائشہ! (یہ شعر مرے حال کے مناسب نہیں
ہے میرے پاس مال و دولت ہی نہیں، پھر یہ کہنا کہ سکرات کے وقت مال و دولت کام نہیں آتا ہے
بے موقع ہے) میرے مناسب تو یہ آیت ہے، اس کو پڑھو: (سورۃ ق، پ:26، ع:2، آیت
نمبر:19)
”وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ“۔ (انسان کی فطرت کا
تقاضا یہ ہے کہ وہ) سکرات سے بچے رہنا چاہتا ہے (یہ خیال کچھ کام نہیں آیا) آخر سکرات کا وقت
آ پہنچا۔
پھر آپ نے فرمایا کہ (ہمیشہ میری زاہدانہ زندگی رہی ہے، اب بھی میں زاہدانہ حالت کے
ساتھ قبر میں جانا چاہتا ہوں) نئے کپڑے تو زندوں کے واسطے ہیں (مردہ کو اپنا ستر چھپا کر قبر میں جانا
ہے، گو مرد کے کفن کے لئے تین کپڑوں کی ضرورت ہے مگر میری زاہدانہ حالت کے لحاظ سے یہ
مناسب ہے کہ) میرے انہی دو کپڑوں کو ذرا دھو لو انہی دو کپڑوں کا مجھے کفن دیدو۔ (یہ کفن کفایہ ہے
کہ کفن کے لئے دو کپڑے بھی کافی ہو سکتے ہیں۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کتاب الزہد میں کی ہے، اور عبدالرزاق نے بھی اسی
طرح روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھا، اونٹنی نے اس کو گرا دیا جس سے اس
کی گردن ٹوٹ گئی اور اس کا انتقال ہوگیا، اس کے لئے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ
بیری کے پتے میں گرم کئے ہوئے پانی سے نہلاؤ، اور اسی کے دو کپڑوں میں اس کو کفن دو۔ (یہ اس
دارقطنی کی وہ حدیث ہے جس کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ محرم اگر حالت احرام میں مر جائے تو (مثل
دوسرے مردوں کے) اس محرم کے سر اور چہرہ کو ڈھانکو اور اس کو یہود کے مردوں کے مشابہ مت بناؤ
(اس لئے کہ یہود اپنے مردوں کے چہرہ اور منھ کو کھلا رکھتے ہیں۔ اس حدیث میں حالت احرام میں
امام مالک کی وہ حدیث ہے جو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
سے مروی ہے، آپ فرماتی ہیں کہ محرم اگر احرام کی حالت میں مر جائے تو (اس کو محرم مت سمجھو اس کا
احرام ختم ہوگیا ہے) دوسرے مردے جو محرم نہیں ہیں ان کو کفناتے وقت جیسے ان کا سر ڈھانکتے ہیں
اور خوشبو لگاتے ہیں ایسا ہی محرم مردہ کا بھی سر ڈھانکو اور اس کو خوشبو لگاؤ۔
امام مالک ہی کی وہ حدیث ہے جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے
کہ ان کے فرزند واقد کا جب حالت احرام میں انتقال ہوا تو حضرت ابن عمر اپنے فرزند واقد کو کفناتے
وقت ان کے چہرہ اور سر کو ڈھانکے اور فرمایا کہ اگر ہم حالت احرام میں نہ ہوتے تو اے واقد تم کو
خوشبو بھی لگاتے (اس لئے کہ تمہارا احرام ختم ہوگیا ہے اور تم اب محرم نہیں رہے۔)
وہ حدیث ہے جس کو ابن ماجہ نے روایت کی ہے کہ انسان جب مرتا ہے تو
تین چیزوں کے سوا اس کے تمام اعمال ختم ہوجاتے ہیں (مثلاً اگر وہ محرم ہے تو اس کا احرام مرنے
سے ختم ہوجاتا ہے، اس لئے اور مردوں کی طرح کفناتے وقت اس کے سر اور چہرہ کو ڈھانکنا چاہئے اور
اس کو خوشبو بھی لگانا چاہئے) وہ تین اعمال جو مرنے سے ختم نہیں ہوتے بلکہ باقی رہ جاتے ہیں وہ یہ
ہیں: ایک صدقہ جاریہ (جیسے رفاہ عام کے لئے مسجد، مدرسہ، مسافر خانہ اور پل وغیرہ بنانا، اس صدقہ
جاریہ کا ثواب منقطع نہیں ہوتا، اس کو ملتا رہتا ہے) دوسرے علم دین، (لوگوں کو سکھایا، یا تصنیف
وتالیف کیا) جس سے لوگ نفع اٹھاتے رہتے ہیں، اس کا ثواب بھی منقطع نہیں ہوتا (اس کو ملتا رہتا
ہے) تیرے نیک اولاد جو اس کے لئے دعاء خیر کرتے رہتے ہیں (اور اس کو ثواب ملتا رہتا ہے، یہ
ثواب بھی منقطع نہیں ہوتا ہمیشہ باقی رہتا ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
With water and sidr...
(1) His statement: "With water and sidr..." This indicates washing with sidr, which shows that the deceased had exited the state of Ihram, as it is not permissible to wash a Muhrim with sidr. This is summarized from Umdat al-Qari.
Note 2
Cover his head...
(2) His statement: "Cover his head..." Tawus said: "The head of a Muhrim should be perfumed if he dies." Al-Hasan said: "If a Muhrim dies, he becomes lawful (i.e., the restrictions of Ihram no longer apply)." From the narration of Mujalid from Amir: "If a Muhrim dies, his Ihram is nullified." From the narration of Ibrahim from Aisha (may Allah be pleased with her): "If a Muhrim dies, the Ihram of your companion is nullified." This was also stated by Ikrimah with a good chain. Ibn Hazm reported that it is authentically narrated from Aisha (may Allah be pleased with her) that a deceased Muhrim should be embalmed, perfumed, and his head covered. From Jabir, Abu Ja'far said: "A Muhrim's head should be covered and not left uncovered." This is stated by Al-'Allamah Al-'Ayni in Umdat al-Qari.
Note 3
His deeds come to an end...
(3) His statement: "His deeds come to an end..." Some scholars found it problematic to reconcile this with the authentic hadith that permits covering the face and head of a deceased Muhrim, as the hadith is not as strong as this. This is mentioned in Sharh an-Niqayah. The scholar noted in the margin: "This objection is based on not distinguishing between the rulings of this world and the Hereafter, and there is a vast difference between them. Reflect on his statement, and it will become clear to you that Ihram has a strong effect on covering the head. Therefore, covering the head is linked to it. He said, 'For he will be resurrected...' The rulings of this world cease for the dead, so the head of a Muhrim is covered upon death because his deeds have ended. As for this Muhrim, not covering the head is one of his specific rulings. Do you not see that he said, 'For he will be resurrected...'? If it were as those who disagree with us claim, the wording would have been: 'For the Muhrims will be resurrected,' or 'Every Muhrim will be resurrected.' If it were linked to the description of Ihram, we would know that not covering the head is an effect of Ihram after death as well. If you say that the pronoun in 'For he will be resurrected' refers to the Muhrim, I say: No, it refers to the essence of the Muhrim, for pronouns refer to entities, unlike demonstrative pronouns, which consider the referent along with its attributes. Thus, the conclusion is that not covering the head is an effect of Ihram, as is clear from his statement. As for the Muhrims after death, their heads are covered because their deeds have ended in terms of the rulings of this world."
Note 1
قوله
(۱) قوله: وسدر وفيه غسله بالسدر، وهذا يدل على أنه خرج من الإحرام؛ لأنه لا يجوز غسل المحرم بسدر، من عمدة القاري» ملخصا.
Note 2
قوله
(۲) قوله : وخمر رأسه إلخ : قال طاوس : يطيب رأس المحرم إذا مات. وقال الحسن: إذا مات المحرم فهو حلال. ومن حديث مجالد عن عامر: إذا مات المحرم ذهب إحرامه. ومن حديث إبراهيم عن عائشة: إذا مات المحرم ذهب إحرام صاحبكم، وقاله عكرمة بسند جيد. وحكى ابن حزم أنه صح عن عائشة تحنيط الميت المحرم إذا مات وتطييبه وتخمير رأسه. وعن جابر عن أبي جعفر قال : المحرم يغطى رأسه ولا يكشف. قاله العلامة العيني في عمدة القاري».
Note 3
قوله
(۳) قوله: انقطع عمله إلخ وقال بعض الأعلام يشكل بالحديث الصحيح تجويز مشايخنا تخمير وجه الميت محرما ورأسه الحديث ليس في قوة هذا. قاله في شرح النقاية». وقال العلامة في هامشه: هذا الإشكال مبني على عدم الفرق بين أحكام الدنيا وأحكام الآخرة، وشتان ما بينهما، فتدبر في قوله ، يظهر لك أن الإحرام له أثر قوي في ستر الرأس. فلذا رتب ستر الرأس عليه. وقال: فإنه يبعث إلخ وأحكام الدنيا تنقطع عن الأموات فيغطى رأس المحرم إذا مات؛ لانقطاع عمله. وأما هذا المحرم فعدم تغطية الرأس من خصوصياته.
ألا ترى أنه قال: فإنه يبعث إلخ. ولو كان كما ذهب إليه من يخالفنا لكان نسق الكلام: «فإن المحرمين يبعثون، أوكل محرم يبعث». ولو رتب على وصف الإحرام لعرفنا أنه عدم تغطية الرأس أثر الإحرام بعد الموت أيضًا. فإن قلت: إن الضمير في فإنه يبعث راجع إلى المحرم. قلت: كلا، بل إلى ذات المحرم؛ فإن الضمائر ترجع إلى الذوات. بخلاف أسماء الإشارات؛ فإنها تلاحظ فيه المشار إليه مع صفته. فحاصل الكلام: أن عدم تغطية الرأس أثر الإحرام كما هو ظاهر من قوله . وأما المحرمون بعد الموت فلأن يغطى رؤوسهم؛ لانقطاع أعمالهم في حق أحكام الدنيا.
Note 1
مُحرم اگر احرام کی حالت میں مرجائے تو وہ آخرت کے لحاظ سے محرم رہے گا اسی لئے حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہوا ہے کہ احرام کی حالت میں مرنے والے محرم قیامت کے دن لبیک کہتے
ہوئے اپنی قبروں سے اٹھیں گے، مگر ایسے محرم کا احرام دنیوی احکام کے لحاظ سے ختم ہوجاتا ہے وہ مثل
دوسرے مردوں کے بن جاتا ہے، یہی مذہب حنفی ہے، محرم کا احرام کی حالت میں مرنے سے دنیوی
لحاظ سے اس کا جو احرام ختم ہوجاتا ہے، اس پر کئی دلائل ہیں، پہلی دلیل وہ حدیث ہے جس کو بخاری
اور مسلم نے روایت کی ہے کہ:
Note 2
کے لئے کفن کفایہ ہے، اس حدیث میں حضور کا ارشاد ہوا ہے بیری کے پتے میں گرم کئے ہوئے پانی
سے اس کو نہلاؤ محرم ایسی چیز کا استعمال نہیں کرسکتا کہ جس سے میل کچیل دور ہو، بیری کے پتے میں
گرم کئے ہوئے پانی سے بھی میل کچیل دور ہوجاتا ہے، اگر احرام کی حالت میں مرنے والے کا احرام
باقی رہتا تو حضور اس کو بیری کے پتے میں گرم کئے ہوئے پانی سے نہلانے کا حکم نہیں دیتے، جب
آپ حکم دیئے ہیں تو معلوم ہوا کہ اس کا احرام باقی نہ رہا۔
Note 3
مرنے والے محرم کے سر اور چہرہ کو ڈھانکنے کا جو حکم ہوا ہے اس سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا احرام ختم
ہوگیا اگر احرام باقی رہتا تو اس کے سر اور چہرہ کو ڈھانکنے کا حکم نہ دیا جاتا، اس لئے کہ محرم کا سر اور چہرہ
نہیں ڈھانکا جاتا ہے۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں (کہ ضرورت اور مجبوری کی وجہ سے مرد کو ایک کپڑے میں
بھی کفنایا جا سکتا ہے مگر ایک کپڑے سے) بہتر کفن حلہ ہے (اور حلہ دو کپڑوں کو کہتے ہیں، ایک چادر
اور دوسرے تہبند، یہ بھی کفن کفایہ ہوگا پوری سنت کی ادائی کے لئے تین کپڑے کفن میں ہونا چاہئے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی ارشاد فرمائے ہیں کہ (یوں تو قربانی ہر اس بکرے کی ہو سکتی ہے
جو قربانی کی شرط کے موافق ہو) مگر قربانی کے لئے بہتر سینگ بڑا ہوا مینڈھا ہے۔ (اس لئے کہ
گوشت اس میں زیادہ ہوتا ہے۔) اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
اور ترمذی اور ابن ماجہ نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 995 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
The hullah...
(1) His statement: "The hullah..." The hullah is a waist-wrapper and a cloak made of Yemeni fabric. It is only used to refer to two garments. The intended meaning—and Allah knows best—is that one should not limit themselves to a single garment, as two garments are better. If the Sunnah and completeness are intended, then three garments are recommended, as held by the majority. This is mentioned in the footnote of Abu Dawud.
Note 1
قوله
(۱) قوله: الحلة : الحلة ازار ورداء من برود اليمن، ولا يطلق إلا على الثوبين والمقصود - والله أعلم -: أنه لا ينبغي الاقتصار على الثوب الواحد، والثوبان خير منه. وإن أريد السنة والكمال فثلاث على ما عليه الجمهور. قاله في حاشية «أبي داود».
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم محض اللہ
تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے (وطن چھوڑ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ
ہجرت کر کے مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ آئے تو ہماری ہجرت رائیگاں نہیں گئی، اللہ تعالیٰ اپنے فضل
وکرم سے ہم کو (دنیا اور آخرت میں) ہجرت کا اجر دینا اپنے ذمہ لے لئے، ہم میں سے بعض حضرات
تو ایسے ہوئے جن کے لئے آخرت کا اجر تو تیار ہے، مگر وہ دنیا کا کوئی اجر نہیں لے سکے ان میں سے
مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں (کہ ان کو دنیا کا کچھ اجر نہ ملا، دنیا کا کچھ اجر نہ ملنے کا آپ اس واقعہ
سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ) جب حضرت مصعب بن عمیر غزوۂ احد میں شہید ہوئے تو ان کو پورا کفن
تک نہ ملا، کفن کے لئے صرف ایک چادر تھی، کیا کہوں وہ بھی کیسی تھی، اتنی چھوٹی تھی کہ جب ہم ان کا
سر ڈھانکتے تو پیر باہر نکل جاتے تھے، اور جب پیروں کو ڈھانکتے تو سر کھل جاتا (ہم حیران تھے کہ کیا
کریں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (سر کی عظمت پیش نظر رکھ کر) سر ڈھانک
دو، اب رہے پیر تو چیروں کو اذخر (جو خوشبودار گھاس ہے) اس سے چھپا دو (اس واقعہ سے معلوم ہوا
کہ مردہ کے تمام جسم کو چھپانا واجب ہے، اگر تمام جسم چھپانا واجب نہ ہوتا تو پیروں کو گھاس سے
چھپانے کی کیا ضرورت تھی، بغیر گھاس سے چھپائے دفن کر سکتے تھے گھاس سے چھپانے کا حکم دینے
سے معلوم ہوا کہ مردہ کا تمام جسم چھپانا واجب ہے، اور یہی مذہب حنفی ہے اور اس واقعہ سے یہ بھی
معلوم ہوا کہ کفن ضرورت کے لئے ایک کپڑے میں کفنانا جائز ہے، اور یہ کفن ضرورت ہے)
حضرت خباب یہ بھی فرمائے بعض صحابہ ایسے بھی ہوئے ہیں کہ ان کے لئے آخرت کا اجر کیا ہے کہ
کیسا ہے؟ (نہ آنکھ دیکھے نہ کان سنے ایسی ایسی نعمتیں ان کے لئے تیار ہیں، آخرت کی ان نعمتوں کے
ساتھ دنیا سے بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں سرفراز کیا ہے وہ ان نعمتوں سے نفع اٹھا رہے ہیں، اور ان
نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کر کے) اس سے بھی ثواب حاصل کر رہے ہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1276 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 940a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Cover his head with it...
(2) His statement: "Cover his head with it..." This is evidence that the shroud in cases of necessity can be a single garment and that covering the entire body of the deceased is obligatory. This is mentioned in Al-Mirqat. In Ad-Durr al-Mukhtar, it is stated: "The shroud in cases of necessity is whatever is available, and the minimum is what covers the entire body. According to Ash-Shafi'i, it is what covers the private parts, like for the living." In Radd al-Muhtar, it is mentioned: "If the available garment does not cover the entire body, it is insufficient even in necessity. Rather, the rest of the body must be covered with something like grass, such as idhkhir. This is why Az-Zayla'i, after citing the hadith of Mus'ab, said: 'This is evidence that covering only the private parts is insufficient, contrary to Ash-Shafi'i's opinion.'" In Sharh al-Munyah, it is stated: "It is not permissible to combine two people in one shroud according to our view, contrary to the Shafi'i and Hanbali schools, who permit it in cases of necessity based on the narration of Anas. We say: Its meaning is that the single garment was divided among the group, so each person was shrouded with a portion of it out of necessity, even if it did not cover their entire body. It does not mean that their bodies were placed together, as that would involve exposing the private parts of one to the other. It is not permissible to bury two or more people in one grave except in cases of necessity, and in such cases, a barrier of soil should be placed between them." In Umdat al-Qari, Al-'Allamah Ibn Taymiyyah explained the meaning of the hadith: "The single garment was divided among the group, so each person was shrouded with a portion of it out of necessity, even if it did not cover their entire body. This is supported by the rest of the hadith, which mentions that the Prophet (ﷺ) would ask about who among them had memorized more Qur'an and would place them first in the grave. If they were all in one shroud together, he would have asked about the best among them beforehand to avoid having to undo and redo the shrouding."
Note 2
قوله
(۲) قوله: غطوا بها رأسه إلخ : هذا دليل على أن كفن الضرورة ثوب واحد، وعلى أن ستر جميع الميت واجب. قاله في «المرقاة». وفي الدر المختار: وكفن الضرورة لهما ما يوجد، وأقله ما يعم البدن. وعند الشافعي: ما يستر العورة كالحي. وقال في رد المحتار: إن ما لا يستر البدن لا يكفي عن الضرورة أيضًا، بل يجب ستر باقيه بنحو حشيش كالإذخر، ولذا قال الزيلعي بعد سوقه حديث مصعب وهذا دليل على أن ستر العورة وحدها لا يكفي خلافا للشافعي، وقال في شرح المنية»: ولا يجوز الجمع بين اثنين في كفن واحد عندنا، خلافا للشافعية والحنابلة حيث جوزوه عند الضرورة؛ لما روى أنس. قلنا: معناه أنه كان يقسم الواحد بين الجماعة، فيكفن كل واحد ببعضه للضرورة، وإن لم يستر إلا بعض بدنه، وليس المراد أن يلاصق بدناهما؛ لأن فيه مباشرة عورة أحدهما للآخر. ولا يجوز أن يدفن اثنان أو أكثر في قبر واحد إلا عند الضرورة. وحينئذ يجعل بينهما حاجز من التراب انتهى.
وفي عمدة القاري عن العلامة ابن تيمية معنى الحديث أنه كان يقسم الثوب الواحد بين الجماعة، فيكفن كل واحد ببعضه للضرورة، وإن لم يستر إلا بعض بدنه، يدل عليه تمام الحديث أنه كان يسأل عن أكثرهم قرآنا فيقدمه في اللحد. فلو أنهم في ثوب واحد جملة يسأل عن أفضلهم قبل ذلك؛ كيلا يؤدي إلى نقض التكفين وإعادته.
Note 1
ف: شرح منیہ میں کہا ہے کہ مذہب حنفی میں ایک ہی کفن میں دو آدمیوں کو کفنانا جائز نہیں ہے
اگر کفن ایک ہو، اور میت ایک سے زائد ہوں تو ایک ہی کفن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں، اور جتنا
حصہ کفن کا جس میت کے حصہ میں آئے اسی میں اس کو کفنایا جائے، اور باقی بدن کا جو حصہ کھلا رہے اس
کو گھاس وغیرہ سے چھپایا جائے۔
شرح منیہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ مذہب حنفی میں ایک قبر میں ایک سے زائد میت کو دفنانا جائز نہیں
ہے، اگر ایسی ہی مجبوری ہو، اور ایک ہی قبر میں دو یا دو سے زائد مردوں کو دفنانے کی ضرورت پڑے تو قبر
میں دونوں کے درمیان مٹی سے کٹھر بنا کر دفن کیا جائے، تاکہ دونوں جسم ایک دوسرے سے مل نہ
سکیں۔12
سعد بن ابراہیم رضی اللہ عنہما اپنے والد ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روزہ سے تھے، افطار کے وقت آپ کے لئے کھانا لایا گیا (تکلف کا
کھانا دیکھ کر فرمائے، ہماری تو یہ حالت ہے کہ دنیا کی نعمتیں ہم کو مل رہی ہیں) (یہ اشعۃ اللمعات میں
مذکور ہے۔12) اور ایک مصعب بن عمیر بھی تھے کہ جن کے سامنے نعمتوں کا کھانا آنا تو کیا کہ جب
وہ شہید ہوئے تو ان کو کفن تک پورا نہ ملا (پھر کسر نفسی سے فرمائے) حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے (ان
کے کفن کی کیا حالت بیان کروں) اتنا چھوٹا کفن تھا کہ جب اس سے سر چھپاتے تو پاؤں باہر ہو جاتے
اور اگر پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا تھا، راوی حدیث ابراہیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے خیال پڑتا
ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے یہ بھی فرمایا کہ ایسا ہی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا حال تھا کہ
جب وہ شہید ہوئے (تو ان کو بھی پورا کفن نہ (یہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) ملا ان کے کفن
کی بھی وہی حالت تھی کہ سر چھپاتے تو پیر کفن سے نکل جاتے، اور پیر چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا، تو سر کو
چھپا کر پیروں پر گھاس ڈال دی گئی) حالانکہ وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہونے کے
لحاظ سے) مجھ سے، بہتر تھے (اب ہماری حالت سنئے) خوب دنیا ملی (جس کی وجہ طرح طرح کے
کھانے کھا رہے ہیں) خدا نخواستہ کہیں ہماری نیکیوں کا یہ بدل تو نہیں ہے، خدا ایسا نہ کرے (ایسا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے دنیا کی یہ نعمتیں ہم کو دے رہا ہو، اور آخرت میں بھی سب صحابہ کے
ساتھ آخرت کی نعمتیں سرفراز کرے) حضرت عبدالرحمن یہ کہہ کر اس درد سے رونے لگے (باوجود اس
کے کہ روزہ دار تھے، بھوک تھی) رونے کی وجہ سے کھانا نہ کھا سکے۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
25/2441-2442۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ
غزوۂ احد میں جو صحابہ کرام شہید ہوئے تھے، ان کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہوا
کہ ان سے ہتھیار علیحدہ کئے جائیں اور جو سامان چمڑے کا ان کے جسم پر ہے (جیسے پوستین اور
موزے وغیرہ) یہ بھی ان سے علیحدہ کیا جائے (اور بغیر غسل (ایسا ہی بخاری کی ایک روایت میں مذکور
ہے۔12) دیئے کے) ان کے خون آلود کپڑوں ہی میں ان کو دفن کیا جائے۔
اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے، اور حاکم، امام احمد، دارقطنی، طبرانی، بیہقی)
ابوداؤد اور ابن ماجہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد میں جو صحابہ شہید
ہوئے تھے ان پر نماز جنازہ ادا فرمائے (اس سے ثابت ہوا کہ میدان جنگ میں کافروں کے ہاتھ
سے جو مسلمان شہید ہوتے ہیں ان پر نماز جنازہ تو پڑھی جائے مگر غسل نہ دیا جائے اور ان سے ان
کے ہتھیار اور چمڑے کا سامان علیحدہ کر کے ان ہی کے خون آلودہ کپڑوں میں ان کو دفن کیا جائے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "Why are you combing your deceased?" Ash-Shafi'i said: "Her hair should be combed, made into three braids, and placed behind her back." This is also the opinion of Ahmad and Ishaq. We say: The hadith cited by Ash-Shafi'i and Ahmad does not indicate that the Prophet (ﷺ) commanded this. It only mentions that Umm Atiyyah braided her hair into three braids, and it is possible that she did so on the Prophet's (ﷺ) order, but rulings cannot be established based on possibilities. Moreover, what is mentioned is adornment, and the deceased has no need for it. This is stated in Umdat al-Qari. The narration of Abdur Razzaq and our Imam Abu Hanifah mentioned in this book supports our view.
Note 1
(۱) قوله: علام تنصون ميتكم : قال الشافعي يُسرح شعرها، ويجعل ثلاث ظفائر، ويجعل خلف ظهرها، وبه قال أحمد وإسحاق. قلنا: ليس في الحديث الذي استدل به الشافعي وأحمد إشارة من النبي له إلى ذلك. وإنما المذكور فيه الإخبار من أم عطية أنها مشطت شعرها ثلاثة قرون، وكونها فعلت ذلك بأمر النبي ﷺ احتمال، والحكم لا يثبت به، ولأن ما ذكره زينة، والميت مستغن عنها. قاله في عمدة القاري». وحديث عبد الرزاق وإمامنا أبو حنيفة الذي ذكر في هذا الكتاب يؤيد مذهبنا.
Note 1
ف: ان دونوں مذکورہ حدیثوں سے ثابت ہوا کہ میت کے بالوں میں کنگھی نہ کی جائے، اس لئے کہ بالوں میں کنگھی کرنا زینت کے لئے ہوا کرتا ہے اور میت کو زینت کی ضرورت نہیں، یہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔12