Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 10

(یہ باب سترہ کے بیان میں ہے)

18 narrations · In source reading order

Hadith 1035

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1164
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت (نماز عید کے لئے) عیدگاہ تشریف لے جاتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے برچھی لئے ہوئے چلتے اور برچھی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے عیدگاہ میں نصب کر دیتے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب ہو کر نماز ادا فرماتے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 973 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1036

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1165
ابو جُحَیْفَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ معظم کی وادی بطح میں چمڑے کے سرخ ڈیرے میں دیکھا اور بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا مستعمل پانی لئے ہوئے ہیں اور لوگوں کو دیکھا کہ اس مستعمل پانی کو تبرکاً لینے کے لئے گرے جا رہے ہیں۔ بس جس کسی کو اس میں سے کچھ پانی مل گیا تو اس کو وہ برکت کے لئے اپنے چہرہ پر مل رہا ہے اور جس کو نہیں ملا تو وہ اپنے ساتھ والے کے ہاتھ کی تری کو لے رہا ہے پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے برچھی لی اور اس کو زمین میں سترہ بنانے کے لئے نصب کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دامن اٹھائے ہوئے سرخ دھاریدار جوڑا زیب تن فرمائے ہوئے ڈیرے سے نکلے اور برچھی کی جانب ہو کر ہم سب کو دو رکعت نماز (قصر) پڑھائی (اس لئے کہ آپ سفر کی حالت میں تھے) اور میں نے لوگوں کو اور جانوروں کو دیکھا کہ برچھی کے پرے سے گزر رہے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 376 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 503a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1037

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1166
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم (عرب کے دستور کے مطابق تفریح کی غرض سے) اپنے جنگل میں ٹھیرے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگل میں ایسی حالت میں نماز ادا فرمائی کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا اور ہمارے کتے اور گدھے آپ کے سامنے کودتے پھر رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کچھ خیال نہ فرمایا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور نسائی نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 718 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ نمازی کے لئے بوقت نماز سترہ قائم کرنا واجب نہیں ہے اگر عوام کی گزرگاہ ہو تو سترہ کا قائم کرنا مستحب ہے اور عوام کی گزرگاہ نہ ہونے کی صورت میں بھی سترہ کا قائم کرنا اولیٰ ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ، اشعۃ اللمعات۔)

Hadith 1038

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1167
نافع رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کے اونٹ کو اپنے اور اپنے قبلہ کے درمیان عرضاً (آڑا) بٹھاتے تھے اور (اس کو سترہ بنا کر) اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) اور بخاری نے یہ عبارت زیادہ کی ہے، نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا کہ اگر اونٹ (چرنے یا پانی پینے) چلے جاتے تو بتلائیے کہ حضور کیا کرتے تھے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کجاوے کو لیتے اور اس کو سامنے رکھ کر کجاوے کے آخری حصہ کی پچھلی لکڑی کو (سترہ بناتے) اور اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرماتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 507 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 502 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1039

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1168Noor 1169
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی کے برابر کسی چیز کو (سترہ بنا کر) کھڑا کرلے تو اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھے اور جو بھی اس کے پرے سے گزرے تو اس کی کوئی پروا نہ کرے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے سامنے (اس کی سجدہ کی جگہ سے) تین ہاتھ پرے سے گزریں تو یہ سترہ کا قائم مقام ہوگا۔ (یہ حکم مسجد اور صحراء دونوں کو شامل ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 499a (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 782 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 782

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

At a distance of a stone's throw

(1) The statement: "At a distance of a stone's throw" – In An-Nihayah: The correct view is that if one prays with full humility, keeping their gaze fixed on the place of prostration during the standing position and not looking at those passing by, it is not disliked. This is the preferred opinion of Fakhr al-Islam. Ibn al-Humam favored what is mentioned in An-Nihayah without distinguishing between the mosque and an open space, as stated in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: على قذفة بحجر وفي النهاية»: الأصح أنه لوصلى صلاة الخاشعين بأن يكون بصره حال قيامه إلى موضع سجوده لا يقع بصره على المار: لا يكره، وهو مختار فخر الإسلام. ورجح ابن الهمام ما ذكره في النهاية» من غير تفصيل بين المسجد والصحراء، كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: واضح ہو کہ ابوداؤد کی اس حدیث میں ”قذف حجر“ کے الفاظ ہیں اور علماء نے قذف حجر سے مراد ”رمی جمار“ لیا ہے۔ حج کے موقع پر منٰی میں جو کنکریاں ماری جاتی ہیں اس کو ”رمی جمار“ کہا جاتا ہے، اور یہ کنکریاں تین ہاتھ کے فاصلے سے ماری جاتی ہیں اس لئے حدیث کے الفاظ ”قذف حجر“ کا ترجمہ تین ہاتھ پر سے گزرنا کیا گیا ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)

Hadith 1040

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1170
ابوجُہَیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کو (سترہ نہ ہونے کی صورت میں نمازی کے سامنے سے گزرنے میں) کس قدر گناہ ہوتا ہے تو وہ (بجائے سامنے سے گزرنے کے چالیس دن یا ماہ یا سال تک (راوی کو تعیین مدت میں شک ہے) رکا ہوا کھڑے رہنا پسند کرتا۔) (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 510 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 507a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1041

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1171
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے سے جب کہ وہ نمازی کی حالت میں ہو عرضاً (آڑا) گزرنے میں اس کو کتنا گناہ ہوتا ہے تو اس کو سو سال تک کھڑا رہنا (نمازی کے سامنے) چلنے سے بہتر معلوم ہوتا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 946 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1042

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1172Noor 1173
کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو معلوم ہوتا کہ اس پر نمازی کے سامنے سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو گزرنے والے کو اپنا زمین میں دھنسا دیا جانا اس گزرنے سے بہتر معلوم ہوتا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس پر (اس گزرنے سے زمین میں دھنس جانا آسان ہوتا۔ (امام مالک۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 371 (unverified) 40% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 789 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 789

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: شرح منیہ میں مذکور ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے گزرنے والا نمازی کے سجدہ کی جگہ یا نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا ”سُبْحَانَ اللّٰه“ کہہ کر روکے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ روکے کیونکہ یہ بھی عمل کثیر ہے اور قاضی عیاض نے نقل کیا ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گزرنے والے کو روکنے کے لئے نمازی عمل کثیر کا مرتکب نہ ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)

Hadith 1043

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1174
ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (نماز کے سامنے سے گزرنے والی) کوئی چیز نماز کو فاسد نہیں کرتی جہاں تک تم سے ہوسکے گزرنے والے کو روکو کیونکہ وہ شیطان ہے (کہ تمہارے سامنے سے گزر کر تمہارے خشوع میں خلل ڈالتا ہے۔) (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور طبرانی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 719 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Repel as much as you can

(1) The statement: "Repel as much as you can" – In Sharh al-Munyah: "One should repel the passerby if they intend to pass in front of the place of prostration or between the worshipper and the Sutrah by gesturing or saying 'Subhanallah,' but not both together." Al-Qadi 'Iyad has conveyed the consensus that it is not permissible to engage in excessive actions to repel them, as mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: وادرؤوا ما استطعتم وفي شرح المنية ويدرأ المار إذا أراد أن يمر في موضع سجوده أو بينه وبين السترة بالإشارة أو التسبيح، لا بهما معا. وقد نقل القاضي عياض الاتفاق على أنه لا يحل له العمل الكثير في مدافعته، قاله في المرقاة».

Note 1

ف: شرح منیہ میں مذکور ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے گزرنے والا نمازی کے سجدہ کی جگہ یا نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا سبحان اللہ کہہ کر روکے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ روکے کیونکہ یہ بھی عمل کثیر ہے، اور قاضی عیاض نے نقل کیا ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گزرنے والے کو روکنے کے لئے نمازی عمل کثیر کا مرتکب نہ ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)

Hadith 1044

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1175
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ (نمازی کے سامنے گزرنے والی کوئی چیز مسلمان کی نماز کو فاسد نہیں کرتی اور جہاں تک تم سے ہوسکے (گزرنے والے کو) روکو۔ (اس کی روایت طحاوی اور بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Repel from it as much as you can

(2) The statement: "Repel from it as much as you can" – Muhammad (Imam Malik) said in Al-Muwatta: "It is disliked for a person to pass in front of a praying person. If someone intends to pass in front of them, they should repel them as much as possible without fighting. If they fight, the disturbance caused by fighting during the prayer is worse than the passerby crossing in front of them. We do not know of anyone who reported fighting except what was narrated from Abu Sa'id al-Khudri, and this is not the general practice. Rather, it is as I have described to you." End quote.

Note 2

قوله

(۲) قوله: وادرؤوا عنها ما استطعتم: قال محمد في الموطأ» يكره أن يمر الرجل بين يدي المصلي، فإن أراد أن يمر بين يديه فليدراً ما استطاع، ولا يقاتله. فإن قاتله كان ما يدخل عليه في صلاته من قتاله إياه أشد عليه من تمر هذا بين يديه، ولا نعلم أحدا روى قتاله إلا ما روي عن أبي سعيد الخدري، وليست العامة عليها، ولكنها على ما وصفت لك. انتهى

Note 1

ف: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے موطاء میں کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے لئے مکروہ تحریمی ہے، اگر کوئی نمازی کے سامنے سے گزرنا چاہے تو نمازی جہاں تک ہوسکے اس کو روکے لیکن اس آدمی سے نہ لڑے۔ اگر نمازی گزرنے والے سے لڑ پڑے تو نمازی کا لڑنا گناہ میں گزرنے والے کے گناہ سے زیادہ سخت ہوگا اس لئے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا گزرنے والے کے لئے مکروہ ہے فاسد نماز نہیں، اس کے برخلاف نمازی کا اس آدمی سے لڑنا عمل کثیر ہونے کی وجہ سے خود اس کی نماز کے لئے مفسد ہوگا، اب رہا یہ کہ حدیث شریف میں نمازی کے سامنے سے گزرنے والے نمازی کو ”فَلْيُقَاتِلْهُ “ فرما کر (لڑنے) کا جو حکم ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ روکنے میں مبالغہ کیا جائے نہ کہ ایسی حقیقی لڑائی اختیار کی جائے کہ جس سے اس کی نماز فاسد ہو جائے۔ عامۃ العلماء کا یہی قول ہے۔ (التعلیق الممجد.)

Hadith 1045

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1176
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی نماز کو (اس کے سامنے سے گزرنے والی) کوئی چیز خواہ وہ کتا ہو یا گدھا ہو یا عورت ہو، فاسد نہیں کرتی اور ان کے سوا دوسرے جانور بھی نمازی کے سامنے سے گزر جائیں تو نماز فاسد نہیں ہوگی اور جہاں تک تم سے ہوسکے (سامنے سے گزرنے والے کو عمل قلیل سے) روکو۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ یہ مذکورہ بالا حدیثیں اور آئندہ آنے والی حدیثیں اس حدیث کی ناسخ ہیں جس میں یہ مذکور ہے کہ نمازی کے سامنے سے عورت، کتا یا گدھا وغیرہ گزر جائیں تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ اس کو ابن الملک نے ذکر کیا ہے، اور حلیہ کی تحقیق بھی یہی ہے کہ ان ہی مذکورہ حدیثوں سے وہ تمام حدیثیں منسوخ ہیں جن میں عورت، کتا، گدھا وغیرہ گزرنے سے نماز فاسد ہونے کا ذکر ہے۔ اور امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ وہ حدیث بھی منسوخ ہے جس میں ”فَلْيُقَاتِلْهُ“ فرما کر نمازی کو اس کے سامنے سے گزرنے والے سے لڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ نیز امام موصوف نے یہ بھی کہا ہے کہ ”فَلْيُقَاتِلْهُ“ والی حدیث میں نمازی کے سامنے سے گزرنے والے سے لڑنے کا جو حکم مذکور ہے وہ اسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ حالت نماز میں عمل کثیر کی ممانعت نہ تھی۔12

Hadith 1046

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1177
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھا کرتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح عرض میں سوتی تھی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 514 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 512a (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے عورت ہونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (اشعۃ اللمعات۔)

Hadith 1047

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1178
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی ہوتی اور میرے دونوں پاؤں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان ہوتے (آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو (میرے پیر کو اپنے ہاتھ سے دبا کر اشارہ فرماتے تو میں اپنے دونوں پاؤں کھینچ لیتی اور جب آپ کھڑے ہوتے تو پھر میں پاؤں دراز کر لیتی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس زمانہ میں گھروں میں چراغ نہیں ہوا کرتے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 382 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 513 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1048

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1179
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بالغ ہونے کے قریب تھا اس زمانہ کا ذکر ہے کہ ایک روز میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر دیوار اور سترہ کے منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے پس میں صف کے کچھ حصہ کے سامنے سے گزر کر سواری سے اتر گیا اور گدھی کو (گھاس) چرنے چھوڑ کر نماز میں شریک ہو گیا اور کسی شخص نے بھی میرے اس فعل کو برا نہ سمجھا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 76 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 493 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 504a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

No one objected to this

(1) The statement: "No one objected to this" – Ibn al-Malik said: "The purpose is to show that the passing of a donkey in front of someone praying does not invalidate the prayer," as mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فلم ينكر ذلك علي أحد قال ابن الملك والغرض منه أن مرور الحمار بين يديه لا يقطع الصلاة، كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: اس حدیث کے پیش نظر ابن الملک نے کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گدھا گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہے، مقتدی کو علیحدہ سترہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسی وجہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے صف کے سامنے گزرنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ (مرقات۔)

Hadith 1049

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1180
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ ؓ گزرے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ (گزرنے سے روکا) تو وہ رک گئے پھر زینب بنت ام سلمہ گزر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ فرمایا کہ (ان کو بھی روکا)، لیکن وہ نہ رکیں، اور آپ کے سامنے سے چلی گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ عورتیں (مردوں پر) غالب ہو کر رہتی ہیں۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 948 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1050

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1181
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنا چاہے تو وہ (دیوار، درخت یا کھمب جیسی کسی چیز کے آڑ میں) نماز پڑھے اور اگر کوئی ایسی چیز (آڑ کے لئے) نہ ملے تو اپنے ہاتھ کی لکڑی نصب کرے اور اگر لکڑی بھی اس کے پاس نہ ہو تو پھر ایک لکیر ہی کھینچ لے (یہ سب سترہ کا کام دیتے ہیں) اس کے بعد اس کے سامنے سے گزرنے والا (اس کی نماز میں) خلل نہ ڈالے گا اور گزرنے والے کو بھی گناہ نہ ہوگا۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 689 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 943 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ابن عابدین رحمہ اللہ علیہ نے ردالمحتار میں کہا ہے کہ سترہ کے لئے لکڑی یا سترہ کے قائم مقام کسی چیز کے نہ ہونے کی صورت میں نمازی اپنے سامنے سترہ کے مقدار کی کوئی چیز زمین پر رکھ لے اور یہ بھی نہ ہو تو زمین پر خط کھینچ لے تو یہ سترے کے قائم مقام ہیں اور اس سے سنت پر عمل ہو جاتا ہے، چنانچہ قدوری نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ زمین پر کسی چیز کو سترے کے لئے رکھنا سنت ہے واضح ہو کہ جس چیز کو بطور سترہ زمین پر رکھا جائے اس کو طول میں رکھے عرض میں آڑا نہ رکھے تا کہ اس کا طول میں رکھنا نصب کرنے کے اس طرح قائم مقام ہو جائے جس طرح کھڑے ہوئے سترہ کا سایہ طول میں گرتا ہے اگر سترہ کھڑا کرنے کے لئے لکڑی یا کوئی اور چیز نہ ہو کہ جس کو سترہ کی بجائے رکھا جا سکے تو ابو داؤد کی مذکور الصدر حدیث کی وجہ سے امام محمد رحمة اللہ علیہ سے دوسری روایت یہ آئی ہے کہ نمازی کا اپنے سامنے طول میں خط کھینچ لینا بھی مسنون ہے۔ (مرقات، عمدة الرعایہ۔)

Hadith 1051

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1182
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (کسی چیز کو سترہ بنا کر) نماز پڑھتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ سترہ سے اتنا قریب ہو کہ (سترے کے نزدیک سجدہ کر سکے) تا کہ شیطان (سترہ سے دور رہنے کی صورت میں کسی کے گزرنے کے وسوسہ کی وجہ سے خشوع میں خلل ڈال کر) اس کی نماز خراب نہ کر سکے۔ (اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 695 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1052

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1183
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ جب کبھی کسی لکڑی یا ستون یا درخت کی طرف نماز پڑھتے تو اس کو اپنے دائیں یا بائیں ابرو کے مقابل رکھ کر پڑھتے اور اس کو اپنی دونوں آنکھوں کے درمیانی جگہ کے مقابل نہیں رکھتے تھے (تا کہ بت پرستی سے مشابہت نہ ہو)۔ (اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 693 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.