Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 36

(اس باب میں اس دعاء کے احکام مذکور ہیں جو نماز وتر میں پڑھی جاتی ہے)

22 narrations · In source reading order

Hadith 1673

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1927
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھا کرتے تھے تو (وتر کی تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: "And stand before Allah in devotion." (Al-Baqarah, 2:238)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1182 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1674

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1928
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت ادا فرمایا کرتے، پہلی رکعت میں ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“ دوسری رکعت میں ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور تیسری رکعت میں ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ۝“ پڑھا کرتے تھے اور (تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1699 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1675

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1929
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی (تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت خطیب نے کتاب القنوت میں کی ہے اور ابن الجوزی نے کتاب التحقيق میں اس کو بیان کیا ہے اور سکوت اختیار کیا ہے۔)

Hadith 1676

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1930
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعت پڑھا کرتے تھے اور وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابونعیم نے حلیہ میں کی ہے۔)

Hadith 1677

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1931
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے تین رکعات پڑھا کرتے اور دعائے قنوت کو وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت طبرانی نے اوسط میں کی ہے۔)

Hadith 1678

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1932
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)

Hadith 1679

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1933
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (ایک دفعہ) اس ارادہ سے رات گزاری کہ دیکھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر میں دعائے قنوت کب پڑھتے ہیں؟ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وتر کی تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے ہیں۔ پھر میں نے اپنی والدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا کو یہ عرض کر کے خدمت گرامی میں بھیجا کہ وہ ازواج مطہرات کے ساتھ رات گزاریں تا کہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر میں دعائے قنوت کب پڑھتے ہیں؟ (وہ گئیں) اور واپس آ کر مجھ سے کہنے لگیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (وتر کی تیسری رکعت میں) رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھے ہیں۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)

Hadith 1680

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1934
علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وتر (کی تیسری رکعت) میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔ جوہر نقی میں
Commentary and footnotes (1)

Note 1

لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند مسلم کی شرط کے موافق ہے (اعلاء السنن)

Hadith 1681

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1935
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم کو فرماتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی آخری رکعت میں دعائے قنوت پڑھتے رہے ہیں، اور یہ حضرات خود بھی (وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے) دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 1

they would do the same

(1) The statement "they would do the same" indicates that the companions consistently practiced Qunut in Witr, as mentioned by Sheikh Ibn Al-Humam.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كانوا يفعلون ذلك: لا شك أن في ما قدمناه من الأحاديث ما هو نص على المواظبة على قنوت الوتر أشار إليه الشيخ ابن الهمام.

Note 1

ف: واضح ہو کہ ان سب احادیث شریفہ سے ثابت ہوا کہ وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہمیشہ عمل رہا ہے، یہ امام ابن الہمام رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔

Hadith 1682

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1936
عاصم احول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ (دعاء یا تو نماز کے آخری قعدہ میں کی جاتی ہے یا نماز کے بعد) کیا عین نماز کی رکعتوں میں بھی دعاء کی جاتی ہے؟ حضرت انس نے فرمایا: ہاں وتر کی تیسری رکعت میں بھی دعاء پڑھی جاتی ہے تو میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ حضرت انس نے فرمایا کہ دعائے قنوت (وتر میں ہمیشہ) رکوع سے پہلے پڑھی جاتی ہے (عاصم نے کہا کہ مجھ سے تو فلاں شخص نے بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد دعاء پڑھی ہے تو حضرت انس نے فرمایا: ایسا نہیں، اصل واقعہ کو انہوں نے ظاہر نہیں کیا، صحیح بات یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صرف ایک ماہ تک (نماز صبح میں) رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی ہے۔ ایک ماہ تک (نماز فجر میں رکوع کے بعد) دعاء پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ صحابہ کو جنہیں قراء کہا جاتا تھا اور وہ ستر کے قریب تھے، مشرکین کی ایک جماعت کی طرف (اسلام کی تبلیغ کرکے علم دین سکھانے کے لئے) بھیجا (اس قوم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں معاہدہ تھا۔ لیکن مشرکین نے عہد شکنی کی) اور سب قراء کو قتل کردیا (صرف کعب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کہ ان کو بھی مشرکین نے زخمی کردیا اور سمجھ لیا تھا کہ شہید ہوگئے ہیں مگر ان کی کچھ جان باقی تھی وہ بچ کر واپس آگئے اس واقعہ سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قدر غم ہوا کہ ایسا غم کبھی نہیں دیکھا گیا اس لئے) ایک ماہ تک نماز صبح میں رکوع کے بعد قاتلوں کو بددعا دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعائے قنوت پڑھی ہے (پھر اس کے بعد نماز صبح میں یا کسی اور نماز میں رکوع کے بعد دعائے قنوت کبھی نہیں پڑھی)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1002 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month

(1) The statement "The Messenger of Allah (ﷺ) performed Qunut after bowing for a month" means that Qunut is only performed outside of Witr during times of calamity. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. In Rad Al-Muhtar, it is stated: "If a calamity occurs, the Imam performs Qunut in the audible prayers." However, in Al-Ashbah, it is mentioned that Qunut is performed in Fajr prayer. This is supported by Sharh Al-Munyah, which states that the permissibility of Qunut during calamities is continuous. This is the view of our school and the majority. Hafiz Abu Ja'far At-Tahawi said: "We do not perform Qunut in Fajr prayer unless there is a calamity. If a calamity occurs, there is no harm in doing so, as the Prophet (ﷺ) did it. As for Qunut in all prayers during calamities, Ash-Shafi'i did not hold this view. It seems they considered the narrations about Qunut in Dhuhr and Isha prayers, as in Muslim, and in Maghrib prayer, as in Bukhari, to be abrogated due to the lack of consistent practice compared to Fajr prayer." This clearly indicates that Qunut during calamities in our school is specific to Fajr prayer and not other audible or silent prayers. It is also clear that the follower (ma'mum) follows the Imam, except when the Imam recites aloud, in which case the follower says "Ameen." Qunut is performed after bowing, not before, as evidenced by the narrations used by Ash-Shafi'i to support Qunut in Fajr, which explicitly mention Qunut after bowing. Our scholars interpreted this as Qunut during calamities. Later, Ash-Sharnuballi in Maraqi Al-Falah explicitly stated that it is performed after bowing, while Al-Hamawi suggested it is before bowing. The more apparent view is what we have stated.

Note 1

قوله

(۱) قوله: قنت رسول الله ﷺ بعد الركوع شهرا إلخ يعني لا يقنت لغير الوتر إلا لنازلة. قاله في «الدر المختار»، وقال في رد المحتار» عن «البناية : إذا وقعت نازلة قَنَتَ الإمام في الصلاة الجهرية، لكن في «الأشباه» عن «الغاية»: قنت في صلاة الفجر، ويؤيده ما في شرح المنية» حيث قال بعد كلام فتكون شرعيته، أي شرعية القنوت في النوازل مستمرة، وهو محمل قنوت مَن قَنَتَ من الصحابة بعد وفاته ، وهو مذهبنا، وعليه الجمهور. قال الحافظ أبو جعفر الطحاوي: إنما لا يقنت عندنا في صلاة الفجر من غير بلية، فإن وقعت فتنة بلية فلا بأس به، فعله رسول الله ﷺ. وأما القنوت في الصلوات كلها للنوازل، فلم يقل به الشافعي، وكأنهم حملوا ما روي عنه : أنه قنت في الظهر والعشاء، كما في «مسلم»، وأنه قنت في المغرب أيضًا، - كما في البخاري - على النسخ؛ لعدم ورود المواظبة والتكرار الواردين في الفجر عنه . انتهى. وهو صريح في أن قنوت النازلة عندنا مختص بصلاة الفجر دون غيرها من الصلوات الجهرية أو السرية، وظهر تقييدهم بالإمام أنه لا يقنت المنفرد، وهل المقتدي مثله أم لا؟ وهل القنوت هنا قبل الركوع أم بعده؟ لم أره، والذي يظهر لي أن المقتدي يتابع إمامه إلا إذا جهر فيؤمن وأنه يقنت بعد الركوع لا قبله، بدليل أن ما استدل به الشافعي على قنوت الفجر، وفيه التصريح بالقنوت بعد الركوع حمله علماؤنا علي القنوت للنازلة، ثم رأيت الشرنبلالي في مراقي الفلاح صرح بأنه بعده واستظهر الحموي أنه قبله، والأظهر ما قلناه.

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک ماہ تک (نماز صبح میں) رکوع کے بعد (عام مسلمانوں پر مصیبت آنے کی وجہ سے) دعائے قنوت پڑھی ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ وتر کے سوا کسی اور نماز میں بجز قنوت نازلہ کے دعائے قنوت نہ پڑھی جائے۔ قنوت نازلہ یہ ہے کہ کفار کی طرف سے جب کوئی سخت مصیبت عام مسلمانوں پر آن پڑے تو امام نماز فجر میں رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرے اور اس کا حکم دائمی ہے یعنی ہر زمانہ میں کفار کی طرف سے مسلمانوں پر عام مصیبت آن پڑے تو قنوت نازلہ فجر کی نماز میں رکوع کے بعد پڑھی جائے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی ایسے موقعوں پر قنوت نازلہ پڑھی ہے، امام طحاوی رحمہ اللہ نے یہی فرمایا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی پر جمہور کا عمل درآمد ہے۔ قنوت نازلہ کو نماز فجر کے سوا اور نمازوں میں پڑھنے کا جو ذکر بعض احادیث میں مروی ہے ایسی حدیثوں کو ائمہ احناف نے منسوخ قرار دیا ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے سواء دیگر نمازوں میں قنوت نازلہ پر کبھی مواظبت اور تکرار نہیں فرمائی بلکہ قنوت نازلہ کی تکرار اور مواظبت صرف نماز فجر ہی میں ثابت ہے اور اسی وجہ سے احناف نے قنوت نازلہ کو نماز فجر سے مختص کیا ہے، فقہاء نے اس کی بھی صراحت فرمائی ہے کہ منفرد قنوت نازلہ نہ پڑھے، اگر امام قنوت نازلہ آہستہ پڑھ رہا ہو تو مقتدی بھی قنوت کو آہستہ پڑھے۔ اور اگر امام قنوت نازلہ جہر سے پڑھ رہا ہو تو مقتدی خود قنوت نہ پڑھے بلکہ آمین کہتا جائے۔ (یہ پورا مضمون رد المحتار سے ماخوذ ہے۔)

Hadith 1683

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1937
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی قوم کے لئے دعا کرنا یا کسی قوم پر بد دعا کرنا چاہتے تو نماز فجر میں (رکوع کے بعد) قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ کی ہے۔)

Hadith 1684

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1938
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (فجر کی نماز میں دعائے قنوت ہمیشہ نہیں پڑھتے تھے البتہ) کسی قوم کے لئے دعا کرنے یا کسی قوم پر بد دعا کرنے کی غرض سے قنوت (نازلہ) پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت خطیب نے کتاب القنوت میں کی ہے اور صاحب تنقیح التحقیق نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)

Hadith 1685

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1939
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بجز ایک مہینہ کے صبح کی نماز میں کبھی قنوت نہیں پڑھے اور کبھی آپ کو (صبح کی نماز میں) اس سے پہلے قنوت پڑھتے نہیں دیکھا گیا، اور اسی طرح اس کے بعد بھی کبھی آپ کو قنوت پڑھتے نہیں دیکھا گیا، اور اس ایک مہینہ میں بھی آپ نے مشرکین میں سے کچھ لوگوں پر بد دعا کرتے
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہوئے (قنوت نازلہ) پڑھی ہے (جنھوں نے آپ کے چند صحابہ کو دھوکے سے شہید کر دیا تھا) اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کی ہے اور اس حدیث کی سند کے متعلق امام ابن الہمام نے کہا ہے کہ یہ ایسی سند ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں۔

Hadith 1686

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1940
ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے دریافت کیا کہ ابا! آپ نے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہم ان سب کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور یہاں کوفہ میں بھی (5) برس حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، آیا یہ حضرات (بلا کسی حادثہ کے بھی فجر میں) قنوت پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا: بیٹا! یہ بدعت ہے، بالکل نئی بات ہے (کیونکہ اس سے پہلے ان حضرات میں سے کسی کو میں نے بلا کسی حادثہ کے فجر میں قنوت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا)۔ (اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے، اور ابن ماجہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 402 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1241 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1080 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1687

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1941
ابو مالک اشجعی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھے۔ اور اسی طرح میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، حضرت ابوبکر نے (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، اور ایسا ہی میں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، حضرت عمر نے بھی (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، اور میں نے حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، حضرت عثمان نے بھی (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، اور میں نے حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، حضرت علی نے بھی (بلا کسی حادثہ کے فجر کی فرض میں) کبھی قنوت نہیں پڑھی، پھر ان کے والد نے کہا: بیٹا! (ہر روز نماز فجر کے فرض میں قنوت پڑھنا) بدعت ہے، اور بالکل نئی بات ہے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 1080 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1689

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1943
غالب بن فرقد طحان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں دو ماہ رہا تو میں نے آپ کو صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔ (اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)

Hadith 1690

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1944
اسود بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر اور اقامت کی حالت میں (2) سال تک رہے ہیں تو انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نماز فجر میں قنوت پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کی روایت امام محمد نے کی ہے،
Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور شیخ ابن الہمام رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ ایسی معتبر سند ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں۔

Hadith 1691

Volume 1

This language is not yet available for this narration.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Then he abandoned it

Regarding the statement, “Then he abandoned it”, the eminent scholar al-Ayni said: The statement, “Then he abandoned it”, indicates that qunut was practised in the obligatory prayers and was subsequently abrogated.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ثم تركه : قال العلامة العيني: فقوله: «ثم تركه يدل على أن القنوت في الفرائض كان، ثم نسخ.

Hadith 1694

Volume 1

This language is not yet available for this narration.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He forbade it

Regarding the statement, “He forbade it”, these Hadiths indicate that the reports concerning the performance of qunut in the prayers have been abrogated. This is the author's statement.

Note 2

A chapter: There are several matters to consider here. The first is that performing the Ramadan night prayer itself is an emphasised Sunnah, because encouragement has been given to it, and the Hadiths in this chapter provide evidence for this.

Regarding the statement, “A chapter: There are several matters to consider here. The first is that performing the Ramadan night prayer itself is an emphasised Sunnah, because encouragement has been given to it, and the Hadiths in this chapter provide evidence for this.” This is the author's statement.

Note 1

قوله

(۱) قوله : نهي إلخ : هذه الأحاديث تدل على أن ما روي من القنوت في الصلوات منسوخ. منه.