Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے) · Chapter 12

(یہ باب نفل روزوں کے بیان میں ہے)

32 narrations · In source reading order

Hadith 2501

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2948Noor 2949
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کبھی نفل) روزے متواتر رکھے چلے جاتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے کہ آپ اب (نفل) روزے نہیں چھوڑیں گے، اور اسی طرح (کبھی نفل) روزے چھوڑ دیتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نفل روزے نہیں رکھیں گے (یعنی نفل روزے رکھنے کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی خاص عادت مبارکہ نہ تھی) اور (حضرت عائشہؓ یہ بھی فرماتی ہیں کہ) میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ کسی ماہ میں بجز رمضان المبارک کے پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں، ہاں ماہ رمضان میں پورے روزے رکھا کرتے تھے اور میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہ شعبان میں جس قدر زائد روزے رکھتے دیکھی تھی، کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھی۔ اور ایک اور روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان میں پورے مہینے کے روزے رکھا کرتے تھے، سوائے چند دنوں کے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah Almighty: “Whatever good you send ahead for yourselves, you will find it with Allah.” (Qur’an 2:110)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1969 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1156a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He would fast all of Sha’ban.

(1) The statement: “He would fast all of Sha’ban.” In Fath al-Qadir, it is said: “Fasting all of Sha’ban and connecting it to Ramadan is good.” The recommended types of fasting are: fasting in Muharram, fasting in Rajab, fasting in Sha’ban, and fasting on the day of Ashura (the 10th of Muharram), according to the majority of scholars and the Companions. This is mentioned in Al-Zahiriyyah and Al-Alamkiriyyah. If someone asks, “Why did the Prophet (ﷺ) specifically fast more in Sha’ban?” The answer is: Because the deeds of people are raised to Allah in Sha’ban. In Al-Nasa’i, it is narrated from Usamah that he said: “O Messenger of Allah, I notice that you fast more in Sha’ban than in any other month.” The Prophet (ﷺ) said: “That is a month in which deeds are raised to the Lord of the worlds, and I love for my deeds to be raised while I am fasting.” This is mentioned by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.

Note 1

قوله

(۱) قوله : كان يصوم شعبان كله قال في فتح القدير: ومن صام شعبان و وصله برمضان فحسن انتهى. والمرغوبات من الصيام أنواع، أولها : صوم المحرم. والثاني: صوم رجب. والثالث: صوم شعبان وصوم عاشوراء، وهو اليوم العاشر من المحرم عند عامة العلماء والصحابة له. كذا في الظهيرية». قاله في العالمكيرية». فإن قلت: ما وجه تخصيصه بشعبان بكثرة الصوم؟ قلت: لكون أعمال العباد ترفع فيه، ففي النسائي من حديث أسامة. قلت: يا رسول الله! أراك لا تصوم من شهر من الشهر ما تصوم من شعبان؟ قال: ذاك شهر ترجع فيه الأعمال إلى رب العالمين، فأحب أن يرفع عملي وأنا صائم. قاله العلامة العيني في عمدة القاري».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان کے پورے روزے رکھا کرتے تھے۔ اس بارے میں فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص شعبان کے پورے روزے رکھ کر ماہ رمضان کے روزوں سے ان کا اتصال کر دے تو بہتر ہے، جن نفل روزوں کی ترغیب دی گئی ہے ان کی قسمیں یہ ہیں: (1) ماہ محرم میں روزے رکھنا (2) ماہ رجب میں روزے رکھنا (3) ماہ شعبان میں روزے رکھنا (4) اور یوم عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ۔ لیکن مسنون یہ ہے کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کو بھی روزہ رکھ لیا جائے۔ یہ فتاویٰ عالمگیریہ میں فتح القدیر اور ظہیریہ کے حوالے سے لکھا ہے۔ اور علامہ عینی رحمہ اللہ نے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ شعبان میں جس قدر زیادہ روزے رکھتے ہیں اتنے کسی اور مہینہ میں نہیں رکھتے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ماہ شعبان میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے پاس پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں کہ میں روزہ دار ہوں۔12

Hadith 2502

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2950
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اے ام المومنین کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے سوا) کسی اور مہینہ میں پورے مہینہ کے روزے رکھا کرتے تھے؟ تو (یہ سن کر) ام المومنین نے فرمایا: میں نہیں جانتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے سوا کسی اور مہینہ میں پورے دنوں کے روزے رکھے ہوں لیکن کوئی مہینہ ایسا نہیں ہوتا تھا جس میں آپ بالکل روزے نہ رکھتے ہوں (یعنی ہر مہینہ میں کچھ نہ کچھ روزے رکھا کرتے تھے) اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری عمر تک یہی حال رہا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1156d (unverified) 65% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2503

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2951
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ رمضان کے (روزوں کے بعد) جن روزوں کی بڑی فضیلت ہے وہ ماہ محرم الحرام کے روزے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے، اور فرض نمازوں کے بعد جس نماز کی فضیلت ہے وہ رات کی نماز یعنی تہجد ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1163a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2039 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 2039

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

The night prayer.

(2) The statement: “The night prayer.” I say: It is better than the daytime prayer, as mentioned in Al-Jawharah and Nur al-Idah. The Qur’an and hadiths clearly emphasize its virtue and encourage it. In Al-Bahr, it is said: “Among them is what is in Sahih Muslim, where it is narrated: ‘The best prayer after the obligatory prayers is the night prayer.’” This is mentioned in Rad al-Muhtar.

Note 2

قوله

(۲) قوله: صلاة الليل: أقول: هي أفضل من صلاة النهار، كما في «الجوهرة» و «نور الإيضاح»، وقد صرحت الآيات والأحاديث بفضلها والحث عليها. قال في البحر»: فمنها ما في صحيح مسلم مرفوعا: أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل. قاله في رد المحتار».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ فرض نمازوں کے بعد جس نماز کی فضیلت ہے وہ رات کی نماز یعنی تہجد ہے، اس بارے میں ”جوہرہ اور نور الایضاح“ میں لکھا ہے کہ دن کی نفل نمازوں سے تہجد افضل ہے، اس لئے کہ کئی آیات اور احادیث میں تہجد کی فضیلت اور اس کی ترغیب وارد ہے جیسا کہ ”بحر“ میں مذکور ہے۔ ردالمحتار میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔12

Hadith 2504

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2952
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشورا کے سوا کسی اور دن کو افضل جانتے ہوئے اس میں روزہ رکھا ہو، اور اس مہینہ یعنی رمضان کے علاوہ (کسی اور مہینہ کو افضل جانتے ہوئے) اس میں روزے رکھے ہوں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2006 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1132b (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The day of Ashura.

(1) The statement: “The day of Ashura.” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting on the day of Ashura is recommended, as long as it is not mistaken for an obligation.” This is mentioned in Al-Mirqat. There is a difference of opinion regarding its ruling in early Islam. Abu Hanifah said: “It was obligatory, but when the fasting of Ramadan was prescribed, it became recommended.” This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.

Note 1

قوله

(۱) قوله: يوم عاشوراء وقال الشيخ ابن الهمام: يستحب صوم يوم عاشوراء ما لم يظن إلحاقه بالواجب. كذا في «المرقاة». واختلفوا في حكمه أول الإسلام، فقال أبو حنيفة: كان واجبا فلما نزل صوم رمضان صار مستحبا. قاله في عمدة القاري».

Note 1

ف: شیخ ابن الہمام نے فرمایا ہے کہ عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس کو واجب نہ قرار دیا جائے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ابتداء اسلام میں جبکہ رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے یوم عاشوراء کا روزہ فرض تھا لیکن جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کا روزہ مستحب ہوگیا۔ مرقات اور عمدۃ القاری۔12

Hadith 2505

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2953
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے عاشوراء کے دن یہودیوں کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، آپ نے ان سے دریافت کیا کہ (تمہارے نزدیک یہ) کیسا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو تو یہودیوں نے جواب دیا کہ (ہمارے پاس) یہ بڑا عظمت والا دن ہے، اسی روز اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور شکرانہ کے روزہ رکھا تھا اس لئے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ بدرجہ اولیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کریں۔ پس آپ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1130a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2004 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2506

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2954
جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو یوم عاشوراء کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے اور اس کی ترغیب دلاتے اور (عاشوراء کا دن قریب آ جانے پر) ہماری خبر گیری فرماتے (کہ ہم اس کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں) پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپ نے نہ تو ہم کو (عاشوراء کا روزہ رکھنے کا) حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا اور نہ اس کے بارے میں ہماری خبر گیری فرمائی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1128 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2507

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2955
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یوم عاشوراء کے روزے کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ) عاشوراء کا روزہ رکھو اور عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ بھی رکھو اور (صرف عاشوراء کا روزہ رکھ کر) یہود سے مشابہت پیدا نہ کرو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 2

Fast a day before it...

(2) The statement: “Fast a day before it...” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting the day of Ashura is recommended, and it is recommended to fast a day before it or a day after it. If one fasts it alone, it is disliked due to resembling the Jews.” Ahmad narrated: “Fast the day of Ashura, differ from the Jews, and fast a day before it and a day after it.” The apparent meaning is that “and” means “or,” as indicated by this hadith, because differing from the Jews is achieved by either. Al-Shafi’i took the apparent meaning of Ahmad’s narration, so they combine all three. This is taken from Al-Mirqat.

Note 2

قوله

(۲) قوله: صوموا قبله إلخ وقال الشيخ ابن الهمام: يستحب صوم يوم عاشوراء، ويستحب أن يصوم قبله يوما، أو بعده يوما، فإن أفرده فهو مكروه للتشبه باليهود. وروى أحمد خبر صوموا يوم عاشوراء، وخالفوا اليهود، وصوموا قبله يوما وبعده يوما. وظاهره أن الواو بمعنى «أو»؛ لدلالة هذا الحديث عليه، ولأن المخالفة تحصل بأحدهما. وأخذ الشافعي بظاهر حديث أحمد، فيجمعون بين الثلاثة، أخذته من «المرقاة».

Note 1

ف: شیخ ابن الہمام نے کہا ہے کہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھا جائے اور اگر صرف عاشوراء کا روزہ رکھا تو یہود کی مشابہت کی وجہ سے مکروہ ہوگا۔ اور امام احمد رحمہ اللہ نے حدیث صدر کو اس طرح روایت کیا ہے کہ ”عاشوراء کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت (اس طرح) کرو کہ عاشوراء کے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھو۔ (یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔)12

Hadith 2508

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2956
ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے (جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) روایت ہے کہ ان کے پاس (عرفات کے میدان میں) چند آدمیوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ دار ہونے سے متعلق اختلاف کیا۔ کسی نے کہا کہ حضور ﷺ روزہ دار ہیں، اور کسی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ دار نہیں ہیں (یہ سن کر) میں نے ایک پیالہ دودھ حضور ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات میں اپنے اونٹ پر تشریف فرما تھے، پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں دودھ پی لیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1988 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1123a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He drank it.

(1) The statement: “He drank it.” Shaykh Ibn Al-Humam said: “Fasting on the day of Arafah is recommended for non-pilgrims. For pilgrims, if fasting weakens them from standing and supplicating, it is recommended to break the fast. Some say it is disliked, but this is a dislike of a less preferred action (karahah tanzih), as it may detract from more important acts at that time.” This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فشربه وقال الشيخ ابن الهمام: صوم يوم عرفة لغير الحاج مستحب، وللحاج إن كان يضعفه عن الوقوف والدعوات فالمستحب تركه وقيل يكره، وهي كراهة تنزيه؛ لأنه لإخلاله بالأهم في ذلك الوقت. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: شیخ ابن الہمام رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ رکھنا اس شخص کے لئے مستحب ہے جو حج کی حالت میں نہ ہو اور جو شخص حج کی حالت میں ہو، اور روزہ رکھنے کی وجہ سے اس کو کمزوری لاحق ہوتی ہو اور وقوف عرفہ اور اس دن کی دعاؤں میں اس کو رکاوٹ ہوتی ہو تو ایسے شخص کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ عرفہ کے دن روزہ نہ رکھے، اور بعضوں نے کہا ہے کہ حج کرنے والے کے لئے عرفہ کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے لیکن یہ کراہت تنزیہی ہے کیونکہ روزہ رکھنے کی وجہ سے وہ اس دن کی اہم ترین چیز دعاؤں وغیرہ سے عاجز رہ جاتا ہے اور اس دن دعاؤں میں مشغول رہنا اہم ترین چیز ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)12

Hadith 2509

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2957
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حاجیوں کے لئے) عرفات کے میدان میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2440 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2510

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2958
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ چار چیزیں ایسی تھیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے:(1) یوم عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ رکھنا (2) ذوالحجہ کے پہلے دس (کے نو9) روزے رکھنا۔ (3) ہر مہینہ (ایام بیض یعنی ہلالی مہینہ کی (14,13 اور15) کے تینوں دنوں میں (روزہ رکھنا) اور نماز کے پہلے دو رکعت (سنت) کا پڑھنا۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2416 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

The first ten days.

(2) The statement: “The first ten days.” In Al-Alamkiriyyah, it is said: “It is recommended to fast the first nine days of Dhul-Hijjah.” This is mentioned in Al-Siraj al-Wahaj.

Note 2

قوله

(۲) قوله: والعشرة: وفي العالمكيرية»: ويستحب صوم تسعة أيام من أول ذي الحجة. كذا في «السراج الوهاج».

Note 1

ف: فتاویٰ عالمگیریہ میں السراج الوہاج کے حوالہ سے مذکور ہے کہ ذوالحجہ کی پہلی تاریخ سے لے کر نویں تاریخ تک نو(9) روزے رکھنا مستحب ہے۔

Hadith 2511

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2959
بعض امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ ذوالحجہ کے نو(9) روزے (یعنی پہلی سے نو تک) رکھا کرتے تھے اور یوم عاشوراء کا روزہ اور ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے جن میں پہلا روزہ دوشنبہ کا ہوتا اور دو روزے پنجشنبہ کے ہوتے۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2437 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

Monday...

(3) The statement: "Monday..." In Rad al-Muhtar, it is said: "Among the recommended acts is fasting on Mondays and Thursdays."

Note 3

قوله

(۳) قوله: اثنين إلخ : وقال في رد المحتار: ومن المندوب صوم الاثنين والخميس.

Note 1

ف: زاد المحتاج میں لکھا ہے کہ دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور نسائی کی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دوشنبہ اور پنجشنبہ کے روزوں کی تفصیل اس طرح مذکور ہے کہ دوشنبہ کے روزے سے مراد ہلالی ماہ کا نوچندی دوشنبہ یعنی پہلا دوشنبہ ہے اور پنجشنبہ کے دو روزوں سے مراد نو چندی دوشنبہ کے بعد والا پہلا اور دوسرا پنجشنبہ ہے۔ اور نسائی کی ایک اور روایت میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دوشنبہ اور پنجشنبہ کے روزوں کی تفصیل اس طرح مذکور ہے کہ پنجشنبہ کے روزہ سے مراد ہلالی ماہ کا پہلا پنجشنبہ ہے اور دوشنبہ کے روزوں سے مراد پہلے پنجشنبہ کے بعد والا پہلا اور دوسرا دوشنبہ ہے۔ علامہ سندھی نے لکھا ہے: مہینہ کے تین روزے پیر اور جمعرات میں اس طرح رکھے جائیں کہ چاہے ایک پیر اور دو جمعرات ہوں یا ایک جمعرات اور دو پیر آ جائیں۔12

Hadith 2512

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2960
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ آپ کس طرح روزہ رکھتے ہیں؟ اس شخص کے طرح سوال کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا (کیونکہ اس کو سوال اس طرح کرنا چاہئے تھا کہ میں روزہ کس طرح رکھوں۔ نہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح روزہ رکھتے ہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اعمال، اسرار اور مصالح پر مشتمل ہیں جن کی امت میں تاب نہیں) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ دیکھا تو یہ کہنا شروع کیا: ہم اس بات سے راضی ہیں کہ اللہ ہمارا پروردگار ہے۔ اور اس بات سے بھی راضی ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ اور راضی ہیں اس بات سے بھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نبی ہیں، ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب سے اور اللہ کے رسول ﷺ کے غضب سے۔ حضرت عمرؓ بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ جاتا رہا (جب حضرت عمرؓ نے یہ دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے) تو خود حضرت عمرؓ نے (روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کے آداب اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے) اس طرح سوال کرنا شروع کیا کہ یا رسول اللہ اس شخص کا کیا حال ہے جو ہر روز روزہ رکھتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ایسے شخص نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا (یعنی روزہ نہ رکھا۔ اس لئے کہ ہمیشہ روزہ رکھنے سے وہ روزہ کا عادی ہوجاتا ہے اور ہمیشہ روزہ رکھنے کی وجہ سے روزہ کی مشقت باقی نہیں رہتی، اور عبادت نام ہے عادت کو توڑنے کا) حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا: (یا رسول اللہﷺ!) اس شخص کا کیا حال ہے جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دے: تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا: کہ اگر کوئی شخص ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ نہ رکھے تو اس کا کیا حال ہے: تو حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ حضرت داؤد پیغمبر علیہ السلام کا روزہ ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص ایک دن روزہ رکھے اور دو دن روزہ چھوڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: میں دل سے چاہتا ہوں) کہ مجھے اس کی طاقت ملے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بطور خود مستحب روزوں کی تفصیل اس طرح ارشاد فرمائی کہ) ہر مہینہ میں تین روزے (رکھنا) خواہ وہ ایام بیض میں ہوں یا دوشنبہ اور پنجشنبہ کے روزے ہوں) اور رمضان کے روزے (رکھنے والے کا حکم) اس شخص کا ہے جیسے اس نے سال بھر کے روزے رکھے (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ’’جو ایک نیکی کرے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ اس طرح ہر مہینہ کے تین روزے گویا ثواب میں تیس روزوں کے برابر ہیں، اس کے بعد حضورﷺ نے پھر فرمایا کہ) عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کو اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے اور عاشوراء کے دن روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے سال کے گناہوں کا کفارہ بنا دیں گے (عرفہ کے روزہ کی فضیلت عاشوراء کے روزہ پر اس لئے ہے کہ عرفہ کا روزہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مستحب قرار دیا گیا اور عاشوراء کا روزہ شریعت موسوی (على صاحبها السلام) میں تھا۔ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بطور مستحب کے باقی رکھا)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1162a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 4

He has not fasted nor broken his fast.

(4) The statement: "He has not fasted nor broken his fast." Shaykh Ibn al-Humam said: "Fasting the entire year is disliked because it weakens a person or becomes a habit, and worship is based on going against one’s habits." This is mentioned in Al-Mirqah.

Note 4

قوله

(٤) قوله : لا صام ولا أفطر: وقال الشيخ ابن الهمام يكره صوم الدهر ؛ لأنه يضعفه أو يصير طبعا له، ومبني العبادة على مخالفة العادة. كذا في «المرقاة».

Hadith 2513

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2961
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: اے ابوذر! جب تم مہینہ کے تین دن کے (نفل) روزے رکھنا چاہو تو (ہلالی ماہ کی) تیرہ، چودہ اور پندرھویں (تاریخ) کو روزہ رکھا کرو (ان کو ایام بیض کہتے ہیں)۔ اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 761 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2424 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2514

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2962Noor 2963
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک روز) مجھ سے فرمایا: اے عبداللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم (ہر روز) دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو، کیا یہ صحیح ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہ کرو بلکہ روزہ بھی رکھا اور روزہ ترک بھی کرو، رات کو عبادت بھی کرو، اور سویا بھی کرو۔ اس لئے کہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے۔ جس نے ہمیشہ روزہ رکھا، گویا اس نے روزہ ہی نہ رکھا۔ ہر مہینہ میں تین روزے رکھا (ثواب میں) ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر ہے، تو تم ہر مہینہ صرف تین روزے رکھ لیا کرو، اور ہر مہینہ میں ایک قرآن پڑھ لیا کرو۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!) مجھے اس سے زیادہ عمل کرنے کی طاقت ہے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو تم صوم داؤدی رکھا کرو جو روزوں میں بہترین روزے ہیں اور صوم داؤدی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا ہے اور سات راتوں (یعنی ایک ہفتہ میں) ایک قرآن پڑھا کرو، اور (روزوں کے رکھنے اور قرآن کے پڑھنے میں) اس سے زیادہ مشقت نہ اٹھاؤ۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور ترمذی کی ایک روایت میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیا گویا اس نے قرآن نہیں سمجھا (کنز الدقائق میں لکھا ہے کہ کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن میں ایک قرآن ختم کر لینا چاہئے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1975 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Three...

(1) The statement: "Three..." In Kanz al-Daqa’iq, it is said: "One should not complete the Quran in less than three days nor exceed forty days." This is mentioned in Al-Urf al-Shadhi.

Note 1

قوله

(۱) قوله : ثلاث إلخ وفي كنز الدقائق»: لا يختم في أقل من ثلاثة أيام ولا يزيد على أربعين يوما. قاله في «العرف الشذي».

Hadith 2515

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2964
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایام بیض کے روزے کبھی نہیں چھوڑتے تھے خواہ آپ گھر میں ہوں یا سفر پر ہوں۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2345 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2516

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2965
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ آپ دوشنبہ کے دن روزہ رکھا کرتے ہیں (اس کا کیا سبب ہے؟) آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں دوشنبہ ہی کو پیدا ہوا ہوں اور مجھ پر دوشنبہ ہی سے وحی نازل ہونا شروع ہوئی (اسی کے شکرانہ میں میں روزہ رکھا کرتا ہوں)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1162b (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2517

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2966
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کبھی) پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 745 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2361 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2518

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2967
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (بندوں کے) اعمال (اللہ تعالیٰ کے دربار میں) پیر اور جمعرات کو پیش کئے جاتے ہیں، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حالت میں پیش ہو کہ میں روزہ سے رہوں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 747 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2519

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2968
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے تو آپ سے پوچھا گیا کہ آپ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا: (ہاں!) اس لئے کہ پیر اور جمعرات ایسے (فضیلت والے) دن ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ ہر مسلمان (کے گناہوں) کو بخش دیتے ہیں، بجز ان کے جو (آپس میں لڑ کر) قطع تعلق کر لیں (اور اللہ تعالیٰ مغفرت کا سوال کرنے والے فرشتے سے) فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو چھوڑ دو تا وقتیکہ یہ آپس میں مصالحت کر لیں۔ اس کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1740 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2520

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2969
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے مہینہ میں مزید چھ (نفل) روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال بھر کے روزے رکھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1164a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2047 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 2047

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Then follows it...

(1) The statement: "Then follows it..." In Alamgiriyyah, it is said: "Fasting six days of Shawwal is disliked according to Abu Hanifah, whether done consecutively or separately. According to Abu Yusuf, it is disliked if done consecutively but not if done separately. However, most later scholars saw no issue with it." This is mentioned in Bahr al-Raiq. The correct view is that there is no harm in it. This is mentioned in Muhit al-Sarakhsi.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ثم أتبعه إلخ: وفي العالمكيرية» ويكره صوم ستة من شوال عند أبي حنيفة ، متفرقا كان أو متتابعا، وعن أبي يوسف كراهته متتابعا لا متفرقا، لكن عامة المتأخرين لم يروا به بأسا، هكذا في البحر الرائق»، والأصح إنه لا بأس به. كذا في محيط السرخسي».

Note 1

ف: واضح ہو کہ ستہ شوال رمضان سے متصل متواتر رکھ سکتے ہیں، یا پورے مہینہ میں متفرق چھ روزے رکھ سکتے ہیں۔12

Hadith 2521

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2970Noor 2971Noor 2972
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید الفطر اور عید اضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں زیاد بن جبیر سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک دن روزہ رکھنے کی نذر مانی ہے اور وہ دن اتفاق سے عید کے دن یعنی عید قربانی یا عید فطر کے دن آ گیا ہے (مجھے کیا کرنا چاہئے) تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پورا کرنے کا حکم دیا (لہذا تم اور کسی دن اس کی قضاء کر لو، اس لئے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن یعنی عید الفطر اور عید اضحیٰ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دو دنوں میں یعنی عید الفطر اور عید اضحیٰ میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1991 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1138a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

I vowed...

(2) The statement: "I vowed..." Even if one vows to fast on the prohibited days or to fast the entire year, it is valid according to the preferred opinion. They differentiated between vows and initiating fasting, as initiating fasting is sinful while the vow itself is an act of obedience. Thus, it is valid, but one must break the fast on the prohibited days to avoid sin and make up for it later to fulfill the obligation. This is indicated by this hadith. The meaning is that it can be made up for, thus fulfilling the command and avoiding the prohibition. This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar, summarized from them.

Note 2

قوله

(۲) قوله: إني نذرت إلخ ولو نذر صوم الأيام المنهية أو صوم هذه السنة صح مطلقا على المختار، وفرقوا بين النذر، والشروع فيها بأن نفس الشروع معصية ونفس النذر طاعة فصح، ولكنه أفطر الأيام المنهية وجوبا تحاميا عن المعصية، وقضاها إسقاطاً للواجب، ويدل عليه هذا الحديث، والمعنى: أنه يمكن قضاءه، فيخرج به عن عهدة الأمر والنهي. الدر المختار» ورد المحتار» ملتقط منهما.

Hadith 2522

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2973
نُبَیْشَہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ایام تشریق (یعنی 11،12 اور 13 ذوالحج) کھانے پینے اور اللہ کی یاد کے دن ہیں (اس لئے ان دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1141b (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: درمختار اور ردالمحتار میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اَیَّام مَنْہِیَّہ (ممانعت کے ایام) یعنی عیدالفطر کے روز اور عیدالاضحی اور ایام تشریق یعنی ذوالحج کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ان پانچ دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر کرے یا پورے سال بھر کے روزوں کی نذر مانے تو قول مختار یہ ہے کہ ایسے شخص کی یہ نذر مطلقاً صحیح ہے اس لئے کہ نذر ماننا طاعت ہے لیکن اس کو چاہئے کہ ان اَیَّام مَنْہِیَّہ میں روزہ رکھنے سے وجوباً پرہیز کرے تاکہ وہ معصیت سے بچ جائے اور ان ممنوعہ ایام میں اس نے روزوں کی جو نذر مانی تھی اور جس کی ادائی اس پر واجب ہوچکی ہے ان دنوں کے روزوں کو وہ دوسرے دنوں میں قضا کرلے، تاکہ نذر ماننے کا وجوب اس سے ساقط ہوجائے اور ممنوعہ ایام میں روزہ رکھنے کے گناہ سے بچ جائے۔ اسی لئے علماء احناف نے وضاحت کی ہے کہ ان ممنوعہ ایام میں روزوں کی نذر تو درست ہے مگر ان میں روزہ رکھنا گناہ ہے۔ اور صدر کی مذکورہ احادیث سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے۔12

Hadith 2523

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2974
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت کم دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے ہوں (یعنی آپ اکثر جمعہ کا روزہ رکھا کرتے تھے)۔ اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1725 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 742 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Rarely...

(1) The statement: "Rarely..." In Alamgiriyyah, it is said: "Fasting on Friday alone is recommended according to the general opinion, like Monday and Thursday." This is mentioned in Bahr al-Raiq. In Al-Urf al-Shadhi, it is said: "Fasting on Friday is recommended as mentioned in Al-Durr al-Mukhtar. However, the commentators differed on its recommendation. In my opinion, if there is a fear of misunderstanding, one should not fast; otherwise, it is recommended. This reconciles the juristic and hadith narrations."

Note 1

قوله

(۱) قوله: قلما إلخ: وفي العالمكيرية»: وصوم يوم الجمعة بإنفراده مستحب عند العامة كالاثنين والخميس. كذا في «البحر الرائق» انتهى. وفي العرف الشذي: يستحب صوم يوم الجمعة كما في الدر المختار»، إلا أن المحشيين ردوا في الاستحباب، وعندي إن كان يتوهم فساد الاعتقاد فلا يصوم، وإلا فيستحب، وهكذا يجمع في الروايات الفقهية والحديثية.

Hadith 2524

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2975Noor 2976
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمعہ کے دن روزہ چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔ اور ابن ابی شیبہ کی دوسری روایت میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔

Hadith 2525

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2977
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے جمعہ کے دن کا روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں (ایک دن کے بدلے) دس دن کے روزہ کا ثواب) لکھ دیتے ہیں اور ان میں سے ہر دن آخرت کے دن کے برابر ہوگا (اور آخرت کے دن کی خصوصیات یہ ہیں کہ آخرت کا ایک دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے اور یہ دن) نہایت روشن اور چمک دار ہوتا ہے اور (دنیا کے) یہ دن (کسی طرح) آخرت کے دن کے مشابہ نہیں ہوں گے۔ (جمعہ کے ایک دن روزہ رکھنے سے دس دنوں کا جو ثواب ملے گا ان میں سے ہر دن مذکورہ بالا خصوصیات کا حامل ہوگا) اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔ اور یحییٰ نے کہا ہے کہ میں نے امام مالک کو یہ کہتے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ میں نے کسی عالم اور فقیہ اور کسی ایسے شخص کو جس کی لوگ اقتداء کرتے ہوں جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوئے نہیں سنا۔ اور امام مالک نے یہ بھی فرمایا کہ جمعہ کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے بلکہ میں نے خود اہل علم کو دیکھا ہے کہ وہ جمعہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اس کا اہتمام اور پابندی کیا کرتے تھے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں مذکور ہے کہ جس طرح دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ منفرداً رکھنا مستحب ہے اسی طرح علمائے احناف کے پاس جمعہ کا روزہ بھی منفرداً رکھنا مستحب ہے۔ بحر الرائق میں بھی ایسا ہی مذکور ہے اور صدر کی مذکورہ حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔12

Hadith 2526

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2978
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اور راتوں کو چھوڑ کر صرف جمعہ کی رات کو عبادت کے لئے مختص مت کیا کرو (بلکہ ہر رات کو شب بیداری رکھو اور کچھ نہ کچھ عبادت کیا کرو۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1144a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

Do not single out...

(2) The statement: "Do not single out..." In Ahkam al-Ashbah, it is said: "It is disliked to single out its night for standing in prayer."

Note 2

قوله

(۲) قوله : لا تختصوا إلخ: وفي أحكامات الأشباه ويكره إفراد ليلته بالقيام.

Hadith 2527

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2979
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد وغیرہ میں) ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوزخ (کی راہ) سے ستّر برس (کے فاصلہ تک) دور کر دیں گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2840 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1153a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2528

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2980Noor 2981
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس (کسی مسلمان) نے اللہ کی خوشنودی کے لئے ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے اس قدر فاصلہ تک دور کر دیں گے جتنی دور تک ایک کوّا اپنے بچپن سے لے کر مرنے تک اڑتا رہے (کوّے سے تشبیہ اس لئے دی گئی ہے کہ کوّے کی عمر کہا جاتا ہے کہ ایک ہزار سال کی ہوتی ہے۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔ اور بیہقی نے اس کی روایت شعب الایمان میں مسلمہ بن قیصر سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2063 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 2063

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Salamah ibn Qaysar.

(1) The statement: "Salamah ibn Qaysar." What is found in the copies of Mishkat: "Salamah ibn Qays" is a mistake. The correct version is "Salamah ibn Qaysar." This is mentioned in Al-Mirqah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: سلمة بن قيصر : أن ما وقع في نسخ المشكاة»: سلمة بن قيس غلط، والصواب: «سلمة بن قيصر». قاله في «المرقاة».

Hadith 2529

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2982
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی (مسلمان) نے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں یا حج اور عمرہ کے دوران میں یا علم دین سیکھنے کے زمانہ میں یا خالصۃً اللہ کی خوشنودی کے لئے۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) ایک دن بھی روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے اور دوزخ کے درمیان اتنا فاصلہ حائل فرما دیتے ہیں جتنا فاصلہ آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1624 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2530

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2983
عبداللہ بن بُسر اپنی بہن صماء رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (صرف) ہفتہ کے دن (نفل) روزہ نہ رکھا کرو، سوائے اس کے کہ تم پر (ایسے روزہ کی ادائی) فرض ہو، اگر تم میں سے کسی کے پاس (کھانے کے لئے) انگور کے درخت کی چھال یا کسی درخت کی لکڑی کے سوائے اور کچھ نہ ہو تو اسی کو چبا لو (اور ہفتہ کے دن، روزہ نہ رکھو تاکہ یہود سے مشابہت نہ ہو، جو ہفتہ کو مقدس سمجھ کر اس دن روزہ رکھا
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2421 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 744 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1726 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2063 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 2063

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

Do not fast...

(2) The statement: "Do not fast..." The prohibition here is for discouragement according to the majority. This is mentioned by Al-Tibi. In Al-Durr al-Mukhtar, it is said: "The disliked act is discouraged, like fasting on Ashura alone or Saturday alone."

Note 2

قوله

(۲) قوله : لا تصوموا إلخ والنهي فيه للتنزيه عند الجمهور. قاله الطيبي. وقال في الدر المختار»: والمكروه تنزيها كعاشوراء وحده وسبت وحده.

Note 1

کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ ہفتہ کے دن منفرداً روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے البتہ ہفتہ کے ساتھ کسی اور دن کو ملا کر روزہ رکھنا مکروہ نہیں ہے۔ جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے۔12)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔