Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1152

بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ

Zujajat al-Masabih 1152Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١١٥٢ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الْإِمَامِ قِرَاءَةً لَهُ. 1 رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه. وَرَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ عَنْ أَنَسٍ ، وَالدَّارَقُطْنِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ فِي فَتْحِ الْمُلْهِمْ: ثُمَّ الْبَيْهَقِيُّ حَمَلَ هَذَا الْحَدِيثَ وَنَظَائِرَهُ عَلَى تَرْكِ الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَعَلَى قِرَاءَةِ السُّورَةِ دُونَ الفَاتِحَةِ، وَهَذَا تَخْصِيْصُ بِلَا مُخَصِّصٍ، وَبَعِيْدُ عَنْ مَضْمُوْنِ الْحَدِيثِ بِمَرَاحِلَ، وَنَاءَ عَنِ الْمَقْصُودِ بِمَنَازِلَ، لَا تَعَلَّقَ لَهُ بِأَلْفَاظِهِ، وَلَا إِشَارَةَ فِيْهَا إِلَيْهِ أَصْلًا كَيْفَ وَالْوَاقِعَةُ وَاقِعَةُ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ عَلَى مَا يَشْهَدُ بِهِ رِوَايَةُ الْإِمَامِ، فَمَا مَعْنَى لِجَهْرِ شَخْصٍ فِيْهِمَا بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ رَسُوْلِ اللهِ ، وَلَا يَقْرَأُ الْإِمَامُ فِيهِمَا جَهْرًا وَلَا سَائِرُ الْمُقْتَدِينَ .
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 850 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Unnumbered commentary

Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation.

The saying: "Whoever has an Imam, the recitation of the Imam is his recitation." And in Al-Rawd Al-Murbi‘ from Hanbali jurisprudence: "There is no recitation upon the follower," meaning the Imam bears the recitation of Al-Fatihah on his behalf due to this Hadith, as mentioned in Aujaz Al-Masalik.

Note 1

This footnote could not be resolved in the source.

Note 1

قوله

(۱) قوله: من كان له إمام فقراءة الإمام قراءة له وفي الروض المربع من فقه الحنابلة: ولا قراءة على مأموم، أي يتحمل الإمام عنه قراءة الفاتحة، لهذا الحديث، قاله في أوجز المسالك».

Note 1

ف(1): یہ اور اسی قسم کے دیگر احادیث میں مقتدی کے لئے امام کے پیچھے مطلقاً قرأت نہ کرنے کا حکم وارد ہوا ہے اس لئے مقتدی امام کے پیچھے نہ سورہ فاتحہ پڑھے نہ کوئی اور سورہ۔ اس کے برخلاف جن حضرات نے ان احادیث سے جن میں مقتدی کو قرأت نہ کرنے کا عام حکم موجود ہے اس عام حکم میں سورہ فاتحہ کو شامل نہ کر کے صرف ضم سورہ نہ پڑھنے سے خاص کیا ہے، یہ تخصیص بلا مخصص ہے، حدیث کے عام حکم کو بغیر کسی سبب کے خاص کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی، جبکہ اور احادیث میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے جو ابھی اوپر نسائی، ترمذی بیہقی اور طحاوی وغیرہم کے حوالے سے گزر چکی ہیں۔ (یہ مضمون فتح الملہم سے ماخوذ ہے۔) ف(2): امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ”مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ“ (جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی کی قرأت ہے) فقہ حنبلی کی کتاب الروض المربع میں اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”وَلَا قِرَاءَةَ عَلَى مَأْمُومٍ“ (مقتدی پر کسی قسم کی قرأت نہیں ہے۔) (اس لئے نہ سورہ فاتحہ پڑھے اور نہ ضم سورہ کرے۔) اس کا مفہوم یہ ہے کہ امام سورہ فاتحہ کو اپنے اور مقتدی کی طرف سے ادا کر لیتا ہے اس لئے مقتدی کو سورہ فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (یہ مضمون اوجز المسالک سے ماخوذ ہے۔)