Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Faith

Hadith 124

Chapter on Affirmation of the Punishment of the Grave

In this book

Current reading

Faith

Chapter on Affirmation of the Punishment of the Grave

Zujajat al-Masabih 124Volume 1

English

It is narrated from Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: When a believer is placed in his grave, two angels come to him, make him sit up, and ask him: "Who is your Lord?" He replies: "My Lord is Allah." They ask him: "What is your religion?" He replies: "My religion is Islam." They then ask: "Who is this man who was sent among you?" He replies: "He is the Messenger of Allah (peace be upon him)." They ask: "How do you know this?" He replies: "I read the Book of Allah, believed in it, and affirmed it." This is the meaning of Allah’s saying: "Allah keeps firm those who believe with the firm word" (Surah Ibrahim, 14:27). Then a caller from the heavens proclaims: "My servant has spoken the truth, so spread for him a bed from Paradise, clothe him with garments of Paradise, and open a door for him to Paradise." So its breeze and fragrance reach him, and his grave is expanded as far as his sight can reach. As for the disbeliever, the Prophet (peace be upon him) described his death and said: His soul is returned to his body, and two angels come to him, make him sit up, and ask him: "Who is your Lord?" He replies: "Oh! Oh! I do not know." They ask: "What is your religion?" He replies: "Oh! Oh! I do not know." They ask: "Who is this man who was sent among you?" He replies: "Oh! Oh! I do not know." Then a caller from the heavens proclaims: "He has lied, so spread for him a bed from Hell, clothe him with garments of Hell, and open a door for him to Hell." So its heat and scorching wind reach him. His grave is compressed until his ribs interlock, and a blind and deaf tormentor is appointed for him, holding an iron hammer which, if struck on a mountain, would reduce it to dust. He strikes him with it, and he lets out a scream that is heard by everything between the east and the west, except for humans and jinn. Then he is turned into dust, and his soul is returned to him. [Narrated by Ahmad and Abu Dawud)

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٤ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رضي الله عنه) عَنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: يَأْتِيْهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُوْلَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّي اللهُ. فَيَقُوْلَانِ لَهُ : مَا دِينُكَ؟ فَيَقُوْلُ: دِيْنِي الْإِسْلَامُ. فَيَقُوْلَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيْكُمْ؟ فَيَقُوْلُ : هُوَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ. فَيَقُوْلَانِ لَهُ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ فَيَقُوْلُ : قَرَأْتُ كِتَابَ اللهِ، فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ. فَذَلِكَ قَوْلُهُ: {يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} الْآيَةَ (إبراهيم: (۲۷). قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ فَيُفْتَحُ، قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ. وَأَمَّا الْكَافِرُ فَذَكَرَ مَوْتَهُ، قَالَ: وَيُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيْهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُوْلَانِ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُوْلُ: هَاهُ هَاهُ لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهُ هَاهُ! لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ : مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهُ هَاهُ! لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوْهُ مِنَ النَّارِ، وَأَلْبِسُوْهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوْا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، قَالَ: فَيَأْتِيْهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُوْمِهَا. قَالَ: وَيَضِيقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيْهِ أَضْلَاعُهُ، ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ ، مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ لَصَارَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ، فَيَصِيرُ تُرَابًا. قَالَ: ثُمَّ تُعَادُ فِيهِ الرُّوحُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 135
براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے، پھر دونوں دریافت کرتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر وہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ کون حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو تمہارے طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے؟، وہ کہتا ہے کہ وہ خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، فرشتے دریافت کرتے ہیں تم کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو وہ جواب دیتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی، یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ﴾ ”الخ“ اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت (یعنی کلمہ توحید) پر قائم رکھتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا فرش کر دو اور اس کو جنت کا لباس پہناؤ اور اس کے لئے جنت کی جانب ایک دروازہ کھول دو، چنانچہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو جنت کی ہوا اور خوشبو آنے لگتی ہے اور اس کی قبر میں اس کی نظر پہنچنے کی حد تک وسعت کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ تو وہ ہائے ہائے میں نہیں جانتا کہتا ہے، اور وہ فرشتے پھر دریافت کرتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ اس پر بھی وہ یہی کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر دونوں سوال کرتے ہیں یہ کون حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو تم میں رسول بنا کر بھیجے گئے تھے تو اس کا جواب بھی وہی ہائے ہائے میں نہیں جانتا دیتا ہے، پس آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا، لہذا اس کے لئے آگ کا فرش بچھا دو، آگ کا لباس پہناؤ اور اس کے لئے دوزخ کی جانب سے دروازہ کھول دو، آپ نے فرمایا کہ اس کو دوزخ کی گرمی اور اس کی لو آنے لگتی ہے، پھر ارشاد فرمایا کہ اس پر اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے اُدھر نکل جاتی ہیں، پھر اس پر ایک اندھا گونگا فرشتہ مسلط کر دیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا ایسا گُرز ہوتا ہے جس کو اگر پہاڑ پر مارا جائے تو وہ خاک ہو جائے پس وہ فرشتہ اس گُرز سے اس طرح مارتا ہے جس کی آواز کو انس و جن کے سوا مشرق و مغرب کی تمام مخلوق سن لیتی ہے جس سے وہ خاک ہو جاتا ہے، پھر اس میں روح واپس ڈالی جاتی ہے (قیامت تک اسی طرح عذاب میں مبتلا رہتا ہے)۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4753 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.