اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 135
براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے
دریافت کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے، پھر دونوں دریافت
کرتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر وہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ
کون حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو تمہارے طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے؟، وہ کہتا ہے کہ وہ
خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، فرشتے دریافت کرتے ہیں تم کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو وہ جواب دیتا
ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی، یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا
﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ﴾ ”الخ“ اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت (یعنی کلمہ
توحید) پر قائم رکھتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے
کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا فرش کر دو اور اس کو جنت کا لباس پہناؤ اور اس کے
لئے جنت کی جانب ایک دروازہ کھول دو، چنانچہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اس کو جنت کی ہوا اور خوشبو آنے لگتی ہے اور اس کی قبر میں اس کی نظر پہنچنے کی حد تک وسعت
کر دی جاتی ہے۔
اس کے بعد کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم
میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں
: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ ہائے ہائے میں نہیں جانتا کہتا ہے، اور وہ فرشتے پھر دریافت کرتے ہیں کہ
تیرا دین کیا ہے؟ اس پر بھی وہ یہی کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر دونوں سوال کرتے ہیں یہ
کون حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو تم میں رسول بنا کر بھیجے گئے تھے تو اس کا جواب بھی وہی ہائے
ہائے میں نہیں جانتا دیتا ہے، پس آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا، لہذا اس
کے لئے آگ کا فرش بچھا دو، آگ کا لباس پہناؤ اور اس کے لئے دوزخ کی جانب سے دروازہ کھول
دو، آپ نے فرمایا کہ اس کو دوزخ کی گرمی اور اس کی لو آنے لگتی ہے، پھر ارشاد فرمایا کہ اس پر اس کی قبر
اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے اُدھر نکل جاتی ہیں، پھر اس پر ایک
اندھا گونگا فرشتہ مسلط کر دیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا ایسا گُرز ہوتا ہے جس کو اگر پہاڑ پر مارا
جائے تو وہ خاک ہو جائے پس وہ فرشتہ اس گُرز سے اس طرح مارتا ہے جس کی آواز کو انس و جن کے سوا
مشرق و مغرب کی تمام مخلوق سن لیتی ہے جس سے وہ خاک ہو جاتا ہے، پھر اس میں روح واپس ڈالی
جاتی ہے (قیامت تک اسی طرح عذاب میں مبتلا رہتا ہے)۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے
کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4753 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.