Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1312

Chapter on Supplication in Tashahhud

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Supplication in Tashahhud

Zujajat al-Masabih 1312Volume 1

English

Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded us to respond to the Imam, to love one another, and to greet one another." [Narrated by Abu Dawud] In the narration of Al-Bazzar: "And to greet our Imams and to greet one another in prayer."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٣١٢ - وَعَنْ سَمُرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنْ نَرُدَّ عَلَى الْإِمَامِ وَنَتَحَابَّ وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ الْبَزَّارِ: وَأَنْ نُسَلَّمَ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَأَنْ يُسَلَّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الصَّلَاةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1493Noor 1494
سَمُرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (یعنی مقتدیوں کو) حکم دیا ہے کہ ہم (ختم نماز پر سلام پھیرتے وقت) یہ نیت کریں کہ ہم امام کے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہم نمازی ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہیں (اور آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے سلام سے) اس لئے امام اور مقتدی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں۔ (تا کہ آپس میں محبت پیدا ہو۔) اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور بزار کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ہم مقتدی (نماز کے ختم پر) نیت کریں کہ ہم امام کے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور یہ بھی نیت کریں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کو سلام کر رہے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1001 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ امام اور مقتدی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب امام ختم نماز پر اپنے سیدھے طرف سلام پھیرے تو سیدھے طرف کے مقتدیوں اور فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے اور جب امام بائیں طرف سلام پھیرے تو بائیں طرف کے مقتدیوں اور فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے یہ امام کے سلام کی کیفیت ہے، اب رہا مقتدی کا سلام تو اس کی تین حالتیں ہوں گی، (1) ایک امام کے سیدھے جانب والے مقتدی، (2) دوسرے امام کے بائیں جانب والے مقتدی، اور (3) تیسرے وہ مقتدی جو امام کے بالکل پیچھے محاذی ہوں ہر ایک کے سلام کی صورت اس طرح ہوگی۔ (1) امام کے سیدھے جانب والے مقتدی جب اپنے سیدھے طرف سلام پھیریں تو اپنے ساتھ سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں اور سیدھے جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کریں اور جب یہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو اپنے ساتھ بائیں جانب کے نماز پڑھنے والوں اور بائیں جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کے ساتھ امام کے سلام کا جواب دینے کی بھی نیت کریں۔ (2)امام کے بائیں جانب والے مقتدی جب اپنے سیدھے جانب سلام پھیریں تو امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں کی اور سیدھے جانب کے فرشتوں پر بھی سلام کرنے کی نیت کریں اور جب یہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو اپنے ساتھ بائیں جانب کے نماز پڑھنے والوں اور بائیں جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کریں۔ (3)اور جو مقتدی امام کے بالکل پیچھے محاذی ہوں وہ اپنے سیدھے جانب سلام پھیرتے وقت امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں اور سیدھے جانب کے فرشتوں پر بھی سلام کی نیت کریں اور اسی طرح جب وہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو اس وقت بھی امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ ساتھ اپنے بائیں جانب کے نماز پڑھنے والوں اور بائیں جانب کے فرشتوں پر بھی سلام کی نیت کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی امام کے پیچھے محاذی ہونے کی صورت میں پہلی دو صورتوں کے برخلاف ہر دو جانب سلام پھیرتے وقت امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کرے گا، یہ تفصیل اس نماز کی ہے جو جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور جو تنہا نماز پڑھنے والا ہے اس کو چاہیے کہ ختم نماز پر دونوں جانب سلام پھیرتے وقت کراماً کاتبین اور حافظ فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے ۔(مرقات، ردالمحتار، اشعۃ اللمعات۔)