English
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: The Prophet (peace be upon him) saw a young servant of ours named Aflah blowing (dust) when he prostrated. The Prophet (peace be upon him) said, "O Aflah, may your face be covered with dust." [Narrated by Al-Tirmidhi]
In "Sharh An-Naqayah": It is disliked to wipe the forehead from dust during prayer. However, after finishing the prayer, it is not disliked; rather, it is recommended to conceal the act of worship to avoid showing off or seeking fame.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٦٧ - وَعَنْ أُمَّ سَلَمَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: رَأَى النَّبِيُّ ﷺ غُلَامًا لَنَا - يُقَالُ لَهُ: أَفْلَحَ - إِذَا سَجَدَ نَفَخَ، فَقَالَ: «يَا أَفْلَحُ، تَرِبْ وَجْهَكَ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
قَالَ فِي شَرْحِ النَّقَايَةِ»: وَكُرِهَ مَسْحُ جَبْهَتِهِ مِنَ التُّرَابِ فِي الصَّلَاةِ. وَأَمَّا بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْهَا فَلَا يُكْرَهُ، بَلْ يُسْتَحَبُّ كِتْمَانًا لِلْعِبَادَةِ أَوْ خَوْفًا مِنَ الرِّيَاءِ وَالسُّمْعَةِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1557
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے (ایک مرتبہ) ہمارے ایک غلام کو جن کا نام افلح تھا ہر سجدہ کے وقت (زمین پر) پھونک
مارتے ہوئے ملاحظہ فرمایا، تو حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اے افلح اپنے چہرہ کو خاک لگنے دو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 381 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(کیوں کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے سامنے نہایت عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔) (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔) ف(1): شرح النقایہ میں کہا ہے کہ نماز کی حالت میں پیشانی پر سے مٹی کو پونچھنا مکروہ ہے، البتہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد پیشانی پر سے مٹی کو پونچھنا مکروہ نہیں بلکہ عبادت کو چھپانے کی خاطر ریاکاری و شہرت سے بچنے کے لئے پیشانی کی مٹی کو بعد نماز کے پونچھ لینا مستحب ہے۔ ف(2): عرف شذی میں بحر کے حوالے سے لکھا ہے کہ نماز میں پھونک مارنے کے بارے میں مذہب حنفی میں دو قول ہیں، ایک قول تو یہ ہے کہ نماز میں آواز کے ساتھ پھونک مارنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ورنہ نہیں، اور دوسرا قول یہ ہے کہ نماز میں اس طرح پھونک ماری جائے جس سے حروف ظاہر ہوتے ہوں تو نماز فاسد ہوجائے گی ورنہ نہیں، اور صاحب بحر نے اسی دوسرے قول کو اختیار کیا ہے۔